بوسنیا کی چشم دید کہانی-58
اسی شام روقے نکولس اور اس کی بیگم سلاجہ کے ہاں آئے ہوئے تھے واپسی پر ہمیں انھیں بھی ساتھ لے کر جانا تھا۔ سلاجہ کا گھر لوبینا سے کوئی تین کوس باہر ایک چھوٹے سے گاؤں میں واقع تھا۔ اس کا گھر بالکل ویسا ہی تھا جیسا ہمارے ہاں ایک متوسط دیہاتی گھر ہوتا ہے۔ سلاجہ یہاں اپنے والدین، اپنی بہن اور اس کے کمسن بچے کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کا خاوند مسلمان تھا اور جنگ دونوں کے درمیان علیحدگی کا باعث بنی تھی۔ ایک لمبے سے کمرے میں کھانے کی ایک پرانی سی میز کے ارد گرد اہل خانہ اپنے مہمانوں کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے۔ قہوے کا دور چل رہا تھا۔ قہوے سے ہماری بھی تواضع کی گئی۔ کچھ دیر وہاں ٹھہرنے کے بعد ہم روقے، نکولس اور اس کی بیگم کے ہمراہ سٹولک کے لیے روانہ ہو گئے۔
21 مئی کی صبح کو ہم سرائیوو روانہ ہوئے۔ مشن کے قیام کے دوران سرائیوو ہی ایسا شہر تھا جہاں ہر ماہ کم از کم دو مرتبہ ضرور چکر لگتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یو این کا ہیڈ کوارٹر یہاں واقع تھا اور سال نو کے آغاز سے قبل ہمارا ریجنل ہیڈکوارٹر بھی یہیں تھا۔ ایسے مواقع پر ہمارا معمول یہ ہوتا تھا کہ ہم علی الصبح سٹولک سے نکلتے۔ یبلانیسا پہنچنے پر لب سڑک واقع ایک مخصوص کیفے بار میں چائے کے لیے رکتے۔ اقبال اگر ساتھ ہوتا تو وہ کوئلے پر روسٹ ہونے والے سالم بکرے کو دیکھ کر بھوک نہ ہوتے ہوئے بھی پٹھانوں کی بکرا دشمنی کا مظاہرہ کرنا ضروری خیال کرتا۔ وہ گوشت کی ایک پلیٹ بھی منگوا لیتا۔ سرائیوو پہنچ کر ہم دن تین بجے تک دفاتر میں مصروف رہتے۔ یہاں سے فارغ ہو کر ہم شام کا کچھ حصہ باش چارشیہ میں گزارتے اور کیفے امپریل کی خوش ذائقہ cappuccino کافی سے لطف اندوز ہوتے۔
آج ہم یبلانیسار سے ہوتے ہوئے سرائیوو میں ریجنل ہیڈ کوارٹر پہنچے تو دفاتر کچھ دیر پہلے ہی کھلے تھے۔ سب سے پہلے ہم نے فارمز حاصل کیے اور پھر مختلف شعبوں سے کلیرنس حاصل کرنے کا آغاز کیا۔ تقریباً دو گھنٹوں کے اندر سارا کام نمٹ گیا۔ سرائیوو میں چونکہ کم از کم ایک رات ٹھہرنے کا ارادہ ہم نے پہلے ہی سے کر رکھا تھا، لہٰذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی ہیڈ کوارٹر کے شعبہ جات سے کلیرنس کل حاصل کی جائے گی۔ بنگلہ دیشی ساتھی بھی سرائیوو میں ہمارے ساتھ ہی آئے تھے۔
وہ ماہانہ چھٹی پر تھے اور بلغراد جا رہے تھے۔ ہم انھیں ائرپورٹ کے پاس واقع بس اسٹینڈ تک چھوڑنے آئے۔ کوئی دس ماہ قبل اسی سٹینڈ سے میں بھی بلغراد جانے والی بس پر سوار ہوا تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ کل کی بات ہو۔ میں اماں عدیلہ کے ہاں رات گزارنے کے بعد سویرے سویرے بذریعہ ٹیکسی یہاں پہنچا تھا۔ بس سٹینڈ چونکہ سرب علاقے میں واقع تھا، لہٰذا مسلمان ٹیکسی ڈرائیور نے معذرت چاہتے ہوئے مجھے وہاں سے تقریباً ایک کلو میٹر ادھر اتار دیا تھا۔
آج بھی ہم اپنے ساتھیوں کو یہاں اس لیے چھوڑنے آئے تھے کہ شہر کے اس حصہ تک آنے کے لیے کسی ٹیکسی ڈرائیور کی آمادگی ناممکن تھی۔ سال پہلے کے سرائیوو اور آج کے سرائیوو میں کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔ مذہبی اختلاف کی بنیاد پر پیدا ہونے والے فاصلے آج بھی قائم تھے۔ کوئی بھی علاقہ ملی جلی آبادی کی اکائی کے طور پر ابھر نہ سکا تھا۔ یوں نفرتوں کے جہاں میں پیار کی کوئی بھی بستی آباد نہ ہو پائی تھی۔
شام چار بجے بلغراد کے لیے روانہ ہونے والی بس تیار کھڑی تھی۔ یوسف اور عالم نے ٹکٹ خریدا پھر ہم سے گرم جوشی کے ساتھ بغل گیر ہونے کے بعد بس میں سوار ہو گئے۔ بنگلہ دیشی اور پاکستانی افسران جس اسٹیشن پر بھی اکٹھے ہوئے، شروع شروع میں ان کے تعلقات میں ہمیشہ ایک کھچاؤ سا رہا۔ ہم سب اس کے اسباب سے بھی آگاہ تھے لیکن ہم میں سے کسی نے کبھی اس موضوع پر بات نہ کی۔ اسی لیے ہم اچھے دوست رہے۔
یوسف اور عالم کو وداع کر کے ہم نے سرائیوو کے مرکز کا رخ کیا۔ دریائے ملیکا کے ساتھ ساتھ یک طرفہ سڑک پر بڑھتے ہوئے ہم نے سبیل کے سامنے ٹرام اسٹیشن کے قریب گاڑی کھڑی کی اور باش چارشیہ میں داخل ہو گئے۔ باش چارشیہ کی شام آج بھی ہمیشہ کی طرح پر رونق اور سہانی تھی۔ خوشبو کے استعمال کا جنون حسینان سرائیوو پر ختم تھا۔ ان کے دم سے باش چارشیہ کی یہ لمبی گلی ہر شام مہکتی پائی جاتی تھی۔
سبیل سے ذرا آگے دائیں ہاتھ کو مڑتی ہوئی ایک گلی ہے۔ یہ گلی خانہ فرہنگ ایران سے چند قدم آگے مارشل ٹیٹو سٹریٹ پر پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے۔ اس گلی میں ماسوائے جامعہ حصر بیگ کے کچھ بھی تو نہ بدلا تھا۔ آج بھی یہاں کے ہجوم میں سروں کو سکارف سے ڈھانپے چلتی پھرتی نوجوان لڑکیاں بھی شامل تھیں اور جنگ کے دوران معذور ہونے والے وہ مرد بھی جو بیساکھیوں اور وہیل چیئرز کے سہارے یہاں چلے آتے تھے۔ مسجد فرہادیہ کے قریب کھلی جگہ میں قہوہ خانوں کے ارد گرد بھکاری بچے اور عورتیں آج بھی گھومتی دکھائی دے رہی تھیں۔
ہم باش چارشیہ سے باہر نکل کر امپیریل کیفے تک چلے آئے۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک نہایت کشادہ فٹ پاتھ تھا۔ امپیریل کیفے کی بنیاد سے اٹھ کر چھت کو چھوتی ہوئی کشادہ محرابی کھڑکیوں کے عقب میں بیٹھے ہوئے cappuccino کے گھونٹ بھرتے ہوئے ہم باہر رواں زندگی کے نظارے میں گم رہے۔
رات ہمیں مرزا اور میمن کے پاس ٹھہرنا تھا جو شہر سے باہر ورالا بوسنا میں رہتے تھے۔ راستے میں باش چارشیہ سے الیزا کی طرف جانے والی ٹرام کے پیچھے آج بھی لڑکے اندر جگہ موجود ہونے کے باوجود اسی طرح لٹکے دکھائی دے رہے تھے۔ اس ٹرام کا یک طرفہ کرایہ ایک جرمن مارک کے برابر ہوتا تھا۔ جب کہ بغیر ٹکٹ سفر کرنے کا جرمانہ دس مارک تھا۔ اقبال سرائیوو میں نہ خود ٹرام کا ٹکٹ خریدتا تھا اور نہ مجھے خریدنے دیتا تھا۔ کہتا تھا یہ اپنے لوگ ہیں ان سے کیا ڈرنا۔
ہم عرصے تک ان ٹراموں میں بغیر ٹکٹ سفر کرتے رہے۔ ایک دن میں اور اقبال علیحدہ علیحدہ سیٹوں پر ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر بیٹھے تھے کہ ٹکٹ چیکر میرے سر پر پہنچ گیا۔ اس کے ٹکٹ دکھانے کے مطالبے پر میں نے اقبال کی طرف اشارہ کر دیا۔ اقبال نے اس دوران صورت حال کا اندازہ لگا لیا۔ چیکر کے پاس پہنچتے ہی اس نے دس مارک کا نوٹ نکالا اور اسے تھما دیا۔ ٹرام سے نیچے اترنے پر کسی شرمندگی کا اظہار کرنے کے بجائے وہ بولا۔ الحمدللہ۔ جرمانے کی شکل میں ہی سہی اس گنہ گار کو اپنے مصیبت زدہ مسلمان بھائیوں کی مالی امداد کا موقع مل ہی گیا۔
مالی مدد کا یہ ایسا انداز تھا جو ٹکٹ چیکر کو بہت پسند آیا۔ اس کے بعد ٹکٹ چیکر ایسے ان داتاؤں کی تلاش میں اکثر سرگرداں پائے جاتے تھے۔


