’الکیمسٹ‘ میں خدا شگون کی زبان میں گفتگو کرتا ہے


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

پائیلو کوئلہو کے عالمی شہرت یافتہ ناول ”الکیمسٹ“ کا بہتر زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے اور اس کی اب تک ساڑھے چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ 1988 میں جب یہ پہلی مرتبہ پرتگیزی زبان میں چھپا تو اس کی صرف نو سو کاپیاں فروخت ہو سکی تھیں اور ناشر نے اسے دوبارہ چھاپنے سے منع کر دیا تھا۔ وہ اسے دوسرے ناشر کے پاس لے گیا، پھر اس ناول کی اتنی فروخت ہوئی کہ برازیلی ادب کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

الکیمسٹ کا انگریزی ترجمہ 1994 میں ایلن آر کلارک نے کیا۔ اسے اردو میں زرین قمر نے ڈھالا جب کہ اس سے قبل ڈاکٹر تصدق حسین بھی اس کا ترجمہ کر چکے ہیں۔ یہ ترجمہ 224 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے دو حصے ہیں۔

الکیمسٹ کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ زندگی خوابوں کے تعاقب میں ایک طویل سفر کا نام ہے اور اس سفر میں رہنمائی کے لیے خدا شگون کی زبان میں گفتگو کرتا ہے۔ مصنف جہاں شگون کی بات کرتا ہے وہیں مقدر پر بھی مفصل رائے زنی کرتا ہے۔ اسے اس بات پر یقین کامل ہے کہ جب انسان پختہ عزم لیے کسی چیز کو پانے کی کوشش کرتا ہے تو پوری کائنات اس کی حمایت میں کھڑی ہو جاتی ہے اور وہ اس مقصد کو پا لیتا ہے جس کی وہ جستجو کرتا ہے۔

’الکیمسٹ‘ ایک خانہ بدوش گڈریے سنتیاگو کی کہانی ہے جو اپنے باپ کے پیسوں سے بھیڑیں خریدتا ہے اور ان بھیڑوں سے حاصل شدہ اون کو بیچ کر گزر بسر کرتا ہے۔ کہانی ہسپانوی شہر اندلس سے شروع ہوتی ہے جہاں سنتیاگو خواب میں دیکھتا ہے کہ اسے اہرام مصر کے قریب ایک خزانہ ملا ہے جسے پا کر وہ خوش حال ہو جاتا ہے۔ خواب کی تعبیر کے لیے وہ بھیڑیں فروخت کر کے پیسے اکٹھے کرتا ہے اور اسپین سے شمالی افریقہ کا بحری سفر کرتا ہے۔

جب وہ شمالی افریقہ پہنچتا ہے تو اس کی دنیا ہی بدل جاتی ہے۔ اس کی جمع پونجی ڈاکو لے اڑتے ہیں اور وہ اب ایسے دیس میں تنہا ہے جہاں کے باسی مختلف مذہب، مختلف ثقافت، مختلف زبان اور مختلف رسم و رواج کے مالک ہیں۔ لیکن وہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتا ہے اور ایک دکان پہ نوکری حاصل کر لیتا ہے۔ جب اسے وہاں چھ ماہ بیت جاتے ہیں تو اس کے پاس اتنی رقم جمع ہو جاتی ہے کہ وہ باقی سفر کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

وہ ایک قافلے میں شامل ہوجاتا ہے جہاں اس کی ملاقات ایک انگریز سے ہوتی ہے جو سونا بنانے کے نامور کیمیا گر کی تلاش میں ہے۔ صحرا سے گزرتے ہوئے وہ ایک قبیلے میں جا پہنچتا ہے جہاں اس کی ملاقات فاطمہ نامی لڑکی سے ہوتی ہے۔ وہاں وہ دو بازوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھتا ہے تو سردار کے سامنے پیشن گوئی کرتا ہے کہ گاؤں پر بیرونی حملے کا خدشہ ہے۔ سردار فوج کو لڑنے کے لیے تیار کرتا ہے اور سنتیاگو کو انتباہ کرتا ہے کہ اگر حملہ نہ ہوا اور بات جھوٹ نکلی تو اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ اگلے دن قبیلے پر بھرپور حملہ ہوتا ہے جس کا قبیلے والے خوب دفاع کرتے ہیں اور وہ جنگ پر سبقت لے جاتے ہیں۔ سردار سنتیاگو سے خوش ہوتا ہے اور اسے انعامات سے نوازتا ہے اور مشیر کے عہدے پر بھی فائز کر دیتا ہے۔

قبیلے میں ہی سنتیاگو کی ملاقات اس بوڑھے کیمیا گر سے ہو جاتی ہے جسے انگریز ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔ یہاں سے سنتیاگو اور بزرک کیمیا گر کے درمیان تعلق قائم ہوتا ہے اور وہ مصر کی جانب سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ جب وہ ایک علاقے میں سے گزر رہے ہوتے ہیں تو وہاں دو قبائل کے درمیان جنگ کا ماحول برپا ہوتا ہے۔ انہیں وہاں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ بزرگ کیمیا گر سردار سے کہتا ہے کہ یہ لڑکا جادوگر ہے اور اگر اسے چھوڑا نہ گیا تو یہ ہوا پر سوار ہو کر طوفان بپا کر دے گا۔ سردار ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر سنتیاگو طوفان نہ لا پایا تو وہ دونوں کو قتل کر دے گا۔ موقع پا کر میں بزرگ کیمیا دان سنتیاگو سے کہتا ہے کہ ان سے بچنے کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

وقت مقررہ پر سنتیاگو کو ریت کے بڑے ٹیلے پر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ سنتیاگو بزرگ کیمیا گر کی دی ہوئی ہدایات پر عمل کرتا ہے اور اپنے آپ کو اس کھیل میں اتنا مشغول کر لیتا ہے کہ زندگی اور موت کے خوف سے باہر نکل آتا ہے اور قدرت سے ہم آہنگی حاصل کر کے صحرا کی زبان پر دسترس پا لیتا ہے۔ صحرا سنتیاگو کا حکم بجا لاتا ہے اور طوفان سر اٹھانے لگتا ہے۔ فوج ڈر کر سہم جاتی ہے اور انہیں رہا کر دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد سنتیاگو اور بزرگ کیمیا گر اہرام مصر کے راستے ایک خانقاہ میں جا پہنچتے ہیں۔ یہاں بزرگ کیمیا گر سیسے میں مختلف محلول ملا کر سونا تیار کرتا ہے اور اسے چار حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ایک حصہ سنتیاگو کے لیے، ایک اپنے پاس رکھتا ہے اور ایک وہاں موجود راہب کو دے دیتا ہے اور چوتھا بغیر سنتیاگو کو بتائے راہب کے پاس امانتاً رکھوا دیتا ہے کہ جب وہ مصر سے ہو کر واپس لوٹے تو راہب اس کے حوالے کر دے۔

خانقاہ سے اہرام مصر کا سفر تین گھنٹوں پر مشتمل ہے اور سنتیاگو جلد ہی وہاں پہنچ کر خزانے کی تلاش میں کھدائی کرنے لگتا ہے۔ اسی دوران وہ ڈاکووں کے ہتھے لگ جاتا ہے اور وہ سارا سونا چھین لیتے ہیں۔ وہ سنتیاگو پر تشدد کرتے ہیں اور سنتیاگو اندلس سے لے کر اہرام مصر تک کا سارا احوال بیان کر دیتا ہے۔ اس پر سردار ڈاکو ہنستا ہے اور اسے دیوانہ کہہ کر چھوڑ دیتا ہے اور اس کا مذاق بھی اڑاتا ہے کہ بیوقوف ایک خواب دیکھ کر یہاں تک آ نکلا۔

وہ سنتیاگو کو اپنے خواب کے بارے میں بھی بتاتا ہے کہ اسے بھی ایک خواب آیا تھا کہ اندلس میں ایک گرجے میں ایک چرواہا اپنی بھیڑوں سمیت قیام پذیر ہے۔ اس گرجے میں انجیر کا ایک بڑا درخت بھی ہے جس کے نیچے خزانہ دفن ہے لیکن وہ اس کی طرح احمق نہیں ہے کہ ایک خواب کے پیچھے صحرا اور سمندر پار کر جائے کہ اسے خواب میں ایک پیڑ کے نیچے خزانہ نظر آیا تھا۔ ڈاکو جب چلے جاتے ہیں تو وہ دیوانوں کی طرح ہنسنے لگتا ہے کیوں کہ وہ جان جاتا ہے کہ خزانہ کہاں چھپا ہے۔

الکیمسٹ کے مطالعہ کے بعد یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ پائیلو کوئلہو ایک شاندار اور غیر معمولی ناول لکھنے میں کام یاب رہا ہے۔ وہ شمالی افریقہ کی جغرافیائی معلومات رکھتا ہے۔ اسے اسلام کے بنیادی ضوابط کے متعلق آگاہی حاصل ہے۔ اسے افریقی و عربی زبان اور رسم و رواج سے واقفیت ہے۔ وہ ان کی دشمنیوں اور لڑائی کے طریقوں کو جانتا ہے اور ان کی مہمان نوازی اور رکھ رکھاؤ سے بھی آشنا ہے۔ اس ناول میں پائیلو کوئلہو کا نقطہ فہم مقصدیت پر مبنی ہے۔

اسے یقین ہے کہ منزل کے حصول کے لیے انسان کو عزم، ہمت، کوشش اور صبر کی ضرورت ہے اور جب وہ ان میں استقلال پا لیتا ہے تو منزل اس کے قدموں تلے آ جاتی ہے۔ سنتیاگو کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے، وہ خواب دیکھتا ہے اور اس کی تعبیر کے لیے چل نکلتا ہے۔ اسے بہت سے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے، وہ مصیبتوں میں پھنستا ہے اور اسے لوٹ بھی لیا جاتا ہے۔ ایک مرحلے پر تو اس پر تشدد بھی کیا جاتا ہے لیکن وہ صبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور استقامت دکھاتا ہے اور اسے حاصل کر لیتا ہے جس کی وہ نیت کرتا ہے۔

ناول اتنا طویل نہیں کہ اس کے لیے زیادہ نشستیں کی جائیں اور اس کی جامعیت کا اندازہ اس کی ضخامت سے بھی نہیں لگایا جا سکتا کیوں کہ پائیلو کوئلہو نے بڑی مہارت سے کم صفحات میں ایسا شاہکار خلق کر دیا ہے کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تحریر اتنی جاندار ہے کہ کہیں بھی یہ تاثر پیدا نہیں ہوتا کہ مطالعہ کرنے والا بوریت محسوس کر رہا ہے بلکہ جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا ہے تو اس کا تجسس بڑھتا چلا جاتا ہے اور دل چسپی برقرار رہتی ہے۔ اس نثر کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ مختصر مگر جامع فقرات کی وجہ سے اختتام تک روانی برقرار رہتی ہے۔ عالمی ادب میں دل چسپی رکھنے والے قارئین اس ناول سے بہرہ مند تو یقیناً ہوں گے ہی، ساتھ ہی ساتھ استقامت اور کامیابی کا ہنر بھی سیکھ جائیں گے۔

Facebook Comments HS