الیکشن 2024۔ ایک تجزیہ
الیکشن ہو گئے اور نتائج بھی بڑی حد تک نشر کیے جا چکے ہیں۔ خوش آئند بات یہ کہ عوام کی ایک بڑی تعداد باہر نکلی اور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ نتائج کچھ بہت زیادہ حیران کن بھی نہیں نکلے۔ سیاسی مبصرین کی پیشگوئی کے عین مطابق کسی بھی جماعت کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی اور ایک بار پھر وہی جوڑ توڑ کی سیاست اور ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے آزاد پنچھیوں کا شکار ہو گا ایک بار پھر نمبر گیم پر نئی حکومت کا دار و مدار ہو گا اور اس کے باوجود بھی پارلیمنٹ معلق ہی بنے گی۔
حالیہ الیکشن اتنے ہی ”شفاف“ رہے جتنے اس خطے میں ہوتے ہیں۔ ایک اچھی بات یہ کہ دوران الیکشن کوئی بڑی بد امنی اور تشدد کے واقعات بھی نہیں ہوئے جو الیکشن کمیشن اور قانون نافذ کرنے والوں کی کامیابی ہے۔ نتائج کے اعلان میں غیر ضروری تاخیر ہوئی جس پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے لیکن زمینی حقائق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ملک میں جاری دہشت گردی۔ کمیونیکیشن کے مسائل کو اس تاخیر کا سبب بتایا گیا جس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔
مجھے یہ کہنے قطعی کوئی تامل نہیں کہ تحریک انصاف کے سپورٹرز پابندیوں اور میڈیا بلیک آؤٹ کے باوجود باہر نکلے اور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جس کی بڑی وجہ پی ٹی آئی میڈیا سیل کی موثر کمپین تھی اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے کمٹڈ ووٹرز نے کھل کر اپنی پارٹی سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ جو قابل تحسین ہے۔
نگراں حکومت کے دور میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف پے در پے آنے والی عدالتی فیصلوں سے بھی پی ٹی آئی کو فائدہ ہوا اور تحریک انصاف کو ہمدردی کا ووٹ بھی پڑا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو دیوار سے لگانے کی حکمت عملی اکثر بیک فائر کر جاتی ہے اور اس بار بھی یہی ہوا۔
موجودہ حالات اس سے بہتر الیکشن میں ممکن نہیں تھے۔ جہاں تک بات ہے کسی ممکنہ دھاندلی کی تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم جس خطے میں بستے ہیں وہاں ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ ہماری روایت یہی ہے کہ ہارنے والا ہار کو قبول نہیں کرتا اور دھاندلی کا رونا رویا جاتا ہے اور جیتنے والا بڑھکیں مارتا ہے۔
حالیہ الیکشن کی شفافیت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ نون لیگ کے بڑے بڑے نام شکست سے دو چار ہوئے۔ رانا ثنا اللہ۔ خرم دستگیر۔ سعد رفیق اور جاوید لطیف نون لیگ کا چہرہ تھے وہ بھی ہار گئے۔ نواز شریف بھی مانسہرہ سے ایک غیر معروف شخص سے ہارے اسی طرح مولانا فضل الرحمن بھی ایک حلقے سے ہارے۔ وہیں متعدد آزاد امیدوار جن کا نام بھی کوئی نہیں جانتا تھا کامیاب ٹھہرے۔
ایک اور اچھی روایت کا آغاز ہوا کہ معتبر سیاسی شخصیات جن میں قمر زمان کائرہ، خواجہ سعد رفیق، مصطفی نواز کھوکھر، بلور، امیر حیدر خان ہوتی اور سردار بابک جیسے لوگ جنہوں نے کھلے دل سے اپنی شکست تسلیم کی اور جیتنے والے کو مبارکباد دی۔ جمہوری رویے یہی ہوتے ہیں اور اسی طرح جمہوریت کو فروغ ملتا ہے اگر الیکشن وقت پر ہوتے رہیں اور اس کے برے بھلے نتائج تسلیم کئیے جائیں اور بہتری کی کوشش جاری رکھیں تو وقت کے ساتھ خود ہی بہتری آئے گی اور نا پسندیدہ عناصر خود بخود چھٹتے جائیں گے۔
یورپ اور امریکہ کی تاریخ پڑھیں پگان ایرا سے نجات اور کلیسا سے جان چھڑانے میں ان کی کوشش اور قربانیاں آخر رنگ لائیں اور اس میں وہاں کے فلاسفرز کا بڑا حصہ ہے جنہوں نے ذہنوں کو روشن کیا اور علم و ادب کے ذریعے عوام کو نئی سوچ دی تب کہیں جاکر وہ آج اس مقام پر پہنچے۔
تحریک انصاف کے سپورٹرز کو سمجھنا چاہیے کہ الیکشن میں صرف پی ٹی آئی ہی نہیں۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی۔ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو بھی ووٹ ملے ہیں۔ ”میٹھا میٹھا ہپ ہپ کوڑا کوڑا تھو تھو۔“ کی پالیسی کو چھوڑیں اور دوسرے کے مینڈیٹ کا بھی احترام کریں۔
جمہوریت کا مطلب یہی ہے کہ مختلف آرا ہوتی ہیں اور ان کا احترام کیا جانا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے پی ٹی آئی والے اس صفت سے محروم ہیں۔ مکمل فتح یا مکمل شکست کبھی نہیں ملتی۔ ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہو گا۔
اتنی سیٹیں جیت کر بھی ان لوگوں کا رونا ختم نہیں ہوتا۔ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ سو فیصد ووٹ آپ کے لیڈر کو پڑے۔ ایسا نہیں ہوتا۔
2018 میں بھی آر ٹی ایس سسٹم بیٹھ گیا۔ اور الیکشن کے تین دن بعد تک نتائج آتے رہے۔ اس قسم کی بد انتظامی ہوتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے رزلٹ پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں اسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی نہ بھولیں کہ ہم تیسری دنیا میں رہتے ہیں یہاں صرف سیاہ اور سفید نہیں ایک گرے ایریا بھی ہوتا ہے۔
الیکشن کے بعد آزاد امیدواروں کا نئی حکومت بنانے میں اہم رول ہو گا۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی ان کو لبھانے کی پوری کوشش کریں گی یا پھر کوئی نادیدہ قوت ان کا وزن کسی بھی پلڑے میں ڈال دے اور اس کی حکومت بن جائے۔
نئی حکومت کے لیے بھی حکومت چلانا آسان نہ ہو گا۔ ملک کے معاشی اور دیگر مسائل اس قدر ہیں کہ لوہے کے چنے چبانے پڑیں گے اور کچھ ڈلیور کرنا آسان نہ ہو گا۔
ضروری ہے کہ ساری سیاسی جماعتیں مل کر ملک کو بہتری کی طرف لے جائیں۔ مہنگائی اور غربت کی ماری عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے مکالمہ شروع کریں۔ بڑے دل کا مظاہرے کریں۔ مخالفوں کو چور چور کہنے اور الزام تراشی کی سیاست ختم ہونی چاہیے۔ خانصاحب کو اپنے رویہ میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ایک زمانہ تھا وہ کنٹینر پر چڑھے ایک بال سے تین تین وکٹیں گرانے کی خبر دیا کرتے تھے اب ان کی وکٹیں گر رہی ہیں اور ان کے آزاد ممبران جو دراصل بھاڑے کے ٹٹو تھے۔ جس طرح لائے گئے تھے اسی طرح جا رہے ہیں۔
یاد رکھیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ کل کے دشمن آج کے دوست اور آج کے دوست کل دشمن بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ صرف مفادات اور ٹائمنگ کا کھیل ہوتا ہے۔
اگلے چند روز میں نئی حکومت کا اعلان ہو جائے گا دعا ہے کی نئی حکومت وہ کسی بھی جماعت کی ہو ملک میں ترقی و استحکام لائے اور عوام کو کسی طرح راحت ملے۔

