خبر، افسانہ اور شاعری


خبر غیر معمولی واقعات کا بیانیہ ہے۔ افسانہ بھی غیر معمولی واقعات کا بیانیہ ہے۔ فرق حقیقی اور غیر حقیقی کاہے لیکن اس فرق کی دھجیاں افسانے کی اس تعریف نے اڑا دیں کہ افسانے کے واقعات و کردار غیر حقیقی ہوتے ہوئے بھی حقیقی اور حقیقی ہوتے ہوئے بھی غیر حقیقی ہوتے ہیں۔ شعر کی جس تعریف نے حال ہی میں دماغ کو چھوا وہ یہ کہ شاعری ضابطۂ حیات ہے یہ جینے کی اصول سکھاتی ہے۔ اس تعریف سے اتفاق کریں یا نہ کریں، یہاں سے موضوعیت کے دائرے بنتے ہیں، پھیلتے ہیں، ٹوٹتے ہیں، کسی نئے مدار میں داخل ہوتے ہیں۔

میں نے شاعری سے ضابطۂ حیات اور جینے کے اصول دریافت کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ ہر بات کی اپنی جگہ اہمیت ہے کوئی جملہ خالی از علت نہیں۔ مثلاً یہ کہ میں نے گھر سے کافی عرصہ پہلے اتوار کو علی الصبح لگنے والے ریگل صدر بازار سے خریدی ہوئی ایک ضخیم کتاب بعنوان ”جدید شعرائے اردو“ اٹھائی اور سوچ لیا کہ جس ترتیب سے اس میں شعراء کا کلام دیا گیا ہے اسی ترتیب سے پڑھتے جائیں گے اور ہفتے میں ایک تحریر تیار، اس کتاب کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر عبدالوحید، فیروز سنز نے شائع کی، کل صفحات ایک ہزار ایک سو پچیس (1125) ، سال اشاعت ندارد، قیمت اٹھارہ روپے، اس سے کوئی زیرک سال اشاعت کا اندازہ لگا سکے تو لگا سکے۔

دوسری بات یہ کہ کچھ ہم تلاش کرنے نکلتے ہیں اور بہت کچھ ہمیں ملتا ہے، تو اس تحریر کی نوعیت تحقیقی مقالے کی نہیں ہے کہ اصول زیست کے علاوہ باقی جو ملے گا اسے چھانتے جائیں گے، جس کا عہد سے ربط ملے گا یا ذہن کہیں ربط بنائے گا اسے قارئین تک پہنچائیں گے۔ تیسری بات ”دی بلیک ہول“ (The Black Hole) کے نام سے ایک یو ٹیوب چینل ایلگورتھم کی برکت سے مجھ سے متعارف ہوا اور مجھے بہت متاثر کیا۔ اس پر ڈاکٹر شہر یار خان کا ایک لیکچر سنا۔ اس تحریر کو لکھتے ہوئے وہ لیکچر یاد یوں آیا کہ کوئی پتے کی بات تاریخ کے کسی دور میں کہیں بھی کہی گئی ہو زمان و مکاں پر محیط ہوتی ہے۔ کتاب کھولی دور متقدمین کے پہلے شاعر مولانا محمد حسین آزادؔ۔

کھلے جو دیدۂ غفلت تو یہ ہوا روشن
کہ نفع جس کو تھے سمجھے وہ تھا زیاں اپنا

شاعر اور شاعری کا رشتہ، شاعری اور قاری کا رشتہ، ایک انتخاب میرے ہاتھ میں ہے میں اس میں سے اس تحریر کے لیے کچھ منتخب کر رہی ہوں وہ میرا اختیاری عمل کسی سوچ او ر خیال کے تحت ہے اور بہت ممکن ہے کہ کسی اور وقت، کیفیت یا ماحول میں کروں تو کچھ اور منتخب کروں۔ قارئین کے تلازمات الگ اور اگلا مرحلہ ہے۔

’اٹھا‘ کی ردیف کے ساتھ چھ اشعار میں سے مقطع جس میں شاگردی کے آداب بیٹھا اٹھا کے خوب قافیے اور ردیف کے ساتھ باندھا ہے :

شعر گوئی کا تو رکھتا نہیں دعویٰ آزادؔ
ہاں پر استاد کی خدمت میں ہے بیٹھا اٹھا
شیخ، واعظ، ناصح، صنم، بت، زاہد اردو شاعری میں مستقل برتی گئیں لفظیات ہیں :
شیخ کعبہ میں تم نے کیا دیکھا
ہم بتوں سے ملے خدا دیکھا

شیخ کعبے میں خدا کو ڈھونڈتے ہیں شاعر بتوں میں خدا پاتے ہیں۔ ایک اور شعر کہ زاہد کے نزدیک قرب قیامت کی نشانی اور شاعر کے آگے خود قیامت سے بھی بڑھ کر گویا محشر:

ڈریں کیا شور محشر سے کہ ہم نے بارہا زاہد
خرام یار سے ہنگامۂ محشر بپا دیکھا

آزاد کا انتقال 22 جنوری 1910ء کو ہوا۔ ایک صدی ایک عشرہ چار برس گزر گئے اور یہ شعر جانے کب لکھا ہو گا اور آخری مصرعے میں جو روز مرہ باندھا ہے :

تمہاری جفائیں ہماری وفائیں
یہ قصے بھی ہوں گے فسانے کے قابل
دبستان الفت میں ہیں طفل مکتب
زمانے کے عالم زمانے کے قابل
نہ اس زلف کو چھیڑو اے حضرت دل
کہ یہ جرم ہے مار کھانے کے قابل

ذیل میں جو شعر ہے اس کے انتخاب کی وجہ، میرے فکری استاد محترم نے جوہری توانائی کے دھماکے کے ہیرو کے بارے میں کہے تھے کہ وہ نرگسیت کا شکار ہیں :

چشم نرگس کو بھی گلشن میں بڑے دعوے ہیں
تم ذرا چل کے دکھا دو سر گلزار آنکھیں

عمر کے تقاضے کے ساتھ یہ باتیں زیادہ سمجھ میں آتی ہیں کہ:
جہاز عمر رواں پہ سوار بیٹھے ہیں
سوار خاک ہیں بے اختیار بیٹھے ہیں

یہاں سیاسی دھرنے، سماجی دھرنے، رستوں پہ لاشے رکھ کر لواحقین کے دھرنے، لاپتا پیاروں کی تصاویر اٹھا کے دھرنے، معاشی دھرنے بھی ہونے چاہئیں، دھرنے کی یہ قسم ملاحظہ کریں :

درد تیرا گنجینۂ دل پر
بیٹھا دے کر دھرنا ہے
کیوں نہ ہم بھی زاد راہ اسی کو کر لیں :
دیوانگان عشق کو زیبا ہے داغ سر
شاہوں کے سر پہ افسر شاہانہ چاہیے
اے غافلو کبھی تو ادھر کی بھی لو خبر
ایسی بھی دل میں الفت دنیا نہ چاہیے
کیا بیٹھا جمع کرتا ہے سامان عمر نوح
بحر جہاں میں دم کا بھروسانہ چاہیے
یہ شعر ’انصافیوں‘ کے لیے :
تقاضا ہے گریباں کا کہ مجھ کو چاک کر ڈالو
تمنا یہ دامن کی اڑا دو دھجیاں میری

اس باب میں دو مثنویوں کا انتخاب شامل ہے، مثنویوں کے عنوان بھی کیا خوب اتفاق حسب حال ”خواب امن“ اور ”وداع انصاف“ ۔ آخر میں ایک نظم بعنوان ”اولوالعزمی کے لیے کوئی سد راہ نہیں“ اور ردیف ’چلے چلو‘ ، یہ ردیف اردو شعراء نے اکثر باندھی ہے یا حالات کے تقاضے یہی رہے :

آگے بڑھو کہ اب نہیں تاب قرار ہے
کرنا ہے جب کہ کام تو کیا انتظار ہے
جو کچھ کہ معرکہ تھا لیا تم نے مار ہے
ہو تم بھی خوش کہ آئی خوشی کی بہار ہے
فتح و ظفر نے لے لیا میداں چلے چلو
نیکی بدی کے دیر سے باہم ہیں معرکے
اب خاتموں پہ آ گئے ہیں ان کے فیصلے
قسمت کے یہ نوشتہ نہیں جو نہ مٹ سکے
وہ گونجا طبل فتح کہ میداں لے لیے
ہے کرنائے جنگ کی الحاں چلے چلو

Facebook Comments HS