نیل کے ساحل پر کچھ دن اور


ہرم خوفو کے اندرونی حصے کی مہم جوئی کے بعد تجسس تمام ہو چکا تھا۔ یہ تجسس ہی ہوتا ہے، جان لینے کی جستجو، سر کر لینے کی خواہش، جو کسی بھی مہم جو کو مہمیز کرتی ہے۔

بقیہ دو اہرام جن کے بارے میں شنید تھی کہ تنگ تر ہیں، انہیں اندر سے جان لینے کی کوئی جستجو باقی نہ رہی۔ لہذا تانگے بان کو واپس چلنے کو کہا۔

گھوڑے کی ٹاپ اور تانگے کے ہچکولوں نے پیچھے بہت پیچھے، بچپن میں دھکیل دیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا۔ تانگہ گزہ میں نہیں لاڑکانہ کے گلی کوچوں میں دوڑ رہا ہے۔ گھر پہنچا ہی چاہتے ہیں، جہاں امی اشتہا انگیز کھانوں سے سجے دسترخوان بچھائے منتظر ہوں گی۔ کپڑے تبدیل کرنے کا کہاں یارا ہو گا، بس ہاتھ منہ دھو کر کھانے پر ٹوٹ پڑیں گے، ساتھ میں پورے دن کی روداد بھی چلتی رہے گی۔ کیا پڑھا لکھا، ٹیچر نے کس بات پر تعریف کی کس پر سرزنش ہوئی۔ کس سہیلی کی بات بری لگی، کون سی نئی دوست بنی۔ چاہے امی کو ان موضوعات میں دلچسپی ہو نہ ہو، مگر وہ پوری توجہ سے سن رہی ہیں۔

تانگہ ایک جھٹکے سے رکا گویا فلم کی ریل ٹوٹ گئی۔ لاڑکانہ کی گلیاں کہیں تحلیل ہو گئیں اور امی کی روح واپس لوٹ گئی۔

تانگہ اہرام کے مقابل پپائرس آرٹس سنٹر کے سامنے رکا تھا۔ ہم نے تانگے بان کو معاوضہ ادا کیا اور پپائرس آرٹس سنٹر میں داخل ہو گئے۔ وسیع شوروم میں پپائرس پر بنائی گئی قدیم مصری تہذیب و تمدن اور اساطیری کرداروں کی تصاویر برائے فروخت تھیں۔ پپائرس ازمنہ قدیم کا صفحہ قرطاس کہا جاسکتا ہے۔ پپائرس ایک آبی پودا ہے جو نیل کے ساحلی علاقوں میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔ قدیم مصری اس کے گداز تنے سے صفحات بنا کر مکتوب نگاری اور تصویر کشی کے لئے استعمال کیا کرتے تھے۔ بعد ازاں کھال پر لکھا جانے لگا اور پھر کاغذ کی ایجاد نے ہر دو کو متروک کر دیا، لیکن مصری اسے ثقافتی ورثے کی حیثیت سے اب تک سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ ہلکے سنہرے رنگ کے صیقل شدہ صفحات پر خوبصورت تصاویر دستیاب ہیں جنہیں آسانی سے رول کر کے ساتھ لے جایا جا سکتا ہے۔

تین مصری ملکاؤں کی تصاویر نے ہماری توجہ حاصل کی۔

ملکہ نفرتیتی ( 1370۔ 1330 قبل مسیح) شہنشاہ اخناتین کی مہارانی تھی۔ وہ ایک خوبصورت اور ذہین خاتون تھی۔ ملکی معاملات میں اس کا عمل دخل رہا۔ منصوبہ سازی اور ان پر عمل درآمد میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ شانہ بہ شانہ برسر پیکار رہی۔ ان کے دور میں متعدد خداؤں پر پابندی لگادی گئی اور صرف سورج دیوتا کی عبادت جائز قرار دی گئی۔ ایک نیا شہر امرنا بسایا اور راجستھانی تھیبیس سے امرنا منتقل کی۔ اخناتین کی موت کے بعد توتن خامن نے اقتدار سنبھالا اور اخناتین کے تمام اقدامات منسوخ کر دئے۔

نفرتیتی کہیں غائب ہو گئی اور تاریخ میں پھر اس کا تذکرہ نہیں ملتا اس کی موت کے بارے میں میں صرف خیال آرائی ہے کہ شاید اس نے نیل میں کود کر جان دے دی۔ یا پھر کسی اور نام سے زندہ رہی۔ 1913 ع میں جرمن ماہر آثار قدیمہ لڈوگ برشارٹ نے امرنا کے کھنڈرات سے نفرتیتی کا نصف مجسمہ دریافت کیا۔ وہ دلکش خد و خال کا چہرہ تھا اس کے کان چھدے ہوئے تھے، آنکھوں میں کاجل تھا اور اس کی گردن صراحی دار تھی۔ اس نے منفرد وضع کا نیلا تاج پہنا ہوا تھا۔ جرمن ماہرین اور مصری حکومت کے مابین نوادرات کی تقسیم کے معاہدے کے تحت نفرتیتی کا مجسمہ برلن لے جایا گیا اور وہ آج بھی برلن کے نیوس میوزیم میں ہے۔ اس کی نقول اور تصاویر مصر کے بازار میں عام دستیاب ہیں۔

ملکہ نفرتاری ( 1301۔ 1251 قبل مسیح) رمسیس دوم کی ملکہ تھی۔ وہ بہت حسین اور اپنے دور کی اعلی تعلیم یافتہ تھی۔ اس کے بے پناہ حسن و جمال کے سبب اسے نفرتاری یعنی سب سے حسین کا لقب عطا کیا گیا۔ ان کے دور میں مصری سلطنت انتہائی طاقتور اور خوشحال تھی۔ اپنی خوبصورتی ذہانت اور علم کے باعث وہ خطے کی دوسری سلطنتوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔ رمسیس اس کا دیوانہ تھا۔ اس نے اس کے نام پر شاندار مندر تعمیر کروایا۔ شاہ جہاں سے صدیوں پہلے رمسیس نے اپنی چہیتی ملکہ کی موت کے بعد عالی شان مقبرہ بنوایا۔ یہ دونوں مقام مصر کے لکسور شہر میں سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔

ملکہ کلوپیٹرا قدیم مصر کی آخری ملکہ تھی۔ 30 قبل مسیح میں اس کی موت کے بعد مصر پر رومیوں کا تسلط قائم ہو گیا۔ وہ نہایت طاقتور حکمران تھی۔ وہ خوبصورت نہیں تھی مگر اپنی جنسی کشش اور ذہانت سے سیاسی مقاصد حاصل کرنا جانتی تھی۔ جولیس سیزر اور مارک انتھونی دونوں اس کے عشق میں گرفتار ہوئے اور ان کے توسط سے رومی سلطنت پر اس کا اثر و رسوخ رہا۔

***       ***

اگلا دن سقارہ اور میمفس کے لئے مخصوص تھا۔ قدیم مصری قبرستان سقارہ، قاہرہ سے 30 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہاں چار نمایاں اہرام اور کئی مقبرے ہیں۔ یہ اہرام ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر واقع ہیں۔ ان میں اہم ترین زینہ ہرم یا اسٹیپ پیرامڈ ہے۔ یہ گزہ کے اہرام سے مختلف ہے۔ اس کا ہر طرف چھ سیڑھیوں والے زینے کی طرح ہے۔ اس کی بلندی 60 میٹر ہے اور بلند ترین مقام نوکیلے کی بجائے مسطح ہے۔ کہا جاتا ہے یہ سب سے قدیم ہرم اور دنیا کی پہلی سنگی تعمیر ہے۔

اس سے ملحقہ قدیم تدفین گاہ ہے جہاں اپنے وقت کے اکابر مدفون ہیں۔ دیواروں پر اہل قبور کے متعلق تصاویر ہیں اور قدیم مصری زبان کی تحریریں ہیں۔ قدیم مصری زبان ایک تصویری زبان تھی جس کی جابجا مثالیں قدیم مندروں اور مقابر میں ملتی ہیں۔ اس لئے اس زبان کو یونانیوں نے Hieroglyphs یعنی مقدس نقش کا نام دیا۔ اس کی ترقی یافتہ شکل ڈیموٹک تھی۔ قدیم مصری زبانوں کا اسرار سمجھنے میں روزیٹا اسٹون نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ روزیٹا اسٹون 1799 میں کھدائی کے دوران دریافت ہوا۔ اس پر 196 قبل مسیح کے مصری بادشاہ کا ایک ہی فرمان یونانی، ڈیموٹک اور ہائروگلف میں نقش ہے۔ یوں روزیٹا اسٹون کو پہلی قدیم مصری لغت کا درجہ حاصل ہے۔

وہاں تعینات مصری عملے کا دعوی تھا کہ وہ ہائروگلف سے واقف ہیں۔ ہم نے ایک کاغذ قلم انہیں تھمایا اور قدیم مصری زبان میں ہمارا نام لکھنے کو کہا۔ قدیم مصری زبان جاننے کے دعویدار نے کاغذ پر طلوع ہوتے سورج سے ابتدا کی، دو پرندے، ایک بانبی اور ایک شیر کی تصویر بنا کر کاغذ ہمیں تھما دیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

ویسے آج کل سوشل میڈیا پر ایک بار پھر تصویری زبان کا چلن ہے۔

ہماری اگلی منزل ازمنہ فرعون کا پاۂ تخت میمفس (memphis) تھی۔ اس چھوٹے سے تاریخی شہر میں جابجا چھوٹے بڑے مجسمے ایستادہ ہیں۔ میوزیم میں رمسیس دوم کا ناقابل یقین دیوہیکل مجسمہ صاحب فراش ہے۔ اسے ایک نظر میں پورا سمانے کے لئے ہمیں پہلی منزل کی گیلری تک جانا پڑا۔ 1820 ع میں ایک اطالوی ماہر آثار قدیمہ (Giovani Battista Cavigilia) نے یہ مجسمہ دریافت کیا۔ اس کا وزن 83 ٹن اور لمبائی 11 میٹر ہے۔ یہ مجسمہ 1274 ق م میں رمسیس کی ایک عظیم فتح کے بعد بنایا گیا تھا۔

دوپہر ہو چلی تھی اب ہمیں خان الخلیلی بازار جانا تھا۔ خان الخلیلی قدیم و جدید مصری ثقافت و دست کاری کی نمائش گاہ ہے۔ مصری اپنے تاریخی تشخص کو قومی ورثے کا درجہ دیتے ہیں۔ ماضی سے خود کو منقطع نہیں کرتے۔ قدیم دور فرعون سے جڑت میں مذہب آڑے نہیں آتا۔

خان الخلیلی بازار سے ہم نے نفرتیتی کے مجسمے کی نقل خریدی۔ صاحبزادی کے لئے تینوں ملکاؤں کی شبیہ کے بیگ کی تصاویر واٹس آپ کیں اور انہوں نے بھی نفرتیتی کو چنا۔ اونٹ کی ہڈی سے بنی مصنوعات انتہائی دیدہ زیب اور انیق تھیں۔ صاحبزادے کے لئے شطرنج کی بساط لینا چاہتے تھے مگر اس کے جیب تراش دام نے آگے بڑھنے پر مجبور کر دیا۔ مصری یہ دعوی کرتے ہیں کہ دنیا میں سب سے پہلے سوتی لباس مصر میں بنایا گیا۔ وہ اپنی سوتی مصنوعات پر ناز کرتے ہیں۔ ہم نے اسکارف اور ٹی شرٹس خریدیں۔

شام کو شیریں کا فون آیا۔ ”سات بجے سٹی سنٹر پہنچو۔ رات کا کھانا وہیں کسی ریسٹورنٹ میں کھائیں گے اور ووکس سنیما میں“ باربی ”مووی دیکھیں گے۔ بہن بیٹی اور خالہ سب ہوں گی ۔ صاحبزادی کا مطالبہ ہے کہ ساری خواتین گلابی لباس زیب تن کریں۔“

”یا وحشت یہ کیسی شرط ہے۔ میرے سوٹ کیس میں گلابی رنگ کا لباس نہیں ہے۔“
”تمہاری ہوٹل کے نیچے کپڑوں کی کافی دکانیں ہیں“ اور فون بند ہو گیا۔

فلم سے زیادہ میں شیریں کی صاحبزادی سے ملنے میں دلچسپی رکھتی تھی۔ وہ مصر میں زیر تعلیم ہیں اس لیے مسقط میں مل نہیں سکے تھے۔ سو شیریں کی ہدایت پر عمل کرنے کے سوا چارہ نہ تھا۔

***       ***

اگر آپ قاہرہ کے قابل دید مقامات گوگل کریں، تو آپ کو اسلامی قاہرہ کا عنوان نظر آئے گا۔ اسلامی قاہرہ کی اصطلاح اسلام کی آمد کے بعد کے تاریخی مقامات کو دور فرعون سے متمیز کرتی ہے۔ اس میں قدیم فصیل دار شہر ”المعز“ ، صلاح الدین ایوبی کا قلعہ، جامعہ ازہر، دوسری مساجد اور مزارات وغیرہ شامل ہیں۔ اسلامی قاہرہ کو 1979 میں یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دیا گیا۔ المعز میں قلعے کی دیواریں جزوی طور پر موجود ہیں۔

اونچے محرابی صدر دروازے کے پار پورا شہر آباد ہے۔ مکان، بازار۔ اسکول مسجد کیا نہیں۔ ہم نے المعز کے بازار سے سرخ عقیق کی جیولری خریدی۔ تازہ پھلوں کا جوس پیا اور تازہ دم ہو کر صلاح الدین ایوبی کے قلعے کا رخ کیا۔ صلاح الدین ایوبی صلیبی جنگوں، بیت المقدس کے فاتح اور ایک بہادر اور اصول پسند جنگجو کے طور پر تاریخ میں زرین مقام رکھتے ہیں۔ 1176 ع میں اس قلعے کی تعمیر صلاح الدین ایوبی کے حکم سے شروع کی گئی مگر وہ اس کی تکمیل تک حیات نہ رہے اور ان کے جانشینوں ملک الکامل اور محمد علی پاشا نے اس قلعے کی تعمیر مکمل کی۔

یہ قلعہ، ایوبی، مملوک اور عثمانی دور حکومت میں مسند حکمرانی رہا۔ 62 ایکڑ پر پھیلے اس قلعے کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ شمالی حصہ صدر باب، عسکری تنصیبات، نگہبان کے برج اور زندان پہ مشتمل ہے۔ عسکری عجائب گھر بھی یہیں ہے۔ جنوبی حصے میں محلات ہوا کرتے تھے۔ اس قلعے میں دو خوبصورت مساجد ہیں۔ مسجد ابن قلاوون اور مسجد محمد علی پاشا۔

اگلے دن جمعہ تھا اور ہمیں جامعہ الازہر میں جمعے کی نماز پڑھنی تھی۔ جامعہ الازہر 970 عیسوی میں فاطمید دور حکومت میں اسلامی تعلیمات کے مرکز کے طور پر قائم کی گئی۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں علماء کے سیاسی کردار اور نظام مملکت میں ان کے عمل دخل میں اتار چڑھاؤ آتے رہے مگر مرکز اسلامی علوم کی حیثیت سے اس کی اہمیت امر مسلمہ رہی۔ جمال عبد الناصر کے دور میں اسے قومیانے کے بعد جدید علوم کی تعلیم شامل کر کے اسے یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔

جدید علوم کے لئے علیحدہ کیمپس ہے۔ جامعہ ازہر میں طلباء و طالبات کے لئے مسجد کے ہالوں میں درس و تدریس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جامعہ الازہر تعمیر و تزئین کے کئی ادوار سے گزری ہے۔ لیکن اس کے بنیادی ڈھانچے کو اسی طرح محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فاطمیدی دور کا صحن اور مملوکوں کے بنائے گئے مینار اسی طرح قائم رکھے گئے ہیں۔

جمعے کا خطبہ چل رہا تھا۔ مردوں کے عقب میں خواتین۔ صف آرا تھیں۔ تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے ہمیں دالان میں جگہ ملی۔ اکتوبر کی دھوپ میں بھی حدت کی شدت تھی۔ شعائیں گرم سلاخوں کی طرح جلاتی تھیں اوپر سے دالان میں پنکھے بھی نہیں تھے۔ حبس سے دم گھٹا جاتا تھا۔ ہم نے ایک ناظمہ سے پنکھے نہ ہونے کا سبب پوچھا۔ ان کے مطابق یہ مسجد تاریخی ورثہ ہے اور تاریخی ورثے کو جوں کا توں محفوظ رکھنے کا حکم ہے۔ لہذا بجلی کی نئی لائن اور پنکھوں کی تنصیب نہیں کی جا سکتی۔ واللہ اعلم۔

مسجد کے باہر وین والے، مسجد سیدہ زینب کے آوازیں لگا رہے تھے اور لوگ جوق در جوق جا رہے تھے ہم بھی ہو لیے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مسجد سیدہ زینب بنت علی کے مرقد کے ساتھ بنائی گئی ہے۔ سیدہ ذینب کو آخری ایام میں مصر جلاوطن کر دیا گیا تھا اور وہ یہاں مدفون ہوئیں۔ تاہم اہل تشیع کی اکثریت اس سے متفق نہیں۔ ان کا ماننا ہے سیدہ شام کے شہر دمشق میں دفن ہیں۔ چھوٹی سی مسجد کا صدر دروازہ اس وقت بند تھا جو صرف نماز کے اوقات میں کھلتا ہے۔ زائرین کٹہرے سے لگے مناجات کر رہے تھے۔ ملحقہ بازار سے مصری مٹھائی کنافہ اور سورج مکھی کے بھنے ہوئے بیج خریدے۔ سورج مکھی کے بھنے ہوئے نمکین بیج چگنا مصری خواتین کا پسندیدہ شغل ہے اور مصر میں وہی کرنا چاہیے جو مصری کرتے ہیں۔

اگلے دن ہمیں اسکندریہ جانا تھا اور اسی دن لوٹ کے آنا تھا۔ یہ مصر کا دوسرا بڑا شہر اور سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ اسکندریہ ایک جزیرہ نما ہے جو بحیرہ روم اور جھیل میروت کے درمیان خشک پٹی پر واقع ہے۔ 331 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے اس شہر کو بسایا تھا۔ اسی کے نام پر یہ آج تک اسکندریہ کہلاتا ہے۔ مسلمانوں نے 641 ع میں عمرو بن عاص کی زیر قیادت اسے فتح کیا۔ اسکندریہ کا روشن مینار ہفت عجائبات عالم میں شمار کیا جاتا تھا۔ چودھویں صدی کے زلزلے نے اسے تباہ کر دیا۔ جنگ اور قدرتی آفات نے اس شہر کو کئی بار تاراج کیا۔ مصر کے عثمانی گورنر محمد علی پاشا نے 1810 ع میں اس کی تعمیر نو کی۔

ناشتے سے فارغ ہو کر ٹیکسی پکڑی اور رمسیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ ایک باوردی گارڈ سے ٹکٹ گھر کا پتہ پوچھا تو اس نے پہلی منزل پر دائیں مڑ کر بائیں جانب کے کوریڈور میں جانے کی ہدایت کی۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ اس ٹکٹ گھر سے صرف مصری شہری ٹکٹ خرید سکتے ہیں۔ غیرملکیوں کے تکٹ گھر کے لئے بائیں مڑ کر دائیں جانب کے کوریڈور میں جانا ہو گا۔ صحیح مقام پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ نو بجے کی ٹرین جا چکی ہے اگلی ٹرین فل ہے۔

بارہ بجے کا ٹکٹ مل سکتا ہے۔ چاہا کہ شام کی واپسی کی پیشگی بکنگ کروا لیں۔ بتایا گیا وہ اسکندریہ سے ہی ہو سکتی ہے۔ ہم نے اسٹیشن سے باہر بسوں کی قطاریں دیکھی تھیں۔ پس اسکندریہ جانے والی بس میں سوار ہو گئے۔ بس آرام دہ اور ائر کنڈیشنڈ تھی اور اس کے کرائے میں مصری اور غیر مصری کی تفریق نہیں تھی۔ ہم سفر طالبہ سے ہم نے قابل دید مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کر لیں۔ کتب خانہ، رومن ایمفی تھیٹر، قلعہ، شاہی محل اور شاہی زیورات خانہ، معمورہ، کورنش۔

بس چلتے دو گھنٹے ہو گئے تھے۔ سفر کا طول بیزار کرنے لگا تھا کہ اسکندریہ کی چھب دکھائی دی اور ہمیں مسحور کر دیا۔ یہ ایک دلکش و دلربا نظارہ تھا جو شاید ہمیں ٹرین سے آنے میں دیکھنے کو نہ ملتا۔ اسکندریہ بحیرہ روم کے فیروزی مائل نیلے پانیوں کے گرد ایک قوس کی شکل میں ایستادہ تھا جیسے نیلم کے گرد انگشتری کا سیمیں ہالہ دمک رہا ہو۔ یا پھر جیسے کوئی جل پری نگینوں بھرا تاج پہنے ساحل پر سو رہی ہو۔ ہم اس ساحرانہ منظر میں یوں کھو گئے کہ پتہ ہی نہیں چلا اور بس سیدی بابر اسٹیشن کے اسٹاپ پر پہنچ گئی۔

ہم نے رات آٹھ بجے کی ٹرین میں بکنگ کرائی اور لوکل ٹرین سے ”معمورہ“ گئے۔

معمورہ میں ہمیں کچھ دلچسپ نظر نہ آیا تو قلعہ جانے کے لئے باہر نکل آئے۔ لیجیے جناب وہاں کسی کو پتہ ہی نہیں قلعہ کیا بلا ہے۔ نہ ٹیکسی والا نہ بس کنڈکٹر نہ عوام الناس۔

پھر جیسے پو پھٹی اور اندھیرے میں روشنی کی کرن کی طرح ہمیں یاد آیا کہ مصری عربی میں ق کا تلفظ الف کا ہے۔ غیر تعلیم یافتہ افراد کا علم سماعتوں کا مرہون منت ہوتا ہے، وہ کسی لفظ کو اس کے صوتی تلفظ سے ہی جانتے ہیں۔ کتاب میں کیسے لکھا ہوتا ہے وہ کیونکر واقف ہوں۔ عوام سے عوامی زبان میں ہی بات ہو سکتی ہے۔ سو ہم نے ایک راہگیر سے پوچھا ”العہ کون سی بس جاتی ہے“ اور ہمیں ایک لمحے میں جواب مل گیا۔

”اربعة عشر“ ( چودہ نمبر) ۔

چودہ نمبر بس بحیرہ روم کے ساحل سے لگی سڑک پر چلی جاتی تھی۔ ایک طرف قدرت کی صناعی تھی اور دوسری طرف دور جدید کی تعمیرات۔ ہم ایک لمحے کو بھی طلسمی بحیرہ روم سے نظر ہٹانا نہیں چاہتے تھے۔ ساحل پر قطار سے خوبصورت ریسٹورنٹ اور کافی ہاؤس تھے۔ کئی مقام یوں گزرے کہ جی چاہا بس رکوا کر یہیں قیام کر لیں۔ قلعہ قائتبائی اس ساحلی سڑک کی آخری منزل تھا یہ ایک فوجی قلعہ ہے جسے پندرہویں صدی کے مملوک سلطان اشرف سیف الدین قائتبائی نے شہر کو حملہ آوروں سے محفوظ رکھنے کے لئے بنوایا تھا۔

کہا جاتا ہے اس قلعے کو روشن مینار کے کھنڈرات پر بنایا گیا۔ اگرچہ جنگی جھڑپوں میں اس قلعے کو نقصان پہنچا مگر اس کی شان و شکوہ اب بھی متاثر کن ہے۔ زیریں منزل میں سمندر کی جانب دریچے ہیں۔ جن میں توپیں نصب ہوا کرتی تھیں۔ بالائی منزل کی چوڑی فصیل پر نگہبانی کے برج ہیں۔ جہاں سپاہی طمنچے تانے بیٹھے ہوتے ہوں گے ۔ فصیل کے پار فیروزی سمندر عشوے و غمزے دکھا رہا تھا۔ چوڑی فصیل پر کچھ لوگ بیٹھے خوش گپیاں کر رہے تھے۔

لڑکپن کے کود پھاند کے سبق بھولے نہ تھے سو ہم بھی فصیل پر چڑھ گئے۔ نسیم بحری نے چہرے کو تھپتھپایا اور زلفوں کو آوارہ کر دیا۔ قاہرہ سے خریدا گیا نفرتیتی والا ریشمی اسکارف بالوں کی آوارگی کو قدغن لگانے میں جزوی طور پر ہی کامیاب ہوا کیونکہ ریشمی اسکارف بھی بحیرہ روم کی پروا کا پروانہ ہوا تھا۔ اپنے توشہ خانے سے سینڈوچ اور جوس نکالا اور فیروزی حسن سے آنکھیں سیر کرتے ہوئے شکم شیر کیا۔ نیچے سمندر میں تیرتی کشتیوں سے آنے والی موسیقی کی تانیں نشے کو دو آتشہ کر رہی تھیں۔

قلعے سے نکل کر سیدھے جیٹی کی طرف سے گئے۔ کشتی بان سے معاوضہ طے ہوا، اور وہ کھلے سمندر کی طرف چلا۔ یہ دو چپووں والی کشتی تھی۔ ہم نے خواہش ظاہر کی ہم خود چپو چلائیں گے۔ تھوڑی ہی دیر میں اندازہ ہو گیا کہ یہ کام جتنا آسان دکھتا ہے، اتنا ہے نہیں۔ اس لئے چپو کشتی بان کے حوالے کر دیے۔ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ سیاہ فام کشتی بان نے ”بسیطہ بسیطہ“ کی تان چھیڑی اور دوسری کشتی سے ہمنوا نے ساتھ دیا۔ سمندر کی جانب سے قلعے کا ایک اور رخ دکھائی دیا یوں لگتا تھا جیسے روشن دان سے کوئی توپ کی نال جھانک رہی ہو، کوئی نشانہ تاک رہا ہو۔

کشتی دائرہ مکمل کر کے نکتہ آغاز کو آ لگی۔ ساحل پر ایک بازار تھا۔ سووینئر کی دکانیں تھیں۔ خوبصورت پرندے برائے فروخت تھے۔ ہم نے سوچا اگر وہ خوبصورت نہ ہوتے تو شاید آزاد ہوتے۔ ایک اسٹال پر کالی مہندی سے بیل بوٹے بنوائے۔

اسکندریہ آئیں اور سی فوڈ نہ کھائیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ساحل کے ایک ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے۔ عمانی عربی میں جھینگوں کو روبیان کہتے ہیں مگر مصری اس لفظ سے ناواقف تھے۔ تصویر کی مدد سے انہیں سمجھایا۔ (بعد میں سہیلی سے معلوم کیا مصری اسے گمبیری کہتے ہیں ) ۔

ہم بڑے سے چھاتے کے نیچے بیٹھے بحری ہوا کا مزہ لے رہے تھے کہ اچانک ہماری نظر گھڑی پر پڑی۔ سات بج رہے تھے ہم گھبرا کے سیڑھیاں اترے ویٹر ہمارے پیچھے لپک کر بولا باربی کیو جھینگے تیار ہوا چاہتے ہیں لیکن ہم دوڑتے ہوئے باہر نکل گئے۔ سواری روکی اور محطہ قطار سیدی بابر چلنے کو کہا۔ ساڑھے سات بجے ہم سیدی بابر ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے تھے۔ ٹرین آنے میں کچھ وقت تھا، ترک قہوہ اور براونی سے لطف اندوز ہوا جاسکتا تھا۔

ٹھیک آٹھ بجے ہم۔ مقررہ پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ ٹرین آئی اور ہم سوار ہو گئے۔ انتہائی مہنگے ٹکٹ کے بعد ہم گھسی پٹی سیٹ اور غیر ائر کنڈیشنڈ ٹرین کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ ہم اس بدمزگی کو ایڈوینچر سمجھ کر نشست پر بیٹھنے کی سوچ ہی رہے تھے کہ پلیٹ فارم پر کھڑے ایک مقامی جینٹلمین نے کھڑکی میں منہ ڈال کر انگریزی میں چلانا شروع کیا۔ ”یہ آپ کی ٹرین نہیں آپ فوراً نیچے اتر آئیے“ ۔ ہم ہکا بکا کھڑے تھے اور وہ شخص مسلسل نیچے اترنے کو کہہ رہا تھا۔ آخر ہم نے اپنا ٹکٹ ایک صاحب کو دکھایا اور انہوں نے صاد کیا کہ یہ ہماری ٹرین نہیں۔ ہم نیچے اترے تو جیسے ان صاحب نے سکھ کا سانس لیا۔ ہماری نظروں میں استعجاب دیکھ کر انہوں نے ہم سے ٹکٹ لیا اور بولے۔ ”یہ دیکھیں آپ کے ٹکٹ پر ٹرین کا نمبر 1817 ہے جبکہ یہ ٹرین 1810 ہے۔ آپ کی ٹرین اسپیشل ٹرین ہے۔

”لیکن ہماری ٹرین کا وقت آٹھ بجے تھا“

”اسپیشل ٹرین آٹھ بجے محطہ مصر سے چلتی ہے یہاں سوا آٹھ کا وقت ہے۔ میں اکثر اس ٹرین سے سفر کرتا ہوں مجھے اس کے بارے میں بہت اچھی طرح معلوم ہے“ ۔

”آپ قاہرہ جا رہی ہیں؟“
”جی“

”میں بھی قاہرہ جا رہا ہوں“ ۔ اس نے جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا، سگریٹ نکال کر ہونٹوں میں دبائی اور پیکٹ ہماری طرف بڑھاتے ہوئے کہا ”آپ لیں گی“ ۔

ہم ایسے اچھلے مانو ہمارے پیروں تلے صد پا آ گیا ہو۔ اس نے ہمیں ایک فیصد مصری خواتین میں جانے کیوں سمجھ لیا تھا۔ چہرے پر ناگواری کے تاثرات واضح تھے۔

”، آپ کو برا کیوں لگا“

”پاکستان میں خواتین کا سگریٹ نوشی کرنا عیب سمجھا جاتا ہے۔ ( ہم اکثریت کی بات کر رہے ہیں۔ ایک فیصد پاکستانی بھی اسے عیب نہیں سمجھتے۔ )

اگلی ٹرین آنے کا اعلان ہو رہا تھا۔ ہم نے اب کے کان لگا کر اعلان سنا ٹرین نمبر 1817۔ یہ ٹرین واقعی شاندار تھی۔ ہم اپنی نشست کے لئے نظریں دوڑا رہے تھے کہ انہی صاحب نے فرمایا۔ دائیں ہاتھ کی آخری سیٹ 47 ہے۔ ہم پورا کمپارٹمنٹ کراس کر کے دائیں ہاتھ کی آخری نشست پر پہنچے وہ 47 ہی تھی۔

=======

دریائے نیل کی لہروں پر ہولے ہولے ہلکورے لیتے بجرے پر رنگ و آہنگ کی محفل سجی تھی۔ ساحل کی روشنیاں دور سے چمکتی کہکشاں کی مانند جھلملا رہی تھیں۔ رات کی سیاہی میں سیاحتی کشتیوں کی روشنیاں نیل کے پانی سے اٹکھیلیاں کر رہی تھیں۔ ہمہ رنگ و نسل کے سیاح اس محفل رنگ و بو سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ چوبی چبوترے پر ایک فنکار مغربی دھنوں پر نغمہ سرا تھا۔ ایک جانب لذت کام و دہن کا بھی انتظام تھا۔ انواع و اقسام کے مشرقی و مغربی طعام سے قابیں بھری تھیں۔ کوئی قاب خالی ہوتی نظر آتی تو مستعد باوردی بیرے اسے پھر سے لبریز کر دیتے مصر میں یہ ہماری آخری شب تھی اور ہم ایک ڈنر کروز پر تھے۔

گلوکار نے مرون فاؤ کا ”شوگر“ گانا شروع کیا تو میری ہم نشین اطالوی جینا ڈیلی پاولی نے پرجوش ہو کر تالیاں پیٹنی شروع کر دیں۔ جینا اپنی دو بیٹیوں اور ان کے بوائے فرینڈز کے ساتھ مصر کی سیاحت کو آئی تھی۔ ہم سے راہ و رسم ہو گئی تھی۔ اور اب وہ ہماری فیس بک فرینڈ بھی ہے۔

اسٹیج پر روشنی کا دائرہ وسیع ہو گیا تھا مغربی آلات موسیقی کی جگہ دف اور طبلے نے لے لی تھی۔ اعلان ہو رہا تھا رقص مشرق (بیلی ڈانس) اور تنورہ رقص پیش کیے جائیں گے۔ غیر ملکیوں کے لئے ترتیب دیے گئے ہر پروگرام میں یہ دونوں رقص ضرور شامل کیے جاتے ہیں۔

سنہرے جھلملاتے لباس میں رقاصہ روشنی کے دائرے میں نمودار ہو چکی تھی۔ اس کے لباس کی تراش اس طرح کی تھی کہ اس کی ایک جنبش سے مرمریں جسم کی لو تپش دیتی تو دوسری حرکت اسے چھپا کر آتش شوق کو ہوا دیتی۔ مصری نغمے کی لے پر اس نے تھرکنا شروع کیا۔ لے اونچی ہوتی گئی، اور اعضاء کی شاعری کا آہنگ بلند ہوتا گیا بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ عضلات کی نغمگی بڑھتی گئی۔ رقاصہ کو بوٹی بوٹی پر کمال عبور حاصل تھا وہ جب چاہتی، جسے چاہتی، جتنا چاہتی موج میں لاتی۔

یوں لگتا تھا وہ کوئی جل پری ہے جو نیل کے پانی سے اچھل کر آ گری ہو اور ماہی بے آب کی طرح پھڑک رہی ہو۔ اور یونہی پھڑکتی وہ میزوں کے درمیان آ پڑی۔ چست لباس میں ملبوس سیاہ فام حسینہ میز سے آٹھ کر اس کے ساتھ ہم رقص ہولی۔ سیاہ و سفید حسن کا ملاپ شام کے جھٹ پٹے جیسا تھا۔ کیمروں کی کلکس نے خراج تحسین پیش کیا۔ روشنیاں بجھ گئیں۔

اسٹیج کی روشنیاں لوٹیں تو منظر بدل گیا تھا۔ رنگ برنگی گھیر دار فراک ( جسے تنورہ کہتے ہیں ) پہنے فنکار تنورہ رقص پیش کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں طشتریاں تھیں اور اس کے لباس کی تہوں میں روشنیاں مخفی تھیں۔ وہ صوفیانہ انداز میں گھومتا ہے اور لگاتار گھومتا ہے۔ اس دوران وہ اپنے ہاتھوں میں تھامی طشتریوں کو مسلسل اچھالتا اور سنبھالتا ہے۔

رقص اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ہم عرشے پر چلے آئے۔ ائر کنڈیشنڈ کی مصنوعی یخ بستگی کے بجائے بھیگی ہوئی پروا نے رخسار تھپتھپائے تو جی گنگنا اٹھا۔ ریلنگ پر جھک کر دیر تک ہم نیل سے باتیں کرتے رہے۔

ہم نے پوچھا ”اے تاریخ کے راز داں کیا تجھے معلوم ہے نفرتیتی کہاں گئی۔ لوگ کہتے ہیں وہ نیل میں کود گئی کیا واقعی وہ تیری گود میں سو رہی ہے۔ ہم نے اس سے یہ بھی پوچھا، نو مولود موسی کی ٹوکری کو فرعون کے محل تک لاتے ہوئے تونے اپنی لہروں کو شرارت سے کیسے روکا۔ کہ موسی انگوٹھا چوستے، ہاتھ پاؤں چلاتے، آسیہ کی دل کی ٹھنڈک اور فرعون کی بربادی بن کر ساحل تک بحفاظت پہنچے۔ کیا موسی جانتے تھے کہ صدیوں بعد ان کی قوم خود فرعون بن جائے گی اور فلسطین کے بچوں کا قتل عام کرے گی۔ ہمارا دل بوجھل ہو گیا تھا۔ ساحل قریب آ رہا تھا۔ بجرے کی رفتار دھیمی سے دھیمی تر ہوتی گئی اور پھر کسی فلسطینی بچے کے دل کی طرح ساکت ہو گیا۔ گائیڈ نے کھیل ختم ہونے کا ڈانگ بجایا۔

علی الصبح ایک اڑن طشتری ہمیں اس جادوئی سر زمین سے عمان واپس لے آئی اسوان، لکسور، شرم الشیخ۔ بہت کچھ نہ دیکھا جا سکا کیونکہ مصر کیلے آٹھ دن ناکافی ہیں۔

Facebook Comments HS