سفید لباس عروسی۔ ایک تاریخی جائزہ


آج کل مغربی ممالک اور مشرق وسطیٰ تک میں شادی کے وقت دلہن کے لیے سفید لباس عروسی زیب تن کرنا لازم سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس کی مقبولیت کے سبب سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی پرانی روایت ہے حالانکہ ایسا نہیں، آئیے جانتے ہیں۔

10 فروری 1840 ء کو برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کی شادی شہزادہ البرٹ سے ہوئی تو ملکہ وکٹوریہ نے اس موقع پر اپنے لیے روایت سے ہٹ کر سفید لباس عروسی منتخب کیا۔ یہ لباس بہت مقبول ہوا اور جلد ہی برطانیہ سے لے کر، امریکہ تک میں متوقع دلہنیں اپنے لیے سفید لباس عروسی ہی منتخب کرنے لگیں۔ اس روایت نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ 20 ویں صدی کے وسط تک ہر سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والی دلہنوں نے سفید رنگ کا انتخاب کرنا شروع کر دیا تھا۔

ملکہ وکٹوریہ کے مشہور زمانہ ”سفید لباس عروسی“ پہننے کے دس سالوں بعد ہی امریکی جریدے ’خواتین میگزین‘ نے ایک مضمون میں دعویٰ کیا کہ یہ روایت تو زمانہ قدیم سے چلی آ رہی ہے نیز یہ کہ سفید رنگ کا انتخاب اس لیے کیا جاتا ہے کہ یہ پاکیزگی اور دوشیزگی کی علامت ہے۔ انہوں نے لکھا:

”زمانہ قدیم سے ہی روایت رہی ہے کہ دلہن کے لباس عروسی کے لیے کپڑا چاہے جو بھی منتخب کیا جائے، سفید رنگ ہی مناسب ترین انتخاب رہتا ہے“

حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے اور تاریخ میں کم ہی عورتوں نے لباس عروسی کے لیے سفید رنگ کا انتخاب کیا ہے۔ ملکہ وکٹوریہ سے قبل ایسا کرنے والی عورت کو ”عجیب و غریب“ سمجھا جاتا تھا۔ برصغیر میں تو روایتی طور پر سرخ لباس عروسی کا رواج تھا، اتنا کہ ہمارے تقریباً سبھی روایتی شادی بیاہ کے گانوں میں ”سرخ جوڑے“ کا تذکرہ بکثرت ملتا ہے (یہ الگ بات ہے کہ اب ہمارے ہاں بھی یہ روایت دم توڑ رہی ہے، اب سبز، سنہری، سفید اور دیگر کئی رنگوں کے لباس استعمال ہوتے ہیں ) نیز اس سے قبل اگرچہ خواتین بہترین دستیاب جوڑا ہی شادی کے دن پہنتی تھیں لیکن کسی ”شادی کے مخصوص جوڑے“ کا کوئی تصور نہ تھا۔

گویا سفید لباس عروسی نہ تو کوئی قدیم روایت ہے نہ ہی ”پاکیزگی کا نشان“ بلکہ یہ روایت ملکہ وکٹوریہ کی شہزادہ البرٹ سے شادی کے بعد ہی وجود میں آئی ہے۔

نوٹ: یہ تصویر سر جارج ہیٹر کی پینٹ شدہ ہے اور اس کا نام ”ملکہ وکٹوریہ کی شادی“ ہے۔

Facebook Comments HS