الیکشن: ابتدا سے اختتام تک


زمین مسلسل سورج کے محور گردش میں ہے، جس جگہ سے سال کے ابتدا میں زمین سفر کرنا شروع کرتی ہے سال کے اختتام پر بھی اسی جگہ کھڑی نظر آتی ہے۔ سال تو بدلتے رہتے ہیں، وقت تو آگے بڑھتا رہتا ہے لیکن زمین کا سفر آگے بڑھتا ہے نہ ہی طے شدہ سفر میں کوئی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔

پاکستان اپنے اگلے الیکشن کی طرف رواں دواں نظر آتا ہے، تمام تر تیاریاں ہو چکی ہیں، الیکشن کمیشن نے بھی اپنا ہوم ورک پورا کر لیا تو عوام نے بھی اپنے ووٹ سے اپنی طاقت دکھانے کی ٹھان لی۔ لیکن کیوں نجانے ابھی بھی ملک وہیں کھڑا نظر آتا ہے جہاں 1950 کی دہائی میں کھڑا تھا۔ الیکشن قریب آتے ہی ایک سیاسی پارٹی کا بھٹا بٹھا دیا جاتا ہے تو دوسری پارٹی کو پوری ریاستی مشینری کر استعمال کر کے حکومت میں لانے کی تیاریاں ہو رہی ہوتی ہیں، ایک طرف ایک سیاسی پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں لگا دی جاتی ہیں تو دوسری پارٹی کی چھوٹی سے چھوٹی تقریب کو بھی بھرپور کوریج دی جاتی ہے، ایک طرف فیک سرویز سے مقبول پارٹی کو غیر مقبول دکھایا جاتا ہے تو دوسری طرف غیر مقبول پارٹی کا فیک سرویز کی بدولت مقبول ہونے کا دعوٰی کیا جاتا ہے اور ہمیشہ کی طرح اس الیکشن میں بھی ہمیں یہ سب دیکھنے کو ملا۔

فرض کرتے ہیں کہ ریاستی فیورٹ پارٹی الیکشن جیت جاتی ہے، حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہوجاتی ہے لیکن کیا ایسی حکومت مضبوط حکومت کہلائے گی؟ ایسی حکومت جو کہ جوڑ توڑ سے وجود میں آئی ہوگی کیا جمہوریت کو تقویت ملے گی یا کمپرومائزڈ ہوگی؟ کیا ایسی حکومت ملک کے معاشی میدان میں درپیش مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہوگی؟ عوام اور ملک کو بیرونی مسائل سے کس حد تک یہ کمپرومائزڈ حکومت پروٹیکٹ کر سکے گی؟ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب نہ سیاستدانوں نے ڈھونڈنے کی کوشش کی نہ ریاست نے بس نظام چل رہا ہے تو چلنے دو والی روایت پر ہم عمل پیرا نظر آتے ہیں۔

کیا کبھی اس ملک کو انتشار کی سیاست سے چھٹکارا بھی نصیب ہو پائے گا یا پاکستان بننے کے بعد سے جو انتشار اور سازشی سیاست پروان چڑھی اسی کو ہی اپنایا جاتا رہے گا؟ جب ملک آزاد ہوا تو جہاں بیرونی سازشوں کا بازار گرم تھا وہاں اندرونی مسائل بھی بے شمار تھے۔ پنجاب اور سندھ میں گورنر راج کا لگنا ہو یا غلام محمد کے حکم پر پنجاب پر مارشل لا کا تیر برسانا ہو، بھگتنا اس ملک اور اس کی عوام کو پڑا۔ 1947 سے 1958 تک 8 وزیراعظم کرسی پر براجمان ہوئے اور پھر سکندر مرزا اور ایوب خان کے اقتدار کی جنگ کا نشانہ بن کر کرسی سے اتار دیے گئے۔

ملٹری امداد لینے کے چکر میں امریکا کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کورین وار میں شامل ہونا ہو یا سویت یونین کے خلاف جا کر خود کو اینٹی کمیونسٹ ملک دکھانا ہو، سوال یہ ہے کہ کیا اس سے ملک کو فائدہ ہوا؟ ملک کے ممکنہ پہلے لوکل آرمی چیف بننے والے جنرل افتخار کے جہاز کا کریش ہونا ہو یا لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات کرنے والے اعتزاز الدین کے ثبوتوں سمیت جہاز کا گرنا ہو کیا یہ سب اتفاق تھا یا یہ اسی سازشی کلچر کی ابتدا تھی جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اس ملک میں بے شمار ایسی گتھیاں ملیں گی جو آج تک نہ سلجھائی جا سکی ہیں نہ ہی کسی نے اس طرف دھیان دینے کو کوشش کی۔ اس سب منظرنامے پر واحد سفرر ملک اور ملک کی عوام نظر آتی ہے جو مسلسل ان مظالم کو شکار ہوتی رہی ہے اور ہو بھی رہی ہے

الیکشن کے بعد امید کی جاتی ہے کہ جمہوریت پروان چڑھے گی، ملک ترقی کرے گا، غربت کا خاتمہ ہو گا، ملک کی فارن پالیسی بہتر ہونا شروع ہوگی، معیشت کو ایک نئی زندگی ملے گی، عوام اور ملک کو وہ ملے گا جس کا خواب لے کر 1947 میں یہ ملک لیا تھا لیکن کچھ عرصے کا گزرنا ہوتا ہے تو ریاستی سطح پر حکومت اور اداروں میں اختلاف کی خبریں آنا شروع ہوجاتی ہیں، تھوڑا وقت گزرتا ہے تو اسمبلی اور میڈیا میں حکومت گرانے کی باتیں ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور پھر ایسا لگنے لگتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے کی اپوزیشن جو تتر بتر تھی وہ یکجا ہونا شروع ہوجاتی ہے اور کچھ دن پہلے جو حکومت مضبوط نظر آ رہی تھی وہ بکھرنا شروع ہوجاتی ہے اور پھر اس طرح ملک کی قسمت میں ایک اور ایسی حکومت شامل ہوجاتی ہے جو اپنا 5 سال کا وقت بھی پورا نہیں کر سکی، پھر حکومت گرنے کے بعد عدالتوں میں انتقامی کیسز اور پھر ان پر ملنے والی انتقامی سزا کی دہائیاں ملک کی جمہوریت کو مزید کھوکھلا کر جاتی ہیں، سپریم کورٹ ماضی میں اپنے ہی کیے گئے فیصلوں کو غلط قرار دے کر نظریہ ضرورت کی یاد دلاتی ہے، اور پھر سے وہی سارا معاملہ چل نکلتا ہے جو پچھلے الیکشن کے وقت ملک اور اس کی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔ وقت کے دائروں میں چکر کھاتے ہوئے ہم کیا اس ملک کو افراتفری، فسادات، انتشار، تقسیم، لالچ اور مفاد کی سیاست سے چھٹکارا دے بھی سکیں گے یا یہ محض وہ خواب رہ جائے گا جو کبھی پورا نہیں ہوتا۔

خیر اس کا جواب تو وقت دے گا، ابھی الیکشن کا وقت قریب ہے، اپنے گھر سے باہر نکلیں، ملک کی تقدیر کا فیصلہ اس کی عوام ہی کرتی ہے اور جمہوریت میں سب سے بڑا ہتھیار ووٹ کی طاقت ہوتا ہے، لہذا آپ سب اپنے اس ہتھیار کو استعمال کرنے کے لئے تیار رہیں، آپ اپنی سوچ کے مطابق جس کو ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں اس کو بغیر کسی ڈر اور خوف کے ڈالیں، ظلم کی قسمت میں ہمیشہ ہار لکھی ہوتی ہے، اور امید رکھیں جس کے نام پر آپ نے ٹھپا لگایا ہے وہ اس ملک میں جمہوریت کی ترقی، ملک، ملک کی عوام اور آپ کے لئے کام کرے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments