الیکشن 2024 اور مسلم لیگ نون


الیکشن 2024 گزر چکا ہے اور نتائج کے حوالے سے اپنے پیچھے نا ختم ہونے والی بحث چھوڑ گیا ہے۔ قومی سطح پر کسی بھی پارٹی کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔ موجودہ انتخابی نتائج کو دیکھا جائے تو مسلم لیگ نون اپنے خلاف تمام تر حربوں کے باوجود مرکز میں سب سے زیادہ سیٹیں لے کر سنگل لارجسٹ پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔ مسلم لیگ نون کے ہاتھ پیر باندھنے کی خاطر اس کے مینڈیٹ پر ایک بار پھر مکمل منصوبہ بندی سے ضرب لگا کر قومی اسمبلی میں اس کی نشستیں کم کی گئی ہیں۔ اس نا انصافی کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ نون کی چند اپنی خامیاں بھی انتخابی نتائج پر منفی طریقے سے اثر انداز ہوئی ہیں جس سے نون لیگ کا ووٹر کافی حد تک بد دل ہوا ہے۔

پاکستان خصوصاً اربن پنجاب میں نون لیگ اپنے ہارنے والے حلقوں میں جزوی طور پر اور چند مخصوص حلقوں میں کلی طور پر انتخابی دنگل لڑنے میں ناکام رہی ہے۔ انتخابی کمپین اور نتائج کے تجزیے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ نون کی ان ناکامیوں کی تین بڑی وجوہات ہیں ؛ جن میں پارٹی تنظیم سازی پر توجہ نا دینا، پارٹی میڈیا سیل کی نا اہلی اور سوشل میڈیا کو پروفیشنل طریقے سے نا چلانا شامل ہیں۔

انتخابی سیاست میں تنظیم سازی کسی بھی سیاسی جماعت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اس ڈھانچے کو منظم کئیے بغیر انتخابی دنگل میں اترنا سیاسی خودکشی اور صریحا بے وقوفی کی علامت ہے۔ 1985 میں نواز شریف نے ذاتی توجہ سے بنیادی پرائمری یونٹس بنائے تھے جس کی وجہ سے نواز شریف سے جڑا وہ نوجوان ووٹر آج ادھیڑ عمری میں بھی ووٹ نواز شریف کو ہی دیتا ہے۔ موجودہ الیکشن سے پہلے مسلم لیگ نون کا تنظیمی ڈھانچہ بالکل غیر متعلق تھا صرف مریم نواز نے بطور چیف آرگنائزر مسلم لیگ نون کی طرف توجہ کی اور آخری چند مہینوں میں ووٹرز کے ایک حصے کو پارٹی کی جانب مائل کیا۔

سوشل میڈیا کے محاذ پر نون لیگ کی کارکردگی دیکھی جائے تو وہ بھی بہت مایوس کن تھی۔ مسلم لیگ نون سوشل میڈیا محاذ پر شروع سے ہی بہت کمزور پوزیشن میں رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ آفیشل سوشل میڈیا سیل پروفیشنلز کے ہاتھ نا دینا ہے۔ پارٹی قیادت کو اس بات کا تو بخوبی علم ہے کہ اپنا سیاسی ایجنڈا اور مخالفین کے منفی پروپیگینڈا کو محدود وقت میں کاؤنٹر کرنا سیاسی بقا ہے لیکن اس بقا کی ضمانت سوشل میڈیا ہے اس سے ابھی تک شاید زیادہ واقفیت حاصل نہیں کر سکے۔

اسی طرح کسی بھی سیاسی جماعت کا شعبہ اطلاعات و نشریات جس کا کام پارٹی کے اندرونی ڈھانچے میں اطلاعات کے ساتھ ساتھ قومی و بین الاقوامی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ روابط اور فوری رد عمل دینا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں مسلم لیگ نون کا شعبہ اطلاعات اپنی تفویض کردہ ذمہ داری کو بہتر انجام دینے سے قاصر رہا ہے جس کی واضح مثال قومی الیکشن 2024 کی نتائج کی شام اور پوری رات جب پاکستانی الیکٹرانک میڈیا نے تاریخی بددیانتی کرتے ہوئے قومی انتخابات پر ابہام پیدا کر کے اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا پارٹی کا آفیشل میڈیا سیل اس دوران تقریباً بیس بائیس گھنٹے مکمل طور پر لاتعلق رہا جس کی وجہ سے پارٹی کو کئی جگہوں پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا اور کارکنان ایک ہیجان اور غم و غصے کی حالت میں رہے۔

مسلم لیگ نون کو اپنی ان غلطیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کی تیاری بہتر انداز میں کرنی چاہیے کیونکہ سیاسی جماعتیں ہمہ وقت سیاست کے محاذ پر معرکہ لڑنے کو تیار رہتی ہیں۔ اس ضمن میں اس طالب علم کی رائے میں مسلم لیگ نون کو چند بڑے مرکزی اور صوبائی عہدوں کو الیکشن کے دنگل سے علیحدہ کرنا چاہیے۔ اس طرح پارٹی کا دہرا نقصان ہوتا ہے ایک شخص ایک وقت میں پارٹی کے عہدے پر بھی کام کر رہا ہوتا ہے اور حلقے میں الیکشن بھی لڑ رہا ہوتا ہے اس طرح وہ دونوں محاذوں پر یکساں فوکس نہیں کر سکتا۔

میری رائے میں مرکزی و صوبائی جنرل سیکرٹریز کو ہمہ وقت پارٹی دفاتر میں موجود رہنا چاہیے۔ سال بھر مرکزی اور صوبائی تنظیم سازیوں کی نگرانی کریں۔ الیکشن کے دنوں میں مرکزی جنرل سیکرٹری اپنی ٹیم کے ساتھ مرکزی آفس میں بیٹھ کر سائنٹیفک انداز میں الیکشن کے ایک ایک لمحے کو مانیٹر کرے۔ جب جنرل سیکرٹری اپنا الیکشن لڑ رہا ہو گا تو پارٹی کے الیکشن نتائج اور ان سے منسلک مسائل کون دیکھے گا؟

اسی طرح پارٹی میڈیا سیل کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ دھیمے مزاج کی پڑھی لکھی نستعلیق قسم کی شخصیت اس سیل کو کنٹرول کرے اور اپنی ٹیم کے ہمراہ ہمہ وقت میڈیا کو انگیج کرے۔ موجودہ الیکٹرانک میڈیا کے دور میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے لیے کسی ایشو پر دس منٹس کی خاموشی بعض اوقات ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ الیکشن کی رات مسلم لیگ نون کے میڈیا سیل کی طرف سے ایسی سستی کا مظاہرہ کیا گیا تھا جسے نون لیگ کے ووٹرز نے سخت ناپسند کیا۔

سیاسی میدان میں مسلم لیگ نون کا مقابلہ ان حریفوں سے ہے جو سوشل میڈیا کے میدان میں ان سے بہت آگے ہیں۔ نون لیگ کے موجودہ آفیشل سوشل میڈیا سیل میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ ان کا مقابلہ کر سکے۔ یہ دعائیں دیں اپنے ان کارکنان کو جو سوشل میڈیا پر والنٹیئرز حیثیت میں پارٹی پالیسیز اور قیادت کی سیاسی سوچ کا دفاع کرتے ہیں۔ موجودہ آفیشل سوشل میڈیا ٹیم سوشل میڈیا کی فیلڈ کا میٹیریل ہی نہیں ہے۔

مسلم لیگ نون کو یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ عصر حاضر میں سوشل میڈیا ایک مکمل سائنس ہے اس پر آپ سائینٹیفک انداز میں عمل کریں گے تو بات بنے گی نہیں تو مار کھا جائیں گے جیسے ابھی کھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گرفت کے لیے اعداد و شمار کی موجودگی، ان اعداد و شمار کا تجزیہ اور اس سے متعلقہ پبلشڈ ریسرچ کے حوالہ جات سے آگاہی لازم ہے۔ سوشل میڈیا سیل سے وابستہ افراد کو سوشل میڈیا سائنس کی حرکیات سے واقفیت، بروقت نیا مواد تیار کرنے کی تربیت، ڈیٹا سائنس اور اس کے تجزیے پر عبور حاصل ہونے کے ساتھ اس بات کا علم بھی ہو کہ ان معلومات کو کس وقت اور کس زاویے سے پبلک کرنا ہے۔

نوجوانوں کے ذہنی میلان کے مطابق منفرد کانٹینٹ تیار کرنا، حقائق اور اعداد و شمار کی مدد سے بروقت جوابی بیانیہ ترتیب دینا، ذہن سازی کرنا اور نفسیاتی حربوں کا استعمال کرنا سوشل میڈیا کی جنگ کے بنیادی ہتھیار ہیں۔ یوتھ کی عمروں کے مختلف کیڈرز بنا کر ان کی ذہن سازی کے لیے خفیف سطح کے اہداف کا تعین بھی کیا جائے، کیونکہ ہر عمر کی دلچسپی کا محور ایک ہی موضوع نہیں ہوتا۔

ان بیان کیے گئے نقاط کی روشنی میں آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے پرخطر میدان میں اپنی پارٹی کے سیاسی بیانیے کی ترویج اور کاؤنٹر اسٹریٹجی ایک عام کارکن کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ کام صرف پروفیشنلز لوگ ہی کر سکتے ہیں جو سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ، بگ ڈیٹا سائنس اور ایلگورتھم کی باریکیوں کو سمجھ سکتے ہوں۔ سیاسی قیادت صرف انہیں راہ نمائی فراہم کرے۔

مسلم لیگ نون کو چاہیے کہ اوپری بیان کئیے گئے مسائل کے ساتھ ساتھ اربن پنجاب میں مقامی قیادت کی غیر تسلی بخش کارکردگی کا سخت تنقیدی جائزہ لے۔ اس مقامی قیادت کے ساتھ کسی نا کسی سطح پر نوجوان قیادت خصوصاً خواتین کو بھرپور موقع دیا جائے تا کہ وہ اعتماد سے آگے بڑھیں۔ یہ سچ ہے کہ مسلم لیگ نون میگا پراجیکٹس کے حوالے سے ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے لیکن آج کا نوجوان انٹریکشن مانگتا ہے۔ آپ اس کے ساتھ مکالمہ کریں اسے پاکستان کے مسائل سمجھانے کے ساتھ ساتھ نئے مواقعوں کی امید اور روشنی دکھائیں، بہتر کارکردگی کی بدولت اگر آپ اسے خوشحال اور مستحکم پاکستان کا یقین دلا دیتے ہیں تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

Facebook Comments HS