چیخوف کے ناولٹ ”تین سال“ کا کرداری مطالعہ (قسط 01 )
آنتون پاولاویچ چیخوف کا ناولٹ ”تین سال“ پہلی بار 1895 ء میں Russkaya Mysl رسالہ کے جنوری اور فروری کے شماروں میں شائع ہوا۔ اس کو اردو ادب کی دنیا سے متعارف کروانے والی شخصیت ظ۔ انصاری کی ہے جنہوں نے اسے اردو جامہ پہنایا۔
اس ناولٹ کے مرکزی کردار الکسئی فیودرووچ (لاپتیف) اور یولیا سرگئی ونا ہیں۔ دیگر کردار ان مرکزی کرداروں کی کہانی کو منطقی انجام تک پہنچانے میں جٹے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ثانوی اور ذیلی کرداروں کی اپنی شخصیت غیر واضح اور نامکمل ہے بلکہ اپنے خیالات و نظریات میں وہ پوری چمک دمک کے ساتھ ناولٹ کے کینوس میں ابھرتے ہیں۔
الکسئی فیودرووچ، لاپتیف اینڈ سنز کمپنی کے مالکوں میں سے ایک، چونتیس سالہ، بھدی صورت کا حامل ایک غیر دلکش شخص ہے جس کا مذہب پر سے یقین اٹھ چکا ہے، اور مذہبی رسومات کو دکاندارانہ حرکتیں خیال کرتا ہے۔ اس کی وجہ اس کا وہ بچپن ہے جس میں اسے زبردستی دعائیں یاد کرنا پڑتیں اور کھیلنے کے بجائے گرجا میں پادریوں کے ہاتھ چومنا پڑتے۔ یہاں ہمیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ چیخوف نے الکسئی فیودرووچ کے بچپن کی تصویر میں اپنے بچپن کے اداس رنگ بھرے ہیں۔
بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الکسئی فیودرووچ، چیخوف کا دوسرا روپ ہے۔ کیونکہ یہ کردار ایک جگہ کہتا ہے کہ میں دبو اور بزدلانہ ضمیر کا آدمی ہوں اور خود پر ذرا اعتماد نہیں کرتا۔ اس کا کارن یہ ہے کہ میں ایک غلام زادہ ہوں اور میرا دادا غلام تھا۔ یہ نکتہ بڑا اہم ہے کہ چیخوف کا دادا بھی غلام تھا جس نے اپنی اور اپنے بچوں کی قیمت ادا کر کے اپنے خاندان کو غلامی سے آزاد کروایا تھا۔
دیکھنے والی آنکھ پر اس کردار کا پہلا تاثر یوں پڑتا ہے کہ ذہین اور سنجیدہ ہونے کے باوجود بیوپاری معلوم ہوتا ہے۔ اس کا مزاج عاشقانہ ہے مگر عورتوں کو دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یولیا سرگئی ونا سے یک طرفہ محبت کرتا ہے۔ محبت میں اس کا نظریہ اردو شاعری کی کلاسیکی روایتی محبت والا ہے۔ یعنی جس شخص سے محبت کی جائے اس سے وابستہ ہر شے بھی محبوب کا درجہ رکھتی ہے۔ اسے اس بات پر بھی شکایت ہے کہ وہ یولیا سرگئی ونا سے بے پناہ محبت کرتا ہے مگر یولیا سرگئی ونا کو اس کی کچھ پروا ہی نہیں۔
پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے (مرزا غالب)
ایک روز وہ یولیا سرگئی ونا سے اظہار محبت کرنے جاتا ہے مگر اپنی اندرونی بوکھلاہٹ اور بیوپاری پن کی وجہ سے شادی کی پیش کش کر بیٹھتا ہے۔ یہ کردار عورتوں کو مرد کے برابر خیال کرتا ہے جس کا ثبوت وہ بہن کو وراثتی دولت میں برابر کا حصہ دار تسلیم کرتے ہوئے دیتا ہے۔ اس کا زندگی کا نظریہ یہ ہے کہ پاکیزہ اور پر مسرت زندگی گزارنے کے لیے کام ضروری ہے اگر زندگی کی کتاب میں سے لفظ ”کام“ مٹا دیا جائے تو زندگی سپاٹ اور بے کیف ہو کر رہ جائے۔ ساتھ ہی ساتھ اس کا یہ بھی خیال ہے کہ دولت سے نہ خوشیاں خریدی جا سکتی ہیں اور نہ ہی محبت۔ زندگی کے بہت سے معاملات میں وہ دبو قسم کا خاکسار آدمی ہے مگر آرٹ کی نمائش کے وقت غیر معمولی جرآت اور خود اعتمادی کا اظہار کرتا ہے۔
دوسرا کردار یولیا سرگئی ونا کا ہے جو ماسکو یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ایک خوبصورت فیشن ایبل لڑکی ہے۔ خدا پر اندھا یقین رکھتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ روحانی قوت بہتر فیصلہ کرنے والی ہے۔ اس کا ثبوت وہ یوں دیتی ہے کہ جب الکسئی فیودرووچ اس کو شادی کی پیش کش کرتا ہے تو وہ تاش کے پتوں پر فیصلہ چھوڑ دیتی ہے کہ اگر کالا پتہ نکلا تو جواب ”نہیں“ اور لال پتے کی صورت فیصلہ ”ہاں“ میں ہو گا۔ وہ ہر چیز میں مذہبیت کو غالب رکھتی ہے۔
باقاعدہ چرچ جاتی ہے اور رات کو سونے سے قبل گھر میں دعا والا پانی چھڑکنے کے ساتھ ساتھ مقدس تصویر کے سامنے دیا بھی روشن کرتی ہے۔ اسے الکسئی فیودرووچ سے محبت نہیں ہے، بلکہ اسے اس کی شکل تک پسند نہیں۔ وہ خوابوں کے شہزادے کو حقیقی روپ میں دیکھنے کی تمنا رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے پہلی بار وہ الکسئی فیودرووچ کو شادی سے انکار کر دیتی ہے۔ مگر جب وہ سوچتی ہے کہ اس کی عمر بڑھتی جا رہی ہے اور شاید اتنا اچھا موقع دوبارہ نہ آئے، الکسئی کا خاندان بھی دولت مند ہے۔ تو وہ شادی کرنے پر راضی ہو جاتی ہے۔ یعنی اس کا شادی کے لیے راضی ہونا کے پیچھے محرک، محبت نہیں بلکہ مستقبل کو محفوظ بنانے کی خواہش ہے۔ جس انداز میں یولیا سرگئی ونا، الکسئی فیودرووچ سے شادی کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کرتی ہے اس سے الکسئی فیودرووچ کو بہت جھٹکا لگتا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یولیا سرگئی ونا اس سے محبت نہیں کرتی۔ شادی کے لیے رضامندی کے پیچھے محرک کوئی اور ہی معاملہ ہے۔ وہ اس معاملہ کو ”یولیا سرگئی ونا کا اپنے باپ سے جان چھڑانا“ کا نام دیتا ہے۔
جب ان کی شادی ہو جاتی ہے تو وہ یہ بات سوچ سوچ کر اپنے اس عمل کو فاش غلطی تسلیم کرنے لگتا ہے کہ اس نے ایک ایسی عورت سے شادی کر لی جس عورت کو اس سے محبت نہیں ہے مگر وہ اس سے دیوانہ وار محبت کرتا ہے۔ ساتھ ہی اسے اس بات کا بھی افسوس ہے کہ اس نے پولینا نکولائی ونا راسودینا سے شادی نہ کی جو اس سے پرخلوص اور سچی محبت کرتی ہے، اور اس کے ساتھ بیوی کی حیثیت سے رہ بھی چکی ہے۔ دوسری طرف یولیا سرگئی ونا بھی اکتاہٹ والی گرہستی زندگی سے جان چھڑانا چاہتی ہے اور اپنی شادی کو بھول کا نام دے کر آ گئے بڑھنا چاہتی ہے۔
یولیا سرگئی ونا یہ سمجھتی ہے کہ اس کی زندگی کی اکیلی خوش اس کا والد ہے۔ مگر جب اس کے ہاں بچی کی پیدائش ہوئی تو اس کی خوشی کا سارا دار و مدار اس پر جا ٹکا۔ اتنا عرصہ شوہر کے ساتھ بغیر جذبہ محبت کے رہنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ ازدواجی زندگی کے لیے محبت ایسی لازمی چیز نہیں ہے۔ مگر جب اس کی بچی کا انتقال ہو جاتا ہے تو وہ پھر اسی اکتاہٹ اور بوریت بھرے گرداب میں پھنس کر رہ جاتی ہے جس میں وہ بچی کی پیدائش سے قبل خود کو گھرا ہوا پاتی تھی۔ ناولٹ کے آخر میں اس کردار میں حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوتی ہے اور ایک روز وہ الکسئی فیودرووچ کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہتی ہے کہ میں تمہاری محبت میں مبتلا ہوں۔
اس ناولٹ کا ایک اہم کردار چڑچڑے بوڑھے سنکی سرگئی پوریسیچ کا ہے جو یولیا سرگئی ونا کے باپ کے روپ میں منظر پر آتا ہے۔ پیشہ سے ڈاکٹر ہے اور نرگسیت کا شکار۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ ہر بات کو اپنی ذات تک محدود کر کے دیکھتا ہے۔ اس نرگسیت کے پیچھے محرک، اس کا احساس کمتری ہے۔ وہ اس بات سے خوف زدہ ہے کہ جب اس کی بیٹی کی شادی ہو جائے گی تو وہ تنہا ہو جائے گا۔ اسی تنہائی کا سبب ہے کہ وہ بیٹی سے شادی کی بات کرنے سے گھبراتا ہے۔ اور جب اس کی بیٹی اسے الکسئی فیودرووچ کے متعلق بتاتی ہے تو وہ ڈر جاتا ہے مگر بیٹی کو شادی کرنے کا مشورہ دیتا ہوا باہر چلا جاتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسے ردعمل دیتا ہے جیسے بہت بڑا حادثہ ہو گیا ہو۔
اس ناولٹ کا کردار فیودر استیپانچ، جو کہ الکسئی فیودرووچ کا باپ ہے، اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ اس کردار کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کردار گھڑتے وقت چیخوف کے سامنے اس کے باپ کی تصویر ہو گی۔ یہ کردار، چیخوف کے حقیقی والد کی مانند، مذہبی جنونی ہے اور مذہبی تعلیم کے سلسلے میں بچوں کو مارتا ہے۔ گھر میں باقاعدہ مذہبی تقریبات منعقد کرتا ہے اور مذہبی رہنماؤں کی دعوتیں کرتا ہے۔ (جاری)


