عصر میں روزہ نہیں توڑتے


جہاں کوئی قانون نہ ہو اسے جنگل کہتے ہیں۔ جنگل میں طاقت کا قانون ہوتا ہے۔ شہروں میں اسے عرف عام میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے نام سے پہچانتے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ، سینئر بیوروکریسی، بزنس ٹائیکون، جاگیردار طبقہ، میڈیا مالکان اور سیاسی اشرافیہ اس طاقت کی مختلف شکلیں ہیں۔ مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے ان کا گٹھ جوڑ اسٹیٹس کو کہلاتا ہے۔

اس طرح کے معاشرے میں کسی صحافی و میڈیا پرسن یا مڈل کلاس سیاسی جماعت سے حق پرستی، پروفیشنلزم یا اخلاقیات کے اعلی اصولوں کی توقع کی جا سکتی ہے؟  جرمن پولیٹیکل سائنٹسٹ الزبتھ نوئیل نیومین اس کی وضاحت کرتی ہیں۔

اگر کوئی فرد، پروفیشنل یا جماعت طاقت ور بیانیے یا نظریے کے مخالف چلے گا تو اسے مراعات و سہولیات سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ آئسولیشن (سماجی تنہائی) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ گھر بار، خاندان، کیریر، اقتدار، اختیار سب قربان ہو جائے۔ لہذا اسپائرل آف سائیلنس تھیوری کے تحت ایسا فرد یا گروہ یہ ادراک رکھتے ہوئے بھی کہ اکثریتی رائے درست نہیں، خاموش رہنے کو ترجیح دے گا۔ ”ہمیں رد کر دیا جائے کا خوف“ اسے سر جھکانے پر مجبور کردے گا۔

ایسی سوسائٹی میں عوام سے یہ توقع کہ ان کا طرز فکر، عادات و اطوار، عمل و رد عمل معتدل یا آئیڈیل رہ جائیں، بعید از قیاس ہے۔ صبح سے شام تک زندگی کی گاڑی گھسیٹنے کے لیے قدم قدم پر سمجھوتے کرنے والے عوام اپنی بقاء یا وقتی ترغیب سے متاثر ہو کر چاہتے نہ چاہتے ہوئے خود غرض یا موقع پرست بن جاتے ہیں۔ اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ سڑک پر ٹریفک جام ہو جائے تو ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اپنا رستہ صاف ہو جائے چاہے رانگ سائڈ جانا پڑے، فٹ ہاتھ پھلانگنی پڑے، کسی کی گاڑی دبانا پڑے وغیرہ وغیرہ۔

آپ بھی کبھی نہ کبھی اس تجربے سے ضرور گزرے ہوں گے۔ ذرا یادداشت پر زور دیں تو بجائے انتظار کرنے کے جو پہلا شخص غلط راستہ اختیار کرتا ہے، عوام بلا ہچکچاہٹ اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں بھلے سے کچھ دور جاکر پہلے سے زیادہ بری صورتحال میں ہی کیوں نہ گرفتار ہوجائیں۔ اس صورتحال میں جو لائن میں کھڑے رہ کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ باقیوں کی نظر میں احمق قرار پاتے ہیں۔ اور تو اور ان کو بہ زور طاقت یہ بھی باور کرایا جاتا ہے کہ ٹریفک میں خلل ڈالنے کا سبب ان کی بے موقع کی اصول پسندی ہے۔ مزید برآں ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے انہیں یہ صلاح دی جاتی ہے کہ قانون پسند شہری ہونے سے بڑھ کر ٹریفک کی روانی اور گاڑیوں کا نکلنا اہم ہے لہذا سب کا نہیں صرف اپنا سوچو اور *ساڈا کم پورا بھاڑ میں جائے نورا* کے مصداق جہاں موقع ملے گاڑی گھساؤ اور نکل جاؤ۔

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جو بیچارے اس رش میں پھنسے رہ جاتے ہیں ان پر کیا بیتتی ہوگی؟ یہ بے بس افراد حسرت و یاس کی تصویر بنے اصول توڑنے والوں کو جاتا دیکھ رہے ہوتے ہیں، دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتے ہیں، جلتے کڑھتے ہیں مگر خوب سمجھ لیتے ہیں کہ آئندہ ایسی صورتحال درپیش ہو تو راستہ کیسے نکالنا ہے۔ اسی بھیڑ میں مٹھی بھر تعداد ان *اڑیل سر پھرے * لوگوں کی ہوتی ہے جو کسی صورت رائٹ لیفٹ نہیں ہوتے اور غلط سمت جانے کے بجائے اپنی لائن میں کھڑے رہنے کی اذیت بصد شوق گوارا کرتے ہیں۔ انہیں نہ صرف اپنے فیصلے کی پختگی اور سمت کی درستگی کا کامل یقین ہوتا ہے بلکہ اس راہ میں آنے والی تکلیف ان کے حوصلوں کو مہمیز کرتی ہے۔

اس پورے منظر نامے کا بنظر غایت جائزہ لیا جائے تو افراتفری و انتشار کی اس صورتحال کی اصل ذمے دار تو ٹریفک پولیس و انتظامیہ ہوتی ہے مگر ان کے محاسبے کے بجائے لوگوں کی اکثریت ایک دوسرے کی حق تلفی کو خاطر میں لائے بغیر ہر صورت اس ٹریفک جام سے نکلنا چاہتی ہے۔

ہماری سیاست اور عام آدمی انہی تضادات سے دوچار ہے۔ عدم تحفظ اور عدم برابری کے ایسے معاشرے میں طاقت کو بالادست پا کر بعض کا احساس محرومی ابن الوقتی کا لگڑ بھگا بن کر پکی پکائی کھیر پر ہاتھ صاف کرنے کے مواقع ڈھونڈتا ہے یا پھر غصے، انتقام اور شدت کا آتش فشاں کر اندر ہی اندر ابلتا رہتا ہے۔ اس آتش فشاں کو جو لیڈر *ٹریگر* کر سکنے میں کامیاب ہو جائے عوام کا لاوا اسی سمت پھوٹ نکلتا ہے۔ بٹ کر رہے گا ہندوستان، لے کر رہیں گے پاکستان، روٹی کپڑا مکان، قرض اتارو ملک سنوارو، حقیقی آزادی، ووٹ کو عزت دو کی مثالیں اس عوامی نفسیات کو سمجھنے کے لیے ٹیسٹ کیس ہیں۔ آخر ایسی کون سی وجوہات ہیں کہ تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کی عالمی درجہ بندی میں تنزلی کے باوجود زبان خلق کو بیانیے کی چاٹ لگانے والے لیڈر اور ان کے خاندان عوام کے محبوب قرار پائے۔

ہماری تاریخ میں ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ہے کہ کوئی سسٹم کو سینگ دے رہا ہے۔ ماضی سے لے کر عصر حاضر تک جابجا ایسے کردار گزرے جنہوں نے طاقت کو چیلنج کیا اور بدلے میں پھانسی، گولی، اقتدار سے معزولی، جلاوطنی اور قید و بند جیسی بھاری قیمت ادا کی۔ مگر شاید وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے گھومتا ہے۔ عوامی شعور کے ارتقاء کی انگیخت اپنے ڈھب پر ہوا کرتی ہے۔ لکڑیاں کسی نے چنی ہوتی ہیں، آگ کوئی دہکاتا ہے، دیگ چڑھانا کسی کی حصے میں آتا ہے جبکہ ڈھکن ہٹانا کسی اور کا نصیب بنتا ہے۔

مصلحت کوش صاحبان کے واسطے تاریخ نے ہر بار ایک ہی سبق دہرایا ہے،
”عصر میں روزہ توڑنے والوں کو تاعمر قضا و کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے
نوشتہ دیوار ملاحظہ ہو:
آج کا *اسیر* کل کے *قیدی* پر بازی لے گیا ”

Facebook Comments HS