جنریشن زیڈ اور الیکشن 2024
پاکستان میں 2001 سے ڈیجیٹل میڈیا ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے عوامی محرومی کے پکتے ہوئے لاوے کو پیرایہ اظہار دے دیا ہے۔ مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ متبادل میڈیا یا سوشل میڈیا طاقت کی نئی جہت کے طور پر اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ حق و باطل یا خیر و شر کے آئیڈیل پیمانے سے قطع نظر جدید میڈیا کے رجحانات کو انتخابی عمل یا رائے سازی کے ضمن میں لازمی مضمون کے طور پر سامنے رکھنا ہو گا۔ یہ سمجھنا ہو گا کہ پاپولزم کی ترغیب ان مایوس طبقات کے لیے بے حد پرکشش ہے جو جنریشن *وائی* اور *زیڈ* کہلاتے ہیں۔
ان میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اور اربن علاقوں کی مڈل اور اپر کلاس کے افراد شامل کو شامل کریں تو عوام کے یہ طبقات ملکی و بین الاقوامی حالات حاضرہ کو وائرل اور ٹرینڈنگ کی زبانی سمجھتے ہیں۔ یہ گوئبلز سے نا واقفیت کے باوجود ہٹلر کی صد فیصد حکمت عملی جاننے کا دعوی کر سکتے ہیں۔ ابلاغی بہاؤ کی لپیٹ میں مس انفارمیشن و ڈس انفارمیشن کی الجھن میں پڑے بغیر پروپیگنڈے کو حق پرستی کا استعارہ سمجھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
رت جگے کے شوقین یہ متحرک وجود اگر اپنی پر آ جائیں تو مخالفین کی کردار کشی، ان کی شکل و صورت، جسامت و انداز گفتگو پر پھبتی کسنے میں امان اللہ اور عمر شریف (مرحوم ) کو بھی شرمائیں۔ ان کے لکھے پڑھے یا پڑھ لکھ جانے والوں کی چھب ہی نرالی ہے۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ وہ کھمبے پر چڑھ کر پوسٹر ٹانگ سکتے ہیں، گلی کے سرے پر بینر لٹکا سکتے ہیں، وال چاکنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں، تمبو تان کر بریانی کی تھیلی پر راضی ہوسکتے ہیں تو آپ انہیں ایکس جنریشن سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔ اس کے برخلاف اگر آپ انہیں سیاسی عمل میں شمولیت کا احساس دلائیں یا ان کی عزت نفس کو اہمیت دے دیں تو یہ بلامعاوضہ، سر دھڑ کی بازی لگا کر ٹویٹر/ سائبر اسپیس، ورچوئل میٹنگز، واٹس ایپ گروپس اور سوشل نیٹ ورکنگ کی مدد سے الیکشن ڈے پر زیر زمین چھپے ہوئے امیدواروں کے کھیرے، مولی، گاجر اور بینگن سے مخالف امیدوار کو فارغ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عدم مساوات کے اس معاشرے نے ان کے اندر اتنی تلخی بھر دی ہے کہ وہ بیک جنبش قلم تمام روایتی ٹیبوز کی مخالفت کو حق گوئی کا معیار جبکہ موروثی و خاندانی سیاست کو باطل پرستی گردانتے ہیں۔ آپ لاکھ بند باندھیں، ڈراتے دھمکاتے رہیں، موبائل بند کریں یا انٹرنیٹ پر بندش لگائیں، ٹیکنالوجی کے رسیا پراکسی اور فوٹو شاپ کی شرارتوں سے باز نہیں آنے والے۔
یہ تعداد میں دو کروڑ پچیس لاکھ ہیں جن کا پروسیسر برق رفتاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتا چاہے گہرائی لیے ہو یا نہ ہو۔ ان کا فوکس اسکرین ٹائم 53 سیکنڈ سے بھی کم ہے۔ یہ روزانہ اوسطا 8گھنٹے اسمارٹ فون اسکرین کو دیکھتے گزارتے ہیں۔ انہیں انور مقصود کے فقرے پسند ہیں، جون ایلیا، تہذیب حافی، علی زریون کی شاعری پر سر دھنتے ہیں، میمز بنا کر ان سے حظ اٹھاتے ہیں اور دنیا کے ہر موضوع پر اپنی رائے کے بے لاگ اظہار کو پیدائشی حق تصور کرتے ہیں۔
انہیں جی ڈی پی، جی این پی، ملکی قرضے اور معیشت کے اعداد و شمار، انفرا اسٹرکچر کی اہمیت، سیکیورٹی تھریٹ کے خدشات، روزگار کی قلت، آسمان کو چھوتی مہنگائی، عدم تحفظ کی وجوہات جاننے سے میں دلچسپی نہیں بلکہ اس کے برعکس انہیں وہ سپر ہیرو چاہیے جو نہ کٹر مولوی ہو نہ پکا ملحد۔ اسٹیٹس کوو کو قوتوں کو ڈنکے کی چوٹ پر للکارتا ہو، جدید دنیا میں اپنا مقام رکھتا ہو، روایتی جامد تصورات کو پوری شدت کے ساتھ رد کرے اور سب سے بڑھ کر ان کے خوابوں میں رنگ بھرے۔
یہ کئی ملین نئے ووٹرز جو کل ووٹرز کا پندرہ فیصد ہیں دل سے پاکستانی ہیں۔ ان کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے سلیکٹو پراسس و فریمنگ جیسی تھیوری کا مطالعہ کیجیئے۔ ساتھ ہی یہ بھی مان لیجیے کہ لمحہ موجود میں نیو میڈیا کا جن اخبارات کے ذریعے پبلسٹی، ٹی وی پر پیڈ کمپین، اور روایتی انداز کے رائے ساز کی بوتل سے کب کا باہر آ چکا ہے۔
کون ہے جو عوام کے اس طبقے کی آواز بنے؟ اسے سیاسی عمل میں شمولیت کا احساس دلائے؟ ان نئے ووٹرز اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاپولر بیانیے اور حقیقی بیانیے کا فرق سمجھائے؟ اختلاف رائے اور مخالفت کی گتھیاں سلجھائے؟ ریاستی اداروں اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں امید دلائے کہ ان کی رائے لائق احترام اور مینڈیٹ محفوظ ہے۔


