مادری زبانوں میں سندھی زبان کی اہمیت
مادری زبان انسان کی کلیدی پہچان ہوتی ہے۔ بچہ جب دنیا میں وارد ہوتا ہے تو سب سے پہلے اپنی ماں ہی کی آواز سنتا ہے، ماں سے مانوس ہوتا ہے اور جب بولنے لگتا ہے، تو اپنی ماں کی زبان میں ہی بولنا شروع کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب کو اپنی مادری زبان سے بے انتہا انسیت ہوتی ہے۔
ہم جیسے معاشروں میں بچوں کو انگریزی زبان میں تعلیم دلوانے کو خواہ مخواہ مجبوری اور ”اسٹیٹس سمبل“ بنا دیا گیا ہے، ورنہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ان کی اپنی زبانوں میں ہی تعلیم دلوائی جاتی ہے۔ جاپان، چین، روس، فرانس، جرمنی، اٹلی اور کئی ممالک کی مثالیں موجود ہیں، جہاں مقامی زبان میں ہی بنیادی تعلیم رائج ہے، اور سرکاری و دفتری طور پر بھی وہی زبان استعمال ہوتی ہے۔ مختلف ممالک کے لوگ ملازمت کے حصول کے لئے ایسے بڑے ممالک میں جانے کے لئے وہاں کی زبانیں سیکھ کر جاتے ہیں، جو ایسے ممالک کا قانون بھی ہوتا ہے۔ ایسے ممالک اور قوانین کی وجہ سے ہی ایسی اقوام کی مادری زبانوں کا تحفظ ممکن ہوا ہے۔
مادری زبان کا عالمی دن ہر سال 21 فروری کو منایا جاتا ہے۔ 1952 ء میں جب مشرقی پاکستان میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور جگن ناتھ یونیورسٹی کے طلبہ، اردو کے ساتھ بنگالی زبان کو بھی قومی زبان قرار دینے کے لئے احتجاج کر رہے تھے، تب اس احتجاج کو روکنے کے لئے پولیس نے گولی چلا کر پانچ طلباء کو مار دیا تھا۔ مگر اس تحریک نے اور زور پکڑا اور چار سال بعد مجبوراً صاحبان اقتدار کو بنگالی زبان کو بھی سرکاری زبان کا درجہ دینا پڑا۔
اس کے بعد 21 فروری کو پہلے مشرقی پاکستان اور بعد میں بنگلہ دیش میں ’یوم شہدا‘ منایا جاتا رہا۔ اس حوالے سے بنگلہ دیش سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری کو خطوط لکھے جاتے رہے، جن پر 17 نومبر 1999 ء میں اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) نے یہ دن منانے کا اعلان کیا اور 2000 ء سے مادری زبانوں کا یہ دن پوری دنیا میں منایا جا رہا ہے۔ 2008 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس حوالے سے تمام ممالک کی حمایت سے باقاعدہ ایک قرارداد منظور کی اور اس ضمن میں 2008 ء کو عالمی زبانوں کے سال کے طور پر منایا گیا۔
ایک لسانیاتی جائزے کے مطابق دنیا بھر میں کل 6 ہزار 809 زبانیں بولی جاتی ہیں، جن کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ان میں سے 537 زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والے افراد کی تعداد محض تقریباً پچاس افراد کے قریب ہی رہ گئی ہے، اور 46 زبانیں مکمل ختم ہونے کو ہیں، جن کو بولنے اور سمجھنے والا دنیا میں ایک ایک انسان ہی باقی بچا ہو گا۔ چین کی ’منڈری‘ زبان آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی زبان ہے۔ دوسرے نمبر پر انگریزی ہے، تیسرے نمبر پر ہندی اور اردو زبان، چوتھے نمبر پر ہسپانوی پانچویں نمبر پر فرانسیسی جبکہ چھٹے نمبر پر عربی زبان بولی جاتی ہے۔ اور اس طرح سندھی زبان اس فہرست میں 45 ویں نمبر پر ہے۔
یونیورسل ڈپینڈنسیز (یو ڈی) ، جو 2005 ء میں تیار کیا گیا، ایک ایسا منصوبہ ہے، جو زبانوں کو مشین سے پڑھنے کی قابل شکل (او سی آر) میں تبدیل کرنے کے لئے کام کر رہا ہے۔ اس نے آج تک عالمی سطح پر بولی جانے والی 6000 زبانوں میں سے سندھی سمیت 100 زبانیں منتخب کی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، دنیا میں بولی جانے والی 6000 زبانوں میں سے کم از کم 43 فیصد زبانیں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یاد ر ہے کہ ”یونیسکو“ نے خبردار کیا ہے کہ اس صدی کے آخر تک ان میں سے نصف زبانیں ختم ہوجائیں گی۔
میری سندھی زبان دنیا کی قدیم ترین زبانوں میں سے ایک ہے، جس کی قدامت ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔ وادیٔ سندھو کی تہذیب اور موئن جودڑو اس کی بڑی مثال ہے، جو دنیا کا پہلا تہذیب یافتہ شہر قرار پایا ہے۔ یہاں دنیا کی مختلف زبانوں کے ماہرین موجود تھے، جس کی ایک مثال سندھ میں ہونے والا قرآن مجید کا سب سے پہلا ترجمہ ہے، جو سندھی میں ملتا ہے، جو عربوں کے سندھ پر حملے سے قبل کیا گیا تھا۔ سندھی زبان میں صدیوں سے نسل در نسل عشقیہ داستانیں، قصے، تاریخی واقعات اور لوک شاعری مروج ہے۔
سندھی زبان کے سرتاج شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی، عالمی سطح کے شعراء میں شمار ہوتے ہیں، جن کے کلام، پیغام و شخصیت پر دنیا کی مختلف زبانوں میں لاتعداد محققین اپنا تحقیقی کام کر چکے ہیں۔ شاہ صاحب کے مجموعۂ کلام کو ”شاہ جو رسالو“ کہا جاتا ہے۔ یہ مجموعۂ کلام 30 ابواب پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر باب کو انہوں نے سروں کے نام سے مقرر کیا ہے۔ شاہ صاحب کے کلام کے موضوعات میں اللہ پاک کی حمد و ثنا، قدرت کے نظارے، پیارے نبی صہ کی تعریف، امن، پیار، جدوجہد، اخلاقیات اور محبت کا پیغام شامل ہیں۔ انہوں نے تاریخی، نیم تاریخی اور عشقیہ داستانیں بھی بیان کی ہیں۔ سب سے بڑی بات کہ شاہ صاحب کی وجہ سے سندھی زبان صدیوں تک محفوظ ہو چکی ہے۔ شاہ جو رسالو کے پہلے باب ”سر کلیان“ کے بیت میں وہ فرماتے ہیں :
اول اللہ علیم، اعلیٰ عالم جو ڌڻی
قادر پنھنجیٔ قدرت سین، قائم آھ قدیم
والی واحد وحدہ، رازق رب رحیم
سو ساراھ سچو ڌڻی، چئی حمد حڪیم
ڪری پاڻ ڪریم، جوڙؤن جوڙ جھان جی
ترجمہ: سب سے اول اللہ رب جلیل کی ذات ہے، جو ہر بات کا علم رکھنے والا ہے۔ وہی اعلیٰ اور ارفع ترین اور تمام کائناتوں کا دھنی ہے۔
وہ قادر مطلق اپنی قدرت سمیت ازل سے قائم اور موجود ہے۔
وہ تمام جہانوں کا والی یکتا و واحد ہے، اکیلا ہے اور وہ رحم کرنے والا رب ہی رزق دینے والا ہے۔
تو پھر اسی سچے رب کو اس کی حمد کہہ کر پکارو اور سراہو! جو بڑا حکمت والا ہے۔
بیشک وہی ذات کریم ہے، جس نے جہان کی تمام مخلوقات کو جوڑوں کی صورت پیدا کیا ہے۔


