دھماکوں کی گونج
دھماکہ کی آواز سنتے ہی بڑے بڑوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے ہیں، چاروں شانے چت ہو جاتے ہیں۔ ایک شب ہاسٹل سے تھوڑا باہر عسکری چوکی پر دو دوستوں کے ہمراہ موجود تھا۔ پیٹ پوجا کا معاملہ تھا، اس شب ہاسٹل کے کھانے سے اکتائے ہوئے مبارک ہوٹل پر آرڈر کیا۔ جس کو وصول کرنے کے لیے جائے وقوعہ پر موجود تھے۔ ادھر کھانا موصول ہوا ادھر آنکھوں کے سامنے اچانک آگ بھڑک اٹھی، بندہ ناچیز کو ایک گونج سنائی دی۔ کان جیسے بہرے سے ہو گئے۔
کلیجہ دھک سے پھٹنے والا تھا۔ اوسان خطا ہو گئے۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا ہوا کیا ہے۔ لرزتی ہوئی صدا آئی ”دھماکہ“ ۔ اللہ اکبر کی صدا نکلی۔ نوید صاحب نے بھاگنے کا مشورہ دیا۔ سلیم صاحب بھی ساتھ تھے جو وزن میں تقریباً مجھ سے دو گنا تھے۔ اس کے باوجود بھاگتے ہوئے میرے سے دو قدم آگے ہی رہے۔ جان بچانے کے لیے شاید یہ واجب تھا۔ ایک ہاتھ میں کھانا دوسرے ہاتھ سٹوڈنٹ کارڈ تھا۔ ہانپتے ہانپتے چوکی کے دروازے سے اندر داخل ہوئے۔
دروازہ اس لیے کھلا تھا کہ فوجیوں کا قافلہ ابھی داخل نہ ہوا تھا۔ ورنہ ہماری فکر اتنی کہاں ہونی تھی۔ جو بعد ازاں فوراً بند ہوا۔ حملہ فوج کی ایک نفری پر ہوا تھا۔ جو کہیں سے لوٹ کر واپس کینٹ آرہے تھے۔ فائر کھل گیا۔ فوجیوں نے منظم انداز سے کارروائی کی۔ خدائے برتر سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ بھاگتے بھاگتے ہاسٹل پہنچے۔ چوکیدار بیچارا ہم سے زیادہ پریشان تھا اور کیوں کر نہ ہوتا، ہم اسے بتا گئے تھے کہ کہاں جا رہے تھے۔
ہم کو سلامت دیکھ کر اس کی سانسیں بحال ہوئیں۔ اللہ تیرا لاکھ شکر کہ حیات تھے۔ ہاسٹل میں خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سب فکر مند تھے۔ یہ خبر سنتے ہی وارڈن صاحب بھی براجمان ہوئے۔ باز پرس ہوئی، کون کون باہر ہے۔ جو باہر تھے ان سے رابطہ کیا گیا اور ان کو محفوظ مقام پر رکنے کی تلقین کی گئی۔ بہر حال ہم نے یہ موقف اپنایا کہ ہمارا کھانا تو ہاسٹل کے گیٹ پہ آیا۔ باہر نہ جانا پڑا تھا۔
جوں جوں الیکشن قریب آ رہا ہے حالات ناساز ہو رہے ہیں۔ شاید الیکشن کو ملتوی کرنا مقصود ہو، کچھ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ کل دھماکہ کی ایک اور گونج اٹھی۔ معلوم ہوا واقعہ سموگلی روڈ پر پیش آیا۔ صد شکر خدا کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ ملک کا بیشتر حصہ انتشار کا شکار ہے۔ مچھ جیل پر بھی حملہ ہوا، زیادہ نقصان نہ پہنچا سکے البتہ خوف و ہراس پھیلا نے میں کامیاب رہے۔
ماشاءاللہ ہوٹل کوئٹہ سے چند میل دور ہے، پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ جب ریل گاڑی درے سے باہر نکل کر ہوٹل کے عقب سے بل کھاتے ہوئے گزرتی ہے تو منفرد اور دل فریب منظر پیش کرتی ہے۔ اس لیے عموماً سیاحوں کا محور رہتا ہے۔ یہاں بھی دھواں اٹھا۔ اور اس کا نقشہ بدل گیا۔ کئی بے گناہ لقمۂ اجل بنے۔ دو دن تک جنگ کا ساماں تھا ہر طرف خوف و ہراس پھیلا ہوا شاید یہ آزادی کے متلاشی تھے جو کئیوں کو زندگی سے آزاد کرتے گئے۔
کوئٹہ سے غالباً پینتالیس میل دور بولان کے سرخ و خشک چٹیل چمکتے ہوئے پہاڑوں میں قدرت کا ایک شہکار موجود ہے۔ چند سن قبل کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ کیا دلفریب منظر تھا! سنگلاخ پہاڑوں میں خشک چمکتے ہوئے پتھروں سے ٹھنڈے پانی کے کرشماتی انداز سے نکلتا ہوا چشمہ ایک کرشمہ قدرت تھا۔ تھوڑے علاقے میں ہی سہی لیکن پانی کی فراوانی سے مخصوص علاقہ میں ہریالی ہی ہریالی تھی کھجور کے درخت خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے۔
روایات کی مطابق پیر غیب اور ان کی بہن، محترمہ بی بی نانی، یہاں آئے تھے۔ تاکہ اسلام کی ابتدائی دنوں میں اس کی تبلیغ کر سکیں، مقامی لوگوں کو اسلام کی شمع سے روشن کر سکیں۔ لیکن آتش پرستوں نے ان درویش صفت لوگوں کے پیچھے فوج لگا دی۔ بولان کے درہ میں، بھائی بہن سے جدا ہو گیا ؛ بی بی درہ کے زیریں طرف چلی گئیں ( ان کا مقبرہ غالبا 15 کلو میٹر دور ایک پل کے نیچے ہے ) جبکہ ان کا بھائی فوج کے ساتھ ان خشک چمکتے ہوئے پتھروں میں بھاگا۔ درہ کے بالائی جانب۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کو پتھر کی دیوار نے روکا ہے، درویش نے قادر مطلق سے دعا کی کہ وہ اسے اپنی حفاظت میں لے لے۔ اور وہ غائب ہو گئے۔ لہذا، انہیں پیر غیب کہا گیا۔ مقامی لوگوں نے پیر غیب کی مہا دیو کے نام سے پرستش شروع کردی۔ اب حقیقت کیا ہے خدا خود بہتر جاننے والا ہے۔ وہ علیم ہے۔
بلوچستان میں قدرت کے حسین، دل کش، دل فریب، من موہن اور فسوں ساز شاہکار ہیں۔ حواس باختہ ہو گئے جب معلوم ہوا کہ قدرت کی یہ عظیم تخلیق بھی آتش فشانی سے محفوظ نہ رہ سکی۔ ظالموں نے اس کو بھی نہ بخشا۔ تربت، مکران کے علاوہ سبی میں بھی دھماکوں کی گونج کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بلوچستان کیا پاکستان کو اس وقت خون کا غسل دیا جا رہا ہے۔ نہ جانے کب تک خون کی یہ ہولی کھیلی جائے گی۔ اس خون ریزی کے رد عمل میں بھی نا جانے کتنے گھر اجڑ گئے۔
جب آپریشن ہوتا ہے، مقابلہ ہوتا ہے، تو فائر کھل جاتا ہے۔ نا جانے کتنے بے قصور، اور بے گناہ اس آگ کی لپیٹ میں آتے ہوں گے! کیونکہ گولی نہیں دیکھتی کہ یہ انسان قصور وار ہے یا بے قصور، مجرم ہے یا پھر پاک دامن۔ سکی نال سنی وی سڑ ویندی اے۔ (خشک کے ساتھ گیلی لکڑی بھی آگ سے راکھ ہو جاتی ہے ) نہ جانے کب تک یہ عمل جاری رہے گا!
کیا انوکھا کھیل ہے قدرت والے کا! مرنے والا بھی مسلمان، مارنے والا بھی مسلمان۔ دونوں کلمہ طیبہ کی قائل ہیں۔ قاتل بھی ہم، مقتول بھی ہم۔ مارنے والا کہے اللہ اکبر، مرنے والا پڑھے لا الہ الا اللہ۔ وہ جن کو خدا کے محبوب سرور کائنات ﷺ نے بھائی بھائی کہا وہ نہ جانے کب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔
اے خاصہ خاصاں! اس فقیر کی یہی التجا ہے کہ تیرے محبوب کا دین جو بڑی شان و شوکت سے عرب سے نکلا تھا آج پردیس میں غریب الغربا ہے۔ جو دین نوح بشر کا ہمدرد تھا اب اس میں چاروں سمت جنگ و جدل کا سماں ہے۔ یا خدا تو ہی ہے جو اس کشتی کو کنارے لگا سکتا ہے۔ یا ذوالجلال والاکرام ڈوبتی ناؤ کو پار لگا دے۔




