محمود الحسن کی کتاب: ”شمس الرحمن فاروقی۔ جس کی تھی بات بات میں اک بات“
کسی عبقری پر لکھنے کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔ اردو میں سب سے مقبول طریقہ خاکہ نگاری اور سوانح نگاری کا رہا ہے۔ خاکہ نگاری میں نہ چاہتے ہوئے بھی لکھنے والے کی اپنی شخصیت کا پرتو در آتا ہے جب کہ سوانح نگاری اکثر اسپاٹ اور پھیکے بیانیے میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے۔ ان چیزوں سے بچنے کے لیے محمودالحسن نے جو طریقہ اختیار کیا وہ محنت اور دقت طلب ہونے کے باوجود شان دار محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی پہلی کتاب ”شرف ہم کلامی“ کے بعد اپنی چوتھی کتاب ”شمس الرحمن فاروقی۔ جس کی تھی بات بات میں اک بات“ میں اسے نہایت کامیابی سے برتا اور استعمال کیا ہے۔
”شرف ہم کلامی“ میں ہم نے انتظار حسین جیسے کم گو اور گہرے تخلیق کار کو خود گفتگو کرتے ہوئے دیکھا اور پڑھا، جب کہ فاروقی صاحب پر محمود الحسن کی تازہ کتاب میں شمس الرحمن فاروقی کلام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان دونوں شخصیات میں بڑا فرق ہے لیکن محمود الحسن نے جس سادگی و پرکاری سے یہ کتاب تحریر کی ہے اس نے فاروقی صاحب کی مشکل اور پیچیدہ ادبی شخصیت کو قارئین کے لیے بالکل پانی کر دیا ہے۔ یہ کام بذات خود ایک کارنامے کے سوا کچھ اور نہیں۔
میں نے جب بھی فاروقی صاحب کے کام کے بارے میں سوچا تو ان کی شخصیت کی ہمہ جہتی اور گہرائی کی وجہ سے اس کا پورا احاطہ کرنے سے خود کو ہمیشہ قاصر پایا لیکن محمود الحسن کی یہ چھوٹی سی کتاب پڑھنے کے بعد مجھے یوں لگا کہ فاروقی صاحب کی پوری کی پوری ادبی شخصیت اپنی تمام تر جہتوں کے ساتھ جلوہ گر ہو کر قابل فہم بن گئی ہے۔ میں اس کتاب کو فاروقی شناسی کے ضمن میں ایک اہم سنگ میل تصور کرتا ہوں۔
اختصار و ایجاز کی حامل یہ کتاب ایک طرف فاروقی صاحب کے حوالے سے کئی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتی ہے تو دوسری طرف انہیں ان کی اپنی نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کے راستے بھی سجھاتی ہے۔ اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنے خود آگاہ تھے اور خود کو غیروں کی نظر سے دیکھنے اور پرکھنے کی زبردست صلاحیت بھی رکھتے تھے۔
اس کتاب کی سب خاص بات یہ ہے کہ اس میں فاروقی صاحب سب سے زیادہ فکشن کے بارے میں بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اپنے افسانوں اور ناولوں کے علاوہ دوسرے فکشن نگاروں کے بارے میں بھی۔ وہ قرۃ العین حیدر کو اردو کی بڑی فکشن نگار ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کی وجوہات بھی بیان کرتے ہیں۔ جب کہ انتظار حسین کو مرتبے کے لحاظ سے منٹو اور بیدی کے ساتھ رکھتے ہیں۔ وہ غلام عباس اور دیگر لکھنے والوں کو ان تینوں کے بعد جگہ دیتے ہیں۔ ان کی اس رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔
فاروقی صاحب نے فکشن کے حوالے اپنی کتاب ”اردو افسانے کی حمایت میں“ کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی اپنی سی کوشش تو کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے فکشن نگاروں کو منع نہیں کیا تھا کہ وہ حقیقت نگاری کو تج دیں۔ ان کے بقول: ”میں نے یہ تھوڑی کہا تھا کہ لکھنے کا صرف ایک اسلوب ہے، جس کو اختیار کریں۔ میں نے تو کہا تھا کہ کئی طرح کے اسلوب ہوسکتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا: ”پرانا کبھی منسوخ نہیں ہوتا۔ پرانے کو استعمال کرنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔“
فکشن کے متعلق اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ انور سجاد اور سریندر پرکاش کی دنیا چھوٹی ہونے کی وجہ سے ختم ہو گئی۔ وہ اورحان پاموک پر بھی تنقید کرتے ہیں کہ وہ اپنی تہذیب کو صرف ماضی تصور کرتے ہیں، اس میں سانس لیتے دکھائی نہیں دیتے۔ وہ اسمعیل کادارے کو اس سے بہتر فکشن نگار قرار دیتے ہیں۔
محمود الحسن کی یہ کتاب ایسی سیر بین ہے جس میں شمس الرحمن فاروقی جیسی ہمہ پہلو اور نابغہ شخصیت کے تمام رخ نہ صرف پوری طرح دکھائی دیتے ہیں بلکہ ایک خاص لو دے کر جگمگانے بھی لگتے ہیں۔ اس کتاب میں ان کی ہمہ جہتی کی یہ جگمگاہٹ سراسر محمود الحسن کی پرخلوص اور خاموش محنت کا نتیجہ ہے۔



