ماورائے عدالت قتل
٫
پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ انکاؤنٹر سپیشلسٹ پولیس افسران میں، عابد باکسر، چوہدری اسلم اور راؤ انوار کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ عابد باکسر تو نوے کی دہائی میں لاہور شہر میں دہشت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب شہر میں گوگی بٹ، طیفی بٹ، ٹیپو ٹرکاں والا، عاطف چوہدری اور ہمایوں گجر جیسے گینگسٹر سرگرم تھے۔ پولیس نے اس دوران خصوصی یونٹ قائم کیا اور درجنوں جرائم پیشہ ور افراد کو پولیس مقابلوں میں پار کیا تو اس وقت عابد باکسر کا نام محکمے کے اندر اور باہر انکاؤنٹر سپیشلسٹ کے طور پر پہچان بن چکا تھا۔ پنجاب پولیس کی تاریخ اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ پولیس مقابلے 1997 اور 1999 کے درمیان ہوئے جن کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سے 70 مقابلے ایسے ہیں جو عابد باکسر سے منسوب کیے جاتے ہیں۔
راؤ انوار احمد خاں سندھ پولیس کا 19 ویں گریڈ کا افسر تھا جو بطور ایس پی ملیر تعینات رہا اس پر تقریباً ساڑھے چار سو بے گناہ شہریوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں مارنے کا الزام ہے۔ ایک پولیس مقابلہ پر عدالت عظمیٰ پاکستان کے از خود نوٹس کے نتیجے میں بننے والی کمیٹی کی طرف سے قصور وار ٹھہرانے کے بعد اسے سندھ حکومت کی طرف سے اس عہدے سے ہٹایا گیا۔ بے نظیر بھٹّو کے دوسرے دور حکومت میں ریاست نے کراچی کی بگڑتی ہوئی اس صورتحال پر قابو پانے کا فیصلہ کرتے ہوئے جون 1992 میں سندھ میں پہلے ہی سے جاری آپریشن کلین آپ کا دوسرا مرحلہ ’کراچی آپریشن‘ کے عنوان سے شروع کیا گیا۔
اس آپریشن میں اگرچہ پولیس افسران نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں مگر خوف اور طاقت کا جواب خوف اور طاقت سے ہی دینے کے اس فیصلے سے پولیس اور سیاسی طور پر متحرک جرائم پیشہ اور دہشت گرد عناصر کے درمیان ایک ایسی جنگ کا آغاز ہوا جو اگلے کئی برس تک جاری رہی۔ جس نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے کی بجائے مزید سنگینی سے دوچار کر دیا۔ یہ ایک ایسی کامیابی کی ہڈی تھی جو پولیس اور ریاست سے نہ نگلی جا رہی تھی اور نہ ہی اگلی۔ جبکہ اس دوران اگر انتہائی مشکوک اور متنازعہ ’پولیس مقابلوں‘ کی خبریں اخبارات کی زینت بنی تو وہیں ان مقابلوں میں شریک پولیس افسران و اہلکاروں کی لگاتار ہلاکتوں کے ایسے سلسلے کا بھی آغاز ہوا جس نے کراچی کو دنیا کے چند خطرناک ترین شہروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آپریشن کے دوران کراچی کے ضلع وسطی کو شہر کا سب سے زیادہ حساس علاقہ قرار دیا اور اسی ضلع میں چند سب سے اہم تھانوں میں سے ایک تھانہ گلبہار سمجھا جاتا تھا۔ اسی گلبہار تھانے میں چوہدری اسلم بطور ایس ایچ او تعیناتی ہوئے اور تقریباً چار برس جاری رہنے والے کراچی آپریشن کے دوران سینکڑوں پولیس مقابلوں میں سو سے زائد مطلوب ملزمان کو ہلاک یا گرفتار کر کے جیل یا قبر تک پہنچانے والے ایس ایچ او تھانہ گلبہار چوہدری اسلم جلد ہی ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ سمجھے جانے لگے تھے۔ اُن کی قیادت میں ہونے والے آپریشن کلین اپ کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے سینکڑوں کارکنوں (یا مقدمات میں مطلوب ملزمان) کی ایسی ہلاکتیں ہوئیں جنھیں حکام ’پولیس مقابلہ‘ قرار دیتے رہے اور سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی ’ماورائے عدالت ہلاکتیں‘ کہتی رہیں۔ بعض الزامات کے مطابق چوہدری اسلم کے مقابلے میں دیگر بعض پولیس افسران نے اپنے عہدے کا انتہائی ناجائز استعمال کیا اور ریاستی ادارے کو پیسہ بنانے والی مشین بناتے ہوئے پیسے لے کر لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔
جب کہ اس حوالے سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر کسی ریاست میں قتل کی سپاری اس ریاست کے محافظوں کو ملنے لگے تو ریاست کے قوانین اور انصاف کے نظام پر سوال اٹھتے ہیں۔ غیر محفوظ ریاستیں معاشی طور پر بھی ناکام ہو جاتی ہیں کیونکہ سرمایہ دار ہی نہیں اس ریاست کا نوجوان طبقہ بھی وہاں سے ہجرت کر جاتا ہے۔ پاکستان بھی کچھ ایسے ہی حالات کا شکار ہے۔ پاکستانی سرمایہ کار اور پڑھے لکھے نوجوان تیزی سے یہ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ماورائے عدالت قتل جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث ریاستی ملازمین کو کنٹرول نہ کیا تو ملک کے حالات مزید بدتر اور خوفناک ہو جائیں گے۔ پولیس کو ایسے ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں سے روکنے کے لیے عدلیہ اور حکومت دونوں کو اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔ پاکستان کو پولیس اسٹیٹ بنانے کی بجائے جمہوری ریاست بنایا ہو گا اور انکاؤنٹر ٹائپ سرگرمیوں پر قابو پانا ہو گا۔ مجرم نہیں جرم اور جرم کی طرف جانے والے راستوں کی نگرانی انتہائی ضروری ہے۔


