آنے والی حکومت سے امیدیں اور چیلنجز


2024 کا ملک میں وہ واحد الیکشن ہے، جس کے بارے میں عام لوگ بھی یہ ہی کہ رہے تھے کہ، کسی پارٹی کو سادی اکثریت نہیں ملنی اور ہنگ پارلیمنٹ بنے گی۔ آج الیکشن کے بعد بالکل وہ ہی صورتحال ہے۔ کسی ایک پارٹی کے پاس مینڈیٹ نہیں کہ وہ سینٹر میں حکومت بنا سکے۔ اس کے علاوہ یہ بھی توقع کی جا رہی تھی کہ آنے والی حکومت پی پی پی اور مسلم لیگ نون مل کر بنائے گے۔ اور اب وہ ہی ہو رہا ہے، کچھ سیاسی پنڈت نے تو آنے والی حکومت کی پاور شیئرنگ کا فارمولا بھی بتا دیا تھا کہ وزیراعظم نواز لیگ کا ہو گا اور صدر پی پی پی سے آصف علی زرداری ہو گے۔

آج کی خبر ہے کہ یہ فارمولہ فائنل ہو چکا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آصف علی زرداری کو صدر کا عہدہ نواز لیگ نے ہی آفر کیا ہے۔ یہ آصف علی زرداری کے لیے یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہوگی جس شخص کو نواز لیگ نے مسٹر 10 پرسنٹ کا درجہ دیا اس پارٹی نے اس کو صدارتی امیدوار کے لیے تجویز کیا۔ ملک میں دو دفعہ منتخب صدر کا اعزاز بھی آصف علی زرداری کو ہی جائے گا۔ آصف علی زرداری کو صدر بننے پر بہت سارے لوگ خوش نہیں ہو گے اور بہت سارے خوش بھی ہو گے۔

آصف علی زرداری کوئی عارف علوی یا رفیق تارڑ نہیں ہو گے۔ ویسے 18 ترمیم کے بعد صدر کا عہدہ ایک سیریمونل ہے لیکن آصف علی زرداری ملک میں صدر بننے کے بعد بھی ایک بڑا سیاسی کردار ادا کریں گے اور وہ توجہ کا مرکز رہیں گے۔ ویسے تو مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے روایتی حریف ہیں ان دونوں پارٹیوں میں آصف علی زرداری ورکنگ ریلیشن کو مضبوط بنائیں گے۔

آنے والی حکومت کے بہت بڑے چیلنجز ہو گے، جس میں سب سے بڑا سیاسی چیلنج پی ٹی آئی کی مضبوط اپوزیشن کو فیس کرنا ہو گا۔ کیوں کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا، ملک کے دوسرے اہم مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

اگر پی ٹی آئی کی شکایت دور نہیں کی گئی تو ملک میں ایک اور سیاسی طوفان آئے گا جو کولیشن حکومت کو چلنے نہیں دے گا۔ پی ٹی آئی کا سب سے بڑا مطالبہ الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کا ازالہ کرنا ہو گا۔ پی ٹی آئی والوں کو 22 سیٹوں پر شدید اعتراض ہے اور ان کے بیان کے مطابق ان کے پاس 45 فارم بھی موجود ہیں جو فارم 47 سے بالکل مختلف ہیں۔ اگر ان کو 22 میں سے آدھی سیٹیں بھی مل گئی تو یہ بھی پی ٹی آئی کی بہت بڑی نہ صرف جیت ہوگی اور ان کے اس موقف کی بھی جیت ہوگی کہ الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کر کہ پی ٹی آئی کو ہرایا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کا دوسرا بڑا مطالبہ ان کے لیڈر عمران خان کو رلیف دلوانا ہو گا۔ آگر آنے والی حکومت نے عمران خان کو کچھ رلیف دی دیتی ہے تو ممکن ہے کچھ عرصے کے لیے ملک میں سیاسی استحکام آ جائے۔ لیکن یہ مجھے مشکل لگتا ہے۔ عمران خان کو رلیف دینا سیاسی حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہو گا۔ ان کو رلیف تب ہی ملے گا جب ادارے اس کو رلیف دینا چاہیں گے۔

معاشی چیلنج بھی بہت بڑا ہو گا۔ ایک اور آئی ایم ایف کے قرضے کا پیکیج لینا پڑے گا جو عوام کی قمر توڑ دی گا۔ اس وقت ملک کو چلانے کا واحد ذریعہ ملک میں مہنگائی کرنا ہے اور مری ہوئی جنتا کو اور مارنا ہے۔ ہماری ایکسپورٹ بہت کم ہو چکی ہے، ملک میں ڈالر نہیں اس لیے ملک میں کوئی فیکٹریاں نہیں لگ رہی۔ جو فیکٹریاں لگی ہوئی تھی وہ بھی گیس اور بجلی مہنگی ہونے کی وجہ سے بند ہو چکی ہیں۔ لاکھوں لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ نئی آنے والی حکومت کو سب سے پہلے تو عوام کو رلیف دینا چاہیے مگر یہ بہت مشکل چیلنج ہو گا کہ کوئی خاص رلیف دے پائے۔

سندھ اور کے پی کے کی صوبائی حکومتیں تو آرام سے چل سکتی ہے لیکن بلوچستان اور خاص کر کہ پنجاب کی صوبائی حکومت کے لیے بہت بڑے چیلنجز ہو گے۔ مریم نواز مسلم لیگ نون کا اچھا انتخاب ہے مگر ان کے چیلنجز بہت زیادہ ہو گے۔ ایک تو وہ ایک عورت ہے اور ہمارا مردوں کا معاشرہ ہے اور اس میں عورت کو سربراہ آسانی سے قبول نہیں کیا جاتا۔ جو مہم مسلم لیگ نون نے شہید بی بی کے عورت ہونے کے خلاف کی تھی، پنجاب میں رجعت پسند مریم نواز کے خلاف چلا سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی بہت بڑی تعداد پنجاب اسمبلی میں ہوگی اور وہ بھی مریم نواز کے لیے بڑے مسائل کھڑے کرے گی۔ مریم نواز کو بڑی ہوشیاری اور صبر کے ساتھ پی ٹی آئی کو فیس کرنا پرے گا۔ اگر کوئی ایڈمنسٹریٹو کارروائی کی گئی تو ان کے اثرات مرکز کی حکومت تک جائے گے۔ یہ ہو سکتا ہے مریم نواز پنجاب اسمبلی میں ہی نہ جایا کریں جیسے ان کے والد نواز شریف وزیر اعظم ہوتے ہوئے قومی اسمبلی میں نہیں آتے تھے اور ان کی حاضری قومی اسمبلی میں سب سے کم ہوا کرتی تھی۔ اگر مریم نواز پنجاب اسمبلی میں نہیں آئی تو اس کا مریم نواز کو سیاسی نقصان ہو گا۔ ایک تو وہ عورت ہے اور اسمبلی نہیں آئی تو اس پر الزام لگنا شروع ہو جائیں گے کہ مریم نواز وزیراعلی پنجاب کی پوزیشن کے لے اہل نہیں۔

بہر حال میں ایک پرامید شخص ہوں اور آخر میں امید کرتا ہوں آنے والی حکومت عوام کی مشکلات میں آسانی کرے گی۔

Facebook Comments HS