لبرل ڈیموکریسی، الیکشن اور آزاد منڈی
بین الاقوامی رسالہ فارن پالیسی کی ایک رپورٹ کے مطابق آئندہ سال یعنی 2024 میں تقریباً پچاس ممالک میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ شاید کچھ ممالک میں ہوچکے ہیں اور کچھ میں ہونے والے ہیں۔ حال ہی میں بنگلہ دیش میں انتخابات ہوئے اور اس کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی پارٹی جیت گئی۔ حالانکہ اپوزیشن کو دبانے اور پسپا کرنے والی وڈیوز اور رپورٹس بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی تاہم یہ رپورٹس مصدقہ ہے یا نہیں یہ واضح کرنا مشکل ہے۔ اس سارے پس منظر میں ایک بات بالکل واضح ہے کہ بنگلہ دیش میں موجودہ حکومت ایک جابر حکومت ہے جو صرف اور صرف طاقت کے بلبوتے پر قائم ہے۔
دنیا میں مختلف ملکوں کی حکومتوں کا بغور جائزہ لینے سے یہ تو کم از کم واضح ہو جاتا ہے کہ جو خود کو دنیا کی بہترین جمہوریت قرار دیتے ہیں وہاں پر بھی حکومتیں عوامی منشا کے مطابق نہیں ہوتی بلکہ وہاں بھی حکومتیں پاپولزمکے تحت بنتی ہے اور پاپولزم کو میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے کے طور پر پھیلایا جاتا ہے۔ پروپیگنڈے کے نتیجے میں جہاں ایک طرف متوسط طبقے کی ذہنیت کو بدل لیتے ہیں وہی نچلے طبقہ کے اوپر کنٹرول حاصل کر کے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایک وقت دنیا میں سرمایہ دار اور جاگیردار فاشزم کے ذریعے حکومت کرتے تھے اس کے لیے میڈیا کے اوپر کنٹرول ضروری تھا تاکہ ایک ایسی عوامی رائے کو تشکیل دیا جائے جو سب کو من و عن قبول ہو اور اس میں سوال کرنے کی گنجائش نہ ہو۔ ان حالات میں سوال کرنے والوں کو جو نتائج بھگتنا پڑے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ عصر حاضر میں یہ کام پاپولزم کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔
لبرل ڈیموکریسی کا بنیادی وصف یہ ہے کہ اس میں آزاد منڈی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اس میں حکومتوں کا عمل دخل بہت کم ہوتا ہے۔ منڈی میں لوگوں کو ہی اختیارات دیے جاتے ہیں کہ وہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے مطابق اپنی پالیسی بنائے اور ا سے دیگر تاجروں کے اوپر لاگو کریں۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ جو جتنا زیادہ چالاک ہو گا وہ مارکیٹ میں زیادہ اہمیت اختیار کر کے مزید طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ طاقت کے حصول کی اس لڑائی میں اکثر جاگیردار، سرمایہ دار آگے ہوتے ہیں جو اختیارات لے کر اپنی مرضی کے فیصلوں کو دیگر مزدوروں پر لاگو کرتے ہیں اور طاقت کی حصول کا سب سے آسان طریقہ مزدوروں کا استحصال ہے۔
کسی بھی مارکیٹ میں تمام اچھے و برے اخلاق و تمیز کے دائروں کو تراشنا بنیادی طور پر ان لوگوں کے اختیار میں ہوتا ہے جن کا ذرائع پیداوار پر کنٹرول ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں اکثر وہی حکمران کامیاب ہوئیں ہیں جنہوں نے ذرائع پیداوار پر کنٹرول حاصل کیا ہے اور اس میں سب سے سستی چیز عوام کا خون ہے جو یہ حکمران ہنوذ پیے جا رہے ہیں۔ یہ مقابلہ بازی کا وہ بھاگ دوڑ ہے جس میں آپ نے صرف اس لیے بھاگنا ہے تاکہ آپ اگلے دس سال کی زندگی کے لیے آمدن محفوظ کرسکیں ورنہ تو زندگی آپ کے لیے عذاب بن جائے گی۔ فرانسز فوکو یاما لبرل ڈیموکریسی کو بہترین بین الاقوامی نظام تصور کرتا ہے مگر جتنے لوگ اس کی خاطر قربان ہوئیں ہیں اور ہو رہے ہیں اصل قیمت اس طرز نظام کے لیے انہی لوگوں نے ادا کیا لیکن اب اس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح آزاد اور منصفانہ انتخابات بھی لبرل ڈیموکریسی کی ایک اہم خاصیت ہے مگر آزاد کون ہوتے ہیں اور منتخب کرنے والے کون ہوتے ہیں اصل سوال تو یہ ہے۔ گزشتہ ہفتہ کو پاکستان میں بھی جنرل الیکشن منعقد ہوئے۔ یہ الیکشن کچھ اس طرح سے تھا کہ جس میں جس امیدوار کے جتنی بھی ووٹ تھے وہ کسی کو معلوم نہیں تھا۔ البتہ کسی ایک امیدوار کو کسی دوسرے امیدوار سے ہرانے کے لیے آزاد منڈی کی طرح بولیاں لگ گئیں اور اس میں جس شخص کے پاس بھی بولی کی واجب رقم تھی وہ جتنے والوں میں سے تھا اور جو اس قیمت کو ادا کرنے سے قاصر تھے وہ ہار گئے۔ اس بھاگ دوڑ میں عوامی رائے کی نہ تو کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی اوقات اور نہ ہی کوئی پوچھنے والا ہے کہ اقتدار کی اس شغل میں عوام کا کیا بنے گا اور یہ سوال بذات خود موجودہ سیٹ اپ میں نہ اہمیت رکھتا ہے اور نہ اہمیت دینے کا اہل سمجھا جاتا ہے یہی وہ ثمرات ہیں جو ہمیں لبرل ڈیموکریسی کی وراثت میں ملی ہے۔
بقول اجے سجاب کہ
جمہوریت کی لاش پہ طاقت ہے خندہ زن
اس برہنہ نظام میں ہر آدمی کی خیر

