بین المذاہب اور عالمگیر انسانی اقدار


وہ جرگہ میں تنوع پیدا کرنے کے ماہر ہیں۔ قبائلی جرگہ کو مقامی فیصلوں اور مہمان نوازی کے دائرہ سے نکال کر علم و ادب اور دوستی کے فروغ کا گہوارہ بنانے کا فن کوئی سرمد خان سے سیکھے۔ میرے کالموں میں ان کا اکثر ذکر رہتا ہے کیونکہ ان کے ہر جرگہ میں مجھے بطور خاص اخلاق و کردار اور انسانی اعلی اقدار کے حوالے سے کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کا ضرور موقع ملتا ہے جسے میں اپنے قارئین سے بھی شیئر کرتا رہتا ہوں۔ ان کے جرگوں کی ایک نمایاں خوبی جو میرا دل بہت لبھاتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہر جرگہ میں چند نئے دوستوں کو بلاتے ہیں جن کا تعارف وہ اپنے پرانے دوستوں سے کرواتے ہیں۔

ان جرگوں میں میری ملاقات اپنے شعبوں کے بہت سے نابغہ روزگار لوگوں سے بھی ہوئی جن کا تعلق پاکستان کے علاوہ برطانیہ، یورپ اور آسٹریلیا وغیرہ سے تھا۔ آج کے جرگہ میں کینیڈا سے محمد مبشر صاحب اور امریکہ سے ڈاکٹر مباحر احمد بھٹی صاحب خصوصی طور پر تشریف لائے تھے۔ گفتگو کے آغاز ہی میں ”بین المذاہب“ کا ذکر چھڑ گیا۔ اس موضوع کے بارے میرے دماغ میں کچھ تحفظات تھے کہ شاید اس کا مقصود کسی ملک یا دنیا کے تمام مذاہب کو یکجا کرنا اور انہیں ایک عالمگیر عقیدے کا پابند کرنا ہے۔

میں نے ڈاکٹر مباحر بھٹی صاحب سے پوچھا، ”کیا بین المذاہب کوئی مذہبی تحریک ہے؟“ ڈاکٹر صاحب نے کہا، ”یہ مذہبی تحریک نہیں بلکہ اس کا مقصد تمام انسانوں سے رنگ و نسل اور مذہب کی تخصیص کے بغیر محبت اور عزت و احترام سے پیش آنا ہے۔“ اس موضوع کے بارے مبشر صاحب کو بھی کافی دلچسپی محسوس ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ انسان ابن آدم ہے جس میں دنیا کے ہر علاقے، تہذیب اور کلچر کے لوگ شامل ہیں۔ ہمیں ان سب انسانوں سے رنگ و نسل یا مذہب کی بجائے ان کے انسان ہونے کی وجہ سے محبت کرنی چاہیے ۔ عظیم اور عالمگیر انسانی اقدار کا بھی یہی تقاضا ہے کہ ہر چھوٹے بڑے کالے اور سفید سے شفاف دل اور حسد و بغض سے پاک ہو کر محبت کی جائے۔

ایک حدیث شریف ہے کہ: ”کونو عباد اللہ اخوانا“ جس کا مفہوم ہے کہ اللہ کے تمام بندے بھائی بھائی ہیں۔ انسان ایک کنبہ ہے جو اسی صورت میں ارفع ترین بنیادوں پر پروان چڑھتا ہے جب سب انسانوں کو اپنے جیسا انسان سمجھ کر برابر حقوق اور عزت و تقدیس مرحمت کی جائے۔

اسی دوران طاہر بندیشہ صاحب اپنے دو مہمانوں کے ساتھ تشریف لے آئے۔ طاہر بندیشہ صاحب پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ ان کا تعلق نوجوان نسل سے ہے مگر انہیں قدیم دانش و حکمت سے خصوصی لگاؤ ’ہے۔ چند لمحوں بعد فرقان عباس خان جو کہ دبئی میں پی آر او  کا کام کرتے ہیں، سینئیر صحافی عارف شاہد اور احمد تنولی صاحب بھی آ گئے۔ ان کا تعلق پراپرٹی کے شعبے سے ہے اور وہ میزبان اور اینکر پرسن آفتاب اقبال کے بزنس پارٹنر بھی ہیں۔

سب دوستوں کے تعارف اور رابطوں کا تبادلہ ہوا۔ لاہور گلبرگ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست نے بتایا کہ انہوں نے سی ایس ایس  کیا تھا اور وہ سی ایس پی افسر سے ترقی کرتے کرتے کمشنر بنے تھے اور پھر ان کی تعیناتی ایک ایسے محکمہ میں ہوئی جس میں رشوت ستانی کا دور دورہ تھا۔ اس سے تنگ آ کر انہوں نے استعفی دیا اور دبئی میں آ کر ٹیکس سے متعلق ایک جاب سے اپنے نئے کیرئیر کا آغاز کیا۔ اسی طرح ان کے ساتھ آنے والے ایک دوسرے دوست کا تعلق کراچی سے تھا اور وہ بھی اتفاق سے ریٹائرڈ کمشنر تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے بھی اپنے نئے مستقبل کی شروعات سی اے کی ایک فرم میں نوکری کرنے سے کی۔ ہمارے ملک میں ایسے بہت کم مواقع ہیں کہ ریٹائرڈ لوگ اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی مصروف زندگی کو دوبارہ خوش اسلوبی سے شروع کر سکیں۔ ڈاکٹر مباحر بھٹی ایک ریٹائرڈ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں جو امریکہ روس اور سینٹرل ایشیا کے ملک کرغزستان میں کامیابی سے رئیل اسٹیٹ کا ملٹی ملین ڈالر کا کاروبار چلا رہے ہیں۔ اس کاروبار میں کرغزستان کے صدر ان کے پارٹنر ہیں اور وہ ایک لمبے عرصے سے ان کے صدارتی محل میں قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے اس ملک کے صدر کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بھی دکھائیں۔ اسی طرح مبشر صاحب متحدہ عرب امارات کی آرمی میں بھرتی ہوئے اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کے ساتھ کام کرتے رہے۔ انہوں نے عرب حکمرانوں اور شہزادوں کے ساتھ اپنی ویڈیوز اور تصاویر کا البم دکھایا۔ اس وجہ سے ریاست ہائے راس الخیمہ اور عجمان کے حکمرانوں سے بھی ان کے خصوصی مراسم ہیں۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کینیڈا شفٹ ہو گئے اور اب ان کے کینیڈا اور امارات دونوں جگہ کاروبار ہیں۔

ہمارا یہ جرگہ گیارہ بجے سے شروع ہو کر شام چھ بجے تک جاری رہا جس کا زیادہ وقت بین المذاہب اور انسانی اقدار کے گرد گھومتا رہا۔ انسان واحد ارفع اور احسن تقویم مخلوق ہے جو اللہ رب العزت کی پہچان کر سکتی ہے۔ ”جس نے اپنے نفس کی پہچان کی اس نے اپنے رب کو پا لیا۔“ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ انہوں نے نماز کی افادیت اور اپنے نفس کی پہچان امریکیوں سے سیکھی جو اسے خدا کے سامنے اطاعت اور تسلیم و رضا  کا ذریعہ مانتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلی بار خدا کی تلاش بین المذاہب کے ایک صوفی سے ملاقات کے بعد شروع کی۔ انہوں نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اس کا رخ ایک روشن چراغ کی طرف کر کے پوچھا کہ پانی میں آپ کو کیا نظر آ رہا ہے؟ میں نے بتایا ”چراغ“ تو صوفی نے کہا ”نہیں یہ عکس ہے، چراغ وہ ہے جو اونچی جگہ پر لگا ہوا ہے۔“ انہوں نے وضاحت کی کہ ہم انسان بھی خدا کا عکس ہیں جو ہم سے بلند و برتر ہستی ہے اور ہم اسی صورت میں خدا کا حقیقی عکس منعکس کر سکتے ہیں جب ہمارے اندر سے قرآنی تعلیمات کا عکس جھلکے، مذاہب اور عقائد میں برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دیں، اور ہم دنیا کے ہر نسل و نوع کے انسانوں سے بلا تفریق پیار کریں۔ ”

پورے جرگہ میں سب سے زیادہ توجہ اور عزت و احترام کا مرکز المقام مبشر صاحب رہے۔ ایک تو وہ ہمارے درمیان سب سے زیادہ عمر کے تھے دوسرا ان کو زبان کا کینسر تھا۔ وہ بطور انسان حد درجہ اخلاق و کردار کے بلند مقام پر متمکن ہیں۔ ان سے زیادہ خوبصورت گفتگو کا ماہر اور عاجزی کا پیکر میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ اگرچہ ان کی زبان میں کینسر کی وجہ سے تھوڑی لکنت تھی مگر وہ انتہائی شیریں اور مدلل گفتگو کر رہے تھے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں کینسر جیسے موذی مرض سے نجات دے اور صحت و تندرستی والی لمبی عمر عطا فرمائے۔ آمین

Facebook Comments HS