زبان، جنگ کی اور امن کی
فلسفی ویٹ گن سٹئین کہتے ہیں ”لفظ کا معنیٰ کسی زبان میں اس لفظ کا استعمال ہی ہوتا ہے”۔ دوسرے الفاظ میں زبان میں خود معانی نہیں ہوتے بلکہ یہ سیاق و سباق کے ذریعے پیدا کیے جاتے ہیں۔ یہ سوال ابلاغ سے متعلق ہے۔ آئی اے ریچرڈ کے مطابق ابلاغ کا عمل اس وقت ہوتا ہے جب ایک ذہن اپنے ماحول پر اس طرح عمل کرتا ہے کہ اس سے دوسرا ذہن متاثر ہوتا ہے اور اس دوسرے ذہن میں ایک تجربہ جنم لیتا ہے جو پہلے ذہن کے تجربے کی طرح ہوتا ہے اور جزوی طور پر اس تجربے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
کوئی بھی زبان محض صوتیات، فونیات، الفاظ، جملوں اور قواعد کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ اپنے ماحول، سیاسی اور ثقافتی حالات سے نہ صرف متاثر ہوتی ہے بلکہ ان حالات کو بیان کرنے کا ذریعہ بھی ہوتی ہے۔ زبان کوئی بے جان شے نہیں کہ اس کا مطالعہ ایک بے جان اوبجیکٹ کے طور پر کیا جائے۔ زبان ایک عمل کا نام ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے سے نہ صرف متعلق ہوتا ہے بلکہ اس کو اثر انداز کرتا ہے اور خود بھی اثر لیتا ہے۔ زبانوں کی تبدیلی یا مر جانا ان کے جاندار ہونے کا ثبوت ہے۔
ہمارا موضوع چونکہ زبان کا امن اور جنگ سے تعلق ہے اس لیے ان دونوں حالتوں کو پیدا کرنے میں زبان کے کردار پر بات کرتے ہیں۔ زبان تاثر اور رویے کو تشکیل دیتی ہے۔ زبان کا استعمال اختلافات کو کم کرنے، تشدد کو ہوا دینے یا تنوع کی تسلیم کو حاصل کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ جنگ کی زبان عام طور پر تشدد کی حقیقت کو چھپانے کے لیے کام کرتی ہے۔ امن کی حالت کی طرح امن کی زبان بھی منفی یا مثبت ہو سکتی ہے۔
منفی امن سے مراد جنگ یا تشدد کا مکمل خاتمہ نہیں بلکہ جنگوں کے بیچ امن کا وقفہ ہوتا ہے جبکہ مثبت امن ایک دائمی حالت ہوتی ہے جہاں جنگ کی مکمل نفی ہوجاتی ہے۔ مثبت امن کی زبان کھلے، مشترک اور جامع ابلاغ کو فروغ دیتی ہے جو تنوع کی توثیق اور اس کو تسلیم کرتی ہے۔ علم طاقت ہے تو زبان بھی طاقت ہے۔ جو لوگ جنگ اور امن کی زبان کو کنٹرول کرتے ہیں وہی معاشرے کو امن یا جنگ میں سے کسی ایک جانب موڑ سکتے ہیں۔
جنگ کی زبان قدیم معاشروں کے درمیان ابتدائی جنگوں سے لے کر بیسویں صدی کی عالمی جنگوں اور اکیسویں صدی میں دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگوں تک، سیاسی اور عسکری رہنماؤں نے زبان میں مختلف اصطلاحات متعارف کر واکر جنگوں کو تقویت دی ہے۔ زبان کے استعمال سے ہی جنگوں کو اخلاقی جواز فراہم کیے ہیں اور ان کو قانونی حیثیت دی ہے۔ جدید قومی ریاستوں نے جنگوں کو قومی خودمختاری کے لیے ناگزیر بنایا ہے۔ بد قسمتی سے دنیا کی بڑی زبانوں میں امن کے مقابلے میں جنگی اصطلاحات زیادہ ہیں اور امن کی نسبت جنگ پر زیادہ گفتگو ہوتی ہے۔
جنگ کا سب سے وسیع جواز قرون وسطیٰ کے دوران پیدا ہوا جو آج تک جاری ہے۔ اس کو کئی مفکرین جیسے سینٹ آگسٹین اور سینٹ تھامس ایکیناس نے دوام بخشا۔ جنگ کو ہولی وار، جسٹ وار یا جہاد کا نام بھی زبان کے ذریعے ہی دیا گیا۔ جنگ کی زبان ہمیشہ ایسے اصطلاحات وضع کرتی ہے جو قتل و غارت، دوسروں کی سرکوبی، ظلم و ستم، تشدد، دوسرے کے وسائل چھیننے، دوسروں کو ان کے عقائد اور زبانوں سے محروم کرنے اور دوسروں پر تسلط قائم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
زبان کے اس طرح استعمال سے ہی یہ سرگرمیاں لوگوں کو نارمل لگتی ہیں۔ مثلاً جنگجو جتھوں کو فریڈم فائٹرز اور مجاہدین، محکمہ جنگ کو محکمہ دفاع، اپنے سیاسی مقابل کو برائی کا محور axis of evil جیسے اصطلاحات زبان میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح کسی اور قوم پر حملے کو preemptive strike کا نام دینا یا عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کولیٹرل ڈیمج کہنا بھی ایسی مثالیں ہیں۔ زبانوں کے ایسے اصطلاحات سے منفی سرگرمیوں کے لیے مثبت تصورات اور مثبت کے لئے منفی تاثرات پیدا کیے جاتے ہیں جو ہمارے تاثر اور رویے کو متاثر کرتے ہیں۔
لسانیات میں اصطلاحات کے اس طرح استعمال کو “ lexicalization ”کہتے ہیں۔ کہیں ان میں مثبت مفہوم اور کہیں پہ ان میں منفی مفہوم ڈالا جاتا ہے۔ کریٹیکل تھیوری میں اس کو special pleading کہا جاتا ہے اور اس کو غالب طبقہ خاص طور پر اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ مثلاً کسی بم دھماکے میں عام شہری تو “ ہلاک ”ہو جاتے ہیں جبکہ فوجی“ شہید ”ہوتا ہے۔ آرمی پبلک سکول میں بچوں کے قتل عام کو ملک کے لیے قربانی قراردیا جانا ہو یا کسی مدرسے پر بم گرانے سے ہلاکتوں کو کولیٹرل ڈیمیج قرار دینا سب اسی سپیشل پلیڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔
لوگ اس زبان کے ذریعے ہی اپنا ایک نکتہ نظر بناتے ہیں جو ان کو سکھائی جاتی ہے۔ سوشلائزیشن کے عمل میں زبان لوگوں کو معاشرے میں موجود اقدار سے ہم آہنگ کرتی ہے۔ اسی لیے سوشلائزیشن کا یہ عمل زبان کو خاص مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سرد جنگ کے دوران امریکیوں نے اپنی حکومت کو “ آزادی کا چیمپئن ”اور سوویت حکومت کو “ ایک بری سلطنت ”سمجھا۔ یا ہمارے ہاں پڑوسی ملکوں کو اپنی ساری خامیوں کا ذمہ دار ٹھرا کر اپنے کردہ جرائم پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔
امریکی لنگوئسٹ نارمین فیرکلو کے نزدیک زبان ایک سماجی رویے کی شکل ہے جس میں ہم سب سے زیادہ کامن سینس یا نظریاتی مفروضوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک غالب ( discourse) دوسرے مباحث کو دبا دیتی ہے اور نتیجے میں لوگ اس کی مطلق العنانیت یا بربریت کو بھول جاتے ہیں اور پھر وہ بحث/بیانیہ نارمل لگتی ہے۔ فیئر کلو اس کو naturalization of discourse کہتا ہے۔ مثلاً لوگوں پر ریاست کی طرف سے پہلا تشدد ہمیں چونکا دیتا ہے مگر اسی طاقتور ڈسیکورس کی وجہ سے یہ تشدد مسلسل روا رکھا جاتا ہے اور یہ پھر ہمیں نارمل سا لگتا ہے یا دور کسی سرزمین پر کسی کو ویلن بنایا جاتا ہے اور خود کو ہیرو بنا کر اس شیطان کے خلاف چھڑائی کی جاتی ہے۔
صدام حسین کی مثال ہی لیں۔ یا سویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران جو لوگ بہادری میں ان کے آبا و اجداد کے برابر تھے وہی لوگ بعد میں دہشت گرد بن جاتے ہیں۔ یہ ڈیسکورس پروپیگنڈا پیدا کرتا ہے اور اس کی ترسیل کا ذریعہ سرکاری میڈیا، ، کنٹرولڈ میڈیا اور تعلیم ہی ہوتے ہیں۔ ہمارے نصاب میں ہمارے تاریخی ہیرو اب بھی ویلن ہیں جبکہ حملہ آوروں کو ہیرو بنایا گیا ہے۔ لسانیات اور طاقت کے بیچ اس تعلق کی طرف اشارہ انیسویں صدی کے آخر میں فریڈرک نطشے ( 1956 ) نے کیا۔
انہوں نے کہا ہماری ویلیو ججمنٹ (یعنی اچھائی اور برائی کی تمیز) بنیادی طور پر زبان سے متاثر ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو زبان کو کنٹرول کرتے ہیں وہ ہمارا نکتہ نظر اور ہمارے ردعمل کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔ زبان کا اس طرح استعمال ہماری سوچ کو کنٹرول کر کے ہمارے رویوں پر اثر انداز ہو کر ہمارا شعوری ڈھانچہ تربیت دیتا ہے۔ بعد کے کئی مفکرین جیسے ویٹ گن سٹئین، مشل فوکو، گرامچی، بورڈیو وغیرہ نے اس پر کام کیا ہے۔ زبان کو کسی سماج میں طاقت کی تقسیم سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور طاقت کی تقسیم مساوی نہیں ہوتی۔
فرانسیسی ماہر سماجیات پیئر بورڈیو کے نزدیک زبان کا استعمال کسی شخص کے سماجی رتبے پر منحصر ہوتا ہے اور یہ رتبہ social status زبان سے باہر ہوتا ہے۔ باہر سے مراد وہ سماجی حالات ہیں جن کے اندر رہ کر یہ ڈیسکورس کسی زبان کے ذریعے پنپتا ہے۔ بوڑدیو کے خیال میں کسی لسانی قومی اکائی کی تعمیر سیاسی تسلط ہے جہاں ایک زبان کو دوسروں پر مسلط کیا جاتا ہے اور پھر اس کے ذریعے طاقت کے اس ڈیسکورس کو اگے بڑھایا جاتا ہے۔
مثلاً پاکستان میں اردو یا قومی ریاستوں میں قومی زبان یا زبانیں۔ زبان کے اندر اسی ڈیسکورس کے ذریعے پھر سرکاری اور عسکری مقتدرہ اتھارٹی اپنے طرز عمل کو جائز قرار دے سکتی ہے اور اس طرح جنگ کے ناقدین کی مشترکہ کوششوں کو بھی اکثر اپنے حق میں کرتی ہے۔ جو ملک مسلسل نازک دور سے گزر رہا ہوں وہاں جنگی ڈیسکورس کے ناقدین کے لیے ملک دشمن، غدار اور کافر جیسے ٹھپے کسی عسکری زبان کی لغت میں مسلسل تیار کیے جاتے ہیں۔
امن کی زبان امن اور انصاف کے حصول میں امن کی زبان ایک موثر عامل ہے۔ امن کی زبان لسانی عدم تشدد کی علامت ہے۔ یہ سب کو شامل کرتی ہے اور اشتراکی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود جس پیمانے پر جنگ کی زبان سرکاری ڈیسکورس میں حاوی ہوتی ہے کہ اس کے سامنے جب امن کی زبان استعمال کی جاتی ہے تو یہ عام طور پر منفی امن کی زبان ہوتی ہے۔ منفی امن کی زبان درحقیقت نا انصافی کو دوام بخشتی ہے۔ ایک حکومت اور اس کا میڈیا وقتی طور پر کسی خاص قوم کو “ دشمن ”یا“ شیطان ”قرار دینا بند کر سکتا ہے لیکن اس کی وجہ سے جو عوامی اور نجی رویے فروغ پاتے ہیں یا جو تعصب پیدا ہوتا ہے وہ و عموماً مخفی ہوتا ہے۔
جب تعصبات پوشیدہ ہوں تو عوام میں ان کا پتہ لگانا اور ان کو ختم کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ مثبت امن کی زبان تشدد کے واقعات میں بھی خاموشی سے اس کی مکمل نفی کی طرف سہولت فراہم کرتی ہے۔ مثبت امن کی زبان کے قیام کے لیے جنگ اور تشدد پر مبنی ثقافتوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے کیوں کہ زبان اپنا معنی ثقافت سے ہی کشید کرتی ہے۔ مثبت امن پر اور اس پر بات کرنے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تنوع کو تسلیم کرنا اور حقیقی معنوں میں اس کے وجود کو سراہنا ضروری ہوتا ہے۔
مثبت امن کی زبان قائم کرنے کی کوشش کے لیے ہر مقامی زبان کی ترویج اور ترقی کی ضرورت ہے، اس کو با اختیار بنانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ایک قومی یا جنگی زبان کے مقابلے میں متبادل زبانیں پنپ سکیں اور جنگی بیانیوں کے خلاف امن کا بیانیہ عوام کے اندر سرایت کر جائے۔ مثبت آمن کے لیے ایک زبان کی ہیجمنی/بالادستی ختم کرنی پڑے گی۔ کئی سرگرمیاں مثبت امن کے لیے درکار احترام، تعاون اور افہام و تفہیم کے حصول کو فروغ دیتی ہیں۔
ایسی سرگرمیاں نسل، رنگ، جنس اور جنسی رجحانات کے بارے میں تعصبات کا اظہار کرنے والی اصطلاحات کی گفتگو کی نفی کرتی ہیں۔ مختلف زبانیں، نسلیں، جنس اور ثقافتیں وہ دھنیں ہوتی ہیں جو انسانیت کے نغمے کی تخلیق کرتی ہیں۔ یہ انسانیت کے باغ کی وہ کیاریاں ہوتی ہیں جہاں مختلف انواع و اقسام کے پھول اس کے حسن کو نکھارتے ہیں۔ لسانی بیگانگی اور لسانی تشدد جب کسی زبان کو طاقت /مقتدرہ دباتی ہے یا اس میں اپنی مرضی کے جنگی اور تشدد پر مبنی اصطلاحات ڈالتی ہے تو اس سے جہاں ایک طرف لسانی بیگانگی پیدا ہوتی ہے تو دوسری جانب یہ لسانی تشدد ہوتا ہے۔
1948 ء میں جب ڈھاکہ یونیورسٹی میں کھڑے ہو کر کہا گیا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہوگی اور اس کی مخالفت کرنے والے ملک دشمن ہیں تو اس سے ایک طرف بنگالیوں پر لسانی تشدد کیا گیا جبکہ دوسری طرف یہ بیان اردو سے بیگانگی کا سبب بنا۔ اردو زبان میں جو بالادست بیانیہ نصاب، میڈیا اور کتابوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے وہ ملک کی دوسری لسانی اکائیوں کو اردو سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ لسانی تشدد اور جنگی ڈیسکورس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ سماج میں ایک سے زیادہ زبانوں کو فروغ دیا جائے۔ جو ملک یک لسانی ہیں وہاں دوسری اور تیسری زبان کی تدریس اور فروغ ہو اور جو ملک پہلے سے کثیر لسانی ہیں ان میں اس لسانی تنوع کو فروغ دیا جائے۔ یوں ایک سرکاری یا قومی زبان میں جنگی ڈیسکورس کا مقابلہ دوسری زبانوں میں متبادل ڈیسکورس پیش کر کے کیا جاسکتا ہے۔


