الیکشن نتائج میں تاخیر: وجہ دھاندلی تھی یا حقیقی مسائل


میرے ابو جان اور چھوٹا بھائی بالترتیب حلقہ این اے 58 چکوال اور این اے 127 لاہور کے ایک پولنگ سٹیشن پر بطور پریزائڈنگ افسر تعینات تھے۔ دمِ تحریر صبح کے 6:32 ہوئے ہیں۔ پہلے تو سگنل نہیں تھے، کچھ ہی دیر پہلے بحال ہوئے تو میں اسی انتظار میں تھا کہ ابا جی اور چھوٹے میاں سے حال احوال لوں۔

چھوٹے بھائی سے بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ غیر حتمی نتائج وہ رات 12 یا 1 بجے کے آس پاس جمع کروا آئے تھے۔ اس کے پولنگ سٹیشن پہ 2000 ووٹ رجسٹرڈ تھے جس میں سے 1000 ووٹ کاسٹ ہوئے۔ چھے چھے امیدواران اس حلقے سے الیکشن لڑ رہے تھے، سب کے ووٹ الگ الگ کرنا، پھر مہروں کی تصدیق کرنا، پھر مسترد ووٹوں کی جانچ پڑتال کرنا، پھر صوبائی حلقے کے چھے امیدواروں کے ووٹوں کی چھانٹی کر کے ان کے الگ الگ فارم 45 بنا کر تمام تر دستخطوں کے ساتھ سیل کرنا اور پھر یہی سارا عمل قومی حلقے کے چھے امیدواروں کے لیے کرنا، یہ سب کر کے سارے پولنگ عملے کو اجرت ادا کرنے میں بھائی صاحب کو رات کے 12 بج گئے۔ اسی دوران یہ فارم الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر فوراً اپلوڈ بھی کرنا تھے، جو سگنلز اور پھر ہیوی لوڈ ہونے کی وجہ سے ای سی ایم کا سرور بھی ڈاؤن ہو گیا اور یقیناً اس خجل خواری میں بھی وقت برباد ہوا۔

ان سارے مصائب سے نمٹنے کے بعد سارا ساز و سامان سمیٹ کر سکیورٹی عملے کی آمد پر اپنے پولنگ سٹیشن سے کئی کلومیٹر دور ریٹرننگ افسر کے پاس جمع کروانے بھی جانا ہوتا ہے اور یہ سارے فارم 45 اور فارم 46 صوبائی حلقے کے لیے الگ قطار جبکہ قومی اسمبلی کے لیے الگ قطار میں لگ کر جمع کروانے تھے۔ بھائی صاحب نے بتایا کہ 3 بجے کے آس پاس صوبائی حلقے کے فارم اور ساز و سامان جمع کروایا، اس صوبائی حلقے میں شہباز شریف صاحب بھی امیدوار تھے اور ہم سب نے دیکھا کہ شہباز شریف صاحب کا نتیجہ 5 بجے کے آس پاس آ گیا تھا، اب ظاہری سی بات ہے ریٹرننگ افسر نے تمام پولنگ سٹیشنز کے فارم 45 جمع کر کے فارم 47 پہ پورے حلقے کا نتیجہ ایک ساتھ مرتب کرنا ہوتا ہے اور اپلوڈ بھی کرنا ہوتا ہے، اور اس میں ایک دو گھنٹے مزید لگ سکتے ہیں۔ اسی طرح بھائی صاحب نے بتایا کہ اب وہ قومی اسمبلی کے حلقے کا سامان اور فارم 45 لے کر 3 گھنٹوں سے قطار میں لگے ہیں اور پورے حلقے کے پریزائڈنگ افسروں کی سامان جمع کروانے کے کیے اتنی لمبی قطار ہے کہ مزید ایک دو گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں۔ اب بھائی صاحب کے اس حلقہ این اے 127 سے بلاول بھٹو زرداری صاحب اور عطا تارڑ صاحب امیدوار ہیں سو ان کے سرکاری نتائج آنے میں مزید وقت لگے گا۔ نیز اس نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں سے نہ اس نے باقاعدہ نیند کی ہے اور نہ اچھا کھانا کھا سکا ہے۔ مزید یہ کہ اس کے پولنگ سٹیشن سے عطا تارڑ صاحب لیڈ سے جیتے ہیں۔

چھوٹے بھائی سے معلومات لینے کے فوراً بعد ابا جی کو کال ملائی، جو چکوال کی تحصیل چوآ سیدن شاہ کے کسی پولنگ سٹیشن پر بطور پریزائڈنگ افسر خدمات سرانجام دے کر آئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ رات 12 بجے کے آس پاس غیر حتمی نتائج کا اعلان کر کے وہی سارا عمل دہرانے، جو اوپر لکھ چکا ہوں، ضلع کچہری ریٹرننگ افسر کے پاس جا رہے ہیں۔ نیز یہ کہ تحصیل چوک سے ضلع کچہری پہنچنے میں تین گھنٹے کا وقت لگ گیا حالانکہ یہ سارا سفر پیدل آدھے گھنٹے کا ہے۔ ابا جی نے بتایا کہ پریزائڈنگ افسران اور ان کے ساز و سامان کے ساتھ گاڑیوں کی اتنی لمبی قطار اور بھیڑ ہو گئی کہ یہ محض آدھے گھنٹے کا پیدل سفر گاڑی پر تین گھنٹے میں طے ہو پایا۔ صوبائی حلقے کا سامان جمع کروا چکے ہیں جبکہ قومی اسمبلی کے نتائج اور ساز و سامان جمع کروانے کے لیے ابھی قطار میں لگے ہیں۔ کھانا پینا اور نیند ان کی بھی ادھوری ہے۔ ان کے پولنگ سٹیشن سے ایاز امیر صاحب جیتے، جبکہ غیر حتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق این اے 58 سے ایاز امیر صاحب 12 یا 13 ہزار کی لیڈ سے ہار رہے ہیں، ابھی حتمی و سرکاری نتائج آنا باقی ہیں۔

سو یہ ہے الیکشنز کے بعد کی عمومی صورتحال، اب بہت سارے دوست یہ اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ بلوچستان اور سندھ کے تھرپارکر جیسے علاقوں سے نتائج آ گئے مگر لاہور اور پنجاب کے مرکزی علاقوں کے نتائج آنے میں جو تاخیر ہے وہ کسی بددیانتی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ بلوچستان اور سندھ کے دوردراز علاقوں میں اول تو ٹرن آؤٹ سات، آٹھ، دس یا حد بیس فیصد رہا، دوم ان پولنگ سٹیشنز کے پریزائڈنگ افسران کو نتائج ریٹرننگ افسران کو جمع کروانے میں اس قدر دقت اور انتظار کا سامنا نہیں کرنا پڑا جیسے لاہور اور پنجاب کے دیگر گنجان آباد حلقوں میں کرنا پڑا۔ تاخیر اور بددیانتی والا عنصر بھی ہو سکتا ہے مگر ناچیز نے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے الیکشن کے مجموعی عمل اور پولنگ سٹیشنز کی صورتحال کو آپ کے سامنے رکھ دیا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا عین ممکن ہے کہ گنجان آباد علاقوں میں نتائج برآمد ہونے میں اس قدر تاخیر کیوں کر ہو رہی ہے۔

یہاں آخر پہ قارئین کی سہولت کے لیے ان حقائق کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستان اب قریبا 13 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز کے ساتھ بھارت، امریکہ، انڈونیشیا اور برازیل کے بعد دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت بن چکا ہے۔ اگر ٹرن آؤٹ صرف 50 فیصد بھی رہے تو لگ بھگ ساڑھے چھے کروڑ ووٹرز بنتے ہیں۔ پھر پنجاب کے گنجان آباد حلقوں میں ٹرن آؤٹ 60 فیصد تک بھی جاتا ہے اور جگہ جگہ ایک ایک ہزار، دو دو ہزار ووٹرز کے لیے پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں۔ پورے ملک میں 90 ہزار 675 پولنگ سٹیشن بنائے گئے اور قریباً 15 لاکھ انتخابی عملہ مقرر کیا گیا جنھیں محض دو ہفتے پہلے اتنے بڑے انتخابی دنگل کی تیاری کروائی گئی اور سونے پہ سہاگہ ہمارے الیکشن کمیشن کا ہمیشہ عین وقت پر زیادہ لوڈ پڑنے سے بیٹھ جانے والا آر ٹی ایس یا ای سی پی سسٹم جس کے ذریعے فوری نتائج عوام تک پہنچائے جانے ہوتے ہیں۔ پولنگ کے وقت یہ کہہ کر موبائل سگنل بند کیے گئے کہ انتخابی مہم میں کیے گئے 50 سے زائد حملے اور ان سے ہونے والے جانی و مالی نقصان جیسے مزید حادثات سے بچا جا سکے جبکہ نتائج کے وقت اس لیے بند کر دیے گئے کہ عوام الناس میں نتائج کو مرتب کرنے کے دوران شرپسند عناصر بے چینی و پراپیگنڈہ کو ہوا نہ دے سکیں۔ البتہ صبح ساڑھے پانچ بجے کے لگ بھگ تمام موبائل سگنل بھی کھول دیے گئے۔

پاکستان میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد گو کہ دیوانے کا خواب لگتا ہے مگر فدوی کے براہِ راست تجربے سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق الیکشن نتائج کو پانچ سات گھنٹوں میں اتنی عجلت میں بہت بڑے پیمانے پر بدلنا خاصا مشکل کام ہے۔ ہاں البتہ گزشتہ انتخابات میں جیسے تین تین روز تک نتائج روکے گئے تھے ان میں ٹیمپرنگ کے وافر مواقع بہرحال موجود تھے۔

Facebook Comments HS