الیکشن کے بعد کا منظر:حد نگاہ تک جہاں غبار ہی غبار ہے


الیکشن کا دن ملک و قوم کے مستقبل کے فیصلے کا دن ہوتا ہے۔ عوامی فیصلے کے مطابق ہی حکومت قائم ہوتی ہے۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی رپورٹ کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہونے سے بھارت ’انڈونیشیا‘ امریکہ اور برازیل کے بعد پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی جمہوریت بن گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔ 2018 ء میں ووٹرز کا صنفی فرق 11.8 تھا جو ، اب 7.7 فیصد رہ گیا ہے۔

شفاف انتخابات ہی سے سیاسی جماعتوں اور عوام کا اعتماد قائم ہوتا ہے۔ انتخابات کی ساکھ کے لئے قانونی تقاضے پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ اگرچہ کئی سیاسی جماعتوں نے لیول پلینگ فیلڈ کا مسئلہ اٹھایا؛ تاہم یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ تمام چھوٹی ’بڑی سیاسی جماعتیں انتخابات کی دوڑ میں شامل تھیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام تر مشکلات اور سیکورٹی مسائل کے باوجود عام انتخابات کے انتظامات بروقت مکمل کیے۔ 2024 کے انتخابات کو 100 کے قریب غیر ملکی مبصرین نے مانیٹر کیا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے کل 17816 امیدواروں نے حصہ لیا جن میں سے 11 ہزار آزاد امیدوار تھے۔ ملک بھر میں 91 ہزار پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے۔ جبکہ حساس ترین 1750 پولنگ سٹیشنوں ’میں کیمرے بھی نصب کیے گئے، پولنگ میں امن و امان یقینی بنانے کے لئے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوجی دستے تعینات کیے گئے۔

ووٹ ڈالنے کے لئے، شناختی کارڈ لازمی تھا۔ 2018 ء کے انتخابات کو پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ‘ دونوں نے غیرمنصفانہ کہا۔ بلاول بھٹو نے ’سلیکٹڈ‘ کی پھبتی کسی۔ اس کے باوجود نتائج قبول کرتے ہوئے اپوزیشن نے عمران خان کو وزیراعظم مان کر تعاون کیا اور قومی اسمبلی میں ”میثاق معیشت“ کی تجویز پیش کی۔ اسی کا نام سیاسی بصیرت ہے۔ آپ غلط کو غلط کہیں لیکن سیاسی عمل بھی آگے بڑھائیں۔ ہمارے سیاستدانوں کو سیاسی و سماجی ارتقا سے گزر کر جمہوری اقدار سے مثالی مناسبت پیدا کر لینی چاہیے۔

تحریک انصاف نے انتخابات کا بائیکاٹ نہ کر کے سیاسی بالغ نظری کا ثبوت دیا، تصادم سے اپنی قوت تو گنوائی جا سکتی ہے ’حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ نواز شریف کی مثال سامنے ہے جن کے لیے حالات نہایت ناسازگار تھے۔ ریاست کا ہر ادارہ اور عمران خان انہیں مٹانے کے لیے یکسو تھے۔ یہ منظر بصیرت اور صبر سے تبدیل ہوا۔ خان جی مقتدرہ سے مذاکرات کی بات کرتے اور اس کی حمایت چاہتے ہیں۔ وہ یہ پیشکش سیاسی جماعتوں کو کر کے سیاسی عمل کا حصہ بنیں۔

اسی سے ان کے لیے راستے نکلیں گے۔ پاکستان میں ووٹرز کے عام انتخابات کے نتائج کی قبولیت سے متعلق اپسوس (Institut Public de Sondage d‘ Opinion Secteur) اور پاکستان پلس کی جانب سے سروے خاصا حوصلہ افزاء تھا، جس کے مطابق ہر 4 میں سے 3 پاکستانی اور مجموعی طور پر ۔ 75 فیصد پاکستانی انتخابی نتائج تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اعتبار سے جائزے میں پیپلز پارٹی کے 74، مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کے 87 اور پی ٹی آئی کے 67 فیصد ووٹرز نے انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کا عندیہ دیا۔

صرف سات فیصد نے کہا کہ وہ نتائج قبول نہیں کریں گے۔ نتائج کی قبولیت کی شرح عمر بڑھنے کے ساتھ بڑھتی نظر آتی ہے۔ 18 سے 24 سال کے ووٹرز میں سے 72 فیصد نے نتائج ماننے جبکہ 11 فیصد نے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب 51 سے 65 سال تک کی عمر کے ووٹرز میں قبولیت کا رجحان 82 فیصد اور نہ ماننے کا رجحان محض 7 فیصد تھا۔ علاقائی سطح پر خیبرپختونخوا کے 79 فیصد ووٹرز نے نتائج کی قبولیت اور صرف چار فیصد نے عدم قبولیت کا عندیہ دیا۔

پنجاب میں نتائج قبول کرنے کی شرح 78 فیصد جبکہ مسترد کرنے والے 6 فیصد ہیں۔ سندھ میں تسلیم کرنے والوں کی شرح 74 فیصد جبکہ نہ ماننے والوں کی 11 فیصد تک ہے۔ انتخابی نتائج مسترد کرنے والے ووٹرز کی سب سے زیادہ تعداد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 40 فیصد تک ہے۔ اس سے بادی النظر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ مزاحمت کا عنصر دیکھنے کو کم ہی ملے گا۔

آزاد اراکین اپنی مرضی سے کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت یا اپنا علیحدہ گروپ بنا کر پارلیمانی نظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔ آنے والی حکومت کے لیے سب سے مشکل مرحلہ معیشت کی بحالی ہے جس کے لیے کابینہ کا فعال ’مختصر اور ماہرین پر مشتمل ہونا بہت ضروری ہے۔

آئین کے آرٹیکل 223 کے تحت کامیاب ہونے والے اراکین اسمبلی کا چودہ دن کے اندر گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرنا ضروری ہے۔ 22 سے 25 فروری تک قائد ایوان نے حلف اٹھانا ہو گا۔ نگران حکومتیں خودبخود تحلیل ہو جائیں گی۔

2021۔ 22 ء میں مقتدرہ قوتوں میں بنگلہ دیشی انتخابی نظام کافی زیر غور رہا۔ اس انتخابی نظام، کے تحت بنگلہ دیش میں یکم جنوری 2009 ء کے انتخابات کو ، بین الاقوامی اداروں نے شفاف اور غیر جانبدار قرار دیا تھا۔ ہمارے بعض دانشور اب بھی اس انتخابی نظام کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، جبکہ محب وطن دانشوروں کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں بنگلہ دیشی ماڈل کی گنجائش نہیں ہے۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں سینیٹ کے الیکشن ہوں گے اور 12 مارچ تک چیئرمین سینیٹ کا انتخاب بھی ہو گا۔ آنے والی حکومت کو 30 دن میں آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری کرنا ہو گا۔

انتخابی مہم کے اختتام پر مریم نواز نے عدم انتقام کی اچھی بات کہی۔ تحریک انصاف کو بھی نظام کا حصہ، اسی طرح بننا چاہیے جس طرح (ن) لیگ 2018 ء میں اس نظام کا حصہ بنی۔ سیاسی جماعتیں انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہوتی ہیں لیکن وہ سیاسی عمل کو بھی زندہ رکھتی اور ایک دوسرے سے تعاون کرتی ہیں۔ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی نے ’میثاق جمہوریت‘ کیا۔ پھر وہ انتخابات میں ایک دوسرے کے مد مقابل تھیں۔ اپریل 2022 ء میں انہوں نے مل کر حکومت بنائی۔ حالیہ انتخابات میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ اسی کو سیاست کہتے ہیں۔

قومی یک جہتی اور سنگین معاشی بحران کا تقاضا ہے کہ تمام اہم قومی جماعتیں پاکستان کو ناگفتہ بہ حالات سے نکالنے کے لیے اپنا اپنا کردار پوری فرض شناسی سے ادا کریں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب اصلاح احوال کا جذبہ موجود ہو اور عفو اور درگزر کی پالیسی، فریقین اختیار کریں۔

مسلم لیگ نون کو اپنی کامیابی کا اس قدر یقین تھا کہ اس نے انتخابات سے دو روز پہلے ہی ایک اشتہار کے ذریعے تمام بڑے اخبارات کے صفحۂ اول پر جناب نواز شریف کے وزیراعظم بن جانے کا اعلان کر دیا۔ مگر اس وقت زمینی حقائق بہت مختلف ہیں۔ بلاول بھٹو نے انتخابی مہم میں برملا کہا کہ وہ مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے ساتھ شریک اقتدار نہیں ہوں گے مگر آصف زرداری اور شہباز شریف کی ملاقات سے توقع ہے کہ بلاول پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام کے فروغ میں تعاون کریں گے۔

آزاد ارکان کا مسئلہ اس بار خاصی سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے ہیں، اگر ہارس ٹریڈنگ کی گئی تو یہ حکومت کے لئے مسلسل خطرہ ثابت ہو گی۔ اس وقت مثبت سیاسی سوچ کی ضرورت ہے۔ ماضی کے سیاستدان منتخب ہوتے تو جلسے جلوسوں کی شعلہ بیانی پارلیمنٹ سے باہر چھوڑ کر ایوان کی روایات اپنا لیتے تھے۔

اس دور میں بھی کبھی کبھار تو تکار، کی نوبت آجاتی۔ قرار دادیں بھی پھاڑی جاتیں، واک آؤٹ بھی ہوتے اور شورو غوغا کا ماحول بھی رہتا، لیکن اچھی تقریر، نکتہ رسی یا پارلیمانی بذلہ سنجی پر داد بھی دی جاتی۔ کشیدگی و اختلاف کے باوجود بات چیت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا۔ حزب اقتدار۔ ناراض اپوزیشن کو منانے کو کبھی انا کا مسئلہ نہیں بناتی تھی۔ نئی پارلیمانی پود کی اکثریت۔ جلسوں اور جلوسوں کی زبان پارلیمان میں بھی بلا جھجھک استعمال کرتی ہے۔

باہمی عدم اعتماد اور رابطوں کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ عمران خان نے حزب اختلاف یا قائد حزب اختلاف سے اپنے دور اقتدار کے چار برس میں ایک بھی باضابطہ ملاقات نہیں کی۔ یہ کلچر نہایت تیزی سے پنپ چکا ہے، جس سے نجات حاصل کیے بغیر مفاہمت کے خواب دیکھنا نادانی ہے :

یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے
حد نگاہ تک جہاں غبار ہی غبار ہے۔

Facebook Comments HS