درمان درد
کہتے ہیں کہ ادب کا مطالعہ آپ کو زندگی کے مسائل کو حل کرنے اور سفر حیات میں درپیش مشکلات سے نمٹنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔
کتاب اور ادب کی وابستگی سے پیدا ہونے والے شعور کے نور سے پر پیچ شاہراہ حیات اس قدر روشن ہوتی ہے کہ ہر مشکل آسان ہوتی جاتی ہے۔
ان سب باتوں کو بہت سے دیگر احباب کی طرح میں نے بھی صرف کتابوں میں پڑھ رکھا تھا، بہت سے لوگوں کی مانند میرے لیے بھی یہ سینۂ قرطاس پر نقش چند فقروں سے زیادہ کوئی اہمیت نہ رکھتی تھیں۔
مگر کہتے ہیں نہ کہ ہر چلتی ہوئی سانس کے ساتھ کئی حجاب قدرت بے نقاب ہوتے ہیں۔
الیکشن سے ایک دن قبل میرے چند عزیز عمرہ کی ادائیگی کے لئے حرمین طیبین کے لئے لاہور کے ہوائی اڈے سے عازم سفر ہو رہے تھے اور ہم سب انتہائی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے نصیب پر رشک کرتے ہوئے اور اس بارگاہ بے کس پناہ میں اپنے لیے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے ان کو روانہ کر کے ابھی گھر واپس پہنچے ہی تھے کہ اچانک ہمیں ایسی خبر ملی کہ نہ پیروں تلے زمیں رہی نہ سر پہ آسماں۔
ہمیں یہ خبر ملی کہ جن کو ہم ابھی ابھی روانہ کر کے آئے ہیں ان احباب کو ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے اس مقدس سفر پر حکومتی احکامات کی بنا پر روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی۔
مملکت خداداد پاکستان کی نگران حکومت نے 30 جنوری کو یہ حکم نامہ جاری کیا کہ کوئی بھی وفاقی ملازم نئی حکومت بننے سے پہلے ملک سے باہر نہیں جا سکتا۔
یہ خبر ملتے ہی درد، کرب، حیرانی اور پریشانی کی وہ کیفیت پیدا ہوئی جو ناقابل بیان ہے۔
رہ رہ کر یہی خیال پریشان کر رہا تھا کہ آخر اب ان لوگوں کا سامنا کیونکر ہو پائے گا۔ کن الفاظ کے ساتھ ان کو تسلی دیں گے۔
کچھ دیر بعد ہوائی اڈے سے تمام احباب گھر لوٹے تو ان کے چہروں سے صدیوں صحرا نوردی کرنے والے بے راہ مسافروں کے سے آثار نظر آ رہے تھے۔
وہ آنکھیں جن میں ابھی کچھ دیر قبل خوشی و مسرت کے ستارے ٹمٹما رہے تھے، حسیں خوابوں کے گلشن کھلے ہوئے تھے اب ان میں کھنڈرات کی پر وحشت ویرانی در آئی تھی۔
ان کی یہ حالت دیکھ کر ذہن کی تختی پر لکھے تمام حرف مٹ گئے زبان سلب ہو گئی۔
اس حالت میں ہمیں بھی اپنے اندر وہی درد محسوس ہو رہا تھا جو ان لوگوں کو محسوس ہو رہا تھا جن کی آنکھوں کے سامنے ان کی پرواز ہوا کے دوش پر سوار
ہوئی تھی۔
بہت دیر تک ایسی اعصاب شکن خاموشی کا ماحول قائم رہا کہ ڈر تھا کہ اس چپ کے شور سے کہیں ذہن پھٹ نہ جائے۔
لیکن اچانک بحر خیال کی سطح شفاف ہونے لگی اور ایک در یتیم کی چمک نظر آنے لگی جس کو لاشعور کے سیپ نے مطالعہ کی نازل ہوتی برکھا کے وقت آبرنیثاں کی صورت میں اپنے اندر محفوظ کر کے ایک گوہر یکتا بنا دیا تھا آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔
اچانک مجھے خیال آیا کہ وہ احباب جنہوں نے آنکھ ہی مکہ میں کھولی مگر ایک سچے دین کی پیروی کرنے پر ان کو اپنے آبائی شہر سے ہجرت کرنا پڑی اور پھر 6 برس ہر لمحہ اس شہر کی زیارت کے لئے تڑپنے کے بعد صرف 12 میل (مکہ شریف سے مقام حدیبیہ کا فاصلہ) کی مسافت پر ان کو روک لیا گیا اور صاحب قوت ہونے کے باوجود وہ اہل مکہ سے ظاہری طور پر دب کر معاہدہ کر لیتے ہیں۔
آخر اس وقت جب وہ لوگ صرف 12 میل کی مسافت سے واپس پلٹے ہوں گے اور انہوں نے بغیر عمرہ ادا کیے احرام کھولے ہوں گے تو ان کی کیا کیفیت ہوگی۔ ان کے دل کس قدر بوجھل ہوئے ہوں گے لیکن انہوں نے اس آزمائش پر صبر کیا اور پھر یہی واقعہ فتح مکہ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
تو آج اگر ان احباب کو 5193 کلومیٹر (لاہور سے مکہ شریف کی مسافت) پہلے پلٹنا پڑا ہے تو ان کے لئے بھی کوئی بہت بڑی عنایت خداوند منتظر ہوگی۔
یقین مانیں اس وقت میں
لقد کان لکم فی رسول للہ اسوۃ الحسنہ
کے اک نئے زاویے سے آشنا ہوا۔
اس کے بعد تمام تر ذہنی دباؤ حباب کی صورت اختیار کر گیا۔
اور زندگی میں مطالعہ اور ادب وابستگی کی اہمیت مجھ پر مزید واضح ہو گئی کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بغیر میرا اس ذہنی کیفیت سے باہر نکلنا بہت مشکل تھا۔
واقعی ادب درمان درد ہے۔


