کیا چقندر دل کے آپریشن اور فالج سے بچا سکتا ہے؟


چندی پور گاؤں میں ہمارے گھر میں جہاں اب چھوٹے بھائی شیخ محمد فیاض کے لیے رہائشی پورشن بنا ہوا ہے وہاں پہلے بیر کا بہت بڑا درخت ہوتا تھا۔ غالباً سال 1984 تھا، چولستان روہی کے چرواہے اپنی بکریوں کا ریوڑ لے کر ہمارے گاؤں کے پاس گزرے تو سستانے کے لیے کچھ دیر رک گئے۔ مجھے ٹیڈی نسل کا بکری کا بچہ بہت اچھا لگا۔ ابا جی سے ضد کی اور انھوں نے ڈیڑھ سو روپے میں خرید کے مجھے تحفہ دے دیا۔ وہ بھی اس بیر کے نیچے رہتا تھا۔ میں نے گھر میں دیسی مرغیاں بھی رکھی ہوئی تھیں جو گاؤں کی بلیوں سے بچنے کے لیے مغرب ہوتے ہی اڑ کے بیر کی موٹی شاخوں پہ پتوں کے اندر چھپ کر بیٹھ جاتی تھیں۔

قریب پانی کا نلکا لگا ہوا تھا۔ اس کے پاس میں نے ایک بہت چھوٹا سا اپنا کھیت بنایا ہوا تھا۔ اس میں ہرا دھنیا، لہسن اور پیاز وغیرہ بیجا ہوا تھا۔ سہانجنا بھی لگایا ہوا تھا۔ گاؤں کے قریب سبزیوں کے کھیت تھے۔ وہاں سے آنے والی مولیوں سے روزانہ مولی والے پراٹھے بنائے جاتے۔ کھیتوں سے آنے والے شلجم کو گوشت کے ساتھ پکایا جاتا۔

زندگی بہت سادہ تھی۔ کسی کے پیٹ میں درد ہوتا تو ہماری ہمسائی جسے سب پیار سے ماسی چوکیدارن کہتے، اس کا ”ڈاکٹری مشورہ“ ہوتا۔ ”گلاب کی پتیوں سے بنا گلقند کھاؤ ابھی ٹھیک ہو جاؤ گے“ ۔ کسی کے سر میں شدید درد ہوتا تو ماسی چوکیدارن اپنی نسوار کی ڈبیا سے کالے رنگ کی نسوار نکالتی اور مریض کی ناک کے قریب لا کر کہتی ”ایکوں سنگھ نچھ آسی تے ٹھیک تھی ویسیں“ (اس کو سونگھو چھینک آئے گی اور تمہارا سردرد ٹھیک ہو جائے گا) ۔

احباب! ہم لوگ اپنی بیماریوں کے علاج کے لیے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کو بھاری فیسیں دے کر ہزاروں روپے کی ادویات خریدتے ہیں اور پھر ساری زندگی دوائیاں ہی کھاتے رہتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قدرت نے ان چیزوں کے اندر بھی بڑی بڑی بیماریوں کے لیے شفا رکھی ہے جنہیں ہم در خور اعتنا ہی نہیں سمجھتے۔ آج سہانجنے کا خشک پاؤڈر ایمازون وغیرہ پہ ڈالرز میں بک رہا ہے۔ یورپین سائنسدان ہرا دھنیا کے جوس کو گردوں کی ایک بیماری میں حیرت انگیز دوا بتا رہے ہیں اور جسم میں خون نہ بننے والے مریضوں کو پیاز کھانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

خون میں شوگر لیول زیادہ ہے تو دارچینی کھانے کا کہہ رہے ہیں۔ دانت میں درد ہے تو پسا ہوا لونگ رکھنے کا کہہ رہے ہیں۔ گھٹنوں کی جھلیوں میں رطوبت خشک ہو جانے سے درد رہتا ہو، جسم میں ہارمونز کم پیدا ہوتے ہوں یا سپرم کی کمی سے مردانہ بانجھ پن ہو، سائنسدان بھنڈی کھانے کا کہہ رہے ہیں۔

کینسر کے مریض کو مسلسل گوبھی کھا کر اس بیماری سے نجات کا مژدہ سنا رہے ہیں۔ خون میں زہریلا پن آ جانے سے پھوڑے پھنسیاں بن گئے ہوں تو وطاؤں (بیگن) کھانے کا کہہ رہے ہیں۔ جگر میں گرمی بڑھ جانے سے یرقان اور ہیپا ٹائٹس ہو گیا ہے تو ساوی توری اور کدو کھانے کا کہہ رہے ہیں۔

جیا سائیں! اب مغربی سائنسدان بھی سبزیوں اور مصالحہ جات میں بیماریوں کے لیے شفا دیکھ رہے ہیں۔ آپ گوگل سرچ انجن پہ جا کر سرسوں کے تیل یعنی مسٹرڈ آئل پر شمالی امریکہ کے سائنسدانوں کے سائنسی تجربات پڑھ لیں۔ وہ اسے دل کی نالیاں کھولنے اور خون کی نالیوں سے کلاٹس اور بلاکیج دور کرنے کے لیے ایک بڑے محرک کے طور پہ دیکھ رہے ہیں۔

ادھر ہمارے جنوبی ایشیا کے ٹی وی چینلز پہ کچھ اداکار معاوضہ لینے کے بعد سفید رنگ کا ڈاکٹری گاؤن پہنے اور کندھوں پہ سٹیتھو سکوپ ڈالے بتا رہے ہوتے ہیں کہ ”یہ جو آپ اپنے بچوں کو گائے بھینس او ر بکریوں کا دودھ پلا رہے ہیں، یہ زہر ہے۔ آپ ایسا کریں انھیں فلاں کمپنی کا ڈبے والا دودھ پلائیں بس وہ ان کے لیے ٹھیک ہے“ ۔ چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر جو خود گائے بھینس کا دودھ پی کر بڑا ہوا ہوتا ہے وہ بھی کیمیکلز سے دودھ بنانے والی کمپنیوں کے نمائندوں سے ”نذرانہ ملاقات“ کرنے کے بعد نسخہ پہ لکھ رہا ہوتا ہے ”بچے کو فلاں کمپنی کا ڈبہ دودھ پلائیں چاہے وہ چار ہزار روپے کا ایک ڈبہ آتا ہے“ ۔

اور اب بی بی سی لندن والے اپنی ویب سائٹ پہ مغربی سائنسدانوں کی ریسرچ کے حوالے سے چقندر کے انسانی صحت پہ حیرت انگیز اثرات کو بیان کر رہے ہیں۔ وہی چقندر جسے سرائیکی اور پنجابی زبانوں میں رتا گونگلو یعنی سرخ شلجم اور سبزیوں والے اسے سلاد والی لال مولی کہتے ہیں۔ خیر۔

امریکی اور یورپی سائنسدانوں کی ریسرچ جو اپنے تمام تر سائنسی حوالوں کے ساتھ انٹرنیٹ پہ بھی دستیاب ہے وہ کہتی ہے کہ چقندر، ساگ، پالک اور ہرا دھنیا کی کچھ اقسام کسی حد تک نائٹرک آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ نائٹرک آکسائیڈ خون کے اندر جا کر لافنگ گیس بن جاتا ہے اور خون کی نالیوں کو تھوڑا سا پھیلاتا ہے جس سے جہاں کہیں دل کی نالیوں میں یا خون کی نالیوں میں کلاٹس یا بلاکیج آ گئے ہوں تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر خون کے اندر بہہ جاتے ہیں۔

اکبر شیخ اکبر کا اس حوالے سے کچھ ذاتی مطالعہ اور مشاہدہ بھی ہے وہ یہ کہ آپ نے سنا ہو گا کہ فلاں شخص نے ساگ کا سالن کچھ زیادہ کھا لیا تو اس کا بلڈ پریشر ہائی ہو گیا۔ ہوتا یہ ہے کہ مسلسل ساگ کھانے سے اس کے اندر نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار بڑھ رہی ہے جو خون کی نالیوں کو پھیلا کر خون کی سرکولیشن اور گزرنے کی اسپیڈ بڑھا رہی ہے جس سے اس کا بلڈ پریشر بھی بڑھ رہا ہے۔

وہ افراد جن کے جسم میں خون کی مقدار نارمل سے کچھ زیادہ ہے یعنی جسیم اور پر خون لوگ اور وہ لوگ جو مستقل طور پہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہوں وہ تو نائٹرک آکسائیڈ پیدا کرنے والی غذاؤں کے استعمال میں تھوڑا احتیاط کریں تاہم وہ لوگ جن کا بلڈ پریشر کم رہتا ہے یا ان کی خون کی نالیاں تنگ ہوئی پڑیں ہیں جس کی وجہ سے ان کے ہاتھ پاؤں سن ہو جاتے ہیں جو مستقبل میں ممکنہ فالج کا اشارہ ہوتا ہے تو ایسے لوگوں کے لیے چقندر کا بطور سلاد استعمال بہت فائدہ مند ہے۔ ہر ماہ پندرہ بیس دن تک اسے بطور سلاد کھانے سے وہ دل کے دورہ اور فالج سے بچ سکتے ہیں۔

راقم کو بہاول پور میں سبزیوں کی دکان سے چقندر چار سو روپے کلو ملا۔ بتایا گیا کہ یہ ایران اور دور دراز سے آتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ مقامی کسان بھی اسے کاشت کریں اور یہ بازار میں پچاس روپے کلو تک بھی دستیاب ہو۔ چلو اور نہیں، غریب آدمی بھی اسے کھا کر علاج کے مہنگے اخراجات سے بچ جائے۔

Facebook Comments HS