کیا عوامی نیشنل پارٹی پارلیمانی سیاست میں زندہ رہ پائے گی


پاکستان کی سیاست منشور اور ملکی ایجنڈے پر نہیں چلتی۔ یہاں جو لوگ سیاست کرتے ہیں وہ یا تو مذہب کا سہارا لیتے ہیں، یا قومیت کا سہارا لیتے ہیں جو ان کے علاوہ ہیں وہ کسی نہ کسی شخصیت کے نام پر سیاست میں زندہ ہیں۔ بڑی جماعتیں جیسے پیپلز پارٹی بھٹو کے نام پر سیاست میں ہے، مسلم لیگ نواز شریف کے نام سے سیاست میں ہے۔ تحریک انصاف عمران خان کے نام سے سیاست میں ہے۔ ایسے ہی دیگر جماعتیں ہیں جو کسی نہ کسی شخصیت کی ذاتی دکان ہیں۔

صوبوں میں سیاست کرنے والی جماعتیں بھی یہی پیٹرن فالو کرتی ہیں۔ مسلم لیگ کی جتنے دھڑے ہیں وہ کسی نہ کسی شخصیت کے نام پر ہیں۔ مذہبی سیاست کرنے والے بھی جماعت اسلامی کو چھوڑ کر سب اب خاندانی پارٹیاں بن چکی ہیں۔ کچھ سیاسی گروہ ایسے ہیں جن کو مقتدرہ سنبھالتی ہے جیسے ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی اور دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی جس کو آج کل ایمل ولی خان سنبھال رہے ہیں۔ اس کی ابتدا ء تو اکہتر کے سانحہ کے بعد ہوئی لیکن اس خاندان کی سیاست 1929 سے ہے جب خان عبدالغفار خان جنہیں باچا خان کے نام سے جانا جاتا ہے، نے خدائی خدمت گار تحریک کا آغاز کیا تھا۔

اس تحریک کی مقبولیت این ڈبلیو ایف پی میں بہت زیادہ تھی 1937 اور 1946 کے انتخابات میں اس جماعت نے کانگریس کے ساتھ مل کر سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی تھیں اور اسے حکومت سازی کا موقع بھی ملا۔ اپنی عوامی خدمت کے نتیجے میں باچا خان کو سرحدی گاندھی کا خطاب بھی ملا۔ سول نافرمانی کی تحریک میں باچا خان پیش پیش رہے۔ تقسیم ہند کی مخالفت میں بھی وہ انڈین کانگریس کے ہم نوا تھے۔

جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو باچا خان نے 1948 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی۔ یہ پارٹی پاکستان کے قوم پرستوں پر مشتمل تھی باچا خان اس کے صدر اور جی ایم سید اس کے جنرل سکریٹری تھے۔ اس پارٹی کا منشور قوم پرستی کا تھا، خدائی خدمت گار تحریک کو اس کا عسکری ونگ بنا دیا گیا اور سرخ جھنڈے اور سرخ لباس کے ساتھ یہ جماعت مسلم لیگ کے مقابلے میں جلسے کرنے لگی۔ اس بنا پر باچا خان کو 1948 میں ہی گرفتار کر کے پابند سلاسل کیا گیا۔ وہ اس سے پہلے انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں بھی مسلسل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے آئے تھے۔

باچا خان کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ اس وقت کی حکومت نے خدائی خدمت گار تحریک پر پابندی بھی لگائی اور ان کے رسالے کو بھی بند کر دیا۔ اور اس کے تمام رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ باچا خان کے تین بیٹے تھے۔ ولی خان، علی خان اور غنی خان۔ غنی خان مشہور شاعر ہیں اور علی خان ایک معتبر ماہر تعلیم اور منتظم تھے۔ ان دونوں کا سیاست سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ البتہ ولی خان نے 1956 میں نیشنل عوامی پارٹی (نیب) میں شمولیت اختیار کی جس میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے بائیں بازو کے سب سرکردہ سیاسی رہنما شامل تھے۔

اس کی سربراہ بنگالی سوشلسٹ رہنما مولانا عبدالحمید بھاشانی تھے جو حسین شہید سہروردی کے ساتھ اختلافات کے نتیجے میں ان سے الگ ہوئے تھے۔ نیب میں اس وقت کے بلوچستان، سندھ، این ڈبلیو ایف پی اور بنگال کے سب نیشنلسٹ شامل تھے۔ ان نیشنلسٹوں میں 1967 میں دو گروہ بن گئے ایک گروہ روسی کمیونزم کا حامی تھا اور دوسرا چین کے سوشل ازم کا ۔ یوں روسی حمایت یافتہ گروہ الگ ہو گیا اور اس کی سربراہی ولی خان کرنے لگے۔ یہ گروپ عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو گیا اور الیکشن بھی جیت گیا اور مفتی محمود کے ساتھ مل کر انہوں نے صوبائی حکومت بھی بنائی مگر یہ حکومت زیادہ دیر چل نہ سکی۔

ولی خان گرفتار ہوئے اور پارٹی پر پاکستان مخالف کا لیبل لگا کر اس پر پابندی لگا دی گئی۔ بھٹو نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا۔ بھٹو کے بعد ضیا الحق کا مارشل لاء آیا اور اس دور میں ولی خان کو رہائی ملی۔ اور اس نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ 1986 میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر چھوٹی پارٹیوں کو ضم کر کے عوامی نیشنل پارٹی (ANP) کی بنیاد رکھ دی گئی۔ ولی خان نے اپنے آبائی ضلع چارسدہ میں انتخابات میں شکست کھائی اور عملی سیاست سے دست بردار ہو گئے۔

ان کے بیٹے اسفند یار ولی نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ اس پارٹی میں اجمل خٹک اور ارباب سکندر خلیل بھی کچھ عرصے کے لیے صدر رہے۔ پھر اسفندیار ولی کے بعد ان کے بیٹے ایمل ولی خان اس پارٹی کے مرکزی صدر بنے اور وہ اس وقت اس پارٹی کو لیڈ کر رہے ہیں۔ 2008 میں عوامی نیشنل پارٹی نے صوبہ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔ اور امیر حیدر خان ہوتی کو وزیر اعلی بنوایا۔

یہ وہ دور تھا جب این ڈبلیو ایف پی بدترین دہشت گردی کا شکار تھا۔ اور عوامی نیشنل پارٹی کے حکومت میں آتے ہی سوات اور مالاکنڈ ڈویژن سے دہشت گردوں نے لوگوں کو وہاں سے ہجرت پر مجبور کیا اور اس صدی کے شدید ترین سیلابوں نے صوبہ کا نقشہ ہی بدل دیا تھا۔ ان حالات میں امیر حیدر خان ہوتی نے بہترین گورننس کی اوراس  دہشت گردی کا مقابلہ کیا جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور ان کے خاندانوں کے لوگ خودکش دھماکوں میں مارے گئے۔ بشیر بلور، ان کا بیٹا اور میاں افتخار حسین کا بیٹا اور درجنوں اور سرکردہ کارکن شہید کر دیے گئے۔

لیکن یہ پارٹی ڈٹی رہی اور مردانہ وار دہشت گردی کا مقابلہ کرتی رہی۔ اس پارٹی نے اپنے منشور کے مطابق صوبہ کا نام بدل کر خیبر پختونخوا رکھ دیا۔ اٹھاوہویں ترمیم میں مرکزی کردار ادا کر کے صوبائی خود مختاری کی طرف پیش رفت کی۔ پہلی مرتبہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبہ کا مکمل حصہ لیا۔ صوبہ میں تعلیم اور مواصلات میں بہت پیش رفت کی۔ درجنوں یونیورسٹیاں اور سینکڑوں کالجز اور سکولز بنائے۔ نوجوانوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے۔ مردان شہر کو چند برسوں میں ایک ماڈل شہر بنا دیا۔

اس حکومت کے وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی نے بہت اچھی ذاتی شہرت پائی۔ میاں افتخار حسین نے اپنا اکلوتا بیٹا قربان کیا اور بہترین پارلیمانی سیاست دان ہونے کا عملی ثبوت دیا۔ میاں افتخار حسین اور بشیر بلور نے عوامی سیاست کو کمال درجے تک پہنچایا وہ سب کے لیے ہر وقت اور ہر جگہ حاضر ہوتے تھے۔ کسی حادثہ اور دہشت گردی کے واقعہ میں پولیس اور ایمبولینس سے بھی پہلے وہاں پہنچ کر لوگوں کی خدمت کی۔

مگر اس سب کے باوجود اس حکومت کو تاریخ کی بدترین کرپشن کے الزامات کا سامنا بھی رہا۔ وزیر اعلی کے والد اور ان کے ایک مشیر کو ایزی لوڈ کے نام سے صوبہ کا بچہ بچہ جانتا تھا۔ اگر اس دور کی یہ صوبائی حکومت کرپشن کا یہ ٹیگ اپنے ماتھے پر نہ سجاتی تو یہ اب تک کی مقبول ترین سیاسی حکومت ہوتی۔ اس کے بعد کے الیکشن میں یہ پارٹی بمشکل چند سیٹوں پر کامیاب ہو سکی۔

میاں افتخار حسین کی نیک نامی اور مقبولیت کا یہ حال تھا کہ جب صوبہ کے لیے گورنر کی تعیناتی ہونی تھی تو مخالفین نے بھی ان کا ہی نام تجویز کیا۔ اگرچہ وہ گورنر نہ بن سکے جس کی وجہ بھی عوامی نیشنل پارٹی کے عوامی خدمت کے ساتھ جو دوسری شہرت ہے وہ بتائی جاتی ہے۔ حالیہ الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی کا کوئی بھی امیدوار الیکشن میں کامیاب نہ ہوسکا۔ امیر حیدر خان ہوتی اور میاں افتخار حسین بھی الیکشن ہار گئے۔ جس کی توقع کوئی بھی نہیں کر رہا تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی ہار کے کئی ایک وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ بیانیہ کا نہ ہونا تھا۔ یہ پارٹی ہمیشہ وفاق مخالف ایجنڈے پر سیاست کرتی رہی ہے۔ صوبائی حقوق، کالاباغ ڈیم وغیرہ اس کے بنیادی منشور کا حصہ رہے ہیں۔

مگر جب سے ایمل ولی خان نے پارٹی کی صدارت سنبھالی ہے وہ اپنے اصل منشور کو چھوڑ کر دیگر جماعتوں کی طرح مقتدرہ حلقوں اور پیپلز پارٹی کے ذریعہ اقتدار میں آنے کی کوششوں میں تھے۔ جس کی بنیاد پر ان کا حقیقی ووٹر باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ پھر یہ پارٹی نظریات اور قوم پرستی کی جگہ ولی باغ کے مفادات کے گرد ہی گھومنے لگی۔ پارٹی میں شامل بزرگوں اور دانشوروں اور حقیقی خدائی خدمتگاروں کو سائیڈ لائن کر کے پارٹی کے سربراہ نے اپنا حلقہ احباب بنا لیا تھا۔ مشوروں کی جگہ احکامات کا کلچر وجود میں آ گیا تھا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ دس برسوں میں قوم پرستوں کو تقسیم کرنے کا بھی مستقل انتظام کیا گیا۔

نوجوان ایمل ولی خان کے مقابلے میں منظور پشتین کے زیادہ قریب ہوتے گئے۔ اے این پی کے مرکزی رہنماؤں نے نوجوانوں پر کوئی توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں زیادہ نوجوان پاکستان تحریک انصاف کے موثر بیانیے اور عمران خان کی شخصیت کے اسیر ہو گئے۔ پارٹی صدر کی غیر سیاسی اور بے باک گفتگو نے بھی سنجیدہ طبقے کو اس پارٹی سے متنفر کیا۔

پھر پارٹی کی مرکزیت ختم ہوتے چلی گئی یوں یہ پارٹی اب ولی باغ اور ایک شخصیت تک محدود ہو گئی ہے۔ انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی سربراہ نے برملا یہ اظہار نیشنل میڈیا پر کیا ہے کہ وہ اب پارلیمانی سیاست پر یقین نہیں رکھتے اس لیے اپنے دادا اور پڑ دادا کی طرح وہ بھی غیر پارلیمانی سیاست کریں گے۔ یہ دعوی بظاہر تو بڑا آسان ہے مگر غیر پارلیمانی سیاست کرنے کے لیے باچاخان اور ولی خان جیسی شخصیت بھی درکار ہوتی ہے اور حوصلہ بھی ہونا ضروری ہے۔

سنجیدگی اور مستقل مزاجی کا ہونا بھی ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کی کی شرکت بھی درکار ہوتی ہے۔ جو اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کو حاصل نہیں ہے۔ حالیہ الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی کے ناراض رہنماؤں نے دیگر جماعتوں میں شمولیت اختیار کی اور ان جماعتوں کی طرف سے صوبائی اور قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا جن میں سے تین لوگ کامیاب بھی ہوئے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے عوامی اور دیرینہ سیاسی کارکنوں کو الیکشن میں ٹکٹ نہیں دیے گئے اور حلقوں سے باہر کے لوگوں کو یاری دوستی میں نوازا گیا۔

مردان میں ایک معروف سیاسی کارکن سید عالم جن کو لوگ بابا کے نام سے جانتے ہیں کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ باچا خان کے فلسفے کے اس حقیقی نمائندے کو مردان کے اس کے حلقے میں عوامی پذیرائی حاصل تھی اور چونکہ وہ طلبہ سیاست میں شریک رہے ہیں اور نوجوان نسل ان کو باچا خانی فلسفے کا تسلسل سمجھتی تھی، وہ مسلسل پچیس برس سے اپنے حلقے میں سیاسی طور پر سرگرم تھے۔ جب ان کو ٹکٹ نہیں ملا تو مردان کے نوجوانوں نے امیر حیدر خان ہوتی کو بھی ووٹ نہیں ڈالے۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال تھی۔ ایسے کئی سیاسی کارکن تھے جن کو اگر الیکشن لڑنے کا موقع ملتا تو وہ جیت سکتے تھے۔ یہ الیکشن پاکستان بھر میں قوم پرستوں کے لیے مایوسی لے کر آیا ہے اس لیے کہ کہیں بھی کوئی قوم پرست کامیاب نہ ہوسکا۔ اگر زمینی حقائق پر مبنی سیاسی بیانیہ اور عوامی سطح پر قابل قبول لیڈرشپ کے ساتھ قوم پرست اپنے آپ کو دوبارہ یکجا نہ کرسکے تو پاکستان کے آنے والے سیاسی دور میں ان کا سیاسی طور پر زندہ رہنا ممکن نہیں رہے گا۔

یوں وہ لیگیسی جو باچا خان سے شروع ہوئی تھی اسے ولی باغ میں ان کی چوتھی نسل کے جانشین دفن کر دیں گے۔ باچا خان گاندھی کے نظریہ عدم تشدد کے پیرو کار تھے اور اپنی زندگی میں اس پر مکمل کاربند بھی رہے مگر ان کے حالیہ جانشین کہیں سے بھی ان کے اس فلسفے کے پیروکار نہیں ہیں۔ یہ عدم برداشت انہیں جذباتی بناتا ہے۔ لیکن اس وقت خیبر پختونخوا میں شخصیت پرستی کا بخار باچا خانی سے عمران خانی کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔ اور یہ بخار اس کے بعد باچا خان کے جانشینوں کے کام نہیں آئے گا۔

Facebook Comments HS