کتب خانہ اسکندریہ کو جلانے کا قصہ: حقیقت کیا، افسانہ کیا؟

بعض تاریخی حوادث ایسے ہوتے ہیں جن پر بحث و تمحیص کا باب کبھی بند نہیں ہوتا۔ ایسا ہی ایک حادثہ کتب خانہ اسکندریہ کی بربادی ہے۔ یہ کتب خانہ کب قائم ہوا، کتنا عرصہ قائم رہا اور کب بربادی سے دو چار ہوا؟ کیا اسے خلیفۃ المسلمین حضرت عمرؓ فاروق کے حکم پر نذر آتش کیا گیا تھا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر کئی سو سال سے بحث مباحثہ کا بازار گرم ہے۔
اس لائبریری کی بربادی کے احوال کا تذکرہ کرنے سے پہلے مناسب دکھائی دیتا ہے کہ اس کا مختصر تعارف بیان کر دیا جائے۔ سکندر اعظم جب 332 ق م میں مصر پہنچا تو اس نے حسب عادت وہاں بھی بحیرہ روم کے ساحل پر اسکندریہ نام کا شہر آباد کرنے کا حکم دیا۔ اس کا خیال تھا کہ اپنے عمدہ محل وقوع کی وجہ سے یہ شہر بہت کامیاب اور خوش حال ہو گا۔ بعد ازاں اس کا یہ اندازہ بہت درست ثابت ہوا۔ سکندر نے وہاں دیویوں کے لیے ایک مندر بنانے کا بھی کہا، جسے میوزیم کا نام دیا گیا یعنی دیویوں کا استھان۔ سنہ 323 ق م میں سکندر کی وفات کے بعد اس کا یونانی جنرل بطلیموس (Ptolemy) مصر کا حکمران بن گیا۔ اس کے بعد اس خاندان کے 15 بادشاہوں نے تقریباً پونے تین سو سال تک مصر پر حکومت کی تھی۔
بطلیموس اول کا جانشین فیلاڈیلفس (Philadelphus) ایک علم دوست شخص تھا۔ اس نے میوزیم کے ساتھ ایک لائبریری کی بنیاد رکھی۔ یہ دنیا کی اولین لائبریری تو نہیں تھی لیکن پہلی آفاقی لائبریری ضرور تھی۔ اس کا مقصد ہر اس تحریر کو جمع کرنا تھا جو اس وقت کی معلوم دنیا میں کہیں بھی اور کسی بھی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اس لائبریری پر بہت کچھ لکھا گیا ہے جس میں کچھ حقیقت اور بہت سا افسانہ ہے۔ لائبریری میں جمع کتب کا کچھ احوال آگے آ رہا ہے اس لیے میں یہاں بیان کرنے سے گریز کرتا ہوں۔
اس لائبریری اور میوزیم، جو ایک درسگاہ بھی تھا، کی بنا پر اسکندریہ اس وقت کی دنیا کا ایک اہم علمی اور ثقافتی مرکز بن گیا، بالخصوص فلسفہ اور سائنس کی تدریس کا۔ یہ شہر بعض اعتبار سے ایتھنز کا ہمسر ہو گیا تھا۔
مقام افسوس ہے کہ یہ عظیم الشان لائبریری بالآخر برباد ہو گئی اور اس کی تباہی اتنا بڑا تہذیبی اور ثقافتی نقصان تھا کہ انسانیت اسے کبھی فراموش نہیں کر سکی اور آج تک مورخین اس پر نوحہ کناں ہیں۔
یورپی مورخین کا پلوٹارک کے زمانے سے اس بات پر تقریباً اتفاق رہا ہے کہ بطلیموسی شہنشاہوں کی قائم کردہ لائبریری اور میوزیم جولیس سیزر کے سنہ 48 قبل مسیح میں مصر پر کیے گئے حملے کے وقت برباد ہو گئے تھے۔ سیزر کی فوج نے مصریوں کے بحری بیڑے کو نذر آتش کر دیا تھا لیکن ہواؤں کا رخ کچھ ایسا تھا کہ اس آگ نے شہر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
مصر پر رومیوں کے عہد حکومت کا آغاز ہوا تو اسکندریہ میں سراپیم ) Serapeum ( نام کا مندر قائم کیا گیا تھا جو ایک درسگاہ بھی تھا۔ الفرڈ جوشوا بٹلر کے مطابق سراپیم میں تعلیم و تدریس کی پرانی روایت قائم رہی۔ یونیورسٹی کے ساتھ ایک لائبریری بھی قائم کی گئی جسے تاریخ میں دختر لائبریری (Daughter Library) کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں کتابوں کا بڑا ذخیرہ جمع کیا گیا۔ فلسفے کی تدریس کے ساتھ ارسطو کا نام وابستہ ہونے کی روایت میوزیم سے سراپیم تک جاری رہی۔ بالفاظ دیگر فلسفہ اور سائنس کی تعلیم کے کورسز، جنھوں نے اسکندریہ کو دنیا کا ثقافتی مرکز بنا دیا تھا، جاری و ساری تھے۔
لیکن چوتھی صدی عیسوی کے اواخر میں اسکندریہ کی دختر لائبریری اور سراپیم کا مندر اور درس گاہ مسیحیت کے مذہبی جوش و خروش کی نذر ہو گئے۔ اسکندریہ کے بشپ تھیوفیلس (Theophilus) نے رومی شہنشاہ تھیوڈوسیئس (Theodosius) کے حکم پر مندر اور لائبریری کو برباد کر دیا جو پیگن ازم کا گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ یہ واقعہ 391 ء میں پیش آیا تھا۔ اس کے بعد اسکندریہ میں کسی لائبریری کا وجود نہیں رہا تھا۔ بٹلر کے نزدیک اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ پانچویں، چھٹی اور ساتویں صدی کے اوائل تک کسی تحریر میں اسکندریہ میں موجود کسی لائبریری کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ چنانچہ عربوں کی فتح مصر سے تقریباً ڈھائی سو سال پہلے ہی لائبریری کا وجود ختم ہو چکا تھا۔
اب تک کی گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ اسکندریہ میں ایک نہیں دو کتب خانے قائم ہوئے تھے۔ پہلا جسے شاہی کتب خانہ کہا جاتا ہے وہ جولیس سیزر کے حملے کے وقت، غیر ارادی طور، آگ کی نذر ہو گیا تھا اور دوسری دختر لائبریری جو مسیحیوں کے ہاتھوں برباد ہوئی تھی۔ اور یہ دونوں باتیں یورپی تاریخ کے ہر طالب علم کو معلوم تھیں۔
ان حقائق کے علی الرغم تعجب انگیز بات یہ ہوئی کہ سترہویں صدی میں یورپ میں اچانک غلغلہ بلند ہوا کہ اسکندریہ کی لائبریری کو سنہ 642 ء میں خلیفۃ المسلمین حضرت عمرؓ بن خطاب کے حکم پر برباد کیا گیا تھا۔ یہ شہرہ اس بنا پر ہوا کہ ایک شامی مسیحی ابوالفرج کی عربی زبان میں تحریر کردہ کتاب لاطینی ترجمہ کے ساتھ شائع ہوئی جس میں عربوں کے ہاتھوں لائبریری کی بربادی کی داستان بیان کی گئی تھی۔
ہندوستان میں علامہ شبلی نعمانی کو اولیت حاصل ہے کہ انھوں نے 1892 ء میں ’کتب خانۂ اسکندریہ‘ کے عنوان سے ایک معرکۃ الآرا تحقیقی مقالہ تحریر کیا اور قطعی دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ عربوں کی فتح کے وقت نہ وہاں کسی لائبریری کا کوئی وجود تھا، نہ عربوں نے اسے تباہ کیا۔ یہ محض اتہام ہے۔ (شبلی کا یہ مضمون مقالات شبلی کی جلد ششم میں شامل ہے۔ حوالوں میں جلد اور صفحہ نمبر درج کیا جائے گا۔)
علامہ شبلی کے مضمون پر ایک سو تیس برس گزر چکے ہیں۔ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ شبلی کے مابعد ہونے والی تحقیقات اور نئے شواہد سامنے آنے کی بنیاد پر اس مسئلے کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ نیز شبلی کا انداز تحقیق بھی کچھ نقد و تبصرہ کا متقاضی ہے۔
علامہ شبلی نعمانی نے علی گڑھ میں اپنے زمانۂ قیام کے دوران میں تحقیق پر مبنی بہت جامع اور مبسوط تاریخی مضامین تحریر کیے تھے۔ علی گڑھ اس وقت ایک بڑا علمی اور تہذیبی مرکز تھا۔ سر سید نے اپنے ذاتی ذوق و شوق سے یورپ، مصر، بیروت اور قسطنطنیہ میں شائع ہونے والی تازہ ترین مطبوعات کا بڑا ذخیرہ جمع کر رکھا تھا۔ سر سید نے چھ سو روپیہ خرچ کر کے گبن کی کتاب کا اردو میں ترجمہ کرایا تھا۔ شبلی نے ان تمام کتب سے بھرپور استفادہ کیا اور انھیں ”یورپ کے خیالات اور علمی تحقیقات سے آگاہی ہوئی۔“
شبلی کی خوش قسمتی تھی کہ اس وقت ٹامس آرنلڈ جیسا علم دوست شخص علی گڑھ میں موجود تھا۔ وہ شبلی سے عربی پڑھتا تھا اور شبلی نے اس سے کسی قدر فرنچ سیکھی تھی۔ آرنلڈ کی صحبتوں میں بھی شبلی کو یورپ میں تحقیق کے جدید اصولوں کو جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا۔

سر سید اور آرنلڈ کے علاوہ، سید سلیمان ندوی کے الفاظ میں ”یورپین تصانیف اور مطبوعات سے واقفیت کا ایک دوسرا ذریعہ بھی تھا جس کا تعلق علی گڑھ سے نہیں بلکہ حیدر آباد سے ہے۔ مولوی سید علی بلگرامی جو عربی اور انگریزی کے علاوہ فرنچ اور جرمن زبان وغیرہ بہت سی زبانیں جانتے تھے اور جو یورپ کے فضلا اور ان کی تصنیفات سے براہ راست تعلقات رکھتے تھے اور ان کے کتب خانہ میں ان معلومات کا بڑا سرمایہ تھا۔ مولوی سید علی بلگرامی نے مولانا کو یورپ کی مطبوعات کے بہت سے نسخے بھی نذر کیے تھے جو مولانا کے کتب خانے کا حصہ تھے (حیات شبلی۔ 144 )
چنانچہ انگریزی زبان نہ جاننے کے باوجود سر سید اور آرنلڈ کے فیضان صحبت اور سید علی بلگرامی سے دوستی کے سبب شبلی یورپ میں تاریخ نگاری کے تازہ ترین رجحانات سے خاطر خواہ حد تک واقف ہو گیا اور شیخ محمد اکرام کے نزدیک اپنے تلاش و تحقیق کے ذوق کی بنا پر طلب کا دامن دور دور تک پھیلا سکا۔
چنانچہ ان معلومات کی بنا پر شبلی نے الفاروق کے دیباچے میں جرمنی کے انیسویں صدی کے مورخ رانکے [Leopold Von Ranke] کا بھی ذکر کیا ہے حالانکہ اس وقت تک رانکے کے کام کا نہ فرانسیسی میں ترجمہ ہوا تھا نہ انگریزی میں۔ آئندہ اقتباس میں شبلی نے بغیر نام لیے جس پروفیسر کی رائے نقل کی ہے، میرا خیال ہے کہ وہ آرنلڈ ہی ہو گا۔
شبلی لکھتے ہیں :
”مورخ کا اصلی فرض یہ ہے کہ وہ سادہ واقعہ نگاری کی حد سے تجاوز نہ کر پائے۔ یورپ میں آج کل جو بڑا مورخ گزرا ہے اور جو طرز حال کا موجد ہے، رینکی ہے۔ اس کی تعریف ایک پروفیسر نے ان الفاظ میں کی ہے،“ اس نے تاریخ میں شاعری سے کام نہیں لیا۔ وہ نہ ملک کا ہمدرد بنا، نہ مذہب اور قوم کا طرف دار ہوا۔ کسی واقعہ کے بیان کرنے میں مطلق پتہ نہیں لگتا کہ وہ کن باتوں سے خوش ہوتا ہے اور اس کا ذاتی اعتقاد کیا ہے ”۔ (دیباچہ۔ ص 16 )
رانکے ( 1886۔ 1795 ) جرمنی میں تاریخ نگاری کے ایک جدید دبستان کی بنیاد رکھنے والا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ مورخ پہلے اور مسیحی بعد میں ہے۔ بطور مورخ اس کا مقصود بس یہ معلوم کرنا ہے کہ واقعات اصل میں کس طرح رونما ہوئے تھے۔ تاریخ واقعات کو بلا کم و کاست جوں کا توں بیان کرنے کا نام ہے۔
اب رانکے کا ذکر تو کر دیا لیکن اپنے مزاج، اپنی تربیت اور افتاد طبع کے سبب شبلی کے لیے رانکے کے بیان کردہ آئیڈیل کی پیروی کرنا کسی طور ممکن نہیں تھا۔ شبلی کا مقصد محض تاریخ نگاری نہیں تھا بلکہ سید سلیمان ندوی کے بقول، ”اسلام کے آئینہ سے گرد و غبار کو صاف کرنا تھا جو یورپین تعصب کی آندھی نے اس پر ڈالا تھا“ ۔ بنا بریں مقصدی تاریخ نگاری کی خاطر شبلی مورخ سے زیادہ وکیل صفائی بن جاتے ہیں۔ وکیل کے پیش نظر حقائق کی تلاش و جستجو نہیں ہوتی بلکہ اس کا مقصد مقدمہ جیتنا ہوتا ہے۔ وہ ہر اس دلیل کو استعمال کرے گا جو مقدمہ جیتنے میں اس کی مدد کر سکتی ہو اور شبلی یہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
تمام تر مضبوط دلائل کے با وصف، شبلی کے اس مضمون میں دو بنیادی نکات ایسے ہیں، جن پر شبلی نے سارے استدلال کی بنیاد اٹھائی ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ دونوں خلاف حقیقت ہیں۔ پہلا نکتہ اہل مغرب کا مسلمانوں سے تعصب اور دوسرا نکتہ یہ کہ مسیحیوں نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی خاطر یہ قصہ گھڑا ہے۔

جہاں تک تعصب کی بات ہے تو اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اہل یورپ اور بالخصوص مغربی مسیحیوں نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں سخت تعصب کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اہل یورپ ہمارے بارے میں اتنے ہی متعصب ہیں جتنا ہم ان کے متعلق۔ خود شبلی کا اپنا مضمون تعصب سے خالی نہیں ہے۔ اس کا اسلوب اور طرز نگارش نہ معروضی ہے، نہ غیر جانبدارانہ۔ اس کے مضمون سے کتنی ہی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جن سے اہل مغرب اور مسیحیوں کے خلاف تعصب صاف جھلک رہا ہے۔ لیکن اس خاص واقعہ میں، جیسا کہ آئندہ ظاہر ہو جائے گا، اہل مغرب پر تعصب کا الزام عائد کرنا کسی اعتبار سے درست نہیں ہے۔
بلاشبہ اس حکایت کی زیادہ شہرت ابتدا میں مغرب میں ہوئی لیکن اس کا باعث کسی طرح کا تعصب نہیں تھا بلکہ ایک کتاب کا پریس سے شائع ہونا تھا۔ مسلمانوں میں اس وقت تک پرنٹنگ پریس میں کتابوں کی اشاعت شروع نہیں ہوئی تھی۔ قلمی مخطوطوں تک بہت کم لوگوں کی رسائی ہوتی تھی لیکن پریس میں کتاب چھپ کر ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی تھی۔ جیسے ہی 1663 ء میں یہ کتاب چھپی اس کے کچھ برس بعد ہی یورپ میں اس قصہ پر اعتراضات بھی اٹھنا شروع ہو گئے تھے۔ شبلی کے مطابق ”سب سے پہلے گبن نے اس واقعہ کا انکار کیا۔“ برنارڈ لوئس نے ایک فرانسیسی مستشرق یوسیبی ریناڈو (Eusèbe Renaudot) کا ذکر کیا ہے جس نے سنہ 1713 ء میں (گبن سے تقریباً نصف صدی قبل) اسکندریہ کے بطریقوں پر اپنی لاطینی کتاب History of the Patriarchs of Alexandria میں اس کہانی کو ناقابل اعتبار قرار دیا تھا۔ ریناڈو کی زمانی فوقیت کے باوجود یہ گبن ہی تھا جس نے تفصیلی دلائل کے ساتھ اس واقعہ کی تردید کی تھی۔ اس کے بعد متعدد یورپی اہل علم نے بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا جن کے حوالے خود شبلی کے مضمون میں موجود ہیں۔
شبلی کے مضمون کے دس برس بعد برطانیہ میں سنہ 1902 ء میں اے۔ جے۔ بٹلر نے عربوں کی فتح مصر پر ایک کتاب شائع کی۔ اس تصنیف میں اس نے اسکندریہ کے کتب خانے کی عربوں کے ہاتھوں بربادی کی داستان کو اتنے تفصیلی اور فیصلہ کن دلائل سے رد کیا کہ اس کے بعد یورپ کے کسی سنجیدہ مزاج عالم میں اس الزام کو دہرانے یا قبول کرنے کا حوصلہ نہ رہا۔ یہ کتاب اس قدر اہمیت کی حامل ہے کہ سنہ 1978 ء میں اس کا نیا ایڈیشن شائع کیا گیا۔ آج بھی زیادہ تر مصنفین بٹلر کے تردیدی دلائل پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ برنارڈ لوئس نے اس ضمن میں کچھ مزید نام گنوائے ہیں، مثلاً 1911 ء میں وکٹر شووین (Victor Chauvin) نے اور 1923 ء میں پال کیزانووا (Paul Casanova) اور یوہینیو گریفینی ) Eugenio Griffini ( نے اپنے اپنے طور پر اس داستان کو رد کیا ہے۔
بہرحال شبلی کو بھی اپنے مضمون کے آخر میں یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ”واقعہ مفروضہ گو ایک زمانہ میں تمام یورپ میں تسلیم کیا جاتا تھا لیکن جس قدر تاریخی تحقیقات کو ترقی ہوتی گئی، اسی نسبت اس کی تصدیق کا زور گھٹتا گیا، یہاں تک کہ حال کے مصنفین میں زیادہ تر انھی لوگوں کی تعداد ہے جو اس کو غلط اور مشکوک واقعہ قرار دیتے ہیں“ ۔ (جلد ششم۔ ص 151 ) یہاں یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ شبلی کے اپنے بہت سے تردیدی دلائل یورپی اصحاب علم کی تحقیق سے مستفاد ہیں۔
علامہ شبلی اگر آج زندہ ہوتے تو یہ جان کر یقیناً خوش ہوتے کہ اس وقت اہل مغرب کے قریب قریب سبھی سنجیدہ طبع مورخین و مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ اسکندریہ کی لائبریری کی تباہی کو عربوں سے منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔ حتی کہ برنارڈ لوئس بھی، جسے ہمارے ہاں متعصب یہودی کہہ کر سخت مطعون کیا جا جاتا ہے، اسے حضرت عمر سے منسوب کرنے کو افترا قرار دیتا ہے۔
اب ہم دوسرے نکتے کی طرف آتے ہیں کہ اس قصہ کو مسیحیوں نے گھڑا ہے اور ان کا مقصد مسلمانوں کو جاہل اور وحشی ثابت کرنا تھا۔ علامہ شبلی کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ ”اس کتب خانہ کو خود عیسائیوں نے برباد کیا تھا“ لیکن ”متعصب عیسائیوں نے اس گم شدگی کو مسلمانوں کی طرف منسوب کر دیا اور چونکہ اس زمانہ میں تمام یورپ تعصب سے لبریز تھا اور کسی قسم کی علمی ترقی کا اثر نہ تھا، اس لیے کسی نے غور و تحقیق کی پروا نہ کی اور نہایت تیزی سے یہ روایت یورپ میں پھیل گئی“ ۔ (جلد ششم۔ 116 )
شبلی نے اس واقعہ کا اصل موجد ابو الفرج کو قرار دیا ہے جس کی کتاب اس موضوع روایت کا اصل ماخذ ہے۔ ابو الفرج، جس کا مسیحی نام گریگوری تھا، تیرہویں صدی کا ( 1289۔ 1226 ) ایک شامی مسیحی تھا۔ وہ بہت عالم فاضل شخص تھا۔ باپ اس کا شاید یہودی تھا جس نے مسیحی مذہب اختیار کر لیا تھا۔ اسی لیے اسے ابن العبری بھی کہا جاتا تھا یعنی یہودی کا بیٹا۔ یہی ابن العبری لاطینی زبان میں (Bar Hebraeus) بن گیا۔ اس نے سریانی زبان میں ایک کتاب تحریر کی تھی اور بعد ازاں عربی میں ”تاریخ مختصر الدول“ کے نام سے اس کا خلاصہ مرتب کیا۔ اس کی وفات کے تقریباً چار سو سال بعد 1663 ء میں آکسفرڈ یونیورسٹی کے عربی زبان کے پروفیسر ایڈورڈ پوکاک (Edward Pococke) نے اس کتاب کو لاطینی ترجمہ کے ساتھ شائع کیا۔ (یہ اضافہ کرنا شاید غیر ضروری نہ ہو کہ کتاب کا عربی متن جس ٹائپ سیٹ میں چھپا تھا وہ بہت بھدا اور بد صورت تھا اور اس کو پڑھنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ سنہ 1890 ء میں اس کتاب کا عربی متن بیروت سے بہت خوبصورت ٹائپ سیٹ میں شائع کیا گیا تھا اور وہ بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ )
شبلی نے دعویٰ کیا ہے کہ ”بعض واقعات اصل سریانی زبان سے زائد ہیں۔ یہ امر مشتبہ ہے کہ زائد واقعات ابوالفرج نے خود بڑھائے یا کسی اور نے الحاق کیے۔“ ظاہر ہے کہ شبلی کا یہ دعویٰ کسی یورپی مصنف کی تحقیق سے لیا گیا ہے کیونکہ شبلی کو میرا خیال ہے کہ سریانی زبان نہیں آتی تھی اور نہ اس نے اصل سریانی کتاب دیکھی ہو گی۔
شبلی نے اس شبہ کا اظہار بھی کیا ہے کہ شاید پروفیسر پوکاک نے یہ واقعہ خود گھڑا ہے۔ ”اس عبارت کے الحاقی ہونے کا گمان اس سے زیادہ قوی ہو جاتا ہے کہ اس عربی خلاصہ کو پروفیسر پوکاک نے اپنے اہتمام و تصحیح سے چھپوایا ہے اور ان کو مسلمانوں کے خلاف واقعات گھڑ لینے میں نہایت کمال حاصل تھا۔“ (جلد ششم۔ 134 )
الحاق کی بحث سے قطع نظر شبلی کے دلائل کا دار و مدار اسی بات پر ہے کہ اس قصہ کا موجد اول ابوالفرج ہے جس کی وجہ سے یورپ میں یہ واقعہ مشہور ہوا اور مقصد یہ تھا کہ ”مسلمانوں کی طرف نفرت انگیز خیالات پیدا ہوں۔“
لائبریری جلائے جانے کا واقعہ ”مختصر الدول“ کے صفحہ ( 81۔ 180 ) پر درج ہے۔ اس عربی عبارت کا بہت عمدہ ترجمہ خود شبلی کے قلم سے ملاحظہ کیجیے :
”اور اس زمانہ میں عربوں میں یحیٰی نحوی [Johannes Grammaticus] جو ہماری زبان میں غرماطیقوس کے لقب سے ملقب ہے، مشہور ہوا۔ وہ اسکندریہ کا رہنے والا تھا اور یعقوبی عیسائیوں کا عقیدہ رکھتا تھا اور ساوری کے عقیدہ کی تائید کرتا تھا۔ پھر عیسائیوں کے عقیدۂ تثلیث سے منکر ہوا، اس پر مصر میں تمام پادری جمع ہوئے اور اس سے درخواست کی کہ وہ اس عقیدہ سے باز آ جائے، اس نے نہ مانا، اس پر پادریوں نے اس کا رتبہ گھٹا دیا، وہ بہت دنوں تک زندہ رہا، یہاں تک کہ عمروؓ بن عاص نے اسکندریہ کو فتح کیا، وہ عمرو کے پاس حاضر ہوا، عمرو اس کی لیاقت سے واقف ہو چکا تھا، اس لیے اس نے اس کی بہت عزت کی اور اس سے فلسفیانہ بحثیں سنیں جن سے اہل عرب کبھی آشنا نہ تھے۔ عمرو کے دل پر ان بحثوں نے بہت اثر کیا اور وہ اس پر فریفتہ ہو گیا۔ عمرو عاقل، خوش فہم اور صحیح الفکر شخص تھا، اس نے یحیٰی کی صحبت کو لازم پکڑ لیا اور اس کو اپنے پاس سے جدا نہ کرتا تھا۔
ایک دن یحیٰی نے عمرو سے کہا کہ اسکندریہ کی تمام قسم کی چیزوں پر آپ قابض ہیں، جو جو چیزیں کہ آپ کے کام کی ہیں، میں ان سے تعرض کرنا نہیں چاہتا، لیکن جو چیزیں آپ کے کام کی نہیں ہیں اس کے تو ہمیں لوگ زیادہ مستحق ہیں۔ عمرو نے کہا، تم کو کیا درکار ہے، یحیٰی نے کہا، فلسفہ کی وہ کتابیں جو شاہی کتب خانوں میں ہیں۔ عمرو نے کہا اس امر کی نسبت میں امیر المومنین عمرؓ ابن الخطاب کی اجازت کے بغیر کوئی حکم نہیں دے سکتا۔ عمرو نے یحیٰی کی درخواست کی اطلاع حضرت عمر ابن الخطاب کو دی، وہاں سے جواب آیا کہ جن کتابوں کا تم نے ذکر کیا ہے اگر خدا کی کتاب کے موافق ہیں تو خدا کی کتاب کے ہوتے ان کی ضرورت نہیں اور اگر ان کے مضامین خدا کی کتاب کے مخالف ہیں تو تم ان کو برباد کرنا شروع کر دو۔ عمرو بن العاص نے کتابوں کو اسکندریہ کے حماموں میں تقسیم کرنا اور ان کو جلوانا شروع کیا، پس وہ چھ مہینے کی مدت میں جل کر تمام ہوئیں، سو جو کچھ ہوا اس کو سنو اور تعجب کرو۔ ” (جلد ششم۔ 22۔ 121 )
شبلی نے ابوالفرج کو موجد اول اس بنا پر قرار دیا تھا کہ یہ سارا قصہ پہلی بار اس کے ذریعے منظر عام پر آیا تھا۔ لیکن دو شہادتوں کی بنیاد پر شبلی کا یہ دعویٰ درست ثابت نہیں ہوتا۔ پہلی شہادت تو خود شبلی کے اپنے مضمون کے اندر موجود ہے۔
عبد اللطیف بغدادی ( 1231۔ 1162 ) کی عبارت شبلی نے خود نقل کی ہے جس میں اسکندریہ کی لائبریری جلائے جانے کا پہلی بار ذکر ہوا تھا۔ وہ ابوالفرج کی ولادت سے 23 برس پہلے سنہ 1203 ء میں مصر میں تھا۔ اس نے مصر کے سفر کا احوال اپنی اس تصنیف میں بیان کیا تھا: ”کتاب الافادہ و الاعتبار فی الامور المشاہدہ و الحوادث المعائنہ بارض مصر“ ۔ شبلی نے اس کتاب کی تاریخ تصنیف 10 شعبان 603 ہ بتائی ہے جو شمسی کیلنڈر کے مطابق 18 مارچ 1207 ء بنتی ہے۔
بغدادی نے اسکندریہ کی سیاحت میں وہاں عمود السواری نام کا ایک ستون دیکھا جس کے اردگرد چار سو چھوٹے چھوٹے ستون تھے۔ ان کے متعلق اس نے بیان کیا: ”اور کہا جاتا ہے کہ یہ ستون منجملہ ان ستونوں کے ہیں جس پر وہ چھت قائم تھی جو ارسطو کا رواق تھا اور جہاں ارسطو حکمت کا درس دیا کرتا تھا اور یہ کہ وہ دار العلم تھا اور اس میں وہ کتب خانہ تھا جسے حضرت عمروؓ بن العاص نے حضرت عمرؓ بن الخطاب کے حکم سے جلا دیا تھا“ ۔ (جلد ششم۔ ص 128 )
بغدادی کے بیان پر شبلی کا اعتراض درست ہے کہ ارسطو کے اسکندریہ میں فلسفہ پڑھانے والی بات بالکل خلاف واقعہ اور غلط ہے کیونکہ ارسطو تو کبھی اسکندریہ آیا ہی نہیں تھا۔ چونکہ ایک بات غلط ہے تو دوسری بات پر کس طرح یقین کر لیا جائے۔
شبلی نے جرمنی کے مشہور عربی دان پروفیسر کریل کا مضمون ’اسلامی کتب خانے‘ جرمن زبان سے سید علی بلگرامی سے ترجمہ کرا کر اپنی کتاب میں شامل کیا تھا۔ بغدادی کے بیان پر کریل کا بھی یہی تبصرہ ہے کہ ”یہ بیان محض علیٰ سبیل التذکرہ معلوم ہوتا ہے اور اس سے کوئی خاص غرض نہیں معلوم ہوتی، یہ کسی خاص اصل واقعہ کا یاد دلانا نہیں ہے بلکہ محض ایک مشہور بات کا اعادہ کر دینا ہے۔“ (جلد ششم۔ 129 )
رہ گئی ارسطو کے فلسفہ پڑھانے والی بات تو بٹلر نے اس کی ایک بہت عمدہ توجیہ پیش کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سراپیم میں فلسفہ پڑھایا جاتا تھا اور ایک کمرے میں ارسطو کی تعلیم دی جاتی تھی۔ ہو سکتا ہے وہ کمرہ رواق ارسطو کے نام سے مشہور ہو گیا ہو اور بات ’یہاں ارسطو پڑھایا جاتا تھا‘ بدل کر ’یہاں ارسطو پڑھاتا تھا‘ بن گئی ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ زبانی روایتوں میں اس انداز کا تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سراپیم کی تباہی کے آٹھ سو سال بعد بھی اسکندریہ میں یہ بات مشہور تھی کہ یہاں ایک کمرے میں ارسطو خود پڑھایا کرتا تھا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ غلط روایات و حکایات کی عمر کتنی طویل ہوتی ہے۔
تاریخی تحقیق کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے نتائج بہت غیر حتمی اور تخمینی ہوتے ہیں۔ نئی دستاویزی شہادتوں کے سامنے آنے کے بعد بعض اوقات صورت حال کلیۃً تبدیل جاتی ہے۔ یہی معاملہ شبلی کے مضمون کے ساتھ پیش آیا۔ مضمون شائع ہونے کے گیارہ برس بعد سنہ 1903 ء میں مصر سے شائع ہونے والی ایک کتاب سے صورت معاملہ بالکل الٹ گئی اور دنیا کو خبر ہوئی کہ اس واقعہ کا اصل مخرج کیا ہے۔ اس کتاب کا مصنف جمال الدین ابوالحسن علی بن یوسف القفطی تھا جسے عام طور القفطی یا ابن القفطی لکھا جاتا ہے۔ کتاب کا نام ”اخبار العلما باخبار الحکماء“ ہے جو زیادہ تر ”تاریخ الحکما“ کے نام سے مشہور ہے۔ القفطی کا سال پیدائش تو معلوم نہیں لیکن سال وفات 1248 ء ہے۔ اس کی کتاب کا سن تصنیف 1227 ء بیان کیا گیا ہے۔ کتاب میں اس نے الف بائی ترتیب کے ساتھ 414 طبیبوں، سائنس دانوں اور فلسفیوں کے حالات بیان کیے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد یونانیوں، یہودیوں اور مسیحیوں کی ہے۔

”تاریخ الحکما“ کا اردو ترجمہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے کیا تھا جو سنہ 1945 ء میں شائع ہوا تھا۔ اردو ترجموں کی روایت کے عین مطابق یہ پابند اصل ترجمہ نہیں ہے بلکہ کئی مقامات پر بالکل غلط ہے۔ فاضل مترجم کا خود کہنا ہے کہ ”یہ ہر فقرے کا لفظی ترجمہ نہیں بلکہ سلیس اردو میں مطلب خیز ترجمہ ہے۔“ (دیباچہ ص 9 )
اس کتاب میں یحیی النحوی المصری کے حالات لکھتے ہوئے قفطی نے اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اگرچہ اوپر مندرج ابو الفرج کے بیان کے بعد اس میں تکرار دکھائی دے گی لیکن معاملے کو درست تناظر میں دیکھنے کی خاطر ضروری خیال کرتا ہوں کہ قفطی کا مکمل بیان درج کیا جائے جو کچھ اس طرح ہے :
”یحیٰی النحوی المصری اسکندریہ کا رہنے والا اور شاواری [Severus] کا شاگرد تھا۔ اسکندریہ کے ایک گرجے میں پادری کے فرائض سرانجام دیتا تھا، نصاریٰ کے فرقہ یعقوبیہ سے تعلق رکھتا تھا۔ کتب حکمت پڑھنے کے بعد عقیدۂ تثلیث سے متنفر ہو گیا۔ جب اس کے الحاد کا علم دوسرے پادریوں کو ہوا، تو اسے خوب ڈانٹا ڈپٹا، مناظرے کیے، ترغیب و ترہیب سے کام لیا لیکن وہ ہٹ کا پکا، اپنی ضد پر اڑا رہا۔ نتیجتہً اسے پادریت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ جب عمروؓ بن العاص نے مصر فتح کیا تو انھیں یحیٰی کے علم و عرفان اور تثلیث کے متعلق علمائے نصرانیت کے ساتھ مناظروں کا پتہ چلا تو اسے بلا بھیجا۔ اس کے خیالات ابطال تثلیث نیز فنائے عالم پہ سنے اور اس کے منطقی و فلسفی دلائل (جن سے عرب نا آشنا تھے ) سن کر بے حد مسرور ہوئے۔ چونکہ عمرو سلیم الفطرت اور صحیح الفکر انسان تھے، اس لیے یحیٰی کو اپنا ندیم و جلیس بنا لیا۔
ایک دن یحیٰی نے عمرو کو کہا کہ آپ نے مصر کے تمام خزائن کو مقفل کر کے معطل بنا دیا ہے۔ میرا ناقص مشورہ یہ ہے کہ جو چیز آپ کے کام کی ہو اس پر تو بے شک پہرے بٹھائیں لیکن باقی ماندہ سے ہمیں فوائد اٹھانے دیں۔ عمرو نے پوچھا تمھارے فائدہ کی کون سی چیز ہے؟ کہا، شاہی کتب خانوں میں فلسفہ و حکمت کی کتابیں۔ پوچھا یہ کتب خانے کیسے جمع ہوئے؟ کہا اسکندریہ کا ایک بادشاہ بطلوماؤس فلاذلفوس علوم و فنون کا بہت گرویدہ تھا۔ اس نے ایک شخص زمیرہ (ایک نسخے میں ضمیرہ) کو جمع کتب کے کام پر لگایا۔ چنانچہ اس شخص نے بڑی تلاش و طلب اور زر کثیر کے صرف کے بعد 54120 کتابیں جمع کیں۔ بادشاہ نے کتابوں پر نگاہ ڈالی تو بہت خوش ہوا اور پوچھنے لگا کیا دنیا میں ایسی کوئی کتاب ہے جس کی نقل یہاں موجود نہ ہو؟ زمیرہ نے کہا، ہزاروں بلکہ لاکھوں۔ سند، ہند، ایران، جرجان، درمان، بابل، موصل اور روم میں کتابوں کے بڑے بڑے خزانے موجود ہیں، جن کے مقابلے میں ہمارے کتب خانے کی کوئی حقیقت نہیں۔ بادشاہ حیرت زدہ ہو گیا اور کہا کہ تلاش و حصول کتب کا کام ہر قیمت پر جاری رکھو۔ یہ کام اس بادشاہ کی ساری زندگی میں جاری رہا۔ اس کی وفات کے بعد اس کے خلفا ان کتابوں کی اب تک حفاظت کرتے آئے ہیں۔
عمرو بن عاص مصریوں کی علم دوستی پر حیرت زدہ ہو گئے اور یحیٰی سے کہنے لگے کہ معاملہ اہم ہے، اس لیے خلیفہ سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ چنانچہ عمرو نے تمام کہانی حضرت فاروق اعظم کو لکھ بھیجی اور پوچھا کہ یحیٰی کو کیا جواب دوں، اور ان کتابوں کا کیا کروں؟ امیر المومنین نے جواب میں لکھا:
اگر ان کتابوں کے مضامین کتاب الہٰی (قرآن مجید) کے مطابق ہیں تو ہمیں کتاب اللہ کافی ہے اور ہم ان کتب سے قطعاً مستغنی ہیں۔ اگر مخالف ہیں تو ان کی ضرورت نہیں۔ انھیں تباہ کر دو۔
تعمیل ارشاد میں عمرو بن عاص کتب خانوں کے پیچھے پڑ گئے۔ چھ سال (کذا؟ سال کتابت کی غلطی لگتی ہے ) تک اسکندریہ کے حماموں میں یہ کتابیں جلتی رہیں۔ کچھ کتابیں بعض دیگر طریقوں سے تباہ کی گئیں اور اس طرح یہ کتب خانے ختم ہو گئے۔ (اردو ترجمہ، 61۔ 459 ) (عربی متن۔ 56۔ 354 )
افسوس کا مقام ہے کہ قفطی کے ان آخری دو جملوں کا برق صاحب نے ترجمہ نہیں کیا: ”مجھے اس وقت اسکندریہ میں حماموں کی تعداد بتائی گئی تھی جو مجھے بھول گئی ہے۔ سو جو کچھ ہوا اس کو سنو اور تعجب کرو۔“ قفطی کا یہ آخری جملہ بہت معنی خیز ہے کیونکہ اس میں ایک دلچسپ کنایہ ہے جس کی تفصیل تھوڑی دیر میں سامنے آئے گی۔

برسبیل تذکرہ یہاں اتنی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جس یحیٰی النحوی کا ذکر کیا گیا ہے وہ تاریخ فلسفہ و سائنس میں عہد متوسط کا آخری بڑا نام ہے لیکن اس کی عمرو بن العاص سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ وہ 570 ء کے لگ بھگ فوت ہو چکا تھا۔ اگر وہ فتح مصر کے وقت زندہ ہوتا تو اس کی عمر ڈیڑھ سو سال ہوتی جو قرین قیاس نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ شبلی کو بھی اس باب میں شبہ تھا اس لیے انھوں نے ’عاش الیٰ‘ کا ترجمہ کیا ہے، ”وہ بہت دنوں تک زندہ رہا“ ۔
قفطی کا یہ بیان تین اجزا پر مشتمل ہے۔ پہلا جز جس میں یحییٰ النحوی کا تعارف کرایا گیا ہے وہ کچھ کمی بیشی کے ساتھ ابن الندیم کی ”کتاب الفہرست“ سے ماخوذ ہے۔ دوسرا جز، جس میں جمع کتب کا ذکر ہے، وہ جدید مصری سکالر مصطفیٰ العبادی کی رائے میں کسی بازنطینی ماخذ سے لیا گیا ہے۔ تیسرا جز جس میں کتب خانے کے جلائے جانے کو بیان کیا گیا ہے، وہ مقامی زبانی روایت دکھائی دیتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ابوالفرج نے عربی کتاب اپنی زندگی کے آخری ایام میں لکھی تھی جب وہ مراغہ میں مقیم تھا۔ اگر یہ بات درست ہے تو ابو الفرج کی کتاب قفطی سے لگ بھگ پچاس سال سے زائد عرصہ بعد لکھی گئی ہو گی۔ چھپی ہوئی دونوں کتابوں کے متن کا تقابل کرنے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ابوالفرج کا بیان، بالخصوص آخری حصہ، قفطی کی کتاب سے لفظ بہ لفظ نقل کیا گیا ہے۔ اس نے صرف آخری سے پہلا جملہ حذف کیا ہے جس میں اسکندریہ میں حماموں کی تعداد کا ذکر تھا۔
ابو الفرج نے درمیانی حصہ بھی نقل نہیں کیا تھا کیونکہ وہ کتاب میں بطلیموس دوم فیلاڈیلفس کے حالات لکھتے ہوئے جمع کتب کا وہاں ذکر کر چکا تھا۔ ( عربی متن، ص 99۔ 98 ) کتابوں کی تعداد بعینہٖ اس نے بھی وہی لکھی ہے جو قفطی نے بیان کی ہے۔
بغدادی اور القفطی کے بیانات اور ان کے زمانی تفاوت کے بعد اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ اس کہانی کا موجد کوئی مسیحی نہیں بلکہ خود مسلمان ہیں۔ خیر شبلی کا ابوالفرج کو اس قصے کا موجد قرار دینا تو سمجھ میں آتا ہے کہ اس وقت تک القفطی کی کتاب شائع نہیں ہوئی تھی لیکن یہ امر تاسف انگیز ہے کہ سنہ 1943 میں سید سلیمان ندوی اپنی کتاب ”حیات شبلی“ میں اسی الزام کو دہرانا پسند کرتے ہیں کہ ”اس افترا کا بانی چھٹی صدی ہجری کا ایک عیسائی مورخ ابوالفرج ملطی ہے۔“ (ص 226 ) حالانکہ اس وقت تک القفطی کی کتاب کو شائع ہوئے چالیس برس ہو چکے تھے۔
اب تک ہونے والی تحقیق کا فیصلہ کن نتیجہ یہ ہے کہ بغدادی سے پہلے کسی مسلمان یا غیر مسلم مورخ نے عربوں کی فتح مصر کے بعد اسکندریہ کے کتب خانے کے جلائے جانے کی بات نہیں کی۔ قبطی مصریوں کے ہاں اس کا تذکرہ ملتا ہے نہ بازنطینی مورخین ذکر کرتے ہیں۔ قبطی مورخ بشپ جان (John of Nikiu) عربوں کی فتح مصر کے وقت حیات تھا اور اس نے اپنی کتاب میں متعدد واقعات بیان کیے ہیں لیکن لائبریری کے جلائے جانے کا کوئی ذکر نہیں کیا حالانکہ وہ واضح طور پر مسلمانوں کے خلاف تھا۔
برنارڈ لوئس نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے کہ اگر اس کہانی کا مقصد مسلمانوں اور بالخصوص حضرت عمر کو غیر مہذب اور علم دشمن ثابت کرنا ہے تو یہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ کہانی کی تائید میں کوئی جعلی دستاویزی شہادت بھی سامنے نہیں آ سکی۔ اگر یہ کہا جائے کہ مسیحیوں نے اسلام کو بدنام کرنے کے لیے یہ کہانی وضع کی ہے تو یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ اولاً یہ حکایت بیان کرنے والے مسلمان خود ہیں۔
ان سب شواہد سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ روایت کسی مسلمان کی زائیدہ و تراشیدہ ہے۔ جعل سازی کرنے والے کو چھ صدیوں بعد اتنا بھی یاد نہ رہا کہ جس زمانے کا ذکر ہے، اس وقت کتابیں کاغذ پر نہیں لکھی جاتی تھیں بلکہ جس میٹیریل پر لکھی جاتی تھیں وہ چولھوں اور بھٹیوں میں ایندھن کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتا تھا۔
بغدادی کی بات البتہ یہ غمازی کرتی ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی کے آغاز میں اسکندریہ کے اہل علم کی مجالس میں اور بازاروں میں یہ بات کہی جا رہی تھی اور سنی جا رہی تھی۔ بقول شبلی، اس نے ایک بازاری گپ کو بیان کر دیا۔ اسی بازاری گپ کو قفطی ضبط تحریر میں لے آیا کیونکہ اس کے بیان میں یہ جملہ بھی شامل ہے کہ اسے اسکندریہ میں موجود حماموں کی تعداد بھی بتائی گئی تھی جو اسے بھول گئی ہے۔ (مقام حیرت ہے کہ اسکندریہ کے متعلق جو بات سب سے زیادہ مشہور تھی، وہی اسے بھول گئی۔ اسکندریہ کے چار ہزار حماموں کا تذکرہ تو بہت عام تھا اور اکثر کتابوں میں مذکور ہے۔ )
بایں ہمہ قصہ گھڑنے کا الزام ابن القفطی پر بھی عائد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سرسری طور پر ہی سہی، بغدادی کتب خانے کے جلائے جانے کی بات اس سے بیس برس پہلے کر چکا تھا۔ قاسم عبدو قاسم کے مطابق بغدادی اور القفطی کے بعد مقریزی اور ابو الفدا نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے لیکن ان دونوں نے بغدادی اور القفطی کے بیانات کو ہی نقل کیا ہے، کسی نئی بات کا اضافہ نہیں کیا۔
مقریزی کا ذکر تو شبلی کے اپنے مضمون میں موجود ہے۔ ابوالفدا ایوبی خاندان سے تھا۔ اس کا پورا نام عماد الدین اسماعیل بن علی الایوبی تھا۔ اس کا زمانہ 1273 تا 1331 ء ہے۔ جب مصر اور شام میں مملوکوں کے ہاتھوں ایوبی خاندان کا اقتدار سلب ہو گیا تو اس نے بچی کھچی طاقت جمع کر کے حمات کے علاقے میں اپنی حکومت قائم کر لی تھی اور اپنی وفات تک وہاں حکمرانی کرتا رہا تھا۔ یہ صحیح معنوں میں صاحب سیف و قلم حکمران تھا۔ اس سے ”مختصر تاریخ البشر“ اور ”تقویم البلدان“ کے عنوانات سے دو کتابیں یادگار ہیں۔
مندرجہ بالا شواہد کی بنا پر یہ بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ یہ واقعہ مسلمانوں کا اپنا وضع کردہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر مسلمانوں کو یہ قصہ گھڑنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی؟ اپنے عقیدہ و مسلک کے اعتبار سے بغدادی، قفطی، مقریزی اور ابو الفدا میں ایک بھی ایسا فرد نہیں جس کی نیت پر یہ شک کیا جا سکے کہ وہ خدا نخواستہ حضرت فاروق اعظم پر کسی طرح کی تعریض کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ بعض اوقات ایسی حکایت سازی کا مقصود محض الزام دھرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنے محبوب شخص کے کسی عمل کا دفاع کرنا اور اس کے لیے سند جواز فراہم کرنا ہوتا ہے۔ مصطفیٰ العبادی، قاسم عبدو قاسم اور برنارڈ لوئس نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ اس واقعہ کے گھڑے جانے کا سبب سلطان صلاح الدین ایوبی کے دامن پر لگے ایک داغ کو صاف کرنا تھا۔ برنارڈ لوئس نے پال کیزانووا کا حوالہ بھی دیا ہے جس نے 1923 ء میں سب سے پہلے اس قیاس کو بیان کیا تھا۔
یہ اجمال کسی قدر تفصیل کا تقاضا کرتا ہے۔ سلطان ایوبی کے اقدام پر گفتگو کرنے سے پہلے پس منظر کے طور پر فاطمی خلافت کا مختصر سا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔
مصر کی فاطمی خلافت کا دورانیہ سنہ 909 ء تا 1171 ء تک محیط ہے۔ اس خلافت کے دور عروج میں شمالی افریقہ، جزیرہ سسلی، شام، فلسطین، یمن اور حجاز کے علاقے اس کے زیر نگیں تھے۔ اہل سنت کے نزدیک اسماعیلی مذہب سے تعلق رکھنے کی بنا پر فاطمیوں کا شمار اہل بدعت میں ہوتا تھا۔ چنانچہ جب تک فاطمی خلافت قائم رہی یہ اہل سنت کے دل میں ایک کانٹے کی طرح چبھتی رہی اور بالخصوص سلجوق سلطان الپ ارسلان کے زمانے سے اس خلافت کا خاتمہ کرنا رومیوں سے جنگ کرنے پر مقدم رکھا جاتا تھا۔ بہرحال فاطمی خلفا علم دوست واقع ہوئے تھے اور ان کی زیر سرپرستی علوم و فنون میں کافی ترقی ہوئی تھی۔ انھوں نے قاہرہ میں ایک بہت شاندار کتب خانہ قائم کیا تھا۔ ایک طرح سے فاطمی خلفا ہی تھے جنھوں نے عالم اسلام میں پبلک کتب خانے کی بنا ڈالی تھی۔
اس کتب خانے کے متعلق پروفیسر کریل کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسلامی دنیا میں بڑے بڑے کتب خانے تھے، ”لیکن ان سب کا سرتاج اور اسپین کے نامور کتب خانے کا حریف مقابل فاطمین مصر کا کتب خانہ تھا جس کے حالات علامہ مقریزی نے کتاب“ الخطط والآثار ”میں کسی قدر تفصیل سے لکھے ہیں۔
یہ کتب خانہ شاہی محل کا ایک حصہ تھا اور چالیس جدا جدا کتب خانوں پر مشتمل تھا جن میں سے ایک کتب خانہ میں صرف علوم قدیمہ یعنی فلسفہ وغیرہ کی اٹھارہ ہزار کتابیں تھیں، بعض مورخوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کل اسلامی دنیا میں اس کے برابر کوئی کتب خانہ نہ تھا۔ اس امر میں کہ اس میں کتابوں کی مجموعی تعداد کیا تھی مورخوں کے اقوال مختلف ہیں ”۔ (جلد ششم، ص 162 ) اس کتب خانے میں کتابوں کی تعداد دو لاکھ سے لے کر چھ لاکھ تک بیان کی گئی ہے۔
سنہ 1169 ء میں سلطان نور الدین زنگی کے کمانڈر کی حیثیت سے صلاح الدین ایوبی نے مصر پر قبضہ کر لیا۔ اس نے زنگی کے اصرار کے باوجود سیاسی مصلحت کے پیش نظر آخری فاطمی خلیفہ کو نہ معزول کیا اور نہ عباسی خلیفہ کے نام کا خطبہ شروع کیا۔ اسی بنا پر اس کے متعلق یہ بھی مشہور ہو گیا ہے کہ وہ فاطمی خلیفہ کا وزیر بن گیا تھا۔ دو سال بعد 1171 ء میں فاطمی خلیفہ کا انتقال ہوا تو باقاعدہ طور پر فاطمی خلافت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس وقت مصر میں 262 سال بعد عباسی خلیفہ کے نام کا خطبہ پڑھا گیا۔ تین برس بعد زنگی کا انتقال ہوا تو صلاح الدین ایوبی خود مصر کا سلطان بن گیا۔ گویا وہ فتح مصر کے پانچ برس بعد صحیح معنوں میں خود مختار حکمران بنا۔ اہل سنت میں صلاح الدین ایوبی کی حد سے زیادہ مقبولیت کا سبب محض بیت المقدس کو صلیبیوں سے واپس لینا ہی نہیں بلکہ فاطمی خلافت ختم کرنے کا کارنامہ سرانجام دینا بھی ہے۔
حکمران بننے کے بعد ایوبی کے پیش نظر دو مقاصد تھے، اول فلسطین اور شام پر اپنی حکومت قائم کرنا؛ دوم صلیبیوں کے ساتھ جنگ کرنا۔ ان مہمات کے لیے اسے سرمایہ کی شدید ضرورت تھی۔ چنانچہ اس نے فاطمیوں کے ڈھائی سو سال کے جمع کردہ تمام خزائن کو نیلام کر دیا۔ ان خزانوں میں کتب خانے بھی شامل تھے۔
سلطان کے اس اقدام پر مسٹر کریل کا تبصرہ ملاحظہ ہو: ”مصر کا مشہور و بے نظیر کتب خانہ دولت فاطمیہ کی تباہی کے ساتھ برباد ہوا اور تعجب و افسوس یہ ہے کہ صلاح الدین فاتح بیت المقدس جو فاطمیوں کو مٹا کر مصر کا بادشاہ ہوا، اس نے خود اس کتب خانہ کو برباد ہونے دیا، بہت سی کتابیں بے احتیاطی سے پہلے ہی ضائع ہو گئیں اور جو بچیں ایک دلال کی معرفت جس کا نام ابن صورۃ تھا، برسوں تک نہایت بے قدری کے ساتھ بکتی رہیں، صلاح الدین کے وزیر قاضی عبد الرحیم نے البتہ جہاں تک ہو سکا کتابوں کی حفاظت کی، چنانچہ قاہرہ میں جو مدرسہ تعمیر کرایا، اس میں قریباً ایک لاکھ کتابیں وقف کیں جن میں اکثر بلکہ قریباً کل اسی برباد شدہ کتب خانہ کی تھیں۔ (جلد ششم۔ ص 173 )
حالت جنگ میں کتب خانے برباد ہوتے رہتے تھے لیکن حالت امن میں بربادی کی یہ پہلی مثال تھی۔ خود شبلی نے زیر بحث روایت کو ایک مسیحی کی اختراع سمجھتے ہوئے یہ اعتراض وارد کیا ہے : ابوالفرج ”اگر اس واقعہ کو عین محاصرہ کی حالت میں بیان کرتا تو قیاس میں آ سکتا تھا، کیونکہ حملہ اور مقابلہ کا جوش کسی چیز کی پروا نہیں کرتا لیکن یہ تسلیم کر کے کہ شہر کو امن دیا گیا۔ اس وقت ایسا ظالمانہ فعل ابوالفرج ہی کے قیاس میں جائز ہو سکتا تھا۔“ ( 146 )
شہروں پر حملوں کے بعد ہونے والی غارت گری کی بڑی وجہ یہ ہوتی تھی کہ اسلامی قانون کے مطابق جب کسی شہر کو بزور شمشیر فتح کیا جائے تو وہ تین دن کے لیے لشکریوں پر مباح ہوتا ہے۔ شاید رومن عسکری قانون بھی یہی تھا۔ اس قانون کے بنائے جانے کی علت یہ تھی کہ اس زمانے کی جنگوں میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہوتی تھی جو باقاعدہ تنخواہ دار فوجی نہیں ہوتے تھے۔ باقاعدہ فوجیوں سے امتیاز کی خاطر انھیں مجاہدین کہا جاتا تھا۔ وہ لوٹ مار کے لالچ میں جنگ میں شریک ہوتے تھے اور فتح کے نتیجے میں یہی ان کی یافت ہوتی تھی۔ چنانچہ شہر میں بزور داخلے کے بعد ہر اس چیز کو لوٹ لیا جاتا تھا جسے بیچا جا سکتا ہو۔ اس لوٹ مار میں کتب خانے مستثنیٰ نہیں ہوتے تھے اور وہ بھی غارت گری کا نشانہ بن جاتے تھے۔
لہٰذا قیاس کیا جا سکتا ہے کہ حالت امن میں فاطمیوں کے کتب خانوں کی بربادی کو اصحاب فکر و دانش نے یقیناً اچھی نظر سے نہیں دیکھا ہو گا اور اس پر کچھ نہ کچھ تنقید بھی ہو رہی ہو گی۔ اس تنقید کے جواب میں سلطان صلاح الدین کے کسی درباری، حواری کی طرف سے یہ واقعہ گھڑ کر پھیلا دیا گیا کہ حضرت عمرؓ نے اسکندریہ کے کتب خانے کی بربادی کا حکم دیا تھا۔ اب اگر سلطان نے یہ قدم اٹھایا ہے تو اس کی نظیر بھی موجود ہے۔
یہ کہنا تو مشکل ہے کہ یہ قصہ سلطان کی زندگی میں گھڑا گیا یا اس کی وفات ( 1193 ء) کے بعد ۔ بغدادی سلطان صلاح الدین کی وفات کے نو سال بعد مصر گیا تھا۔ اس کے تذکرے سے یہی تاثر ملتا ہے کہ اس وقت تک یہ اسکندریہ کی مقامی روایت تھی جسے باقی بلاد اسلامیہ میں کوئی شہرت نہیں ملی تھی۔ یہ کہانی وہیں بیان ہو رہی تھی تا آنکہ بغدادی اور القفطی کی بدولت اس کو کتابوں میں جگہ مل گئی۔
اس قیاس کی مزید تائید اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ جن چار افراد نے اس روایت کو تحریر کیا ہے، ان سب کا تعلق کسی نہ کسی اعتبار سے مصر سے تھا اور سبھی کا شمار سلطان کے مداحین میں ہوتا تھا۔ بغدادی اور قفطی کا تعلق سلطان ایوبی کے ساتھ بہت گہرا تھا۔ بغدادی نے صلاح الدین سے ملاقات کی خاطر یروشلم کا سفر کیا تھا۔ قفطی کے باپ کو سلطان نے یروشلم کا قاضی مقرر کیا تھا۔ خود قفطی بھی ایوبی عہد میں قاضی رہا تھا اور ابوالفدا تو تھا ہی ایوبی خاندان سے۔
سند سازی کی اس کوشش میں یہ بات بھی عیاں ہو جاتی ہے کہ کہانی گھڑنے والے کا مقصد حضرت عمرؓ پر کسی نوع کی الزام تراشی نہیں تھا بلکہ اپنے ممدوح کے فعل کا جواز فراہم کرنا تھا کہ اس عمل کی تائید حضرت عمرؓ کے حکم سے ہوتی ہے۔ مزید براں حضرت عمرؓ نے تو خلاف اسلام کتابوں کو جلوا دیا تھا جبکہ ہم نے اہل بدعت کی کتابوں کو جلایا نہیں کیا بلکہ صرف نیلام کیا ہے۔
قاسم عبدو قاسم کا کہنا ہے کہ ”ابن القفطی کا جو بھی محرک ہو یہ تاریخ کو اپنے مقاصد کی خاطر استعمال کرنے کی بہت بھونڈی مثال ہے۔“ روایت سازی کے ان تمام پہلووں کو پیش نظر رکھتے ہوئے القفطی کے آخری جملے پر غور کریں تو اس کا کنایہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ ان الفاظ میں کیا کہنا چاہتا ہے : ”سو جو کچھ ہوا اس کو سنو اور تعجب کرو۔“
اس حکایت سازی کا سب سے دلچسپ پہلو وہ جواب ہے جو حضرت عمرؓ سے منسوب کیا گیا ہے۔ میرے علم کی حد تک سوال کی اس تقریر کو کبھی کسی نے چیلنج نہیں کیا، نہ اس پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔ بٹلر نے بس اتنا لکھا ہے کہ یہ جواب حقیقی مشرقی ذائقے کا حامل ہے۔ بٹلر کو یقیناً غلطی لگی ہے کیونکہ اس کا ذائقہ مشرقی نہیں بلکہ خالص یونانی ہے۔ جواب کو اس صورت میں وہی شخص تحریر کر سکتا تھا جو یونانی منطق پر اچھا عبور رکھتا ہو۔ ابن القفطی کا خود کہنا ہے کہ اس وقت عرب عقلی دلائل سے آشنا نہیں تھے، اس کے باوجود حضرت عمرؓ سے وہ جواب منسوب کر دیا جو منطق میں ڈلیما (Dilemma) کی بہت عمدہ ٹیکسٹ بک مثال ہے۔
شبلی کا اس پر کہنا ہے کہ ”اس واقعہ کو یورپ نے جس بلند آہنگی سے مشہور کیا ہے حقیقت میں وہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ادب اور لٹریچر کا تو کیا ذکر ہے منطق و فلسفہ بھی اس کے اثر سے محروم نہ رہے۔ ایک سال کلکتہ یونیورسٹی کے سوالات امتحان (ایف اے، 1882 ) پرچہ علم منطق میں یہ سوال تھا کہ ذیل کے مغالطہ کو حل کرو۔ یعنی“ کتابیں اگر قرآن کے موافق ہیں تو ان کی کوئی ضرورت نہیں اور مخالف ہیں تو ان کو برباد کر دینا چاہیے۔ (جلد ششم۔ ص 115 )
شبلی نے جس امتحانی پرچے کا ذکر کیا ہے میرا گمان ہے کہ وہ انگریزی زبان میں ہو گا اس لیے کہہ نہیں سکتا کہ شبلی کے لیے ترجمہ کرنے والے نے سوال کو سمجھا تھا یا نہیں۔ یہ بات شبلی کو بھی معلوم تھی کہ ڈلیما منطق میں کوئی مغالطہ نہیں بلکہ بالکل درست استدلال ہوتا ہے۔ اب یا تو ترجمہ کرنے والے کو غلطی لگی ہے یا پھر یہ کہنا پڑے گا کہ پرچہ بنانے والے کو بھی منطق نہیں آتی تھی۔
منطق پر نصابی کتب لکھنے والوں کو مشقوں کے لیے مثالیں درکار ہوتی ہیں۔ کتابوں میں زیادہ تر مثالیں مصنوعی ہوتی ہیں۔ اس بنا پر ہر مصنف روزمرہ زندگی سے منطقی استدلال کی مثالوں کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ خطیبوں، واعظوں اور سیاسی لیڈروں کے بیانات سے اپنے مطلب کی مثالیں چنتا ہے۔ اب حضرت عمرؓ سے منسوب جواب ڈلیما کی اتنی کامل مثال ہے کہ کوئی مصنف اس کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ آج بھی نصابی کتب میں جہاں ڈلیما کی مثالیں دی جاتی ہیں ان میں یہ جواب بھی شامل ہوتا ہے۔ ارونگ کاپی ( Irving Copi) کی منطق پر عالمی سطح پر معروف و مشہور کتاب (Introduction to Logic) کے چھٹے ایڈیشن میں (مطبوعہ سنہ 1982 ء) یہ مثال موجود تھی۔ البتہ اسے حضرت عمر سے منسوب قرار دیا گیا تھا۔ جواب کی ساخت بتا رہی ہے کہ چھ سو سال بعد اسے کسی ایسے شخص نے تحریر کیا ہے جس کو منطق پر اچھی دسترس حاصل تھی۔ یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ اس وقت تک مسلمان یونانی فلسفہ و منطق بہت اچھی طرح پڑھ اور سیکھ چکے تھے۔
مندرجہ بالا معروضات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا کہ اسکندریہ کی لائبریری کے جلائے جانے کی بات حضرت عمرؓ پر ایک بے جا تہمت ہے۔ اس وقت نہ وہاں کوئی لائبریری تھی اور نہ مسلمانوں کا یہ طرز عمل تھا۔ واقعہ گھڑے جانے کا سبب کچھ اور تھا۔
شبلی کے مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ اسکندریہ کی لائبریری کو نصرانیوں نے خود برباد کیا تھا لیکن اس داغ کو مٹانے کی خاطر الزام الٹا مسلمانوں پر عائد کر دیا۔ چنانچہ اس نے اپنے مضمون کا اختتام مومن کے اس مصرع پر کیا تھا:
میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
شبلی کے مابعد جو حقائق سامنے آئے ہیں ان کی بنا پر اہل یورپ پلٹ کر کہہ سکتے ہیں کہ جناب شبلی صاحب! آپ نے واقعہ گھڑنے کا الزام ہمیں دیا تھا لیکن نئے شواہد کی بنا پر قصور آپ کا اپنا نکل آیا ہے، اس لیے اب ہمیں اس الزام سے بری کر دیجیے۔
زمانہ حال کے پڑھے لکھے مسلمانوں سے اب اتنی گزارش ہے کہ وہ ان حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اس الزام کو مسیحیوں کے سر تھوپنا بند کر دیں۔ دستاویزی شہادتوں سے ثابت ہو چکا ہے کہ نہ حضرت عمر نے لائبریری کو برباد کرنے کا حکم دیا اور نہ مسیحیوں نے حضرت فاروق اعظم پر یہ الزام عائد کیا۔
شبلی کو اس وقت بھی تعجب تھا کہ ”بڑے بڑے نامور مصنفین نے اس کی صحت سے انکار کیا“ لیکن ”اب بھی کچھ لوگ اس کی صحت کے قائل ہیں حالانکہ اس کے بطلان کا قطعی فیصلہ ہو جانا چاہیے تھا“ ۔ (جلد ششم۔ 117 ) ۔ مشکل یہی ہے کہ تردیدی دلائل و شواہد سامنے آنے کے باوجود زیادہ تر لوگ اپنی رائے تبدیل کرنا گوارا نہیں کرتے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جو کہانیاں ایک بار مشہور ہو جائیں پھر وہ اتنی آسانی سے مرا نہیں کرتیں۔
پس نوشت:
مسلمانوں نے اسکندریہ کی لائبریری کو برباد تو یقیناً نہیں کیا تھا لیکن اس کے احیا کا سہرا اپنے سر ضرور باندھا ہے۔ مصری حکومت نے یونیسکو کے تعاون سے سنہ 2002 ء میں اسکندریہ میں ایک بہت جدید لائبریری تعمیر کی ہے جو اس کے بانی ڈائرکٹر اسماعیل سراج الدین کے بقول محض لائبریری ہی نہیں، بلکہ یونیورسٹی بھی ہے، سیمینار ہال اور کانفرنس سنٹر بھی ہے، نیز سائنس سنٹر اور آرٹ گیلری بھی ہے۔
اسی لائبریری کے زیر اہتمام سنہ 2004 ء میں ایک سیمینار منعقد ہوا تھا جس میں پیش کیے جانے والے مقالات کو 2008 ء میں کتابی صورت میں شائع کیا گیا تھا۔ اس تحریر میں مصطفی العبادی کی مرتب کردہ اس کتاب سے، بالخصوص اس میں شامل قاسم عبدو قاسم اور برنارڈ لوئس کے مقالات، کافی استفادہ کیا گیا ہے۔
اظہار تشکر: میں کوئی باقاعدہ محقق نہیں ہوں، نہ تاریخ میرا مضمون ہے۔ بس ایک سوال کے جواب کی تلاش میں نکلا تو انٹرنیٹ، گوگل اور ویب سائٹ ”ریختہ“ کی کرم فرمائی اور فیض رسانی کی بدولت مجھ حجرہ پابند، کرسی نشین بندے کی ان بنیادی ماخذوں تک رسائی ممکن ہو گئی جن کی خاطر پتہ نہیں کتنی لائبریریوں کا در جھانکنا پڑتا۔ چنانچہ انٹرنیٹ، گوگل اور ریختہ کا شکریہ ادا کرنا لازم آتا ہے۔ مقالات شبلی، جلد ششم، تاریخ الحکما کے اردو ترجمہ اور متعدد دیگر کتب سے ریختہ کی وساطت سے استفادہ کرنا ممکن ہوا۔ نیز یہ تین کتابیں بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں جن سے میری معلومات میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
A۔ J۔ Butler، The Arab Conquest of Egypt۔ ( 1902 [ 1978 ])
B. Mostafa El-Abbadi. What Happened to the Ancient Library of Alexandria (2008)
Roy MacLeod، Library of Alexandria۔ Centre of Learning in the Ancient World۔ ( 2000 )
(بشکریہ، مجلہ ”سائبان“ ۔ شمارہ 6۔ جنوری۔ مارچ 2024 ء)



