الیکشن کے بعد


الیکشن کے بعد وفاق میں حکومت سازی کا مرحلہ بلکہ معرکہ سر کرنے کے لئے ملک کی تینوں بڑی پارٹیوں کی جانب سے دعوے کیے جا رہے ہیں تحریک انصاف جس کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی تعداد زیادہ ہے اس کے رہنماؤں کی جانب سے دعوے کیے جا رہے ہیں کہ وفاق کی حکومت وہ بنائیں گے جبکہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی جن کے منتخب ممبران کی تعداد بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے وہ ایک اتحادی حکومت بنانے کی داغ بیل ڈالنے جا رہے ہیں۔

مجھے یہ تو علم نہیں کہ تحریک انصاف کے رہنماء کن بنیادوں پر وفاقی حکومت کا دعویٰ کر رہے ہیں بلاشبہ وہ اکثریتی پارٹی ہے لیکن اس کے منتخب اراکین کی تعداد حکومت سازی کے لئے مطلوبہ تعداد سے کہیں کم ہے اور وہ کسی دوسری بڑی پارٹی کے ساتھ اتحاد پر بھی تیار نہیں ہیں اس لئے قیاس یہی کیا جا رہا ہے کہ جس طرح ماضی میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے چند اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے عبوری حکومت بنائی تھی اب بھی ایک ایسی ہی حکومت کی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں ان دونوں پارٹیوں کے علاوہ ایم کیو ایم بھی حصہ دار ہو گی جبکہ خیبر پختونخوا ، سندھ اور بلوچستان سے کسی علاقائی پارٹی کی حکومت میں شمولیت غیر متوقع ہو گی۔

ملک کے صف اول کے سیاستدانوں کی رائے ہے کہ اتحادی حکومت ایک کمزور حکومت ہو گی جس کا دورانیہ کچھ زیادہ نہیں ہو گا یعنی حکومت کے قیام سے پہلے ہی اس کی مدت کے متعلق شک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دوسرا اچنبھے کی بات یہ ہے کہ نواز لیگ جو کہ میاں نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم بنانے کے لئے پر عزم رہی ہے اور انتخابی مہم میں ووٹرز کو جلسوں جلوسوں اور میڈیا کے ذریعے مسلسل یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ میاں نواز شریف ہی وزیر اعظم کے امیدوار ہیں لیکن الیکشن نتائج کے بعد اس صورتحال میں تبدیلی آ گئی ہے اور اب وزیر اعظم کا امیدوار تو نون لیگ کا ہی ہو گا لیکن وہ شہباز شریف ہوں گے۔

وزیر اعظم کے امیدوار میں یہ یو ٹرن کیوں لیا گیا اس کے متعلق تو نون لیگ ہی بہتر تبصرہ کر سکتی ہے لیکن شنید یہی ہے کہ میاں نواز شریف کسی ایسی حکومت کو لیڈ نہیں کرنا چاہتے جو مستعار لی گئی بیساکھیوں کی مدد سے کھڑی کی گئی ہو اور مسلسل لڑکھڑاتی رہے وہ کلی اقتدار کے قائل ہیں لیکن دوسری جانب پنجاب میں حکومت سازی کے لئے ان کی پارٹی سادہ اکثریت حاصل کر چکی ہے جس کی سربراہی کے لئے انہوں نے اپنی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کو منتخب کیا ہے جو ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی سیاست کا حصہ بن رہی ہیں اور وہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کا اعزاز حاصل کرنے جا رہی ہیں۔

محترمہ مریم نواز کی نامزدگی کو پیش منظر میں دیکھتے ہوئے یہ لگتا ہے کہ میاں نواز شریف کی سیاست کا تمام تر دار و مدار اور محور اب پنجاب کی سیاست ہوگی اور وہ پنجاب کے عوام میں نون لیگ کی مسلسل کمزور پڑتی مقبولیت کا تدارک کرنے کی کوشش کریں گے۔ پنجاب کی حکومت دراصل پاکستان کی حکومت کا کردار کرتی ہے اور جو پارٹی پنجاب میں کامیاب ہو جائے وہ مرکز کی سیاست میں بھی کامیاب رہتی ہے۔ میاں نواز شریف کے لئے مشکل یہ ہو گی کہ اس دفعہ مرکز میں ان کے پاس مکمل اقتدار نہیں ہو گا اور ان کی پرانی حریف جماعت پیپلز پارٹی ان کے ساتھ اقتدار میں شراکت دار ہو گی۔ ماضی میں بھی پیپلز پارٹی کے 2008 کے دور حکومت میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیے گئے میثاق جمہوریت کی پاسداری کرتے ہوئے نواز لیگ چند ماہ کے لئے شراکت اقتدار رہی تھی لیکن یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور نون لیگ کے وزراء نے جلد ہی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

پی ڈی ایم کی حکومت کا تجربہ ایک محدود مدت کے لئے تھا اور شراکت دار جانتے تھے کہ یہ ایک محدود مدت کی حکومت ہے لیکن اب تو پانچ سال کے لئے شراکت اقتدار کا فارمولا طے پانے جا رہا ہے اور ایک ایسی حکومت کی تشکیل ہونے جا رہی ہے جس کو تحریک انصاف کی ایک مضبوط ترین اپوزیشن کا سامنا ہو گا اور وہ بھی ایسی حکومت جس میں شامل بیشتر اراکین کا منتخب ہونا ہی ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے جس پر راولپنڈی کے کمشنر نے مہر بھی ثبت کر دی ہے تاہم وہ اس ضمن ابھی تک کوئی ثبوت تو پیش نہیں کر سکے لیکن ملک بھر میں جاری احتجاج کو انہوں نے مہمیز ضرور بخش دی ہے۔ یہ سوال بھی ہنوز جواب طلب اور مسلسل گردش میں ہے کہ کمشنر بہادر نے اتنی جرات کا مظاہرہ کیسے کیا یا کس نے انہیں اس بیان پر مجبور کیا اس سوال کے جواب میں کسی بھی باخبر ذرائع کے پاس مستند معلومات کا فقدان ہے۔

الیکشن کے بعد بھی سیاسی میدان میں صورتحال دگر گوں ہے اور اگر سیاستدانوں کے بس میں ہو تو وہ وفاقی حکومت بنانے سے یکسر انکار کر دیں۔ چند روز قبل تک میاں نواز شریف اور ان کے قریبی رفقائے کار بھی اس بات پر متفق تھے کہ مرکز میں حکومت سے جان چھڑا لی جائے لیکن پنجاب کی حکومت سے منسلک وفاقی حکومت بنانے میں ضرور کچھ مجبوریاں بھی ہوں گی۔ ’نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن‘ والا معاملہ نظر آتا ہے۔ بہر حال طوعاً کر اہاً نون لیگ اور پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر حکومت چلانے کی کوشش کریں گی جس کے لئے پہلے تو پیپلز پارٹی نے غیر مشروط طور پر نون لیگ کو بغیر کسی وزارت کے صرف ووٹ کا اعلان کیا تھا لیکن بعد ازاں پیپلز پارٹی حکومت کا باقاعدہ حصہ بننے پر رضامند ہو چکی ہے اور اس کے متعلق حتمی فیصلہ جلد ہی متوقع ہے۔

دوسری جانب نون لیگ کے سینئر ترین رہنماء خواجہ سعد رفیق جو کھری بات کہنے سے کبھی ہچکچاتے نہیں ہیں انہوں نے اپنی پارٹی کی غلطیوں کی نشاندہی کر کے اصلاح کرنے کی بات کی ہے جبکہ بانی پی ٹی آئی کو بھی اپنی غلطیاں ڈھونڈنے کا کہا ہے۔ وہ مسلم لیگ کی حکومت کو کانٹوں کا تاج کہہ رہے ہیں جو کہ بلاشبہ ایک ایسا سچ ہے جس کی تعبیر جلد سامنے آ جائے گی۔ خواجہ سعد رفیق ایک خاص مدت کے لئے قومی اسمبلی کی تمام نمائندہ جماعتوں کی قومی حکومت کا مشورہ بھی دے رہے۔

کسی بھی سیاسی پسند ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر اگر ریاست پاکستان کے مفاد کو دیکھا جائے تو قومی حکومت کی تشکیل وقت کا تقاضا بن چکی ہے ایک ایسا ملک جو دہشت گردی کا شکار ہو، معیشت سسکیاں لے رہی ہو، باہمی نفرتیں عروج پر ہوں ان حالات میں یہ ایک صائب رائے ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ نقار خانے میں سعد رفیق کی توانا آواز اور برمحل رائے کہیں دب گئی ہے اور الیکشن کے بعد ملک میں استحکام کی جو باتیں کی جا رہی تھیں وہ استحکام کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہا۔ راقم نے انہی کالموں میں کئی بار یہ لکھا تھا کہ الیکشن کے بعد ملک میں استحکام کی بجائے بگاڑ زیادہ ہو گا اور یہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ریاست کے کسی ستون کی جانب سے اس بگاڑ سے بچاؤ کی کوئی تدبیر نہیں کی جا رہی ہے۔

۔ ۔ ۔

Facebook Comments HS