پہلوان سخن سے بناکا گیت مالا اور ”ایکس“ تک
اردو شعر و ادب سے ذوق رکھنے والے احباب کے لیے شیخ امام بخش ناسخ ملقب بہ پہلوان سخن کا نام اجنبی نہ ہو گا۔ آپ اردو کے کلاسیکی شعراء میں اہم مقام کے حامل ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں فیض آباد میں پیدا ہوئے اور انیسویں صدی میں لکھنو میں انتقال ہوا۔ ان کی سوانح سے پتا چلتا ہے کہ کسرتی بدن اور جسمانی ورزش کے شوق کے سبب فن پہلوانی میں اچھا خاصا درک رکھتے تھے۔ اردو شاعری کی تاریخ میں ظاہریت اور معاملہ بندی پر استوار جس روایت کو ”لکھنویت“ کہا جاتا ہے، ناسخ اس کے بانیوں میں گنے جاتے ہیں۔ ان کا ایک اہم کارنامہ البتہ اصلاح زبان کی تحریک چلانا ہے، جس کے تحت اردو سے ہندی اور سنسکرت الفاظ نکال کر عربی فارسی مترادفات داخل کیے گئے تھے۔ کچھ شاعروں ادیبوں نے شاید ان کی اصلاح پر کان دھرا ہو مگر عوام کالانعام ایسے ڈھیٹ نکلے کہ بدستور پرانی ڈگر پر قائم رہے بلکہ ہندی، انگریزی حتی کہ پرتگالی و فرانسیسی سے بھی الفاظ مسلسل اپنی بولی میں داخل کرتے چلے گئے۔ پہلوان سخن کی زبان کو دی گئی پٹخنیوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہو پایا۔
استاذی وجاہت مسعود صاحب کی زبانی اور مرحوم محمد کاظم کے ایک مضمون سے گزشتہ لاہور میں مقیم ایک بزرگ کا پتا چلتا ہے جن کا اصل نام تو اس وقت ذہن میں نہیں آ رہا مگر خود اپنے لیے انہوں نے ”الف المحراث“ کا قلمی نام پسند فرمایا تھا۔ یہ انہوں نے کھیتوں (اور کبھی کبھی جمہوری بندوبست کی جڑوں) میں چلائے جانے والے ہل کے نوک دار حصے کا، جسے کسان ”پھل“ کہتے ہیں اپنی دانست میں معرب اردو مترادف تراشا تھا۔ انہوں نے پہلوان سخن کے ادھورے کام کو آگے بڑھانے کے لیے زبان کو مزید دھوبی پٹکے دینے کی سوچی۔ ایک آدھ مجموعہ مضامین بھی سپرد قلم فرمایا تھا جس میں عام فہم الفاظ کو اردو میں دخیل، یا ضرورت سے زیادہ وسیع المعانی قرار دے کر ان کے لیے نت نئے نام تجویز فرمائے تھے۔ مرحوم امجد اسلام امجد نے اپنے ایک ٹیلی ویژن ناٹک میں ایک کردار کی زبانی ان میں سے کچھ الفاظ کہلوا کر انہیں ناظرین کی یادداشت پر ثبت کر دیا تھا۔ مثلا، الف المحراث صاحب کا کہنا تھا کہ دودھ ”پینا“ تو خالصتاً انسانی فعل ہے۔ بلیاں دودھ ”لبڑتی“ ہیں۔ اسی طرح ”توڑا“ تو کسی ثابت و سالم چیز کو جاتا ہے۔ درختوں سے پھل حاصل کرنے کے عمل کو انہوں نے ”چونٹنا“ کا نام دیا تھا۔ علی ہذا القیاس۔ لیکن ہم آپ ویسے ہی نافرمان رہے اور آج تک ہماری بلیاں دودھ پی رہی ہیں اور ہمارے بچے درختوں سے آم، سیب، امرود وغیرہ چونٹنے کے بجائے توڑ رہے ہیں۔
کچھ ایسا ہی معاملہ برصغیر کی موسیقی کے ساتھ بھی ہوا۔ ہندوستان اور بعد ازاں پاکستان میں ریڈیو کے ادارے کے بنیاد گزار سید ذوالفقار علی بخاری ایک ہمہ صفت شخصیت گزرے ہیں۔ شعر، ادب، فنون لطیفہ، ہر میدان میں ان کی طباعی کے ثبوت موجود ہیں۔ لیکن نجانے کیوں کر ان کے ذہن میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ ہمارے ہاں کا سب سے مقبول آلہ موسیقی ہارمونیم ہماری موسیقی کی زمین پر ایک اجنبی پودا ہے جو ہمارے پاک پوتر شاستریہ سنگیت کے لیے ضرر رساں ہے۔ چنانچہ ایک نادر شاہی حکم کے تحت یکا یک اس کا داخلہ ریڈیائی لہروں پر ممنوع قرار دے دیا گیا۔ اس سے موسیقاروں اور گلوکاروں پر جو ستم ٹوٹا، اس کی انہوں نے چنداں پروا نہ کی۔ ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے، رسالہ ساقی کے بانی مدیر اور بذات خود شاستریہ سنگیت کے نباض اور تربیت یافتہ فن کار شاہد احمد دہلوی صاحب نے ایک سلسلہ مضامین میں بخاری صاحب کے ہارمونیم سے بے جا بغض کو تکنیکی بنیادوں پر واضح کیا اور ان کے استدلال کا بودا پن آشکار کیا۔ خیر گزری کہ بخاری صاحب کا حکم واپس لے لیا گیا۔
خیر، اسے شاید کچھ بدخواہ پاکستان میں فنون لطیفہ بالخصوص موسیقی کے فن کی سرکاری اور سماجی بے قدری کا شاخسانہ قرار دیں، مگر ریڈکلف لائن کے دوسری جانب بھی صورت حال، مختلف وجوہات مگر یکساں اثرات کے ساتھ وقوع پذیر ہوئی۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے سن باون میں بھارت کے پہلے عام انتخابات کے بعد وزیر اعظم کا قلمدان سنبھالا تو نامعلوم سبب سے وزارت اطلاعات و نشریات پر بال کرشنن وشوا ناتھ کیسکر نامی ایک مراٹھا برہمن سیاست دان کا تقرر کر دیا۔ کیسکر صاحب کا خیال تھا کہ شدھ بھارتیہ شاستریہ سنگیت مسلمانوں اور یورپیوں کے اثر سے شدید خطر پذیر ہے۔ موصوف خود بھی ہمارے بخاری صاحب کی طرح فن موسیقی کے اچھے پارکھ تھے مگر رسمی تعلیم کب تعصبات کو پوری طرح دور کرنے میں کامیاب ہوئی ہے؟ سو کیسکر صاحب نے بھارتی موسیقی کو مسلمانوں اور یورپیوں کی ثقافتی یلغار سے بچانے کے لیے کچھ انقلابی اقدامات کیے۔ ایک تو فلمی موسیقی پر، جسے وہ نجس، ملاوٹ زدہ اور اعلی بھارتیہ اخلاق و مزاج کے لیے مضر گردانتے تھے، ریڈیو کے دروازے مکمل بند کر دیے۔ دوسرے ان کا نزلہ بھی عضو ضعیف یعنی ہارمونیم پر گرا اور سرکاری اہتمام میں ریکارڈ یا نشر ہونے والی تمام موسیقی میں اس ساز کے استعمال پر پابندی لگا دی۔ ریڈیو پر کرکٹ میچوں کا رواں تبصرہ بھی بند کر دیا گیا، مگر وہ الگ کہانی ہے۔
ہارمونیم کے دیس نکالے کی تنسیخ تو پتا نہیں کیسے ہوئی مگر فلمی موسیقی کے نالے راہ نہ پا کر چڑھ گئے اور ان کی رکی ہوئی طبع ازسرنو رواں ہونے کی راہ نکالنے لگی۔ موجودہ سری لنکا میں سن پچیس میں ایشیا کا پہلا اور دنیا کا دوسرا میڈیم ویو ریڈیو سٹیشن قائم ہوا تھا۔ جنگ عظیم دوم کے دوران اتحادی افواج کی دل بستگی کے لیے اسے مزید ترقی دی گئی۔ سری لنکا آزاد ہوا تو ترکے میں یہ ساز و سامان اس کے ہاتھ لگا۔ بھارتی فلمی موسیقی کی صنعت نے بھارت میں کیسکر صاحب کے ہاتھوں قافیہ تنگ ہونے پر سامعین تک پہنچنے کے لیے سری لنکا کا رخ کیا۔

اس سودے میں بھارت کی فلمی صنعت سے وابستہ ایک گجراتی بان صاحب حمید سیانی شامل تھے۔ انہوں نے فلمی موسیقی کے پروگرام کی میزبانی کے لیے مختلف فن کاروں سے رابطہ کیا مگر معاوضہ اس قدر کم تھا کہ کوئی تیار نہ ہوا۔ بالآخر اپنے چھوٹے بھائی امین سیانی کو یہ ذمہ داری سونپ دی۔ سویٹزر لینڈ کی دوا ساز کمپنی ”سیبا“ نے انہی دنوں ”بناکا“ نام کے ٹوتھ پیسٹ کی مارکیٹنگ برصغیر میں شروع کی تھی، سو اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے انہیں یہ موقع اچھا لگا اور ریڈیو سیلون کے ساتھ شراکت قائم کر لی۔ چنانچہ کیسکر صاحب اور ان کے پاکستانی مثیل و بروز سرکاری پاندیوں کی فائلیں بغل میں دبائے منہ تکتے رہ گئے اور ریڈیو سیلون سے نشر ہونے والی برصغیر کی موسیقی، خصوصاً اس کا طلسماتی شہرت کا حامل ”بناکا گیت مالا“ ، امین سیانی کے مخصوص انداز گفتگو کی بدولت انہی کے الفاظ میں ”شہرت کے سب سے اونچے پائیدان“ پر پہنچ کر پاک و ہند کے گھر گھر میں گونجنے لگے۔
گزشتہ ہفتے امین سیانی صاحب کے انتقال کی خبر اس خادم تک ذرا تاخیر سے پہنچی۔ وجہ تاخیر وہی ”کیسکرانہ“ ذہنیت بنی جس کے تحت لاکھوں لوگوں کے لیے خبروں کے سب سے فوری ذریعے ”ایکس“ (سابقہ ٹویٹر) کا گلا نامعلوم سرکاری اہل کاروں کے ہاتھوں گھونٹا گیا تھا۔ کیسکر صاحب کا زمانہ نسبتاً سادہ تھا۔ کیسکر صاحب کے نزدیک ممنوعہ موسیقی کو سبزہ بیگانہ گردان کر آل انڈیا ریڈیو کے باغ و روش سے نکال دیا گیا تو وہ ریڈیو سیلون کی صوتی لہروں پر کائی بن کر آ گیا۔
اس دور میں اس طرز کی بندشوں کے سبب ملک کا بچہ بچہ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک یا ”وی پی این“ کے نام اور کام، اور اس کی جملہ اقسام سے واقف ہے جو انٹر نیٹ صارفین کو حکومتی آتشیں دیواروں سے پار دیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ وی پی این سے صرف کچھ حکومتی حلقوں کے نزدیک قابل اعتراض مواد ہی نہیں، تقریباً پورے سماج کی نظر میں قابل اعتراض مواد بھی صارفین، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کی دست رس میں آ جاتا ہے۔
سو اس حکایت کا لب لباب ارباب اختیار کی خدمت میں یہ عریضہ پیش کرنا ہے کہ کیسکر صاحب، پہلوان سخن اور بخاری صاحب کے احوال سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اگر نیت کے علاوہ کچھ شعور بھی مبداء فیاض سے ودیعت ہوا ہے تو۔






واہ استاد محترم
میرا والد ریڈیو سلیون سنا کرتے تھے تو ہمیشہ یہ سوال میرے ذہں میں رہا کہ سری لنکا سے ہندی گانے سننے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔ آپ نے کیسکر انہ ذہنیت کی وجہ بتا کر میرا دیرینہ مسئلہ حل کردیا۔ یو ٹیوب پر ویسے اس دور کے پریڈیو سیلون کے روگرام اب بھی دستیاب ہیں ۔