کیا موسیقی عضو تناسل میں خیزش کا سبب بنتی ہے؟


گزشتہ دنوں ایک معروف قلم کار ”حیدر جاوید سید“ نے اپنی فیس بک وال پہ ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا جس میں مفتی خالد مدنی امت مسلمہ کے ایک بڑے ہی اہم موضوع پر روشنی ڈال رہے تھے۔

” ان کا کہنا تھا کہ گانے وغیرہ سننا حرام ہے اور کچھ گانوں کے متعلق وہ ارشاد فرما رہے تھے کہ جو خاص طور پر ان گانوں کو سنے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا بیوی فارغ ہو جائے گی اور اس سے جو بچے جنم لیں گے وہ ناجائز کہلائیں گے اور سب سے بڑھ کر ایمان بھی رخصت ہو جائے گا“

ساتھ میں ایک خاص تاکید بھی فرمائی کہ پھر سے دائرہ انسانیت میں داخل ہونے کے لیے تجدید نکاح و مذہب کرنا پڑے گا ورنہ زندگی اندھیروں یا گمراہی میں بسر ہو گی۔

جنہیں اس بات کی فکر کرنا چاہیے تھی کہ مذہب کو کیسے آج کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے اور نئے جنم لینے والے سوالات اور چیلنجز سے کیسے نبرد آزما ہوا جا سکتا ہے وہ اس بات کا فیصلہ کرنے میں مصروف ہیں کہ کون سا گانا کفریہ ہے یا جنسی ہیجان پیدا کرتا ہے؟

معذرت کے ساتھ ہماری مذہبی فکر کے دامن میں فقط عاشقانہ آوارگی، تاویلات اور طول بیانی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، ملحدین جن سے ہم اکثر خوف زدہ رہتے ہیں ان کے سوالات کا ہمارے پاس منطقی بنیادوں پر کوئی معقول جواب نہیں ہے اور ہمارے درمیان جو تھوڑا بہت پڑھنے کا کلچر فروغ پانے لگا ہے وہ بھی انہی ملحدین کی بدولت ہے ورنہ تو پڑھنے یا سوچ سے ہمارا کیا واسطہ ہے جناب؟

حیرت کی بات ہے کہ مفتی صاحب کو وہ تمام گانے زبانی یاد تھے اور باقاعدہ پڑھ کر سنا رہے تھے اور ساتھ ساتھ تنبیہ بھی فرما رہے تھے۔

اب جن کی نظر میں موسیقی سرے سے ہی حرام ہو وہ بھلا کفریہ گانوں کا لفظ بہ لفظ کیسے حوالہ دے سکتے ہیں؟ ظاہر ہے انہوں نے پہلے یہ سب گانے خود اپنے کانوں سے سن رکھے ہوں گے تبھی تو حوالہ دیا ہے نا!

تو پھر مفتی صاحب کا خود اپنے متعلق کیا خیال ہے؟

کیا انہیں بھی تجدیدی بندوبست کا سہارا لینا پڑے گا؟ مفتی صاحب کا خیال ہے کہ یہ سب گانے کفریہ ہیں جنہیں خود انہوں نے بڑی خوبصورتی اور الفاظ کے اتار چڑھاؤ کو مد نظر رکھتے ہوئے انتہائی شاندار تلفظ کے ساتھ پیش کیا، لفظوں کی ادائیگی اور لہجے کی ملائمت سے جذبات خوب بے نقاب (یا واضح) ہو رہے تھے لیکن سماجی چغے کا بھرم بھی تو رکھنا تھا اسی لیے تو مذہبی سنجیدگی کا دامن بھی مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔

تقیہ و توریہ کی بھول بھلیوں میں الجھا کر اپنا مذہبی فریضہ بھی خوب سرانجام دے رہے تھے۔
ان کے مطابق کفریہ گانوں کی فہرست ملاحظہ فرمائیں۔

قدرت نے بنایا ہو گا فرصت سے تجھے میرے یار۔
میں پیار کا پجاری مجھے پیار چاہیے، رب جیسا ہی مجھے سندر پیار چاہیے۔
جب سے تیرے نیناں میرے نینوں سے لاگے رے،
تب سے دیوانہ ہوا سب سے بیگانہ ہوا رب بھی دیوانہ لاگے رے۔
ہر دکھ کو ہے گلے لگایا ہر مشکل میں ساتھ نبھایا، اس کی میں کیا تعریف کروں جسے رب نے فرصت میں بنایا۔
میری نگاہ میں آپ کیا بن کے رہتے ہیں، قسم خدا کی خدا بن کے رہتے ہیں۔
حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے خدا بھی نہ جانے تو ہم کیا جانیں۔
اے خدا تو نے حسینوں کی پتلی کمر کیوں بنائی، تیرے پاس مٹی کم تھی یا تو نے بھی رشوت کھائی۔

اب جمالیاتی فہم یا نزاکت کی باریکیوں سے ناواقف یا عاری شخص سے اس کے علاوہ اور کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟

مفتی صاحب کی بڑی شفقت ہے کہ انہوں نے ہم ایسے گناہ گاروں کی توجہ ان کفریہ گانوں کی طرف دلائی اور ایک اہم مسئلے پر گفتگو کی اور امت مسلمہ کی کشتی کو بھنور میں اترنے سے بچایا۔

لیکن جناب کا اپنے طبقے کے متعلق کیا خیال ہے؟

21 ویں صدی میں جہاں بہت سی لغویات و فضولیات نے دنیا کو گھیر رکھا ہے ان میں موسیقی کا بھی بہت اہم کردار ہے۔ ایک طرح سے موسیقی اور اس کی دھنیں جزو لاینفک کی طرح سے انسانی زندگیوں میں داخل ہو چکی ہیں، اب اس کے اثرات سے بھلا مذہبی طبقہ کیسے محفوظ رہ سکتا تھا؟

آج مذہبی نعتیں یا حمد موسیقی کے لہجوں یا دھنوں کے بغیر نامکمل سی لگتی ہیں اور بڑے بڑے نعت خواں انڈین گانوں کے طرز پر نعتیں پڑھتے ہیں اور باقاعدہ آلات موسیقی کا استعمال کرتے ہیں۔

اے شیخان و مفتیان اک نظر اس طرف بھی کیجئے اور امہ کی رہنمائی فرمائیں کہ کیا حمد و ثنا میں موسیقی ٹچ جائز ہے؟ اے شیخان تقوی و طہارت براہ کرم ہم گناہ گاروں کی رہنمائی فرمائیں کہ گناہ کے براہ راست اثرات انسانی تعلقات خاص طور پر خواتین پر ہی کیوں پڑتے ہیں؟

کیا نکاح یا دو بالغ انسانوں کا باہمی رشتہ اس قدر کمزور یا کچا ہوتا ہے جو فقط چند گانے سن لینے پر ختم ہو جاتا ہے؟

ہم دائرہ مذہب میں داخل ہو کر کے اس قدر حساس اور نازک سے کیوں ہو جاتے ہیں؟

کس قدر عجیب سی کہانیاں ہم نے بنا رکھی ہیں کہ اگر ایک خاتون اپنے شوہر کے جنسی جذبات میں طوفان برپا نہ کر پائے یا ناکام رہے تو وہی گنہگار ٹھہرے گی بھلے مرد چاہے جنسی طور پر اجڈ یا گنوار ہو یا جنسی فہم سے عاری ہو، کیا فرق پڑتا ہے؟

مذہبی چینلز کے تھمب نیل ملاحظہ کر لیں، خاص طور پر مفتی طارق مسعود، فرحت ہاشمی اور مولانا مکی الحجازی کے چینلز کے تھمب نیل دیکھ لیں آپ کو لگے گا کہ شاید منبع گناہ صرف اور صرف خواتین ہوتی ہیں مرد تو سارے دودھ کے دھلے ہوتے ہیں۔

مذہبی فکر کو خواتین کے وجود کی اتنی فکر کیوں دامن گیر رہتی ہے؟
جو نظر و فکر گانوں میں سے کفر ڈھونڈ نکالتی ہے اسے اپنے دامن کے بڑے بڑے چھید دکھائی کیوں نہیں دیتے؟

عقیدہ و فرقہ کی بنیاد پر اور معمولی معمولی باتوں پر ایک دوسرے پر فتویٰ بازی کرنا اور دائرہ مذہب سے خارج کر دینے کا چلن ہمیں دکھائی کیوں نہیں دیتا؟

ہماری روایتی فکر ہمیشہ سیکس کے گرد ہی کیوں گھومتی رہتی ہے؟
ہماری سوچ شلوار اور خاتون کی دو ٹانگوں کے درمیان سے باہر کیوں نہیں نکل پاتی؟

ہماری دنیاوی فراست کا تو پہلے ہی کوئی پرسان حال نہیں لیکن مذہبی فہم اس سے بھی بدتر ہے جس نے فقط اب تک تقسیم کو جنم دیا ہے۔

ہمارا اب تک کا مذہبی فہم دنیا کے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہے، ہماری مذہبی تفہیم و تشریح میں سے جہالت جھانکتی دکھائی دیتی ہے۔

اس میں اتنے بڑے بڑے شگاف اور خلا ہیں جنہیں ہماری مذہبی فکر جذباتیت سے بھرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے عقل اور منطق سے تو ہمارا دامن خالی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسی بے بسی اور ہزیمت سے بچنے کے لیے ہمیں غیر منطقی اور بے تکی سی باتوں پر عقلی غلاف چڑھانا پڑتا ہے۔

شاید اسی لیے ہم غیر ضروری اور نامعقول سی باتوں میں الجھے رہتے ہیں۔

Facebook Comments HS