ضمیر نامہ


وطن عزیز میں ان دنوں سوتے، جاگتے اور اونگھتے ہوئے ضمیروں کے خوب چرچے ہیں۔ ضمیر سے مراد باطن، قلب، اخلاقی آگاہی اور خیر و شر میں تمیز کرنے کی حس ہے۔ انگریز لوگ اسے conscience کہتے ہیں۔ ہر شخص کے اندر ایک عدد ضمیر ہوتا ہے جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ید طولیٰ رکھتا ہے۔ جی چاہا تو جاگ لیا، جی چاہا سویا کیا۔ قوم کے ہر فرد کا ضمیر اپنے تئیں بیدار اور زندہ ہوتا ہے مگر باقی سب لوگ مردہ یا خوابیدہ ضمیر ہوا کرتے ہیں۔ گویا حق و باطل کی مثل آئینہ ضمیری اور ضمیر فراموشی بھی اپنی اپنی مرضیوں کے عین مطابق ہے۔ مخالفین اور حریفوں کے ضمیر ہمیشہ سوئے رہتے ہیں جبکہ اپنے اور اپنے ہم فکروں کے ضمیر صدا بیدار اور چاک و چوبند رہتے ہیں۔ جب کبھی ہم معتوب ہوں تو پوری قوم کے ضمیر سوئے ملتے ہیں اور شاعر یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ

ضمیر قوم پر آہستہ بولو ابھی ٹک ڈرتے ڈرتے سو گیا ہے
اک اور شاعر کے مطابق۔
ہمارے دیس کے ہر گھر میں ناصر ضمیر اب لمبی تانے سو رہے ہیں۔

ادھر گرامر کی رو سے ضمیر ایسا کلمہ ہے جو کسی اسم کی جگہ برتا جاتا ہے۔ سو اس لحاظ سے ہم سب ہی ضمیر ہوئے کیونکہ یہاں ہر نفس اپنا کام چھوڑے دوسرے کے کام میں پڑا ہے۔ ضمیر کی ایک قسم، ضمیر شخصی، ہے جس میں مخاطب، مخاطب اور غائب پائے جاتے ہیں۔ سبھی کا ماننا ہے کہ مخاطب اور مخاطب آمنے سامنے ہونے کی وجہ سے باضمیر اور غائب اپنی غیر موجودگی کے موجب بے ضمیر ٹھہرتا ہے۔ کچھ لوگ اتنے مردہ ضمیر ہوتے ہیں کہ ان کا ضمیر بڑی بڑی کارروائیوں سے بھی نہیں جاگتا، بقول شاعر،

خوابیدہ ضمیروں پہ ہوا شور قیامت خدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہے۔

دیکھیں تو ضمیر ایک جان دار انسان کی حس ہے اور انسان کے دیر اعضا اور محسوسات کی طرح اسے بھی آرام و سکون کی ضرورت ہے۔ اگر ضمیر ہمہ وقت جاگتا رہے تو اس کے ویسے ہی چل جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اسی لیے جن لوگوں کا ضمیر ہر وقت جاگتا رہتا ہے انہیں ہزار ہا عوارض لاحق رہتے ہیں۔ وہ تنہائی و رسوائی کا شکار ہو کر خوار ہوتے ہیں اور معاشرے میں ان کی بقا مشکل ہوجاتی ہے۔ لہٰذا کبھی کبھار ضمیر کا سو جانا معاشرے میں امن و سکون کی نوید ثابت ہوتا ہے جبکہ جہلاء کے ضمیر کی غیر ضروری بیداری سماج میں نقص امن کی وعید ہوتی ہے۔ جذباتی معاشروں میں اکثر مذہبی و سیاسی معاملات میں ضمیر کچھ زیادہ ہی جاگ اٹھتا ہے اور سونے کا نام ہی نہیں لیتا جسے مجبوراً بزور شمشیر سلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اسی لیے شاعر کا مشورہ ہے، کہ

وہ کب بدلیں خدا جانے ضمیر و تم تو سو جاؤ پریشاں خلق ساری ہے ضمیر و تم تو سو جاؤ
اس لیے سیانا بندہ اپنے ضمیر کو یہ مشورہ ضرور دیتا ہے،
ہر وقت کا جاگا، تجھے بیمار نہ کردے تنہائی کے لمحوں میں کبھی سو بھی لیا کر

شعور انگشت بدنداں ہے کہ یہ قوم انقلاب کی داعی ہے مگر اس کا ہر بندہ اپنے فرائض سے یکسر غافل ہو کر دوسروں کی مردہ ضمیری کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے۔ جیسے دیس میں کرنے کو کوئی کام ہی نہ ہو اور ہر وقت قوم کا ہر فرد مفتی۔ دانشور، عالم، مصلح، انجنئیر اور طبیب بن کر سوشل میڈیا پر دوسروں کے ضمیر جھنجھوڑنے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ آہ بے چارے ضمیر پر کیا گزرتی ہوگی؟

Facebook Comments HS