نومولود بچی کے پیٹ میں بچہ!


امی کیا میں جڑواں تھی؟
جی بیٹا۔
پھر میرے ٹون Twin کو کیا ہوا؟
ختم ہو گیا۔
کیسے ختم ہوا؟
آپ ہی آپ۔
وہ کیسے؟
تم نے کھا لیا۔ پاس سے ہی بھائی کہتا ہے۔
دیکھیے امی۔ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ وہ چلاتی ہے۔
بہن کو تنگ مت کرو۔ ہم اسے گھرکتے ہیں۔

کھا لیا۔ کھا لیا۔ بھائی آہستہ سے گنگناتا ہے تاکہ ہم نہ سن سکیں۔ آواز سنتے ہی وہ پھر تنک کر کہتی ہے، دیکھیے نا امی۔

بیٹا تم باز نہیں آؤ گے۔ ہم آنکھیں دکھاتے ہیں۔
لیکن ایک بھولی بسری یاد ہمارے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے۔
ایک شفیق آواز کان سے ٹکراتی ہے۔ بیٹا، ایک بات کہوں؟
جی امی۔
یہ بچی کا پیٹ کیوں پھولا ہوا ہے؟
کچھ نہیں امی، گیس ہو گی۔
بیٹی لاپرواہی سے جواب دیتی ہے۔
نہیں بیٹا۔ آخر میں نے چھ بچے اپنے پالے ہیں اور پھر بچوں کے بچے۔ ایسا پیٹ تو کسی کا نہیں تھا۔

امی کو تو تسلی دے دی مگر ڈاکٹر بیٹی کو چین نہ آیا۔ کبھی نومولود کو سیدھا کرے، کبھی الٹا۔ کبھی پیٹ تھپتھپائے۔ کبھی سٹیتھو سکوپ لگا کر سنے۔ بچی کچھ دن کی تھی مگر غیر معمولی طور پہ ایکٹو، دودھ پینا بھی ٹھیک اور پیشاب پاخانہ بھی۔ روتی بھی نہیں تھی۔ چلو ایک دو دن دیکھ لیتی ہوں، بیٹی نے اپنے آپ کو تسلی دی۔

دو دن اور گزر گئے مگر بچی کا پیٹ ویسے کا ویسا۔ آخر ماں کو چین نہ آیا تو بچی کو اٹھا کر ریڈیالوجسٹ کے پاس پہنچ گئی۔ بات سن کر پہلے وہ مسکرائے پھر پوچھنے لگے کیا حمل کے آغاز میں یہ ٹون تھی؟

جی ہاں۔
پھر ایک ٹون ختم ہو گیا۔
جی۔
چلیے دیکھے لیتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب آپ کا اشارہ ایف آئی ایف کی طرف تو نہیں ہے۔
جی ہاں، ممکن ہے۔
ڈاکٹر صاحب وہ تو بہت ہی rare ہے۔ اب تک میڈیکل کی کتابوں میں صرف کچھ ہی کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
ہوئے تو ہیں۔ وہ بے نیازی سے بولے۔
ماں کا دل بیٹھ گیا۔ ہائے اللہ، ایف آئی ایف؟

الٹراساؤنڈ پہ کچھ بھی نہ نکلا سوائے گیس کے۔ ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر جانے کا اشارہ کیا۔ بعد میں آہستہ آہستہ پیٹ چھوٹا ہو گیا۔

بچپن میں بھائی جب بھی بہن کو تنگ کرتے ہوئے نادانستگی میں کہتا، یہ کھا گئی تھی ٹون کو ۔ ایف آئی ایف یاد آ جاتا۔

لیکن آج ایف آئی ایف کی یاد ایک خبر پڑھ کر آئی ہے جس کے مطابق پاکستان میں نو ماہ کی بچی کے پیٹ سے ایک بچہ نما رسولی نکلی ہے۔

اس سے پہلے کہ خبر پہ بات کریں، پہلے جان لیجیے کہ ایف آئی ایف ہے کیا؟

فیٹو ان فیٹس ( Feto in fetus) ; حمل کا آغاز دو بچوں سے ہوتا ہے لیکن پھر ایک بچے کی تھیلی آہستہ آہستہ چھوٹی ہو جاتی ہے اور دوسرا بچہ باقی رہتا ہے۔ بیشتر اوقات چھوٹی ہونے والی تھیلی خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔

لیکن فیٹو ان فیٹس کے مطابق چھوٹی ہونے والی تھیلی نارمل بچے کے پیٹ میں چلی جاتی ہے اور وہاں بڑھنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ رسولی نما بچہ حمل نہیں ہوتا سو بچی کا جسم ہو یا بچے کا ، دونوں میں ایسا ہونا ممکن ہے۔

یہ بہت ہی نایاب صورت حال ہے اور میڈیکل لٹریچر میں اب تک صرف دو سو کے قریب کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایک ایسے ہی کیس میں بچے کی عمر نو سال تھی جب اس کے پیٹ میں رسولی کا انکشاف ہوا۔ نو برس میں یہ رسولی آہستہ آہستہ فٹبال کے حجم تک پہنچی تھی۔ پیٹ کا آپریشن ہوا، رسولی نکالی گئی اور جب لیبارٹری میں معائنہ ہوا تو پتہ چلا کہ اس رسولی میں نومولود کی ریڑھ کے مہرے، ہاتھ اور پاؤں موجود تھے۔ دل چسپ بات یہ تھی کہ ساتھ میں ڈھائی فٹ لمبے بال بھی تھے۔

کچھ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ یہ بیضہ دانی کی ٹیراٹوما نامی رسولی بھی ہو سکتی ہے لیکن اگر ریڑھ کی ہڈی موجود ہو تو ایف آئی ایف ہی تشخیص ہو گی۔

پاکستانی میڈیا میں ایسے کیس کی خبر چیخ و پکار کے ساتھ سنتے ہوئے خیال آیا، کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس کی سائنسی بنیاد بھی بتا دی جاتی۔ کچھ لوگوں کی آگہی میں اضافہ ہو جاتا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments