بلا، شیر، تیر، پتنگ اور وہ


بلا، ارے بھائی آخر کب تک نوکنگ کرتے رہو گے کچھ کھیلنے کا موقع بھی تو دو۔ اب تو ٹیل اینڈر ہی بچے ہیں کم از کم ان کے ہاتھ تو لگوں۔

وہ، خبردار جو کھیلنے کی بات کی تم نے پچھلی دفعہ پورے پانچ دن ( پانچ سال ) کا ٹیسٹ میچ دیا گیا تھا تمھیں لیکن تمھارے نا تجربہ کار کھلاڑیوں نے اسے ٹی 20 بنا کر رکھ دیا۔ جیسے دیکھو چھکا لگانے کی سعی میں اپنی وکٹ گنوا رہا ہے۔ اور تمھارے کپتان نے تو حد ہی کر دی اچھا خاصہ بولر اتارا تھا لیکن یہ تو کم ظرف وکٹ کیپر بن کر رہ گیا۔ ہر مِس ہوتی بال پر کیچ کی اپیل اور اگے نکلتے کھلاڑی کی اسٹمپ اڑانے کی کوشش میں ہی سارا وقت نکال دیا۔ چیخنے چلانے اور فضا میں ہر وقت اچھلتے رہنے کے اِس کھلنڈرے پن نے نہ صرف انصافی تماشائیوں کو نام نہاد نا انصافی پر سیخ پا کیا بلکہ رٹائرمنٹ سے پہلے آخری میچ کے فیلڈ امپائر اور تھرڈ امپائر کے خلاف بھی صف آرا کیا۔ ارے بھائی تمھیں پر عزم اور بیسٹ اسٹریٹجک کپتان سمجھ کر میدان میں اتارا تھا لیکن تم تو ٹینس بال نائٹ میچ کے کھلاڑی نکلے۔ بس بہت ہوا اب اکادمی ( روایتی ٹریننگ سنٹر جیل خانہ جات ) میں رہو اور کچھ ٹریننگ حاصل کرو پھر دیکھیں گے کہ دوبارہ کب کھلانا ہے۔

شیر، بلی کی طرح منمنایا مجھے کیوں نکالا۔ مجھے کیوں کھیلنے سے روکا میں نہ صرف اِس وکٹ سے با خوبی واقف تھا بلکہ تین ٹیسٹ میچوں کا تجربہ بھی رکھتا تھا۔ اور تو اور میں تو اِس 75 سالہ جنگل کے قانون کو بھی خوب سمجھتا تھا۔ تو پھر مجھے کیوں معہ اہل و عیال پنجرے میں بند کر دیا گیا۔

وہ، ٹھیک ہے ٹھیک اب منمنانا بند کرو کھول دیا ہے تمھارا پنجرا اب کرو جنگل کا رخ۔ اور اب دیکھتے ہیں کہ تم جنگل کے قانون کی بالا دستی کے قیام کے لیے کون سے کارہائے نمایاں انجام دیتے ہو۔ اور اِس کے دائرہ کار میں رہنے والے جنگل واسیوں کے لیے کون سا چارہ اور کیسے نئے پنجرے تعمیر کرتے ہو۔ لیکن یاد رکھو تمھیں ہماری توقعات پر پورا اترنا ہے نہ کہ جنگل واسیوں کی۔ اور اگر تم اِس دفعہ فیل ہوئے تو ہم تم پر ایک ایسا حکمران مسلط کر دیں گے جو معصوم جنگل واسیوں کے ساتھ ساتھ شیر کو بھی گھاس کھانے پر مجبور کر دے گا۔

تیر، اور میرا کیا۔ میں کب تک نیم کش رہوں گا آخر مجھے بھی تو آر پار ہونے کا موقع فراہم کیا جائے۔ مجھ سے زیادہ عوام کا درد اور کون سمجھ سکتا ہے۔ ہمارے بارے میں تو غالب بھی کہہ گئے ہیں۔ ”کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیر نیم کش کو۔ یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا“ جناب عالی ہم نے تو خون سے سینچی ہے یہ وکٹ۔ ریڈ بال کا جو تجربہ ہمیں حاصل ہے وہ شاید ہی کسی دوسرے کو نصیب ہوا ہو۔ یقین نہیں آتا تو جنگل واسیوں کے بڑے پنجرے ( کراچی ) میں رہنے والوں سے پوچھ لیجیے گواہی ہمارے حق میں ہی دیں گے۔ ہم اگرچہ فیلڈ امپائر اور تھرڈ امپائر دونوں کے ہی ڈسے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی دونوں کے فیصلوں پر سر تسلیم خم کرنے کو ہر دم تیار رہتے ہیں۔

وہ، اچھا اچھا اب تیر چلانا بند کرو یوں بھی تمھارا کوئی تیر نشانے پر نہیں بیٹھتا۔ لہذا کمان ہمارے ہاتھ میں ہی رہنے دو۔ اور ایک بات ذہن نشین کر لو کہ جنگل واسیوں کا بڑا پنجرا کراچی نہیں بلکہ پنجاب ہے۔ اگر تم انھیں رام کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ٹیسٹ میچ تمھارا۔ اور ایک سب سے بڑا پنجرا بلوچستان جس میں اگرچہ جنگل واسیوں کی تعداد قدرے کم ہے لیکن کافی عرصے سے بپھرے ہوئے ہیں اگر تم انھیں سدھانے میں کامیاب ہو گئے تو اگلا ٹیسٹ میچ بھی تمھارا۔

پتنگ، سرکار مائی باپ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پتنگ کو کٹے کم و بیش پانچ سال ہو گئے ہیں اس کے باوجود ہم آپ کی ڈور سے بندھے خود ساختہ بسنت مناتے چلے آرہے ہیں۔ آخر ہمیں اِس کا صلہ کب ملے گا۔ ہمیں اِس بے پتنگ کے مانجھے کو اور کتنا گھسنا ہو گا۔ اب تو ہم کٹی پتنگ کی پینگ لینے کی سعی میں چھتیں بدل بدل کر بھی تھک چکے ہیں لیکن ہوا کا رخ نہیں بدلتا۔

وہ، ہاں ہاں پتہ ہے۔ شکر کرو کہ تم ابھی تک ہماری ڈور سے بندھے ہوئے ہو ورنہ جس قسم کی تم پتنگ بازی کر رہے ہو تمھیں تو اِس کھیل سے بہت پہلے ہی باہر ہو جانا چاہیے تھا۔ بہرحال ہمیں اب بھی بارہویں کھلاڑی کی ضرورت ہے تا کہ جہاں اور جب ضرورت پڑے اسے استعمال کر لیا جائے لہذا فکر مت کرو تم بھی اِس ٹیسٹ میچ کا حصہ ہو۔ اگر ضرورت پڑی تو کھیلنے کا موقع بھی فراہم کر دیں گے۔

بس اب بہت ہوا نشست برخاست۔ یوں بھی ہمیں تم لوگوں پر بھروسا نہیں لہذا میچ فکسنگ کے انتظامات ہمیں خود ہی دیکھنے ہوں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments