سندھ میں گرینڈ اینٹی پی پی اتحاد


سندھ میں ایک گرینڈ اینٹی پی پی الیکشن اتحاد بن چکا ہے جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ جی ڈی ای اور سندھ کے قومپرست تو پہلے ہی اتحاد بناتے تھے مگر اب ایم کیو ایم، قوم پرست اور فنکشنل لیگ سب نے مل کر پی پی کے خلاف الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سندھ کی اگر سیاسی تاریخ کو دیکھا جائے تو ایم کیو ایم اور سندھ میں الیکشن لڑنے والے قومپرست ایک دوسرے کے سیاسی حریف رہے ہیں ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتے رہے ہیں۔ یاد رہے جی ایم سید کی فلاسفی کو ماننے والا قومپرست گروپ الیکشن کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا اور وہ آج تک الیکشن کا ڈائرکٹ حصہ نہیں رہے۔ لیکن باقی سندھ کے قومپرست سندھ میں الیکشن لڑتے رہے ہیں۔

جی ایم سید کے خاندان سے لوگ بھی سندھ اسمبلی کے ممبر بنتے رہے ہیں۔ جس میں جی ایم سید کے بیٹے امداد محمد شاہ، امیر حیدر شاہ اور اس کے پوتے جلال محمود شاہ سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بھی رہے ہیں۔ لیکن وہ کبھی جی ایم سید کے نظریے تلے کبھی الیکشن نہیں لڑے۔ وہ آزاد حیثیت سے لڑے ہیں۔ اس وقت جی ایم سید کے خاندان کے لوگ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے پلیٹ فارم پر سیاست کر ہے ہیں۔ اور وہ جی ڈی اے کے اتحادی ہیں۔ اس کے علاوہ ایاز لطیف پلیجو بھی جی ڈی اے کا حصہ ہیں جس نے ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ الیکشن اتحاد کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے والد محترم رسول بخشش پلیجو ہمیشہ ایم کیو ایم کے سخت ناقد رہے ہیں اور وہ ایم کیو ایم کو ایک دہشتگرد تنظیم کہتے رہیں ہیں۔ اس نے شہید بینظیر بھٹو پر اس وقت بھی تنقید کی تھی جب بی بی نے لنڈن میں آل پارٹی کانفرنس میں ایم کیو ایم کو مدعو کیا تھا اور اس وقت پی ٹی آئی نے ایم کیو ایم کی وجہ سے بائیکاٹ کیا تھا۔

ہمارا مین اسٹریم میڈیا اور سندھ سے باہر کے اکثر لوگ ایاز پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی اور ساری قومپرست جماعتوں کو جیے سندھ کے نام سے پکارتی ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ آزادی تحریک والے لوگ بالکل الگ ہیں ان کا الیکشن کی سیاست سے لینا دینا نہیں ہے۔ باقی لوگ قوم پرستی کی سیاست ضرور کرتے ہیں مگر وہ ملک کے آئین کو مانتے ہیں جیسے ہمارے بلوچستان کے قومپرست الیکشن کی سیاست کرتے ہیں۔

دیکھنے والی بات یہ ہے کہ یہ سارے لوگ ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ کیا اپنی مرضی سے اتحاد کا حصا بنے ہیں یا ان کو بھی کوئی اشارہ ملا ہے۔ مجھے یہاں حیدرآباد کے سابق میئر کا بیان یاد آ رہا ہے، جب کراچی حیدرآباد میں لسانی فساد عروج پر تھے سابق میئر حیدرآباد نے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے بیان دیا تھا کہ فساد کے دنوں میں مجھے اور مخالف گروپ کے لیڈر کو ایک ہی شخص ایک نمبر سے ہدایات دیتا تھا کہ اب یہ کرنا ہے۔ کافی عرصے کے بعد بانی ایم کیو ایم نے بھی یہ بات حلف اٹھا کر کہی تھی۔ بہرحال ایسی رویل کے بعد سندھ میں لسانی فسادات اس طرح نہیں ہوئے۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اب لوگوں کو بات سمجھ آ گئی ہے یہ لسانی فساد کس کے فائدے میں ہے۔

بطور ایک سیاسی طالب علم کے میں یہ سمجھتا ہوں اس گرینڈ اتحاد کا پی پی پی کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ ان سب پارٹیوں کے لیڈران نے اپنے لوگوں کو خود ہی بتایا ہے کہ کون آپ کا دشمن ہے۔ اب یہ لوگ اپنے دشمن کو کبھی ووٹ دینے والے نہیں۔ اب ان پارٹیوں پر سندھ کے لوگ بھی تنقید کر رہے ہیں کہ آپ جس کو کل دشمن سمجھتے تھے آج ان کے اتحادی کیسے ہو گئے ہیں۔

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کی مشکل سمجھ میں آتی ہے۔ کراچی کے لوگ ایم کیو ایم پاکستان سے ناراض ہیں، وہ آج بھی بانی ایم کیو ایم کے ساتھ کھڑے ہیں اور اکثر ایم کیو ایم پاکستان کو غداروں کا ٹولٰہ کہتے ہیں۔ مصطفی کمال پر بہت بڑی انویسٹمنٹ کی گئی مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ وہ اپنی پارٹی پی ایس پی کو دفن کر کہ ایم کیو ایم پاکستان کا حصہ بن گئے ہیں جن کو کچھ عرصہ پہلے را کا ایجنڈ اور ملک دشمن کہتا تھا۔

افسوس کی بات یہ ہے مصطفی کمال نے ایم کیو ایم پاکستان میں آتے ہی اپنا ٹون تبدیل کر دیا۔ اب وہ پرانی ایم کیو ایم والی سیاست کرنا چاہتا ہے۔ جس میں نفرت اور تقسیم تھی۔ مگر لوگ سمجھ چکے ہیں اب ان کے بہکاوے میں نہیں آنا اس لیے اس کی فرسٹریشن بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لیے ایم کیو ایم پاکستان سندھ کے قوم پرستوں سے رجوع کیا ہے لیکن ایم کیو ایم پاکستان کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں کیوں کہ قوم پرستوں کا کراچی میں کوئی خاص ووٹ بینک نہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان نے اے این پی کے ساتھ بھی الیکٹورل اتحاد بنایا ہے اور اے این پی سے بھی مدد مانگ لی ہے۔ جب تک بانی ایم کیو ایم کا طوطی بولتا تھا اس وقت ایم کیو ایم کسی پارٹی سے اتحاد نہیں کرتی تھی۔ اب ایم کیو ایم کمزور ہو چکی ہے ان کے اپنے لوگ پیپلز پارٹی کو جوائن کر لیا ہے۔ ویسے ایم کیو ایم بانی کے وفادار لوگ ایم کیو ایم پاکستان کا حصا نہٰیں رہے وہ یا تو ملک چھوڑ چکے ہیں یا خاموش ہو گئے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان اب پی ایس پی کے ہاتھوں میں آ گئی ہے اس لیے کراچی میں ان کو مسائل کا سامنا ہے۔

جی ڈی ای سندھ کی 130 صوبائی اسمبلی کی سیٹوں میں 17 سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے لیکن اپنے لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ سندھ میں وزیراعلی ان کا آئے گا جو بات سمجھ سے باہر ہے۔ جی ڈی ای کی مین پارٹی فنکشنل لیگ ہے وہ اپنے گھر سانگھڑ میں بھی مشکل کا شکار ہے جہاں شازیہ عطا مری نے ان کی نیندیں حرام کر دیں ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی 6 صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر کھڑی ہے لیکن ان کے سامنے بہت تگڑے امیدوار سامنے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا مشکل نہٰیں کٰہ نہ صرف گرینڈ اتحاد ناکام ہو گا بلکہ جو ان پارٹیوں کی روایتی سیٹیں ہیں وہ بھی ہار جائیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments