امجد اسلام امجد: ”میری بات بیچ میں رہ گئی“


امجد اسلام امجد مرحوم کے انتقال کو ایک برس بیت گیا، پہلی برسی پر ان کے کئی چاہنے والوں کی طرح وہ ہمیں بھی بہت یاد آئے تو سوچا کہ ان کو اس موقعہ پر خراج عقیدت پیش کیا جائے۔
10 فروری 2023 بروز جمعہ آفس کے کیفے ٹیریا میں بریانی اور خوش گپیوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اچانک ہمارے دوست کی نظر ٹیلیویژن پر پڑی، اس کے منہ سے نکلا امجد اسلام امجد کا انتقال ہو گیا۔ ہم بھی جلدی سے ٹیلیویژن کی طرف متوجہ ہوئے اور ہمارے منہ سے نکلا ابھی تو ان کا کالم پڑھا تھا، سفر حجاز کا مکمل حال قلمبند کیا تھا کس طرح وہیل چئیر پر عمرہ اور جملہ عبادات بجا لائے، ہوٹل کی بھول بھلیاں، دو دو لفٹ بدل کر اپنے کمرے میں پہنچنا پڑتا تھا۔ ہم اور ہمارے دوست سجاد (ان کو بھی اہل قلم خاص طور سے اچھے شعراء سے خاص عقیدت ہے ) امجد صاحب کی باتیں کرنے لگے کہ پچھلے عالمی اردو مشاعرے میں سنا بھی جی بھر کے دیکھا بھی اور موقع پاکر سیلفی بھی بنا ڈالی، وارث کا تذکرہ شروع ہو گیا کہ ڈرامے کے اوقات میں کیسے سڑکیں سنسان ہو جایا کرتی تھیں۔ ہم دونوں چہرے پر رنج لئے کافی دیر تک امجد صاحب کی باتیں کرتے رہئے۔ کچھ لوگ واقعی اپنی ذات میں انجمن ہوتے ہیں، لوگ ان کے بھاری بھرکم کام کو دیکھتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ بھی انسانی جسم رکھتے ہیں، ان کے ساتھ بھی بیماری اور موت کے معاملات ہونے ہوتے ہیں۔ اچانک ہمیں خیال آیا کہ غالباً جمعرات کو ان کا کالم آنا تھا جو کہ نہیں آیا، ہم نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ ان کی سفر حجاز سے واپسی ہو گئی ہوگی اور طبیعت کی خرابی کی وجہ سے کالم نہیں لکھا، جس کی بعد میں تصدیق بھی ہو گئی۔ اس طرح 5 فروری 2023 بروز اتوار کا ”چشم تماشا“ ان کا آخری کالم ثابت ہوا۔ یہی کالم روزنامہ ایکسپریس نے ان کی یاد میں دوبارہ 12 فروری 2023 کو شائع کیا۔

ہماری نسل کا امجد اسلام امجد صاحب سے تعارف ڈرامہ ”وارث“ کے توسط سے ہوا۔ گو کہ وارث کے بعد آنے والے ڈرامے دہلیز، سمندر، فشار، دن، سارے اپنی جگہ شاہکار تھے، ہمیں خاص طور سے سمندر بہت پسند ہے، اس میں عابد علی کا احمد کمال کا کردار واقعی کمال تھا۔ عابد علی کے انتقال پر امجد صاحب نے اپنے کالم میں ہمارے دل کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کو سمندر میں ان کا ادا کیا ہوا کردار سب سے زیادہ پسند ہے۔ سمندر کی مضبوط کہانی کو کسی بھی بلاک بسٹر بھارتی فلم کے مقابلے میں رکھا جاسکتا ہے۔

بات ہو رہی تھی وارث کی، وارث محض ایک ڈرامہ نہیں ایک طلسم خانہ ہے، جو ایک دفعہ اس میں داخل ہو گیا ہمیشہ کے لیے اس کا اسیر ہو گیا۔ چند سال قبل ہم نے اپنے بچوں کو (اس وقت وہ اسکول میں تھے ) وارث دکھایا، ایک قسط ختم ہوتی اور اگلی قسط کے لیے اصرار بڑھ جاتا۔ اگلے ہفتے ہم نے بیگم کے موبائل پر میسج کیا کہ ”دوستوں کے ساتھ ہیں دیر سے آئیں گے“ جواب میں شجاعت ہاشمی کی بڑی بڑی مونچھوں والی تصویر کے ساتھ پیغام موصول ہوا ”شہزادے خرچ ہو جائے گا“ ہم سمجھ گئے کہ یہ ہماری بیٹی کی اختراع ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ امجد صاحب کا ہر کردار اپنے ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا تھا۔ وہ چاہے وارث کے چودھری حشمت ہوں، سمندر کے احمد کمال ہوں یا دہلیز کے وڈیرہ سائیں ہوں۔ یہ تو ناظرین کی بات تھی محبوب عالم، چوہدری حشمت کے کردار سے مرتے دم تک اپنے آپ کو نہ نکال سکے۔

امجد صاحب کا پیشہ ورانہ کیرئیر کم و بیش 50 برسوں پر محیط ہے۔ انھوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایم او کالج سے بحیثیت استاد کیا۔ پاکستان ٹیلیویژن پر ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی تعینات رہے۔ شاعری کے مجموعوں سمیت تیس سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں۔ یہ فیصلہ کرنا خاصا مشکل ہے کہ امجد صاحب اچھے شاعر تھے، اچھے ڈرامہ نگار تھے یا اچھے کالم نویس تھے۔ ہم نے ڈرامے کا تو بتا دیا کہ جب ان کے ڈرامے ٹیلیویژن پر نشر ہوتے تھے تو کرفیو کا سا سماں ہوجاتا تھا۔ کوئی ایسا ملکی یا بیرون ملک مشاعرہ نہیں ہوتا تھا جس میں امجد صاحب کو مدعو نہ کیا جائے۔ رہی کالم کی بات تو مجھ سمیت لاکھوں اخبار بین تھے جن کو ان کے کالم کا انتظار رہتا تھا۔ شاعری میں ان کی کئی نظمیں زبان و زد عام ہیں، جیسے کہ ”سیلف میڈ لوگوں کا المیہ“ ، ”آخری چند دن دسمبر کے“ اس دسمبر میں کئی لوگوں کو بہت یاد آئی۔ ”میری بات بیچ میں رہ گئی“ جو کہ ہمارے اس کالم کا عنوان بھی ہے۔ ”میں تیرے سنگ کیسے چلوں ساجنا“ کو ملکہ ترنم نورجہاں نے اپنی آواز دے کر انمٹ شاہکار بنا دیا اسی طرح ”زندگی کے میلے میں“ سننے والے پر سحر سا طاری کر دیتی ہے۔ ہمارے ایک ڈائریکٹر صاحب نے اپنے ایک سیشن میں جب اس نظم کا انتخاب کیا تو حیرانی ہوئی کہ کارپوریٹ کی دنیا کے لوگوں کو بھی امجد صاحب نے اپنے کلام کا اسیر بنا ڈالا۔ امجد اسلام امجد کی قابلیت اور فن کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی، ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز سے نوازا۔

امجد اسلام امجد بہت نفیس اور شائستہ انسان تھے۔ انکساری اور شکر گزاری ان کی شخصیت کا خاصا رہی ہے۔
”وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا“

ایک مرتبہ ائرپورٹ پر ان سے آمنا سامنا ہوا ہم نے مختصر بات چیت کے دوران ان کے ڈراموں کا ذکر کیا تو ان کو خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ ہمیں ان کے بیشتر ڈرامے کرداروں کے ساتھ ازبر تھے۔ مزید برآں یہ بھی ذکر کیا کہ ہم آپ کو پہیلی میں بھی بوجھتے تھے۔

آگے امجد۔ پیچھے امجد۔ بیچ میں اسلام

بیرون ملک دوروں کے سبب ان کے زیادہ تر کالم سفرناموں سے مزین ہوتے تھے۔ سیاست پر کم لکھتے تھے لیکن تحریر سے اندازہ ہو تا تھا کہ عمران خان کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے، اپنی بات کا اختتام ملاحت کے ساتھ اس بات پر کر دیتے تھے کہ بس جو بھی ہو پاکستان کی بھلائی کے لئے ہو۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ امجد صاحب ابھی بہت کچھ کرنا چاہتے تھے۔ شاید بحیثیت پرستار یہ ہماری تشنگی ہو۔

”ترے شہر میں مرے ہم سفر، وہ دکھوں کا جم غفیر تھا
مجھے راستہ نہیں مل سکا، مری بات بیچ میں رہ گئی

وہ جو خواب تھے مرے سامنے، جو سراب تھے مرے سامنے
میں انہی میں ایسے الجھ گیا، مری بات بیچ میں رہ گئی

عجب ایک چپ سی لگی مجھے، اسی ایک پل کے حصار میں
ہوا جس گھڑی ترا سامنا، مری بات بیچ میں رہ گئی

کہیں بے کنار تھیں خواہشیں، کہیں بے شمار تھیں الجھنیں
کہیں آنسوؤں کا ہجوم تھا، مری بات بیچ میں رہ گئی“

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ اس نگینے کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

”اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا،
گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا،
‏میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا،
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا،
میں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں ملوں گا،
اگر ستاروں میں اوس قطروں میں خوشبوؤں میں نہ پاؤ مجھ کو،
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا“

اظہر ادریس 6 فروری 2024

Facebook Comments HS