زندگی اور آدمی

زندگی کیا ہے؟ زندگی زندہ دلی کا نام ہے۔ زندگی غم اور خوشی کی کشمکش ہے۔ اس کشمکش میں سماج کے حساس، سادہ دل اور کمزور ( اعصابی، نفسیاتی، سیاسی، معاشی ) افراد کبھی زندہ لاش، اور کبھی بے جان زندگی کا ایک کردار بن جاتے ہیں۔
زندگی چونکہ ہمیشہ اپنے لیے ساتھی کی تلاش میں رہتی ہے۔ اکیلا پن اس کو سوٹ نہیں کرتا، اس لیے وہ پارٹنر، ہم زاد اور ازدواج کو اپناتی ہے۔ خاندان اور سماج بناتی ہے۔ ریاست اور سیاست میں کودتی ہے۔ آدم سے بیزار اور باغی ہو جائے تو بلیوں اور کتوں پر بھی جان نچھاور کرتی ہے۔ مینا اور کبوتر، کوئل اور تیتر، مطلب کہ کوئی بھی جاندار مل جائے وہ اپنا من بھلانے کا فن جانتی ہے۔ یہ عیاشی بھی اس کو میسر نہ ہو سکے تو بے جان میں جان ڈالنا بھی اسے کمال آتا ہے۔ وہ مٹی سے، رنگوں سے، سروں سے، لفظوں سے اور کبھی طاقت، دولت، شہرت اور اقتدار کے حصول سے اپنا مردہ آپ زندہ کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔
زندگی کی اس کشمکش میں آدمی آدمیت سے ہاتھ دھو بیٹھے تو سماج کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا سماج جو افراد کو زندگی کے لیے کوئی جوش اور مقصد مہیا نہ کرسکے وہ انسانوں کا سماج نہیں رہتا۔ وہاں درندگی زندگی پر قابو پا لیتی ہے۔ ایسی گھٹن میں بھی آدمی خوشی کی طلب سے عاری نہیں ہوتا۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اس کو خوشی زندگی کے جسمانی وجود سے جان چھڑانے میں ہی نظر آئے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ زندگی کی شکست نہیں ہوتی، یہ سماج اور ریاست کی شکست ہوتی ہے۔
زندہ دلی اور خوشی کے دشمن کون ہیں؟
ایک مزدور جو دو وقت کی روٹی کھانے لائق نہ رہے وہ اپنی خوشیوں کا دشمن سماج اور ریاست کو سمجھے گا۔ دو محبت کرنے والوں کی خوشیوں کا دشمن ان کا خاندان، دولت کی کمی یا جنسی نا آسودگی ہو سکتی ہے۔ دیکھا جائے تو فرد کی خوشی کو تعلقات اور رشتے، خوراک اور صحت، ریاست، دولت اور شہرت متاثر کرتے ہیں۔
زندگی کا المیہ یہ ہے کہ اس کی خوشیوں کا انحصار بھی اپنے حریفوں پر ہے۔ بھوکے، بے عزت، لاوارث، کنگال اور مریض آدمی کو خوشیوں کا مزہ اور زندگی کا ذائقہ کیسے میسر آئے گا؟ وہ سوچتا ہے کہ ترجیح کس کو دی جائے؟ سب سے اہم کیا ہے؟ بیوی سے تعلق اہم ہے یا دو وقت کے روٹی کمانے کی جدوجہد؟ کثرت کرنا ضروری ہے یا کاروبار میں جان کھپانا لازمی امر ہے؟ دوستوں کو وقت دینا میری ذمہ داری ہے یا سماجی فلاح و بہبود کے لیے خود کو پیش کرنا؟ خاندان اور ہمسایوں سے اچھے تعلقات کے لیے وقت نکالنا اہم ہے یا برتر سماجی مرتبہ رکھنے والوں سے تعلقات بڑھانا؟
انسان اپنی سمجھ بوجھ اور علم و شعور کی مدد سے ان میں ترتیب اور توازن پیدا کر سکتا ہے۔ ذاتی اور ذوقی رجحان کو استعمال کرتے ہوئے ان مشکلات کو حل بھی کر سکتا ہے لیکن یہ سادہ بیانی عملاً بڑی پیچیدگیوں کی حامل ہے۔ سماج اور ریاست جب معاون ماحول فراہم نہ کرتے ہوں تو بڑے بڑے اکابر بھی اصاغر سے بدتر پوزیشن پر چلے جاتے ہیں۔

