قیدی نمبر 1772 اور قیدی نمبر 804 ایک جائزہ

بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک خداداد میں اگر آپ نے عوام کا پسندیدہ لیڈر بننا ہے تو آپ جیل جانے کو ترجیح دیں گے۔ آپ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے تو آپ امر ہوجائیں گے۔ دوسری اہم بات اگر آپ عوامی لیڈر ہیں تو آپ نے چند ایک کتابیں ضرور لکھی ہوں گی۔
ہم عوام کے ساتھ ایک المیہ ہے، ہم ہر اس شخص کو اپنا قائد مان لیتے ہیں جو سرراہ آپ کو بھڑکائے جو ایک غلط تصور ہے۔ عوامی لیڈر اگلے الیکشن اور ہار جیت کے تصور سے ماورا ہوتا ہے۔ ایک بے باق اور نڈر لیڈر آپ کی اگلی آنے والی نسلوں کے لئے صحیح سمت کا تعین کرتا ہے۔
1947 ء سے تا حال صرف دو ایسے قائد عوام کی امنگوں پر پورا اترے ہیں جو واقعی عوام کی نبض کو جانتے تھے۔ ان میں ایک ذوالفقار علی بھٹو ہیں اور دوسرا عمران خان جو اب بھی پابند قید و سلاسل ہے۔
بھٹو صاحب پر بہت لکھا اور کہا جا چکا ہے۔ ایوب کابینہ میں وزارت کا قلمدان سنبھالنے سے وزارت عظمیٰ تک اور وزارت عظمیٰ سے تختہ دار تک کا سفر ایک روح پرور داستان ہے جو یا تو زیادہ سے زیادہ عوام جانتی ہے اور یا بہت کم لوگ جانتے ہیں، تاہم بھٹو صاحب کی پھانسی سے بھٹو صاحب امر ہوچکے ہیں۔ جو لوگ اس عمل میں شریک کار تھے۔ ان کے متعلق اب کوئی نہیں جانتا اور نا جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن بھٹو صاحب جو قیدی نمبر 1772 کی عرفیت سے جانے جاتے تھے وہ 46 سال گزرنے کے بعد بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ کیوں زندہ ہیں؟ اس لیے زندہ ہیں کہ انہوں نے عوام کی خوشحالی کی راہیں متعین کی تھیں۔
ٹھیک اسی طرح آج کے قیدی نمبر 804 عمران خان اگر چہ ماضی میں کچھ غلطیاں کر چکے ہیں، لیکن قید کی چاردیواری نے خان کو کندن بنایا ہے۔
خان کی ہر بات عوام سے شروع ہو کر عوام پر ہی ختم ہوتی ہے۔ عوام کو شعور سے مالامال کر دیا اس قیدی نمبر 804 نے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خان نے کوئی میگا پراجیکٹ نہیں دیے عوام کو۔ 2013 ء میں خان نے ایک نعرہ لگایا تھا کہ اداروں میں اصلاحات لائیں گے۔ وہ اسی بات سے چمٹ گئے اور آخر تک اسی بات کو دہراتے رہے۔ بات دراصل یہ تھی کہ بڑے بڑے پراجیکٹس پر کام تب آسان ہوتا ہے جب آپ کے ادارے مضبوط ہوں۔
خان صاحب نے ہار نہیں مانی انہوں نے کہا تھا کہ ہار نہیں مانوں گا اور اپنی بات پر ڈٹے رہے اور عوام کو بھی حوصلہ دیتے رہے اور نتیجہ ہم اور آپ کے سامنے موجودہ الیکشن میں کامیابی کی صورت نکلا۔
اکثریت اب بھی ایسے لوگوں کی ہے جو کہتے ہیں کہ اتنا کلین سویپ کیسے؟ تو عرض ہے کہ عوام کا ووٹ غم و غصہ کی علامت بن کے سامنے آیا۔
تو صاحبو! عوامی لیڈر بننا ایک عام سا مشغلہ نہیں اس کے لئے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ خان نے یہ ثابت کیا کہ وہ عوامی لیڈر ہے۔ اور وہی ڈیلیور کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس بار الیکشن کے نتائج کسی بھی جماعت کو قابل قبول نہیں تاہم ملک کی بھاگ دوڑ بھی سنبھالنا انہی نیتاوں کا کام ہے۔ عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اب عوام کے فیصلے کی قدر انہی کے ہاتھ میں ہے۔
اور جاتے جاتے یہ بھی بتاتا چلوں کہ جسے ہم بانی پاکستان کہہ کر پکارتے ہیں۔ وہ ایک دفعہ بھی جیل نہیں گئے اور نا ہی انہوں نے کوئی کتاب لکھی ہے۔ کتابیں انہوں نے لکھی جنہیں غدار وطن کا اعزاز ملا۔ اور اصل میں یہی لوگ ہیروز اور لیڈرز ہیں۔

