محبت میں چار سو بیسی کے فارمولے


14 فروری کو ویلنٹائن ڈے محبت کی تجوید کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور لاکھوں لوگ سرخ لباس زیب تن کیے اپنے محبوب کے لیے تحفے خریدنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ محبوب جتنی اعلیٰ کلاس تعلق رکھتا ہو اتنا ہی ہائی مینٹیننس ہوتا ہے اور جیب پہ اتنا بڑا ڈینٹ پڑتا ہے۔ پچھلے دنوں مجھے سخت قسم کا فلو ہوا اور اپنے دوست قبلہ کعبہ ڈاکٹر خالد سہیل کے مشورے پر میں مکمل آرام کا ارادہ کیا لیکن میں اپنی طبعیت کے ہاتھوں مجبور تھی مجھے کچھ نہ کچھ مسلسل کرنے کی عادت ہے۔

سوچا وہ ساری فلمیں اور ڈرامے جن کے بارے میں ہمیشہ تعریف کے ٹوکرے سنتی ہوں اور وقت کی کمی کے باعث نہیں دیکھ پاتی اب دیکھ لیتی ہوں۔ اس فہرست میں انگریزی اور انڈین فلمیں اور پاکستانی ڈرامے بھی شامل تھے۔ پہلی دفعہ مجھے محبت کا ساوتھ ایشین کانسیپٹ محبت سے زیادہ ہراسمنٹ اور زبردستی کا مینوئل لگا۔ جو فارمولا نمبر ایک بہت مقبول ہے وہ beauty and beast کا کانسیپٹ ہے۔ ہیرو انتہائی ٹربلڈ مرد ہے جس کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری لڑکی ہیروئن کی ہے۔

عموماً یہ ذمہ داری وہ بیچاری کسی نہ کسی مجبوری کے تحت اٹھاتی ہے، ارینج میرج پاکستانی ڈراموں میں باقی جگہوں پہ کوئی اور مجبوری یہ محبت کا سب سے زیادہ بکنے والا فارمولا ہے اس میں آخر میں ہیروئن کو ہیرو سے محبت ہو جاتی ہے اور ایسے ڈرامے فلموں کی کامیابی کا تناسب اتنا زیادہ ہے کہ یہ بار بار بنتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں اس سے عوام میں محبت کے بارے میں رومانوی تصور کی فینٹسی دیکھی جا سکتی ہے ایک مرد جو شیونزم کی بھرپور عکاسی کرتا ہے جس کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے اور اس پر وہ عموماً بچپن میں ٹراما کا شکار ہوا ہے اس کی جھولی میں ایک ہنستی کھیلتی لڑکی ڈال دی جاتی ہے۔

جس کو چاہے وہ جتنا چاہے مینٹلی ابیوز کرے وہ برداشت کرے اور انتظار کرے کہ ایک دن آئے گا کہ وہ سدھر جائے گا اور اس اسیری نما شادی میں اسے اس ٹراما کے شکار مرد سے محبت ہو جاتی ہے اور وہ انتہائی دیندار پاکباز خوش گفتار نرم مزاج ہے اور ایک دن وہ اس کی محبت اور دعاؤں سے واپس آ جاتا ہے اور ادھر جاتا ہے اور ہیروئن نہال ہو جاتی اس کو محبت نہیں سٹاک ہوم سنڈروم کہتے ہیں۔ جس میں قیدی کو اپنے اسیر اور ظلم کرنے والے اغوا کار سے ہی محبت ہو جاتی ہے اور وہ اس سے ہمدردی کرنے لگ جاتا ہے اور اپنے ساتھ ہونے والے تشدد کے بارے میں خیال کرتا ہے کہ وہ اس کا مستحق ہے۔

یہ محبت کا اتنا خوفناک نظریہ ہے جس کی ترویج کی جاتی ہے کہ یہ سب سے زیادہ گھریلو تشدد کو برداشت کروانے کا باعث بنتا ہے کہ اچھی بھلی پڑھی لکھی خواتین اس پھیلائی گئی غلط فہمی سے کہ ان کی اچھائی سے مرد ٹھیک ہو جائے گا سارا تشدد چاہے وہ دماغی ہو یا جسمانی برداشت کرتی رہتی ہیں اور ایک دن مر جاتی ہیں عینی بلیدی، نور مقدم اور سارہ شاہنواز کے اوپر ہونے والا بہیمانہ تشدد اور ان کا قتل اس بات کی مثال کہ یہ پڑھی لکھی خواتین اپنی تمام تر اچھائی کے باوجود ان جانور مردوں کو انسان نہیں بنا سکیں اور ان کے تشدد سے دم توڑ گئیں۔

اچھائی کوئی چھوت کی بیماری نہیں کہ آپ اچھے ہیں تو دوسرا کو اچھائی کے جراثیم لگیں گے تو بھی اچھا ہو جائے گا اس لیے فلموں ڈراموں میں ہیپی اینڈنگ اس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ یہ اصل زندگی ہے اس کا اسکرپٹ نہیں اس لیے براہ مہربانی ایسے نفسیاتی مریضوں کا ری ہیب سینٹر نہ بنیں جس کام میں ہر روز آپ کا دماغ اور جسم زخمی ہو طلاق لیں اور چاہے لوگوں کے گھروں پوچا ماریں ایسے جانوروں سے دوری اختیار کریں۔

محبت کا دوسرا فارمولا سنڈریلا فارمولا ہے ہیروئن ظلم و ستم کا شکار ہے ہر کسی سے مار کھاتی ہے انتہائی غریب ہے پھر ایک دن ایک امیر زادہ انتہائی نیک شریف پاکباز اس کو بچاتا ہے اور اس کی محبت میں گرفتار ہو کر اس سے شادی کر لیتا ہے یہاں بھی ہیروئن انتہائی سادہ، معصوم، صوم و صلوات کی پابند اور منہ میں زبان نہ رکھنے والی اللہ میاں کی گائے ہے جس کو میاں کہتا ہے بیٹھ جاؤ بیٹھ جاتی ہے کہتا ہے کھڑی ہو جاؤ کھڑی ہو جاتی ہے۔

یہ فارمولا بھی بہت بکتا ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ حقیقی زندگی میں کوئی ہینڈسم امیر زادہ آ کر اس خوبصورت سنڈریلا کو بچانے والا نہیں۔ ان ڈراموں سے اپنی خوابوں کی دنیا سجانے والی کے خوابوں کی کریش لینڈنگ سہاگ رات پہ اس وقت ہوتی ہے جب گھونگٹ الٹنے والا عام شکل و صورت کا، 9 سے پانچ ایڑیاں چٹخاتے والا عام مرد ہوتا ہے جس کو زندگی کے مسائل نے پریشان کر رکھا ہوتا ہے۔ اس لیے جب رومانوی تقاضے پورے نہیں ہوتے اور اوپر سے بچے بھی پیدا ہو جاتے ہیں تو یہ لڑکیاں فرسٹریشن کا شکار ہو جاتی ہیں اور پھر یہ فرسٹریشن ہر رشتے میں نکلتی ہے اس میان سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ اس محبت کے سنڈریلا سینڈروم کا شکار لڑکیاں نہیں مرد حضرات بھی ہیں خود چاہے اژدھے کی زبان اور shrek کی جسامت رکھتے ہوں بیوی ان کو دھان پان، گوری چٹی، کم عقل ہونے تک معصوم اللہ میاں کی گائے، انتہائی دین دار، پاکیزہ جس کو چرند پرند نے بھی نہ دیکھا ہو اور منہ میں تو زبان ہو ہی نہ چاہیے ہوتی ہے اس لیے ہمارے معاشرے چھوٹی عمر لڑکیاں شادی کے لیے ڈیمانڈ میں ہوتی ہیں، کہ بقول لڑکے والوں کہ چھوٹی عمر کی لڑکی کو جس سانچے میں چاہو ڈھال لو۔

لڑکی نہ ہوئی سرکس کا بندر ہو گئی۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ یہ لڑکی کچھ عرصے بعد سسرال کے اور خاوند کے طعنے اور ظلم و ستم برداشت کر کے ایسی زبان کی اور شخصیت کی مالک بنتی ہیں کہ ان کے خاوند سنڈریلا کی یاد میں آہیں ہی بھرتے رہ جاتے ہیں اور پھر بیویوں کی زبان اور شخصیت کے بارے میں ایسے لطیفے گھڑتے ہیں اور سناتے ہیں کہ ان کے خاندانی تربیت کے راز افشا ہوتے ہیں۔

میری نظر سے سوائے ایک دو کے کوئی بھی ایسا ڈرامہ یا فلم نہیں گزری جس میں پڑھی لکھی مضبوط عورت کے ساتھ لو اسٹوری دکھائی گئی ہو۔ جس میں مصنوعی امیدوں کی جگہ زندگی کے اصل مسائل کا دونوں ساتھ میں مقابلہ کریں۔

تیسرا فارمولا ہے کہ عورت کو نہیں پتہ کہ اس کو محبت ہے یا نہیں یہ صرف وحی محبت مرد پر نازل ہوتی ہے اور اس کے بعد اس کا فرض ہے کہ وہ اس عورت کے پیچھے پڑ جائے اس کا پیچھا کرے، اس کی زندگی حرام کر دے کہ ایک دن خود مان جائے گی۔ عجیب و غریب تصور ہے کہ عورت کی نہ میں بھی ہاں ہے۔ کوئی کانسینٹ کا تصور نہیں، کوئی ادراک نہیں کہ نو کا مطلب نو ہے بلکہ پیچھے پڑے رہو۔ اس کو محبت نہیں ہراسمنٹ کہتے ہیں اور اس کی وجہ سے وہ خواتین جو عام زندگی میں ایسے ون سائیڈڈ عاشقوں کو انکار کرتی ہیں ان کو یا تو قتل کر دیا جاتا ہے یا تیزاب پھینک دیا جاتا ہے۔

یہ محبت کا فارمولا عام ہے پورا ارینج میرج کا کانسیپٹ اس پر کھڑا ہے کہ شادی کروا دو چاہے لڑکی مانے یا مانے شادی میں دو چار دفعہ کی سہاگ رات کے بعد خود ہی مان جائے گی۔ آفرین ہے پورے خاندان پر اور معاشرے پر اس کو ماننا نہیں سمجھوتہ کرنا کہتے ہیں اور اس میں جس فریق نے سمجھوتہ کیا ہو اس کے اوپر کیا گزرتی ہو گی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں جب اس نے اس سمجھوتے کے نتیجے میں ایسے جسمانی فرائض بھی سرانجام دینے جو محبت کے بغیر سزا بن جاتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایسی بے محبت اور سیکس لیس شادیوں سے بھرا ہے کہ سیکس بھی نو سے پانچ دفتر کی روٹین کی طرح بھاری بن جاتی ہے۔

اس لیے بہتر ہو گا کہ مرد حضرات کانسینٹ کا مطلب سمجھیں محبت بھی اور شادی میں بھی اور سنڈریلا کی خواہش کی بجائے ایک پڑھی لکھی مضبوط ہمسفر کی خواہش کریں کیونکہ ایک نہ ایک دن تو گونگا بھی بول پڑتا ہے اگر ہمہ وقت طعنوں کے نشتر چبھوئیں جائیں۔ اسی طرح خواتین کو بھی محبت کے فینٹسی کانسپیٹ سنڈریلا اور بیوٹی اینڈ بیسٹ دونوں سے باہر نکل کر ایسے ہمسفر تلاش کرنے کی ضرورت ہے جن انسان ہوں دل سے بھی اور دماغ سے بھی۔

محبت اور شادی کے کیپٹلسٹ کانسیپٹ سے باہر آئیے اور پرپوزل کے لیے ایسے شہزادے کے خواب دیکھنا چھوڑئیے جو آپ کو پرپوز کرتے وقت برج خلیفہ پر آپ کی تصویر لگوائے بلکہ ایسے پرپوزل کی خواہش کریں جس میں آپ دونوں مل کر زندگی کا لائحۂ عمل طے کریں اور اچھی سوچ بچار اور ڈسکشن کے بعد میوچل کانسینٹ سے دماغی مطابقت کو دیکھتے ہوئے ہاں بولیں۔ اسی سے معاشرے کی بہتری مشروط ہے اور خاندان کی بھی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments