نجات
ان کی زندگی میں اب رنگ نہیں بچے تھے بس گزر رہی تھی۔ اکلوتے بیٹے نے پردیس بسا لیا تھا بس کچھ ڈالر بھیج کر اپنی ذمہ داری سے بری الزمہ ہو جاتا۔
میاں بیوی اپنے شوق سے بنائے گھر میں اکیلے رہ گئے تھے چھوٹا سا لان بھی بنا دیکھ ریکھ کے اجڑ چکا تھا، زندگی کی گاڑی خاموشی سے چل رہی تھی، بیوی کو بڑھاپے اور جوڑوں کے درد نے کہیں آنے جانے کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا، دوائیں کھاتی پر کچھ اثر نا ہوتا۔ اس کی دیکھ بھال اور گھر کے کام کے لیے ایک عورت بشیراں رکھی ہوئی تھی جو صبح سویرے آتی اور رات آٹھ بجے جاتی۔ گھر کے سارے کاموں کے علاوہ اس کی دیکھ بھال بھی کرتی، دوا وقت پر دیتی، اس کی صفائی ستھرائی کا خیال کرتی کبھی ہاتھ پاؤں دبا رہی ہوتی کبھی بال بنا دیتی وہ اللہ کا شکر ادا کرتی کیونکہ اللہ کے بعد بشیراں کا سہارا تھا۔
شوہر خاصا صحت مند تھا ہر وقت ٹی وی اور موبائل میں گھسا رہتا، اس کے رٹائرمنٹ کے بعد ملے پراویڈنٹ فنڈ کو اس نے فکس میں جمع کروا دیا تھا اور اچھا خاصا گزارہ ہو رہا تھا، بیوی کی فکر تو تھی لیکن اس کی لمبی بیماری سے تنگ آ چکا تھا، اس کی وجہ سے وہ کہیں آ جا نہیں سکتا تھا، سماجی زندگی تباہ ہو گئی تھی۔
سردی کا موسم تو بہت تکلیف دہ گزرتا اس سردی میں تو جوڑوں کے درد نے نڈھال کر دیا تھا وہ اپنی بیماری سے تنگ آ چکی تھی ہر طرح کا ٹوٹکا، دوائیں جو بتاتا فوراً کرتی، بشیراں نے اسے ایک سفوف لا کر دیا کہ بیگم صاب جی ایک چٹکی پھانک کر پانی پی لو تو شفا ہوگی اور سوتے وقت ایک گلاس دودھ ضرور لینا، لیکن چٹکی سے زیادہ مت لینا خطرناک ہے۔ ایک چٹکی سے خاصہ افاقہ ہوا اور وہ تھوڑا بہت چلنے لگی تھی۔
اسے اپنے گھر سے محبت تھی، جب وہ ٹھیک تھی تو گھر کو سجا سنوار کر رکھتی اور اپنے شوہر کی ہر بات اس کے موڈ سے پہچان جاتی تھی، اور وہی کام کرتی جو اسے اچھا لگتا، ہمیشہ اپنے شوہر کے ہر کام کو اولیت دیتی۔
وہ آہستگی سے چلتی ہوئی لاونج میں جاتے ہوئے رک گئی اس کا شوہر دوست سے فون پر لمبی بات کر رہا تھا اور پارٹی میں نا آنے کا عذر اپنی بیوی کی بیماری کو بتا رہا تھا۔ اچھا ایسا ہو سکتا ہے، کیا کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا، بس یار میں تمھارے پاس آتا ہوں، نسخہ لینے یہ جملہ آہستہ سے کہا۔
رات میں اس کے شوہر نے دودھ کا گلاس لاکر سائیڈ ٹیبل پر رکھا تو وہ اپنے شوہر کو غور سے دیکھنے لگی۔ ماسی جلدی چلی گئی میں نے سوچا دوا کا ناغہ نا ہو جائے، ٹھیک ہے سونے لگوں گی تو پی لوں گی۔ شوہر کے جاتے ہی اس نے ایک چمچہ سفوف نکال کر دو گھونٹ پانی سے پیا اور آرام سے سو گئی۔
صبح سویرے شوہر نے بیوی کے کمرے میں جھانک کر دیکھا تو اس کا سرد وجود زندگی سے نجات پا چکا تھا اور سائیڈ ٹیبل پر دودھ کا گلاس جوں کا توں دھرا تھا، آج پھر اس کی بیوی اس سے جیت گئی تھی۔


