مولانا ہدایت الرحمن: گوادر میں سیاسی تبدیلی

2024 کے انتخابات نے پورے ملک میں کچھ ایسے نتائج آئے، جس سے مبصرین حیران ہیں۔ جمہوریت میں ہمیشہ عوام کی جیت ہوتی ہے۔ جمہوری معاشروں کی یہی خوبی ہے کہ وہاں بادشاہت نہیں چلتی۔ عوام کی خدمت، ان سے جڑے رہنے، اور ان کی ہر مشکل میں ان کی ساتھ ہونے سے کامیابیاں ملتی ہیں۔
میر حمل کلمتی بلا شرکت غیرے 2008 سے لے کر 2023 تک ضلع گوادر کے ایم پی رہے۔ اس دوران وہ چند سال بلوچستان کے کابینہ میں وزیر بھی رہے۔ گوادر میں 2008 سے لے کر 2018 تک ان کا کوئی مد مقابل نہیں تھا۔ اس دوران وہ مسلسل تین مرتبہ گوادر کے ایم پی کی سیٹ جیتے کوئی بھی انہیں ہرا نہیں سکا۔ ان کے سامنے کوئی پارٹی یا شخصیت جیت نہیں سکی۔ حمل کلمتی اس میدان کے ایک بہترین شاہسوار تھے۔ وہ حلقے کی سیاست کو بہتر جانتے تھے۔
میرے خیال میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حمل اپنے آپ کو گوادر کے عوام کے لئے ناگزیر سمجھنے لگے۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے وہ عوام میں رہنے کے بجائے چند لوگوں کے درمیان رہے جنہوں نے سب اچھے کی رٹ لگا کر حمل کو مطمئن کیا۔ لوگوں کے مسائل کو اڈریس کرنے کے بجائے وہ سیاست، سیاست کھیلتے رہے۔ عوامی مشکلات کے اس انبار میں ایک مرد مجاہد آگے بڑھا۔ ایک غریب ماہی گیر کا بیٹا، مولانا ہدایت الرحمان لوگوں کے لئے ایک مسیحا بن کر آیا۔
انہیں حلقے کے مسائل کا ادراک تھا۔ ایک سیاسی خلا جو گوادر میں روایتی سیاستدانوں کی عدم توجہی کی وجہ سے پیدا ہو چکا تھا اس سیاسی خلا کو پر کرنے اور عوام میں رہ کر عوامی مشکلات کو ایڈریس کرنا شروع کیا۔ جس نے عام لوگوں کی مشکلات کی بات کی۔ گوادر میں عام آدمی کو ترقی کے نام پر بہت ساری قدغنوں کا سامنا رہا، ان مشکلات میں مولانا عام لوگوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ یہ مشکل چاہیے سکیورٹی فورسز کی عوام کی تذلیل کے متعلق تھی۔ یا ایک عام ماہی گیر کے سمندر جانے کے مشکلات کے متعلق تھی۔ ہر وقت مولانا دستیاب رہتے تھے۔ مولانا نے لوگوں کے لئے آواز بلند کرنا شروع کیا۔ یہ آواز عزت، روزگار کے متعلق تھی۔ ان کی اس جدوجہد کے بدلے میں 8 فروری کو عوام نے مولانا کو ایک ایسا مینڈیٹ دیا جس کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔
مولانا کے مقابلے میں بڑے بڑے دولت مند لوگ تھے۔ مولانا ایک غریب اور فقیر منش انسان ہیں۔ وہ اپنے جلسوں میں لوگوں سے برملا کہتے تھے کہ میرے پاس دولت نہیں، لیکن میرا دامن کرپشن سے پاک ہے۔ میں آپ کی طرح ایک غریب ہوں ایک متوسط طبقے کے گھر سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرے والد ایک غریب ماہی گیر تھا۔ آپ کے مشکلات کو سمجھتا ہوں۔ میں نے آپ کے لئے جیل کاٹا، لیکن آپ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ میرے پاس سواری نہیں کہ میں آپ کو پولنگ بوتھ تک لے جا سکوں، بریانی نہیں کہ میں الیکشن کے دن آپ لوگوں کی ضیافت کر سکوں۔
آپ خود الیکشن کے دن نکلیں، پیدل جاکر ووٹ کاسٹ کریں اگر بولنگ بوتھ آپ سے دور ہیں اور پیدل نہیں جا سکتے تو اپنے سواری کا خود انتظام کریں۔ اور اس غریب کو جتا کر یہ ثابت کریں کہ آپ کتنا باشعور ہیں۔ اگر میں منتخب ہوا میں نے اگر کرپشن کی اور میرے بینک بیلنس بڑھا میرے گریبان کو پکڑیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصب مجھے آپ کی بدولت مل سکتا ہے۔ اور آپ مجھے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ کریں گے۔ میں کبھی بھی دولت اور جائیداد کے لئے ضمیر فروش نہیں بنوں گا۔ ضلع کے عوام نے بھی مولانا کو مایوس نہیں کیا ان کے آواز پر لبیک کہا جوق در جوق لوگ گھروں سے نکلے۔ اور ضلع کے بڑے بڑے برجوں کو شکست فاش دی اور مولانا کو بھاری اکثریت سے کامیاب کیا۔ اس حلقے کے تمام خاموش ووٹ مولانا کو ملے۔
مولانا سب سے پہلے اس وقت گوادر کی سیاست میں نمودار ہوئے۔ جب سر بندر جو کہ گوادر کے قریب ایک رہائشی بستی ہے۔ جس میں مولانا کی اپنی رہائش بھی ہے۔ ایک مسئلے کے متعلق انہوں نے 19 اگست 2021 کو کوسٹل ہائی وے پر دھرنا دیا۔ یہ دھرنا چند دنوں کے بعد کچھ مطالبات تسلیم کرنے پر ختم کیا گیا۔ اس کے بعد گوادر میں وائی چوک پر ایک عوامی دھرنا دیا گیا۔ اس دھرنے میں مولانا نے گوادر کے عوام کی توجہ حاصل کی۔ گوادر کی عوام نے پہلی مرتبہ اپنے مسیحا کو دیکھا۔
لوگ مشکلات میں گھیرے ہوئے تھے۔ انہوں نے مولانا کے اس دھرنے میں بھرپور شرکت کی۔ یہ دھرنا غالباً 32 دنوں تک چلا۔ حق دو تحریک کا آغاز گوادر کے وائی چوک دھرنا سے ہوا۔ سردی کے باوجود مولانا عوامی مشکلات کے حل کے لئے 32 دن تک ڈٹے رہے۔ بلا آخر اس وقت کے وزیر اعلی کوئٹہ سے گوادر آئے مولانا سے مذاکرات کیے ۔ وائی چوک کا دھرنا کچھ مطالبات اور یقین دہانیوں کی کے بعد ختم ہوا۔ جب وقت گزرنے کے ساتھ مطالبات ماننے سے سرکار منحرف ہوئی۔
ایک اور دھرنا دیا گیا۔ یہ دھرنا بزور طاقت ختم کیا گیا۔ اور مولانا کو پابند سلاسل کیا گیا۔ مولانا عوام کی خاطر جیل میں رہے۔ تقریباً پانچ مہینے جیل میں رہنے کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر ان کی ضمانت ہوئی۔ انہوں نے صعوبتیں برداشت کیں، لیکن ان کے دل عوام کے لئے دھڑکتا تھا۔ جیل سے باہر آنے کے بعد بھی مولانا لوگوں کے ہر مسئلے میں ان کے ساتھ رہا۔ کوئی بھی مسئلہ ہوتا تھا مولانا پہنچ جاتے تھے۔
اگر مشاہدہ کیا جائے کہ وہ کون سی وجوہات تھیں کہ ایک عام آدمی جس کو 2008 سے لے کر 2018 تک گوادر کے سیاست کے حوالے سے صحیح معنوں میں کوئی جانتا تک نہیں تھا۔ عوامی مقبولیت کے اس منصب تک کیسے پہنچا؟ جب اس متعلق گوادر ایک عورت سے پوچھا گیا کہ آپ مولانا کو کیوں پسند کرتے ہیں۔ ان کا جواب میرے سوال کا بھی جواب ہے۔ اس عورت نے کہا کہ ہم ماہی گیر ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد یہی کام کرتے آرہے ہیں۔ ہمارا ذریعہ معاش ماہی گیری سے منسلک ہے۔ جب بھی ہمارے بچے شکار کے لئے سمندر جاتے تھے۔ انہیں مختلف وجوہات کے بنا پر سیکورٹی فورسز والے تنگ کرتے تھے، مختلف وجوہات پر روکتے تھے۔ اگر کوئی شناختی کارڈ لانا بھول جاتا تھا۔ اسے سمندر جانے نہیں دیتے تھے۔ شکار کے لئے سیکورٹی فورسز کا مخصوص ٹائم ٹیبل ہوتا تھا۔ ایک طرح ہمارے روزگار پر مختلف بہانوں سے قدغن لگا ہوا تھا۔ کوئی بھی سیاسی لیڈر ہمارے ان مسائل میں ہمارا ساتھ نہیں دیتا تھا۔ پھر یہ مرد مجاہد آیا، جرات کے ساتھ ہمارے لئے کھڑا رہا۔
ہمارے حوصلہ افزائی کی۔ ہمارے حقوق ہم کو بتائے۔ اور حق لینے کے لئے وہ ہمارے ساتھ کسی بھی حد تک آمادہ باش تھا۔ ہم نے اس کے اخلاص کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا کہ ہمارے مشکلات کا مسیحا یہی ہے۔ ہم اور کچھ نہیں کر سکتے لیکن اس کو اپنے مخلص لیڈر مانتے ہیں۔ جب بھی الیکشن ہوں اپنا ووٹ اسے دے سکتے ہیں۔ ووٹ کی پرچی سے انہیں حکومتی ایوانوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ ماہی گیروں کے علاوہ ہر طبقے کے لوگوں کے لئے مولانا نے آواز بلند کیا۔ اور لوگوں نے بھی مولانا کو مایوس نہیں کیا۔ ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے مولانا کو ووٹ کیا۔
اب مولانا کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ اصل امتحان مولانا کا اب شروع ہو گا۔ اس امتحان میں وہ کتنے کامیاب ہوں گے اس کا جواب وقت بتائے گا۔ گوادر میں عوامی مسائل کا انبار ہے۔ سب سے بڑا مشکل گوادر کے ساحلی بلٹ میں ٹرالنگ کا خاتمہ ہے۔ ٹرالنگ دراصل مچھلیوں کی نسل کشی ہے۔ ضلع گوادر میں ایک بڑے طبقے کا روزی روزگار ماہ گیری وابستہ ہے۔ اگر ٹرالنگ کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا سمندر کی بانجھ پن کو کوئی نہیں روک سکتا۔
لوگوں کی روزی روزگار کو ایک ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔ ٹرالنگ ایک ناسور بن چکا ہے اس مسئلے کے حل کے لئے ایک مافیا سے مقابلہ ہے۔ یہ مافیا وقت گزرنے کے ساتھ طاقتور ہوتا چلا گیا ہے۔ اس مافیا کو شکست دینا ہی اس مسئلے کا حل ہے۔ اس مسئلے کا خاتمہ گوادر عوام کا ایک دیرینہ خواب ہے۔ جو ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ہے۔ شاہد مولانا اس مسئلے کو بہتر انداز میں ایڈریس کرسکیں۔ گوادر کے لوگوں کا روزگار ایرانی بارڈر کے ساتھ بھی منسلک ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے گھر ماہی گیری اور باڈر ٹریڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ اس میں بے پناہ مشکلات ہیں۔ مولانا کا اپنا سلوگن تھا کہ ہمیں سرکاری نوکری نہیں چاہیے۔ ہمیں باعزت روزگار کے مواقع چاہیے۔
مولانا کے لئے یہ ایم پی کی سیٹ ایک کانٹوں کا سیج ہے۔ اگر مولانا کو اپنے مقبولیت بچانا ہے۔ اور لوگوں کے دلوں میں رہنا ہے۔ انہیں سخت محنت کرنا پڑے گا۔ یہ مسائل اور مشکلات آسانی سے حل نہیں ہوتے۔ اس کے لئے ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ضلع میں پانی، بجلی، کے متعلق مشکلات ہیں۔ علاج معالجے کے لئے کہیں ڈاکٹروں کی کمی ہے کہیں ادویات دستیاب نہیں۔ گوادر میں سرکاری تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں۔
سکولوں میں اساتذہ کی بہت زیادہ کمی ہے۔ الغرض ہر طرف مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا کس طرح ان مشکلات اور مسائل کا سامنا کریں گے۔ اس کا اندازہ وقت کے ساتھ گوادر کے عوام کو ہو گا۔ لوگ باشعور ہیں۔ انہیں جلدی ہی معلوم ہو گا کے ان کو اس تبدیلی میں کیا ثمرات مل رہے ہیں۔ مولانا کے لئے یہ پانچ سال ایک امتحان سے کم نہیں۔
مولانا کو اپنے منزل تک پہنچنے میں بزرگ لیڈر حسین واڈیلہ کا ایک اہم کردار تھا۔ وہ حق دو تحریک قومی اسمبلی کے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس وقت تک اس حلقے کے نتیجہ کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ حسین واڈیلہ کی سیاسی بصیرت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ان کے مشوروں سے مولانا آگے بڑھ سکتے ہیں۔ جدوجہد کے اس پورے عرصے واڈیلہ کا کردار قابل رشک ہے۔ واجہ حسین واڈیلہ ہر آزمائش میں مولانا کے ساتھ رہے۔ ان دونوں کی مخلصانہ رفاقت نے انہیں منزل تک پہنچایا۔ مولانا جب تک اپنے سیاسی استاد کے احترام اور مشوروں پر کاربند رہے، ان کی کامیابی برقرار رہے گی۔ اصل کامیابی لوگوں کی خدمت ہے۔ لوگوں کے دلوں میں رہنے کے لئے لوگوں کے درمیان رہنے اور ان کے مسائل کو حل کرنے پر ہے۔ وقت ہمیں بتائے گا کہ مولانا اپنے خدمت کے اس مشن میں کتنے کامیاب ہوں گے ۔


