ڈاکٹر بلند اقبال: ایک ادبی محقق، مورخ اور دانشور
آج سے چند سال پیشتر جب میں بلند اقبال کے ساتھ، جو ایک طبیب اور ادیب ہی نہیں میرے حبیب بھی ہیں، کینیڈا ون ٹی وی پر ”دانائی کی تلاش“ کے پروگرام ریکارڈ کروا رہا تھا، ان دنوں مجھے اندازہ ہوا کہ جہاں میں ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی سوانح عمریوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتا تھا، وہاں بلند اقبال اس دانشور کے دور کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی پس منظر پر اپنی رائے پیش کرتے تھے۔ اس پروگرام کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ بلند اقبال کے اندر ایک رائٹر اور ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ ایک ماہر سماجیات بھی چھپا بیٹھا ہے اور یہی ماہر سماجیات ادیب ہے جس نے ان سے ”پلیٹو سے پوسٹ ماڈرنزم تک“ کتاب لکھوائی ہے۔
بلند اقبال کی یہ کتاب ادب تاریخ اور ثقافت کے طالب عملوں کے لیے ایک قیمتی ادبی تحفہ ہے۔ اس کتاب میں بلند اقبال نے پیچیدہ مسائل اور دقیق مباحث کو عام فہم زبان میں قاری کے سامنے پیش کیا ہے۔
بلند اقبال کی کتاب ہم پر یہ راز منکشف کرتی ہے کہ انسانی شخصیت کے ارتقا کے سفر کو سمجھنے کے لیے ادب بھی اتنا ہی اہم ہے جتنی کہ تاریخ کیونکہ ادب اور تاریخ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
بلند اقبال نے اپنی کتاب میں ادب اور ثقافت کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کیا ہے۔ انہوں نے پچھلے تین ہزار سالوں کو دس ادوار میں تقسیم کیا ہے اور پھر قاری کو ہر دور کے نہ صرف ادیبوں شاعروں اور دانشوروں سے متعارف کروایا ہے بلکہ ان ادیبوں کے فن پاروں اور شہ پاروں کا خلاصہ اور تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔
اس کتاب میں جہاں افلاطون کے افکار کا ذکر ہے وہیں گلیورز ٹریولز کا ذکر بھی ہے جہاں ورجینیا وولف کی شعور کی رو کا ذکر ہے وہیں سارتر کے فلسفہ وجودیت کا ذکر بھی ہے۔
بلند اقبال کے ادیبوں کی تخلیقات کے تجزیے سے ہم اس دور کے ادبی سماجی اور سیاسی رجحانات اور تعصبات سے بھی جانکاری حاصل کرتے ہیں۔
بلند اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ قدیم دور کے یونانی ادب کی عمارت انسان دوستی اور سیکولر آدرشوں کی بنیادوں پر استوار تھی لیکن جب یورپ میں گرجے اور مذہب کو مقبولیت اور حاکمیت ملی تو ادب میں بھی مذہبی اثرات بڑھنے لگے اور پھر جدید دور تک پہنچتے پہنچتے ادب پھر انسان دوستی کے قریب اور مذہبی روایتوں اور آدرشوں سے دور ہوتا گیا۔
بلند اقبال میرے ادبی ہمسفر ہیں۔ جو ادیب مجھے قریب سے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ مجھے دوسرے ادیبوں کے ساتھ کتابیں لکھنے کا بہت شوق رہا ہے کیونکہ میری نانی اماں کہا کرتی تھیں
ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں
اسی لیے میں اب تک دیگر شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ مل کر بیس کتابیں لکھ چکا ہوں۔ جب میں نے پہلی مشترکہ کتاب جاوید دانش کے ساتھ لکھی اور ہماری کتاب ”کالے جسموں کی ریاضت“ جس میں افریقہ اور امریکہ کے کالے ادیبوں کی تخلیقات کے تراجم شامل تھے، کی رونمائی کی تقریب ہوئی تو دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر یہ دیکھنے آئے کہ وہ کون سے دو دیوانے ادیب ایسے ہیں جو مل کر ادبی کام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں محفل کے شرکا سے کہا کہ اردو کے اکثر ادیب ایک دوسرے پر سخت تنقید ہی نہیں کرتے وہ حسد کی آگ میں سلگتے اور کڑھتے بھی رہتے ہیں۔
میں نے دوسرے ادیبوں کے ساتھ مل کر کو جو بیس کتابیں لکھی ہیں ان میں سے ایک کتاب ”دانائی کا سفر“ بھی ہے جس میں میاں چنوں کے ہمارے مشترکہ دوست عبدالستار نے میرے اور بلند اقبال کے ٹی وی انٹرویوز کو رقم کر کے سانجھ پبلشرز لاہور سے چھپوایا ہے۔
بلند اقبال کی کتاب پڑھ کر مجھے خوشی بھی ہوئی اور فخر بھی ہوا۔ میں ان کے ادبی سفر اور ارتقا کا چشم دید گواہ ہوں۔ بلند اقبال جو پہلے ایک افسانہ نگار اور ناول نگار تھے وہ اس کتاب میں ایک ادبی محقق، مورخ اور دانشور بن کر سب کے سامنے آئے ہیں۔
میں آپ کے سامنے ان کے دیباچے میں سے ایک جملہ آپ کو سناتا ہوں تا کہ آپ کو اس کتاب کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہو سکے۔ بلند اقبال رقم طراز ہیں
”کسی بھی تہذیب کا فکری تعلق اس دور کے سیاسی اور سماجی عہد سے ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ بھی ضروری ہے کہ فکر کے ارتقائی سفر کو سمجھنے کے لیے دور قدیم سے دور جدید تک ہونے والے ان عوامل کو بھی سمجھنے کی کوشش کی جائے جو اس عہد کے دانشوروں پر اثر انداز ہوئے اور ایک مخصوص رخ میں معاشرتی شعور کی نشوونما کا سبب بنے“
جب میں نے بلند اقبال کی تین سو ساٹھ صفحات پر مشتمل کتاب ختم کی تو مجھے علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آیا
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
بلند اقبال کی ایک کتاب آپ کو ہزار کتابوں سے نہ سہی کم از کم سو کتابوں سے ضرور نجات دلا سکتی ہے کیونکہ بلند اقبال نے ادب اور تاریخ کی سو کتابوں کا نچوڑ ایک کتاب میں پیش کر دیا ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ یہ کتاب پڑھ کر آپ کی ادبی پیاس کم ہونے کی بجائے کچھ اور بڑھ جائے اور اپنی گلی، یونیورسٹی یا انٹرنیٹ کی کسی لائبریری کا رخ کریں اور ان ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کریں جن کا مختصر تعارف بلند اقبال نے اپنی کتاب میں کروایا ہے۔
چونکہ میں بلند اقبال کا کئی برسوں سے ادبی ہم سفر رہ چکا ہوں اس لیے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ بھی ان کے ادبی ہم سفر بن گئے تو آپ ان کی تخلیقات سے مسحور بھی ہوں گے اور محظوظ بھی۔
ان کی کتاب بھی ان کی شخصیت کی طرح پرکشش ہے۔


