خون کا سرطان اور اٹھائیس دن کا چِلّہ

بائیں پاؤں پر ایک چھوٹا سا نشان۔ جو وقت کے ساتھ زخم بنا۔ پھر ناسور۔ اور آخرکار، ایک ایسی جنگ۔ جس میں زندگی اور موت دونوں سامنے کھڑی تھیں۔ وقت گزرنے لگا، زخم بڑھنے لگا، جلد تو جلد ماس کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔ یہاں تک کہ صفائی کرتے وقت ہڈی کی بیرونی سطح نظر آنے لگی۔ ہلکا ہلکا بخار رہتا، جسم تھکاوٹ سے چُور رہتا، وزن مسلسل کم ہونے لگا، جسم کمزور پڑنے لگا۔ ایک تیس سالہ محنت

Read more

دہقان قدیم اور تعلیم

زمانہ قدیم سے دریائے چناب اور دریائے جہلم اس خطے (ضلع جھنگ، ضلع ٹوبہ اور ان کے آس پاس کے علاقے ) کے بے تاج بادشاہ رہے ہیں۔ جہاں چاہتے بہتے، جہاں چاہتے ٹھہرتے۔ نہ کوئی روک، نہ کوئی ٹوک، جب دل کیا جو دل کیا بہا لے گئے اور نشانی کے طور پر ٹیلے (ریت) چھوڑ جاتے۔ جبھی یہاں کے باسیوں کا اس اجارہ داری کے خلاف کوئی چارہ نہ تھا۔ بودوباش انہی دریاؤں کے مزاج پر منحصر تھی۔

Read more

ساس بہو کی باہمی نوک جھونک

کلمہ طیبہ سے کشیدہ کالی چادر میں لپٹا ہوا نوجوان، زندگی کی الجھنوں سے آزاد، ابدی نیند سو رہا تھا۔ گھر میں کربلا سا سماں۔ غم ایسا کہ اپنے تو اپنے، بیگانے بھی نڈھال۔ کوئی سر پیٹ رہا تھا، تو کوئی چھاتی۔ کوئی چھپ چھپا کے رویا، تو کوئی بلک بلک کر۔ مسکراتا اور تمتماتا چہرہ جیسے ان سب کو چڑا رہا تھا۔ چہرے پر کوئی شکن تک نہ تھی۔ نہ جانے کتنے دنوں کے بعد وہ سکون کی نیند

Read more

انسان کا کاٹنا سانپ کے ڈسنے کے مترادف ہے

ہسپتال کے ہر کونے میں یہ بات سرگوشیوں سے نکل کر شور کی صورت اختیار کر گئی کہ انسان کو انسان نے کاٹا ہے۔ جانور، کتے بلے کے کاٹنے کی خبریں تو معمول کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن انسان کا انسان کو کاٹنا ایک انوکھا، غیرمعمولی اور ناقابل یقین واقعہ تھا۔ مریض کو سرجیکل آئی سی یو کے حساس ماحول میں لایا گیا، جہاں اس کی ذمہ داری ہمارے سپرد ہوئی۔ ایک ضعیف العمر درویش صفت شخص، مشینوں کے جال

Read more

اتفاق سے اتفاق تک

زندگی کی پگڈنڈیاں اتفاق کے قمقموں سے جگمگاتی ہیں۔ جہاں کچھ اتفاق ہمیں مسکراتی یادوں کا خزانہ دیتے ہیں، وہیں کچھ ہمیں درد کی گہرائیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ یاد ماضی عذاب ہے یارب۔ اس تحریر کی وجہ خاص حضرت انسان اور دنیا کی ایک ایسی روداد ہے جو ایک سلسلہ وار اتفاق سے شروع ہوئی، محبت میں ڈھلی، اور ایک غیر متوقع موڑ پر آ کر ختم ہو گئی۔ ایک حسین اتفاق ہوا۔ لیکچر ہال سے باہر نکلتے ہی

Read more

حوا کی ایک اور بیٹی درندگی کا شکار

پرندے کیوں نہیں آتے؟ کنکر کیوں نہیں برساتے؟ جس معاشرے میں ظلم کی انتہا ہو، ظالم کی پشت پناہی ہو، ظلم کو سراہا جائے، مظلوم کو للکارا جائے، تو مدد کو فرشتے کیوں کر آئیں گے؟ آسمان کیوں نہ روئے گا؟ زمین کیوں نہ کانپے گی؟ پتھر کیوں نہ لرزیں گے؟ جہاں ہمارے ہاں آئے روز تجنیس و تلازمہ کی خوب آؤ بھگت کی جاتی ہے وہیں دنیا کو تھرتھرا دینے والے واقعات گمنامی کے گہرے سمندر میں کھو جاتے

Read more

وہ گردہ نکالنا چاہتے ہیں

تمتماتا سورج اور آنکھوں کو چندھیا دینے والی کرنیں۔ آتش مہتاب سے دہکتی زمیں پر ایک ادھیڑ عمر کی خاتون، مرکزی شاہراہ کے کنارے کسی سوچ میں مبہوت آگ پر چلتے ہوئے اچانک چیخ اٹھی ڈاکٹر، ڈاکٹر! جیسے کہیں پیاسے کو کنواں نظر آ گیا ہو۔ میں ساٹھ میل فی گھنٹہ کی اوسط رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔ درد بھری آواز کانوں میں گونجنے لگی۔ مجھے مجبوراً وہاں رکنا پڑا۔ موٹر اس آواز سے چند قدم آگے جا رکی۔

Read more

غیرت کے نام پر قتل، ایک معاشرتی المیہ

اس مبارک مہینے میں گزشتہ چند روز سے ایک اندوہناک واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا کے جنگل میں آگ کی طرح پھیلی ہے۔ درد، اذیت اور بے حسی کی انتہا ہے۔ اس قدر تکلیف ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ نے اس دکھ کا خاکہ اتارنے کی دلیرانہ کوشش کی۔ انہوں نے معاشرے کی اس سفاکی کی بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے اپنے قارئین کے زخموں کی رفو گری بہت عمدہ الفاظ سے کی۔ جب کبھی کوئی

Read more

ثقافتی ازدحام

ہر وہ شے جو افراد کے جذبات اور احساسات سے وجود میں آئے ثقافت ہے۔ کسی بھی معاشرے میں رسم و رواج، طرز بود و باش، اظہار فن کے جو معیار رائج ہوتے ہیں، وہ معاشرے کے سماجی اقدار کہلاتے ہیں۔ جس طرح درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے، اسی طرح ثقافت اور تمدن کی پہچان اس معاشرے کے سماجی اقدار ہیں۔ سر سید احمد خان تہذیب کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب ایک گروہ انسان کسی

Read more

حکمت اکتسابیہ اور بھِیڑ چال کا مزاج

حکمت اکتسابیہ انسانی معاشرے کی ترقی کے لیے ایک اہم منزل ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمت اللہ نے اس نظام معاش کی تعریف کچھ یوں کی ہے کہ انسان اپنی معاش میں رفاہیت اور ذوق حسن کا خیال رکھے اور کوشش کرے کہ انسان اپنی تمام ضروریات اوسط درجے کی رفاہیت سے پوری کرے۔ اگر یہ کوشش نہ کی جائے تو انسان سخت تکلیف اور رنج و غم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اور اتنی حاجتیں جمع

Read more

اعتماد : انسانیت کا ایک حسین پہلو

نیلی چھتری والے کے بھید نرالے اور ہم ہی ہیں جو ان سے نا آشنا ٹھہرے۔ ظن غالب یہ ہے معاشرے کی تنگدستی اور سفا کشی نے ہمیں اس قدر لاچار اور مفلوج بنا کر تاریکی کے گھپ اندھیرے میں اتار دیا کہ ہم روشنی کی ایک کرن دیکھنے سے قاصر ہیں۔ ہم شاید منفی سوچ میں اس قدر پھنس گئے ہیں کہ اس سمندر کے ساحل پر آنا ہی نہیں چاہتے۔ اگر ہم کسی طرح یہ نرالے بھید سمجھ

Read more

ممبئی کی مافيا کوئین گنگا جیون داس

گزشتہ چند روز سے ایک تصویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں ایک مشہور سیاسی شخصیت کو ایک نائکہ کی طرح دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کنچی کون ہیں یہ میں بیان کر سکتا ہوں۔ دراصل اس تصویر میں جلوہ گر بھارت کی ایک مشہور اداکارہ عالیہ بھٹ ہیں۔ جنہوں نے اس فلم میں اداکاری کے جوہر دکھا کر اس کو چار چاند لگائے۔ سنجے لیلا بھنساری نے اس فلم کو ڈائریکٹ کیا ہے۔ سید

Read more

مفاہمت کے پیش نظر ضمیر کا سودا

انسانی روح کی ایک آنکھ ضمیر ہے، جس کے سبب اس پر صحیح غلط کا فرق عیاں ہوتا ہے۔ باضمیر شخص کی پہچان اس کے اخلاقی اقدار، انسانیت کے معیار، دوسروں کے احترام اور اُس کے فیصلوں میں اصول پسندی کی بنا پر کی جا سکتی ہے۔ ایک باضمیر انسان عموماً دوسروں کے لئے فیصلے کرتا ہے، ان کی مدد کرتا ہے، اور ان کی سوچ و بچار اور تردد و تفکر کا احترام کرتا ہے۔ ضمیر انسان کو اپنے

Read more

لاڈلا دل باولا دل

دل لاڈلا ہی نہیں باولا بھی ہے۔ کھیلنے کو چاند تارے مانگتا ہے۔ اس بحث پر مصر ہے کہ پاکستان میں خالصتاً جمہوریت ہو۔ خالص تو کیا نیم جمہوریت بھی ہماری نیند میں خلل لا سکتی ہے؟ بھلا اس احمق سے پوچھو جو چیز ہماری آب و ہوا کے موافق نہ ہو، وہ کیسے ممکن ہے یہاں قدم جما سکے! جمہوریت یونانی زبان کے دو الفاظ ”ڈے موس“ اور ”کراتوس“ کی پیدائش ہے۔ یہ دو الفاظ جمہوریت کے تصور کی

Read more

دھماکوں کی گونج

دھماکہ کی آواز سنتے ہی بڑے بڑوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے ہیں، چاروں شانے چت ہو جاتے ہیں۔ ایک شب ہاسٹل سے تھوڑا باہر عسکری چوکی پر دو دوستوں کے ہمراہ موجود تھا۔ پیٹ پوجا کا معاملہ تھا، اس شب ہاسٹل کے کھانے سے اکتائے ہوئے مبارک ہوٹل پر آرڈر کیا۔ جس کو وصول کرنے کے لیے جائے وقوعہ پر موجود تھے۔ ادھر کھانا موصول ہوا ادھر آنکھوں کے سامنے اچانک آگ بھڑک اٹھی، بندہ ناچیز کو ایک

Read more

کچھ ذکر نیلسن منڈیلا کا

ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں جب بھی جس معاشرے میں ظلم نے سر اٹھایا، انسانی قدروں کو پامال کیا خدا نے اپنے بندوں کی حفاظت کی۔ اس بربریت کا قلع قمع کرنے اور اپنے بندوں کو نجات دلانے کے لیے ہمیشہ اسباب پیدا کیے۔ بیسویں صدی کے آغاز سے ہی جب جنوبی افریقہ میں ظلمت، بربریت اور تعصب پرستی کے سیاہ بادل منڈ لا رہے تھے۔ ہر طرف سفید فاموں کی سفاکیت

Read more

نجات دہندہ: ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں جب بھی جس معاشرے میں ظلم نے سر اٹھایا، انسانی قدروں کو پامال کیا خدا نے اپنے بندوں کی حفاظت کی۔ اس بربریت کا قلع قمع کرنے اور اپنے بندوں کو نجات دلانے کے لیے ہمیشہ اسباب پیدا کیے۔ بیسویں صدی کے آغاز سے ہی جب جنوبی افریقہ میں ظلمت، بربریت اور تعصب پرستی کے سیاہ بادل منڈ لا رہے تھے۔ ہر طرف سفید فاموں کی سفاکیت

Read more