پریذائیڈنگ افسر کی کہانی


سرکاری ملازمین کو چونکہ کام چور اور گناہ گار تصور کیا جاتا ہے اسی لیے ان کے گناہوں کی سزا دینے کے لیے الیکشن ڈیوٹی لگا دی جاتی ہے۔ سزا بہترین طریقے سے دینے کے لیے الیکشن کمیشن بھی قائم کر رکھا ہے اہل اقتدار نے۔ کیوں کہ ہم اوسطاً زیادہ خطا کار ہیں اس لیے ہماری ڈیوٹی ہماری تحصیل کے آخری گاؤں چک نمبر 75 ڈی میں لگ گئی تھی۔

آرڈر دیکھ کر ہمارے حواس اڑ کر 75 ڈی سے بھی دور چلے گئے۔ غم بھلانے کے لیے دوستوں کے وٹس ایپ گروپ میں چھلانگ لگائی اور اپنا دکھڑا سنایا۔ اس سے یہ ہوا کہ میرے سب دوستوں کا غم ہلکا ہو گیا۔ ان سب کی ڈیوٹی اتنی دور نہیں لگی تھی۔ ہمارا غم اور بھی گہرا ہو گیا۔ دوستوں کو ہنستا دیکھ کر ہمارا چہرہ اتر گیا۔ ایک دوست نے جگت لگائی ’مبارک ہو آپ ڈی میں داخل ہو گئے ہیں، اب گول کر کے ہی واپس آئیے گا‘ ۔ اس جگت پہ سب ہنسے ہوں گے کم بخت۔ ہم وٹس ایپ گروپ سے بھاگ گئے۔

نیند کچھ کچھ اڑ سی گئی، بھوک کم لگنے لگی اور فروری کا ٹھنڈا موسم نا جانے کیوں ایک دم گرم سا ہو گیا۔ سابقہ الیکشن ڈیوٹیز کر کے ہم جان چکے تھے کہ ’یہ آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘ ۔ فی الحال آگ کا ایک دریا ہمارے دماغ میں بہہ رہا تھا۔

دل کو لاکھ سمجھایا کہ کسی سیانے نے کہا تھا کہ بھٹی کی دہکتی آگ سے گزرے بنا سونا کندن نہیں بنتا۔ جواباً دل نے سیانے کو بھی کھری کھری سنائیں اور مجھے بھی برا بھلا کہا۔ گلے پڑے ڈھول کو بجا کر مست دھمال ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نا تھا۔

سات فروری کو سامان لینے کے عذاب سے ہمیں گزارا جانا تھا۔ ہم نے بیگ میں کپڑے، جرسی، لوئی، بسکٹ، نمکو، چارجر ڈالے اور دوپہر کو گھر سے نکل پڑے۔ مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات بھی ساتھ لیے چل رہے تھے۔

گرلز کالج میں سامان تقسیم کیا جا رہا تھا۔ جم غفیر تھا۔ قطاریں تھیں۔ سب کو اپنی پڑی تھی۔ دوست بھی پہچان نہیں رہے تھے۔ گویا حشر بپا تھا۔

ٹریننگ کروانے، حلف لینے، آرڈر تقسیم کرنے اور سامان وصول کرنے کے تمام مراحل سے الیکشن کمیشن پریذائیڈنگ افسران کو خجل خواری اور ذلالت سہنے کے لیے جس طرح تیار کرتا ہے، کنڈیشننگ کرتا ہے، وہ قابل تحسین اقدام ہے۔ ان تمام سے گزر کر بندہ دنیا کی ہر انواع کی خجل خواری سے ہنسی خوشی گزرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔

قطار در قطار لوگ کھڑے تھے۔ ابتدائی داخلے کی قطار، الیکشن ایپ انسٹال کروانے کی قطار، تھیلے لینے کی قطار، عملے کا معاوضہ لینے کی الگ قطار، بیلٹ باکس لینے کی لمبی لائن اور گتے کی اسکرینیں لینے کی نا ختم ہونے والی قطار۔

ان قطاروں میں ایک عمر گزر گئی۔ دیکھا تو ہم سامان سے لد چکے تھے۔ پچھلے الیکشن میں عملے کی مدد کرنے کے لیے ایک عدد ملازم بھی فراہم کیا گیا تھا۔ اب کی بار آخری لمحے تک خبر نا تھی کہ ملے گا یا نہیں۔ قطار میں کھڑے کسی بندے نے پوچھا ’اس بار کوئی ملازم ملے گا یا نہیں؟‘ ۔ پیچھے کھڑے کسی شخص نے خوش خبری دی ’ہاں جی، ملے گا، وہ پولنگ اسٹیشن پر سامان والے تھیلے میں سے نکلے گا‘ ۔

ان ہم اس میدان کی طرف گئے جہاں بسوں کو پارک کیا گیا تھا اور اپنی متعلقہ بس ڈھونڈ کر سوار ہو بیٹھے۔ جیون کا خاصا حصہ بس میں بیٹھے جب گزر گیا تو ہماری بس سٹارٹ ہوئی۔ گھررر گھررر گھرررررررر۔

اب بسوں کی قطار میں بس داخل ہوئی۔ دھواں اور ڈیزل کی بدبو ہمارے پھیپھڑوں کے چکر لگا رہے تھے۔ رب جانے بسیں آگے کیوں نہیں چل رہی تھیں۔ بسوں کو پولنگ اسٹیشن پر پہنچانے کی ڈیوٹی فوجیوں کی تھی جو ادھر ادھر پھر رہے تھے۔ سورج ڈوب گیا تھا۔ اندھیرا چھانے لگا تھا۔

خدا خدا کر کے بس سڑک پر آ گئی۔ چند بسوں کو اکٹھا کر کے ایک قافلے کی شکل میں کارواں روانہ ہوا۔ بس ڈرائیور سگریٹ کے سوٹے لگا رہا تھا۔ دھواں دھواں سا پھیلا تھا۔ اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔ سڑک میں اتنے بل تھے جتنے سگریٹ کے اڑتے دھویں میں۔

گھوم گھما کر ہم اپنے پولنگ اسٹیشن پر پہنچ ہی گئے۔ پورا سکول اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایک کمرے کی ٹوٹی کھڑکیوں سے روشنی کی ننھی ننھی کرنیں نکل رہی تھیں۔

سامان اتارا، کمروں سے بینچ ہٹائے اور دستیاب میز کرسیاں لگا کر چار عدد پولنگ بوتھ بنائے۔ گاؤں کا نمبردار چارپائیاں، بستر اور کھانا لے آیا تھا۔ کھانا کھا کر ہم نے تھیلا کھول لیا۔

تھیلا کیا ہے عمرو عیار کی زنبیل ہے۔ تھیلا کھلتے ہی لفافوں، کاغذوں، مہروں کا سیلاب آ جاتا ہے۔ مختلف سائز اور نسل کے بے شمار خاکی لفافے۔ اتنے خاکی لفافے دیکھ کر سر میں خاک پڑ جاتی ہے۔

رات ایک بجے کے قریب بستر میں گھسے۔ باہر اندھیرا بہت گہرا تھا۔ خاموشی اندھیرے سے بھی زیادہ گہری تھی۔ کبھی کبھی سکول کے پاس فصلوں سے گیدڑوں کی آوازیں خاموشی کو توڑ دیتی تھیں۔ واں واں حقی حقی واں۔ ابھی سوئے ہی تھے کہ ہڑبڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ لگا جیسے کوئی گیٹ توڑ رہا ہے۔ اصل میں وہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز تھی۔ پڑوس مسجد میں مولوی صاحب گرج دار آواز میں لوگوں کو اٹھنے اور روزہ رکھنے کی نصیحت کر رہے تھے۔ پھر یکے بعد دیگرے باقی مسجد سے بھی مولوی شب معراج کے روزے کے لیے لوگوں کو جگانے لگے۔ وہ اتنی بار دہرا رہے تھے کہ لگتا تھا اگر سو گئے تو گریبان سے پکڑ کر اٹھا لیں گے۔

سحری کا وقت بتانے والے تو کچھ دیر بعد سو گئے ہوں گے لیکن پھر ہم نا سو سکے۔ ساڑھے پانچ بجے الارم بجا تو چارپائی چھوڑ دی

عملے کی حاضری، ضروری سامان کی تقسیم کے بعد آٹھ بجے پولنگ شروع ہو گئی۔ پولنگ آفیسرز کے لئے انتخابی فہرستوں میں ووٹر کا نام ڈھونڈنا آسان نا تھا۔ ایک پولنگ بوتھ پر دو دو شماریاتی بلاک تھے جن کی فہرستیں الگ الگ تھیں۔ مزید مشکل یہ کہ صوبائی اور قومی دونوں کے لیے الگ الگ کاپیاں تھیں۔ ووٹرز کا نام دونوں فہرستوں میں ڈھونڈ کر دونوں سے کاٹنا اور دونوں پر اس کا انگوٹھا لگوانا تھا۔ الیکشن کمیشن نے ’وڈی سہولت‘ یہ دی تھی کہ صفحات کے دونوں اطراف میں نام درج تھے۔ ایک صفحہ سیدھا، دوسرا الٹا۔ سارا دن پولنگ افسران فہرستیں گھما گھما کر خود گھوم گئے۔ دنیا کی سب سے پیچیدہ فہرست بنانے کا ایوارڈ ہمارے الیکشن کمیشن کے نام ہونا چاہیے۔

کئی ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کا کچھ پتا نہیں تھا۔ کوئی پرچی گتے میں پھنسا آتے، کوئی نو خانوں والی مہر جیب میں ڈال کر چل پڑتے، کچھ پرچی کو فولڈ کیے بنا لے آتے، صوبائی والے قومی کے ڈبے میں ڈال جاتے۔ ایک بابا جی نے حد کر دی۔ مہر لگا کر پرچیاں میری طرف بڑھا کر بڑے پیار سے کہا ’ایہہ لے پتر، جتھے دل کردا ای پا لئے‘ ۔

ہمارے اے پی او لگاتار ورد کرتے رہے۔ ’چٹی پرچی چٹے وچ، تے ساوی ساوے وچ‘  (سفید پرچی سفید میں، ہری ہرے میں)۔ دو چار دن نیند میں بھی یہی بڑبڑاتے رہیں گے۔

کچھ ووٹرز مہر لگانے میں بہت دیر کر دیتے تھے۔ ایک بابا جی کافی دیر کھڑے رہنے کے بعد میرے پاس آئے اور کہنے لگے ’بیٹا جسے میں نے ووٹ دینا ہے وہ ادھر ہے ہی نہیں‘ ۔

لائن میں لگے ایک نوجوان ووٹر نے کہا ’بابا اوہ ایتھے نہیں تے فیر لہور ہونا اے‘ (بابا وہ یہاں نہیں تو پھر لاہور ہو گا) ۔

اب کی بار ہمیں پولنگ ایجنٹس بھی الگ ہی ملے تھے۔ پولنگ بوتھ میں گھسنا، بے تکی گفتگو کرنا اور ڈھٹائی کے ساتھ غیر ضروری اعتراض کرنا ان کا پسندیدہ کام تھا۔ خواتین پولنگ بوتھ پر شور و غوغا مثالی تھا۔ خواتین کو قطار میں کھڑا کرنا ایک پولیس والے کے لیے ناممکن تھا۔

اس دن فون اور نیٹ سروس بند کر کے ہمارے دماغ کو مزید ٹھکانے لگانے کا بندوبست کیا گیا۔ اسی دن فون اور نیٹ کی سب کو اشد ضرورت تھی۔ خواہ ہنگامہ ہو، جھگڑا ہو، آگ لگ جائے آپ پولیس کو اطلاع نہیں کر سکتے تھے۔ سارا دن کسی سیکورٹی فورس نے پولنگ اسٹیشن کا چکر نہیں لگایا۔

پولنگ ختم ہوئی، گنتی مکمل کی، سامان تھیلوں میں پیک کیا، فارم 45 تیار کیا، الیکشن ایپ پہ رزلٹ اپ لوڈ کیا اور پولنگ ایجنٹوں کو رزلٹ کی کاپیاں فراہم کیں۔ ساڑھے آٹھ بجے ہم آر او آفس واپس رزلٹ جمع کروانے کے لیے تیار تھے۔

اب ہم چار لوگ اسٹیشن پر تھے۔ فوجیوں کی نگرانی میں اسی کھٹارہ بس نے ہمیں لینے آنا تھا اور آر او دفتر تک پہنچانا تھا۔

ہم انتظار میں بیٹھے تھے۔ پاکستان کے دائمی مسائل، خراٹوں کی اقسام، اشرافیہ کے ظلم و جبر کے قصے، گنجے پن کی وجوہات، عوام کی بے بسی، سرمایہ دارانہ نظام کی نا انصافیاں، امریکہ کا تسلط اور نک دے کوکے جیسے فلسفیانہ اور اہم موضوعات پر ہم نے سیر حاصل گپیں لگا کر تھک گئے لیکن بس کی اڈیک ختم نا ہوئی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے۔ گیدڑ باہر سکول کے گراؤنڈ میں چلانے لگے تھے۔ ہمیں آر و آفس تک بحفاظت پہنچانے کی ذمہ داری فوجی جوانوں کو سونپی گئی تھے۔ دور دراز گاؤں کے سنسان اور تاریک سکول میں بیٹھے ہم لوگ کتنے محفوظ تھے یہ تو باہر پھرتے گیدڑوں کو بھی معلوم ہو گا۔

اگر ہمیں یہ فول پروف سیکورٹی کی سہولت دستیاب نا ہوتی تو ہم کب کے سامان اور رزلٹ لے کر آر او آفس پہنچ جاتے اور اب تک سامان جمع کروا کر گھر میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے۔ فون اور نیٹ سروس بند تھی تو کسی سے رابطہ بھی نہیں کر پائے تھے۔

بہر حال ہم پھر پاکستان کے مسائل پر بحث کرنے لگے۔ پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکالنے ہی والے تھے کہ ہمیں برآمدے میں بوٹوں کی چاپ سنائی دی۔ ایک لمبے چوڑے فوجی نے دروازے میں آ کر کہا ’اجازت ہے سر؟‘ ۔ لہجے میں کرختگی اور گرج اتنی تھی کہ ہمیں لگا کہہ رہا ہے ’ہینڈز اپ سب‘

رات کے ڈھائی بج چکے تھے تب۔ تھیلے، ڈبے، سامان اٹھایا اور بس میں سوار ہو گئے۔ بس ڈرائیور کے سگریٹ کے دھوئیں کے چھلے بس میں ادھر ادھر تیر رہے تھے۔ فوجی ایک سفید بولان کیری میں سوار تھے اور ہماری بس اس کے پیچھے پیچھے ہچکولے کھاتی کچی، ٹوٹی پھوٹی سڑک پر چلنے لگی۔ کیری ڈبے کی لائٹ ہی ہماری رہنما تھی۔ رب جانے کس کس گاؤں سے گزرے، ایک دو پولنگ اسٹیشنوں کے چکر لگائے اور مین روڈ پر آ کر رک گئے۔ وہاں بسوں کا قافلہ اکٹھا کیا گیا اور سیکورٹی کے حصار میں ہم صبح ساڑھے چار بجے آر او آفس پہنچے۔

سامان جمع کروانے کی آخری آزمائش سے گزرے تو پانچ سوا پانچ ہو گئے تھے۔

گھر زیادہ دور نا تھا تو ہم پیدل ہی گھر کی طرف نکل پڑے۔ تھکے تھکے بوجھل قدموں کے ساتھ سڑک کنارے چلا جا رہا تھا میں۔ فوجیوں اور سویلینز کی گاڑیاں ادھر ادھر آ جا رہی تھیں۔ برقی قمقموں کی روشنی اندھیروں سے لڑ رہی تھی۔

صبح پھوٹنے میں بس تھوڑی ہی دیر تھی۔ میں دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ وطن عزیز میں حقیقی جمہوریت کا دور شروع ہو۔ غربت، جہالت، استحصال اور ظلم کے اندھیرے چھٹ جائیں۔ امن، خوش حالی اور قانون کی بالادستی کی روشن صبح پھوٹ پڑے۔

آر او آفس میں باقی عملے سے امیدواروں کے ووٹوں کی کچھ صورت حال کا اندازہ ہوا تھا۔ گھر آ کر ٹی وی دیکھا تو دھڑا دھڑ نتائج آ رہے تھے۔

بستر پہ اوندھا لیٹا اور بے سدھ سو رہا۔ دن ایک بجے آنکھ کھلی۔ دوستوں سے، میڈیا سے اور آر او آفس سے آنے والی جو خبریں سنیں ان سے دل بیٹھ سا گیا۔ دباؤ، رزلٹ میں رد و بدل، کسی کو ہرانے اور شکست خوردہ کو جتوانے کی خبریں عوام میں پھیلی ہوئی تھیں۔

سوچا کہ عوامی رائے اور ووٹ اتنا بے توقیر کیوں ہے۔ اربوں روپے کی لاگت اور لاکھوں لوگوں کی دن رات کی محنت سے منعقد ہونے والا الیکشن کیوں مشکوک بنا دیا گیا۔ لوگوں نے بہتر زندگی کے جو خواب دیکھے، مضبوط جمہوریت کی امید کے جو دیے جلائے وہ کیوں بجھا دیے گئے۔

میں نے کروٹ بدلی اور آنکھیں بند کر لیں۔ مجھے یوں لگا کہ ابھی میں 75 ڈی کے سنسان پرائمری سکول کے کمرے میں پڑا ہوں۔ رات بہت اندھیری ہے۔ گیدڑ حقی حقی واں کی تانیں لگا رہے ہیں۔ دور ڈھاریوں پہ کتے بھونک رہے ہیں اور صبح پھوٹنے میں ابھی بہت دیر ہے۔

احمد نعیم چشتی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 76 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments