الیکشن 2024 کے متنازعہ نتائج

الیکشن دو ہزار چوبیس کے نتائج متنازعہ ہو چکے ہیں۔ پری الیکشن اقدامات کے باوجود جن میں تحریک انصاف سے نشان لے کر اس کو بحیثیت پارٹی میدان میں نہ اترنے دینے، اس کے امیدواروں کو انتخابی کمپین نہ چلانے دینا، بہت سے الیکٹیبلز کا تحریک انصاف سے دوسری جماعتوں میں شامل ہونا شامل ہیں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے اپنے مخالف امیدواروں کو خیبر پختونخوا میں مکمل طور پر شکست فاش دے دی ہے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود پنجاب میں پی ٹی آئی کو شکست نہیں دی جا سکی۔
جن حلقوں میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو ناکام قرار دیا گیا وہ دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں۔ اور ان کے مطابق وہ ووٹنگ میں جیتے ہیں جس کے ثبوت بھی ان کے پاس موجود ہیں مگر بعد میں ریٹرننگ آفیسرز نے ان کے نتائج میں رد و بدل کر دیا ہے۔ بہت سے حلقوں کے نتائج جہاں سے مسلم لیگ نون کے امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا وہاں پر یہ نتائج پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن اور مختلف عدالتوں میں چیلنج کر دیے ہیں۔ پی ٹی آئی نے پنجاب کے کئی شہروں مثلاً فیصل آباد، جھنگ، لیہ، میانوالی، ٹوبہ ٹیک سنگھ، حافظ آباد، شیخوپورہ اور مظفر گڑھ وغیرہ میں شاندار کامیابی حاصل کر کے مسلم لیگ نون کو سادہ اکثریت حاصل کرنے سے محروم کر دیا ہے جس کے بعد مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے وزارت عظمی سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے اور اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف جو اسٹیبلشمنٹ کے بھی فیورٹ ہیں ان کو وزارت عظمی کا عہدہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس سے مسلم لیگ نون کا ووٹر بھی مزید مایوس ہوا ہے اور اب حکومت پھر سے پی ڈی ایم ٹو کی بن رہی ہے نہ کہ مسلم لیگ نون کی۔ پنجاب اسمبلی میں بھی مسلم لیگ نون کو متنازعہ انداز میں سادہ اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ جہاں پر میاں نواز شریف نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کو وزیراعلی کے لئے نامزد کر دیا ہے۔ ان حالات میں جب الیکشن متنازعہ ہو چکے ہیں۔ مسلم لیگ کے لئے یہ حکومت پھولوں کی سیج ہر گز ثابت نہیں ہو گی۔ وہ من مانی پالیسیاں نہیں لا سکتے کیونکہ وہ اقتدار میں اپنی طاقت سے نہیں پہنچے ان کی حکومت بیساکھیوں کے سہارے پر چلے گی شاید اس لئے میاں نواز شریف نے کانٹوں کا یہ تاج نہیں پہنا۔
پیپلز پارٹی نے بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا خوب سوچا ہے مسلم لیگ نون کو وزارت عظمی کے لئے ووٹ کے بدلے سارے آئینی عہدے مانگ لیے ہیں جن میں صدر پاکستان، سپیکر قومی اسمبلی اور گورنر پنجاب شامل ہیں اور وزارتوں میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے تاکہ عوامی غصے کا رخ صرف نون لیگ کی طرف رہے۔ اس وقت ملک شدید اقتصادی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ اقتصادی استحکام لانے کے لئے سیاسی استحکام بہت ضروری تھا مگر بدقسمتی سے ان انتخابات کے نتائج نے ملک کو مزید عدم استحکام کی جانب دھکیل دیا ہے۔
ان انتخابات کی ساکھ کو نہ اندرون ملک اور نہ بیرون ملک تسلیم کیا جا رہا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین نے ان انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے سابق اتحادی مولانا فصل الرحمان جن کی جماعت کا خیبر پختونخوا میں صفایا ہو گیا ہے انہوں نے بھی ان الیکشن کو مسترد کر دیا ہے اور کہا کہ اس الیکشن کے نتائج سے مسلم لیگ نون کو فائدہ پہنچایا گیا ہے ان کے مطابق لاہور سے نواز شریف کی جیت بھی مشکوک ہے اور افواہ ہے کہ وہ وہاں سے ہار گئے تھے۔
تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام دونوں مل کر حکومت کے خلاف تحریک چلا سکتے ہیں۔ اس طرح سندھ سے جی ڈی اے اور تحریک انصاف ایک جیسا موقف رکھتے ہیں اور ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کئی سندھ اور کراچی میں مبینہ مینڈیٹ چرانے کے خلاف مشترکہ احتجاج کر سکتے ہیں اس طرح بلوچستان میں کچھ قوم پرست جماعتیں تحریک انصاف کے ساتھ مل سکتی ہیں۔ مستقبل میں پاکستان میں سیاسی و اقتصادی استحکام کے امکانات بہت تاریک نظر آتے ہیں۔ اگر بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں استحکام نہ لایا جا سکا، مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو اس حکومت کے خلاف شدید عوامی رد عمل آ سکتا ہے اور مسلم لیگ نون اپنی بچی کھچی ساکھ بھی کھو سکتی ہے۔

