انتخابات کے بعد! اے گرفتارِ ابوبکر و علی ہوشیار باش
بقا اور ارتقا کے لئے مزاحمت ضروری ہے۔ مزاحمت کے لئے امتحان، دشمن اور مشکلات چاہیے۔ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ ہمیشہ دشمن، امتحانات اور مشکلات سے برسر پیکار رہے۔ کسی بھی صورت میں مزاحمت سے ہاتھ نہ اٹھائے۔ مزاحمت سے ہاتھ اٹھانا یعنی زوال اور شکست کے لئے راضی ہونا۔ وہ دشمن چاہے داخلی ہو یا خارجی، دشمن، دشمن ہی ہوتا ہے۔
دشمن کو کبھی اپنا ولی، حاکم اور آقا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ عقل انسانی کے منافی ہے۔ پاکستانی جب مسلمان ہیں اور ایک قوم ہیں تو پھر وہ کیسے اپنے دشمنوں کو اپنا آقا مان سکتے ہیں؟
مسلمانوں نے آخری چند صدیوں میں جہاد و مزاحمت سے ہاتھ اٹھایا ہے تو تمدن اسلامی پر تمدن اٹلانٹک (غرب) نے غلبہ حاصل کر لیا۔ اس موضوع پر ”مقاومت اور مقاومتی بلاک“ نامی کالم میں ہم نے تفصیلی بحث کی ہے۔
اس کالم میں ہم نے یہ بھی لکھا تھا کہ امریکہ رو بہ زوال ہے، وہ مشرق وسطیٰ میں اپنی طاقت کھو چکا ہے۔ وہ اب منطقے میں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس لیے رجیم چینج کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسی صورت حال میں پالیسی ساز شخصیات، ادارے اور عوام کو چاہیے کہ اسی کا ساتھ دیں، جو امریکہ مخالف پالیسی رکھتا ہو اور سوچنا بھی چاہیے کہ تمدن اسلامی کے بجائے تمدن غرب کی بقا کے لئے کیوں جنگ لڑ رہے ہیں۔ ؟ لیکن یہ یاد رکھئے کہ جس نے بھی امریکہ کی خدمت کی ہے اور اس کی ہدایت پر چل پڑا، اس نے اپنے لئے تباہی و بربادی کا سامان تیار کر دیا۔
شکر الحمدللہ پاکستانی عوام نے ملی بیداری کا اظہار کیا۔ سیاسی فہم و فراست اور باشعور ہونے کا ثبوت دیا۔ انتخابات میں شرکت کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ اپنا والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔ مسلک و مذہب سے بڑھ کر انسانی اقدار کی ترویج کی جو کہ اسلام کا منشور ہے۔ عوام نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، آزاد خارجہ پالیسی کو اہمیت دی۔ داخلی خودمختاری اور ملکی عزت کی خاطر عوام نے اپنی جانیں بھی قربان کیں۔
وطن عزیز پاکستان اور آئین پاکستان کو عزت دی۔ آپس میں اور مسلم ممالک سے برادرانہ تعلقات کو بڑھانے کو عوام نے دل و جان جان سے سراہا۔ باغیرت، خوددار لیڈرز اور باوقار ریاست کی خاطر لوگوں نے انتخابات میں شرکت کر کے ملک عزیز پاکستان کے داخلی اور خارجی دشمن کے منہ پر زوردار طمانچہ رسید کیا۔
اب عوام نے اپنی ذمہ داری بہترین طریقے سے انجام دی ہے۔ یہاں سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ ”عوام میں“ سیاسی شعور ”کی کمی نہیں بلکہ“ شعور یافتہ خواص ”میں“ سیاسی فہم ”کی کمی ہے۔
لیکن یار رہے! دشمن نے بھی اپنی شکست کا بدلہ تو لینا ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دشمن مسلمانوں کے باہمی اتحاد سے انتہائی خوفزدہ ہے۔ یہ اتحاد ان کی آنکھوں کے لئے ایسے خاردار کانٹوں کی طرح ہے جن کی وجہ سے ان کی آنکھیں ہمیشہ دکھتی رہتی ہیں۔ اس کو وہ ایک لمحے کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس مرتبہ بھی ہمارا دشمن اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے ہمیشہ کی طرح مسلکی و مذہبی کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیونکہ یہ ان کا سب سے بڑا اور آخری ہتھیار ہے۔ مذہبی و مسلکی منافرت پھیلاؤ اور حکومت کرو، تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ یہ ان کا پرانا شیوہ ہے اور بدقسمتی سے ہم بھی اسی میں پھنستے ہیں۔
تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں
جب بھی ہماری قوم و ملت اتحاد و اتفاق کے راستے پر چلنے لگتی ہے تو مختلف طریقوں سے اس اتحاد کو پاش پاش کرنے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔
میری اپنی قوم سے گزارش ہے کہ جو بھی مسلکی و مذہبی منافرت کی بات کرے یا ایسا کچھ لکھے، آپ یقین کریں کہ وہ اس وطن عزیز کی داخلی خودمختاری اور خارجہ پالیسی، اور ملک و ملت اور اسلام کا دشمن ہے۔ چاہے وہ درجہ اول کا کوئی صحافی ہو یا کوئی مشہور و معروف مولوی یا سیاستدان۔ یہ سب ایک جیسے ہیں اور سب دشمن کے آلہ کار ہیں۔ یہ کبھی بھی پاکستان کو ترقی کی طرف بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتا اور یہی لوگ اس ملک کی آزادی، استحکام اور سربلندی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
انہیں پہچانیے اور اپنی صفوں سے باہر نکالیے۔ اس ملک میں خدا کے بعد سب سے بڑی طاقت عوام ہیں۔ یہ لوگ عوام کے ووٹ اور مینڈیٹ کے احترام کے قائل نہیں ہیں۔



ماشاءاللہ بہت زبردست شعور افروز تحریر ہے