نفرت کی سیاست کا شکار الیکشن

اب کی بار اسلام آباد میں بہار آئی ہے لیکن پھول کھلے ہیں کائی کے۔ کائی کا بے رنگ و بو پھول جو پک جائے تو اس کے پولن ہوا میں ہر طرف پھیل کر انسانوں کے لیے الرجی کا باعث بنتے ہیں اور ان کا سانس اکھڑنے لگتا ہے۔ کائی جس کا پھول کسی کام کا نہیں ہوتا اور پودا تو ویسے ہی نرپھل ہے۔ آج یہ بے رنگ پھول ہوا میں یوں لہرا رہے ہیں جیسے مفتوح قوم نے دور سے آتے لشکر کی ہیبت دیکھ کر ہی شہر پناہ کے اوپر سفید جھنڈا کھول دیا ہو۔
مارچ 1977 سے جولائی 2018 تک قوم نے جو بھی دکھ جھیلے، جتنی بھی مشکلات کاٹیں یا جو بھی ہزیمتیں اٹھائیں آٹھ فروری نے سب ایک دن میں سمو دی ہیں۔ گرچہ دل تو 3 اپریل 2022 کو ہی چھلنی چھلنی ہو گیا تھا جب طاقتور جرنیلوں کے نقش قدم پر چل کر ایک سیاست دان نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدم اعتماد کی تحریک کو سبوتاژ کر کے حکومت کی تبدیلی کا آئینی طریقہ پامال کیا۔
جمہوری ویلفیئر سٹیٹ ہمیشہ محبت کا بندوبست کرتی ہے اور لوگوں کی بھلائی کو اپنا شعار بناتی۔ سیاست دان عوامی بہبود کے منصوبوں کے بل بوتے پر الیکشن میں اترتے ہیں اور عوام ملکی ترقی کو سامنے رکھ کر ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس سیکیورٹی سٹیٹ کے عوام کے دلوں میں محبت سے زیادہ نفرت کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی دشمن پیدا کیا جاتا ہے اور اس سے دشمنی کو اچھال کر، جذبات کو برانگیختہ کر کے عوامی مفادات کو پامال کیا جاتا ہے۔
اس ملک میں ہمیشہ سے یہی نفرت کی سیاست ہوتی رہی ہے۔
1990 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کا بیج بو کر نفرت کی بنیاد پر الیکشن کو مینوپلیٹ کرنے کا جو پودا اگایا گیا وہ 2018 میں ایک مکمل بیل بن کر پوری قوم کو گھیر چکا تھا۔ ہاں! درمیان میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ملک سے نفرت کی سیاست ختم ہو سکتی تھی۔ سیاست دان ساری کہانی سمجھ گئے تھے اور آپس کی نفرتیں ختم کر کے میثاق جمہوریت پر متفق ہو گئے۔ لیکن نفرت کا بیج بونے والے ایک نیا مہرہ ڈھونڈ لائے جس کے منہ سے صرف آگ برستی تھی۔
اس الیکشن میں اس آگ کی جلن ہر طرف محسوس ہو رہی ہے۔ نفرت انتہا پر پہنچ گئی ہے۔
ہم نے آٹھ فروری کو ہر طرف نفرت ہی نفرت دیکھی۔ اداروں سے نفرت، ملازموں سے نفرت، سیاسی مخالفین سے نفرت بلکہ پورے سیاسی نظام سے نفرت۔ ووٹر محبت کی بجائے نفرت کو سامنے رکھ کر ووٹ ڈالنے آئے۔ کام اور ملکی ترقی ایک طرف رہ گئی۔ صرف ایک ہی نظریہ الیکشن میں ہر طرف نظر آ رہا تھا۔
نتیجہ ایک انتہائی متنازع الیکشن کے بعد بری طرح تقسیم شدہ قوم کی معلق پارلیمنٹ۔
ہم جانتے ہیں کہ اس ملک میں عوام کچھ نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی سیاست کو سمجھنے والے کہتے ہیں کہ اس ملک میں سارے کھیل اسٹیبلشمنٹ کے رچائے ہوئے ہیں۔ یہاں سیاسی حکومت بنانا ہو یا اسے پچھاڑنا، آمریت کا نفاذ کرنا ہو یا اسے الٹنا، سب وہی کرتے ہیں۔ عوام اور ان کے لیڈر صرف مہرہ بنتے ہیں۔
سیاسی حکومتیں تو کسی کھاتے میں نہیں یہاں تو ایوب خان سے لے کر مشرف تک جو بھی باوردی حکمران ملک پر نازل ہوا اس کی تباہی کا سامان انہوں نے ہی کیا۔ دعوے مزاحمت کرنے والے اپنی کامیابی کا غلط اظہار کرتے ہیں۔ وہ استعمال ضرور ہوئے ہیں۔ ایوب و یحییٰ کے خلاف عوامی احتجاج ہوں یا ضیا الحق کے طیارے کی تباہی، مشرف کی عدلیہ و وکلا کے ہاتھوں پسپائی ہو یا اس کے قصر صدارت تک محدود ہونے کے باعث مستعفی ہونے کی مجبوری، سب باوردی ساتھیوں کی اعلیٰ سوچ یا ان کے پاک ہاتھوں کا کارنامہ تھا۔ ہائبرڈ نظام کا آئیڈیا ان کا تھا اور ناکامی دیکھتے ہوئے باجوہ کی ایکسٹینشن کو ناممکن بنا کر اسے مدت پوری ہونے سے پہلے ہی سمیٹنا، سب اسی ایک ادارے کی پالیسیاں ہیں۔
یہ الیکشن کنٹرولڈ تھا اور کتنا تھا؟ وقت بتائے گا۔
اس الیکشن کے نتیجے ساری رات برآمد ہونے کی کس سے اجازت طلب کرتے رہے؟
کیا یہ ہائبرڈ نظام کی طرح کی ایک اور نا اہلی تھی؟
راز کچھ دنوں کے بعد کھلے گا۔
اب وہ جو سو سیٹیں بھی نہیں جیت سکا حکومت بنانے کا دعویدار ہے اور جس کے پاس اکثریت ہے اس کی نفرت کی پھیلائے ہوئی آگ اس کے اپنے راستے کی رکاوٹ ہے۔ وہ آگ کے اس دریا کو کیسے پار کرے گا؟ اگر وہ مستقبل کی حکومت کا حصہ نہیں بنتا تو عوام کی نمائندگی کا حق کہیں گم ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ نام نہاد اکثریت کے تخت پر جلوس کرنا آسان ہے لیکن جڑواں شہروں کی خاکی مخلوق کو طابع فرمان بنانا تو دور کی بات ہے، رونق دربار بنانا بھی ناممکن ہے۔ عوام بھی فی الحال تو وہ زیر دباؤ ہیں خاموش رہیں گے لیکن کچھ دیر کے بعد کوئی بھی ان کے دلوں میں بھڑکتی اس آگ کو ہوا دے کر ملک میں ایک نیا فتور پیدا کر سکتا ہے۔
