’ہر وقت جلدی میں رہنے والی‘ دیویا بھارتی، جن کی صرف 19 برس میں ’پراسرار موت‘ آج تک معمہ ہے

وندنا - بی بی سی انڈیا


’ہسپتال کا ایک کمرہ جہاں ایک مرتی ہوئی لڑکی اپنے آپ سے کہہ رہی ہے کہ بس بہت دیر ہو چکی۔ وقت پانی کی طرح ہاتھ سے نکل رہا ہے لیکن مجھے آنسوؤں سے الوداع مت کرو، میں خوش ہوں، میرے دل میں بھی سندور ہے۔‘

یہ 31 جنوری 1992 کی فلم ’دل کا کیا قصور‘ کا ایک سین ہے جس میں انڈیا کی معروف اداکارہ دیویا بھارتی اپنے خاندان کے سامنے مرتے ہوئے یہ الفاظ کہتی ہیں۔

اس فلم کے ایک سال بعد اپریل 1993 میں دیویا بھارتی نے اپنی حقیقی زندگی میں خود کشی کر لی۔ وفات کے وقت ان کی عمر صرف 19 سال تھی۔

25 فروری 1974 کو پیدا ہونے والی دیویا بھارتی اگر آج زندہ ہوتیں تو 50 سال کی ہو چکی ہوتیں۔ ان کا کیریئر صرف دو تین سال پر ہی محیط تھا۔ اس کے باوجود ان کی شہرت کے قصے آج بھی مشہور ہیں۔

خوش مزاج، چنچل، شرارتی، شوخ، باصلاحیت، حیرت انگیز اداکارہ، بڑی آنکھیں اور جادوئی چہرہ۔ اگر دیویا کے بارے میں کہے گئے الفاظ کا ’ورڈ کلاؤڈ‘ بنایا جائے تو تقریباً سبھی نے ان کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔

1992 کی فلم ’دیوانہ‘ دیویا کے کیریئر کی سب سے بڑی ہٹ فلم تھی۔

دیوانہ کے پروڈیوسر گڈو دھنوا نے کہا کہ ’دیویا ایک بہترین اداکارہ تھیں، ایک ون ٹیک اداکارہ۔ یہاں تک کہ ڈانس ماسٹر بھی انھیں سیٹ پر صرف ایک بار ڈانس کا ایک سٹیپ سکھاتے اور بس دیویا فوراً کہتیں کہ شاٹ کے لیے وہ ریڈی ہیں۔ یہاں تک کہ انھیں ریہرسل کی ضرورت بھی نہیں ہوتی تھی۔‘

پروڈیوسر گڈو دھنوا کہتے ہیں کہ ’شملہ میں فلم ’ایسی دیوانگی‘ کی شوٹنگ کے دوران دیویا نے 104 ڈگری بخار ہونے کے باوجود شوٹنگ کی۔ ہمیں تین دن کے اندر گانا شوٹ کرنا تھا اور ہمارے انکار اور آرام کا کہنے کے باوجود، دیویا نے آرام کیے بغیر شوٹ مکمل کیا۔‘

دیویا کو جیتندر کی ہیروئن بننا تھا

دیویا انڈین فلم انڈسٹری میں اتنے کم عرصے کے لیے آئیں تھیں کہ ان کے بارے میں جاننے کے لیے ان کے صرف دو یا تین ویڈیو انٹرویوز ہیں، جنھیں آپ بار بار دیکھ کر ان کے الفاظ کا مطلب جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر، ایک پرانے ویڈیو انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی خواہش کیا ہے، تو انھوں نے کہا، ’خواب تو سب سے اوپر تک پہنچنے کا ہے لیکن مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ میں جو بھی بننے جا رہی ہوں، وہ بنوں گی۔ میں اپنی جگہ خود بنانا چاہتی ہوں۔‘

اسے سننے سے ذہن میں ایک پراعتماد، خود ساختہ اور پرجوش نوجوان لڑکی کی تصویر بن جاتی ہے جو دنیا کو فتح کرنا چاہتی تھی۔

ممبئی کی رہنے والی دیویا مانک جی کوپر ٹرسٹ سکول میں پڑھتی تھیں۔ دیویا کے ساتھ پڑھنے والوں میں فرحان اختر اور شرمن جوشی بھی تھے تاہم دیویا کو پڑھائی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔

دیویا کے والدین اب اس دنیا میں نہیں۔ انھوں نے 2012 میں بالی ووڈ ہنگامہ کو تین حصوں پر مشتمل ایک طویل انٹرویو دیا۔ انٹرویو میں دیویا کی والدہ نے اپنی بیٹی کے بارے میں کھل کر بات کی۔

اُن کی والدہ کے مطابق ’دیویا کو پڑھائی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ میں دیویا کو پڑھانے کی کوشش میں لگی رہتی تھی اور وہ تھی کہ بس آئینے کے سامنے فلم ’ہمت والا‘ کے سٹیپ کرتی تھی۔ جیتندر اس کے پسندیدہ ہیرو تھے اور وہ جیتندر کی ہیروئن بننا چاہتی تھی۔ جب دیویا سکول میں تھی تب ہی اسے آفرز ملنے لگیں۔ گووندا کے بھائی کیرت کمار نے انھیں فلم ’رادھا کا سنگم‘ کے لیے سائن کیا تاہم بعد میں بعض وجوہات کی بنا پر اُنھیں فلم سے ڈراپ کر دیا گیا۔‘

ڈائریکٹر ستیش کوشک نے پھر دیویا کا نام اپنی فلم ’پریم‘ کے لیے تجویز کیا لیکن بعد میں جب ستیش کوشک نے تبو سے صلح کر لی تو پھر دیویا کو یہ فلم چھوڑنا پڑی۔ ایسا ہی فلم ’سوداگر‘ میں بھی ہوا۔

ہندی سے پہلے بھی دیویا کی تیلگو فلم ’بوبلی راجہ‘ 1990 میں ریلیز ہوئی تھی اور زبردست ہٹ ہوئی تھی۔

دیویا نے ہندی سے پہلے تیلگو میں اداکاری کی

بی بی سی تیلگو کے ساتھ منسلک گوتمی خان کے ساتھ بات چیت میں، دیویا کی پہلی فلم کے پروڈیوسر بی گوپال نے کہا کہ ’بونی کپور نے دیویا کو ہمارے پروڈیوسر سریش بابو سے ملوایا۔ ہم نے انھیں فوری طور پر تیلگو فلم کے لیے سائن کر لیا۔ وہ بہت چھوٹی تھی، اسے شاپنگ پسند تھی۔ اس کے بعد سریش بابو اسے سینما لے گئے۔ وہ تیلگو فلموں سے بڑی سٹار بنیں اور پھر بالی ووڈ سے بھی آفرز ملنے لگیں۔‘

تامل اور تیلگو فلموں کی ریلیز کے بعد، راجیو رائے نے دیویا کو 1992 میں فلم ’وشواتھاما‘ کے ساتھ ہندی فلموں میں کام کرنے کا موقع دیا۔

1992 میں، وشواتھاما، شولا اور شبنم اور دل کا کیا قصور۔۔۔ ایک ہی مہینے میں لگاتار ایک نئی ہیروئن کے ساتھ تین فلمیں ریلیز ہوئیں۔ جون 1992 میں ریلیز ہونے والی ’دیوانہ‘ میں رشی کپور اور شاہ رخ خان جیسے ستاروں کے ساتھ بھی ناظرین نے دیویا کو دیکھا اور وہ مشہور ہو گئیں۔

دیویا کی شہرت کا اندازہ فلم فیئر میگزین کی ایک سطر سے لگایا جا سکتا ہے، ’دیویا اس وقت سٹار بن گئیں جب سنیل شیٹی کی پہلی فلم ’بلوان‘ آئی۔‘

کام کے دوران مذاق اور شرارت

دیویا کی پرفارمنس کے بارے میں ان کی والدہ نے بالی ووڈ ہنگامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’پہلاج نہلانی کی فلم شولا اور شبنم میں دیویا کا ایک سنجیدہ سین تھا تاہم دیویا کرکٹ کھیل رہی تھیں۔ ڈائریکٹر ڈیوڈ دھون نے دیویا کو سنجیدہ ہونے کو کہا۔‘

دیویا نے جواب دیا کہ ’کیا واقعی مجھے مرنا ہے اگر میرے پاس موت کا سین ہے؟ دیویا نے کہا کہ آپ کیمرہ آن کریں اور اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی تو میں فلم چھوڑ دوں گی۔ اس کے بعد گانے کی شوٹنگ شروع ہوئی ’ٹو روٹھا تو روٹھ کے اتنی دور چلی جاؤں گی، ساری عمر پکارے پھر بھی لوٹ کے نہ آؤں گی۔‘ جب ہم نے رات کو یہ شوٹ دیکھا تو ڈائریکٹر ڈیوڈ دھون کی آنکھوں میں آنسو تھے۔‘

دیویا کی موت کے بعد سب سے پہلے پروڈیوسر پہلاج نہلانی ہسپتال پہنچے۔ نہلانی نے کہا ’دیویا ایک انتہائی پُر رونق شخصیت کی مالک تھیں۔ فلم ’شعلہ اور شبنم‘ میں ایک جذباتی منظر تھا، لیکن ڈائیلاگ آتے ہی وہ ہنسنے لگیں۔ معاملہ ایک کے بعد ایک ٹیک حتیٰ کے 32 ٹیک صرف اس لیے لینے پڑے کیونکہ دیویا کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔‘

’تاہم، وہ اپنے آپ کو کام کے لیے وقف رکھتی تھیں۔ شوٹنگ کے دوران ان کی ٹانگ زخمی ہونے کے باوجود انھوں نے پیک اپ کرنے سے انکار کر دیا اور ایکشن سین کرتی رہیں۔‘

’دیوانہ‘ کے ہدایت کار گڈو گھانوا نے کہا کہ وہ کام کے دوران حیرت انگیز اور کام کے بعد ہنسی مذاق کرتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت ہنگامہ خیز تھا۔ ہم لوگ اوٹی میں ’دیوانہ‘ کے پیلیا گانے کی شوٹنگ کر رہے تھے۔ شوٹ سے پہلے ہر کوئی تاش کھیل رہا تھا۔ ڈائریکٹر اور رشی کپور ایک جانب کرسی پر بیٹھے تھے۔ کرسی نہ ہونے کی وجہ سے دیویا رشی کی گود میں بیٹھ گئیں اور اُن کے ساتھ مذاق کرنے لگیں۔ رشی نے دیویا سے کہا کہ تم جانتی ہو کہ تمہاری عمر تقریباً 18 سال ہے اور میں 39 سال کا ہوں۔ میں 21 سال بڑا ہوں تاہم دیویا کی چھیڑ چھاڑ جاری رہی۔‘

یہ بھی پڑھیے

ساجد ناڈیا والا سے شادی

دیویا کے بارے میں فوٹوگرافر آر ٹی چاولہ نے مجھے بتایا کہ ’یہ دیویا کی سالگرہ تھی، جب بھی کوئی سٹار آتا، دیویا جوش سے مجھے جیکی شیرف کے ساتھ تصویر لینے کو کہتی، کبھی کہتیں کہ گووندا کے ساتھ میری تصویر لے لو، تاہم، دیویا کا رویہ بہت بدل گیا۔ آخری دنوں میں ان دنوں محبوب سٹوڈیو میں رنگ کی شوٹنگ ہو رہی تھی، میں نے انھیں فون کیا لیکن انھوں نے جواب نہیں دیا، میں حیران رہ گیا۔‘

اس دوران دیویا کی زندگی میں بہت کچھ چل رہا تھا۔ خاص طور پر جب یہ بات سامنے آئی کہ دیویا نے پروڈیوسر ساجد ناڈیا والا سے شادی کر لی ہے۔ اس وقت دیویا کی عمر صرف 18 سال تھی۔

دونوں کی ملاقات شولا اور شبنم کے سیٹ پر ہوئی تھی۔ دیویا کی والدہ کے مطابق شروع میں خاندان والے اس شادی سے خوش نہیں تھے تاہم، آخر میں سب نے قبول کیا۔

5 اپریل 1993 کی رات دیویا کی موت کی خبر نے پوری فلم انڈسٹری کو چونکا دیا۔ اس رات جو کچھ ہوا اس کی خبریں اب تک کئی بار اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔

تاہم دیویا کے والدین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’اس شام دیویا نے کہا کہ میں اپنا گھر لینا چاہتی ہوں، ہم سب گھر دیکھنے کے لیے گئے، رات کو مجھے فون آیا کہ نیتا لولا گھر آئی ہیں اور لباس دیکھنا چاہتی ہیں۔ دیویا کے بھائی انھیں چھوڑنے گئے، دیویا کے گھر ہماری ملازمہ، نیتا لولا اور ان کے شوہر تھے۔ 15 منٹ بعد فون آیا کہ دیویا بالکونی سے گر گئی ہیں، یہ سب ایک مذاق لگ رہا تھا۔ وہ اتنی کمزور نہیں تھی کہ خودکشی کر لیتی۔‘

اس صبح کے بارے میں بات کرتے ہوئے فلم فوٹوگرافر آر ٹی چاولہ نے کہا کہ ’جب میں اور میرا بیٹا شمشان گھاٹ پہنچے تو دیویا بھارتی کو سرخ رنگ کی چادر میں لپیٹا ہوا تھا۔ میں دیویا کو دیکھتا رہا اور روتا رہا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ میں دیویا کے کتنا قریب ہوں۔ ایک فوٹوگرافر کے طور پر میں بھی مجبوری سے جنازوں کی تصویر کشی کر رہا تھا۔‘

دیویا بھارتی کی موت

فلمی صحافی ٹرائے ریبیریا نے دیویا کی موت کے بعد سٹارڈسٹ میں ایک مضمون لکھا تھا ’دی ٹریجڈی دیٹ شاک دا نیشن بلو اکاؤنٹ۔‘ اس رپورٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’میں ان لوگوں میں شامل تھا جنھیں دیویا کی موت کی خبر سب سے پہلے ملی۔ دیویا کی لاش کو کیزولٹی وارڈ میں صبح ایک بج کر 30 منٹ کے قریب ایک ٹرالی پر رکھا گیا تھا۔ کالی پولکا ڈاٹڈ ٹاپ۔ دیویا کے والد کی طبیعت ناساز تھی وہ ایک بچے کی طرح رو رہے تھے۔ دیویا کا بھائی کنال بھی اُن کی موت کی وجہ سے شدید صدمے کا شکار تھے۔

سٹارڈسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ’ایک گھنٹے بعد ان کے شوہر ساجد وہاں پہنچے۔ ساجد نے دیویا کو دیکھا تو وہ زمین پر گر گئے اور منہ سے جھاگ آنے لگی۔ بعد میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ انھیں دل کا دورہ پڑا ہے۔ اسی دوران پروڈیوسر پہلاج نہلانی نے وہاں پہنچ کر حالات کو سنبھالا، اس وقت تک بونی کپور، کمل سدانا، سیف وغیرہ وہاں پہنچ چکے تھے، دیویا کی والدہ سے تھوڑی دیر سے رابطہ ہوا، انھوں نے آکر چادر اٹھا کر دیویا کا چہرہ دیکھا اور اپنا سر دیویا کے سینے پر رکھ دیا۔‘

دیویا کی موت کے بعد ان کے اہلخانہ اور دوست احباب صدمے کی حالت میں رہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرشمہ کپور نے کہا کہ ’ہم فلم کی شوٹنگ کر رہے تھے تاہم سیٹ پر ہم سب دکھی تھے۔ جب ہم نے شوٹنگ کے مناظر کے درمیان وقفہ لیا تو ہماری آنکھوں میں آنسو تھے۔‘

دیویا کی موت کے بعد ایک بہت عجیب واقعہ پیش آیا

دیویا کی موت کے بعد فلمیں ’رنگ‘، ’شطرنج‘ اور ’تھولی مدو‘ ریلیز ہوئیں۔ عائشہ جھلکا اور دویا بھارتی نے ’رنگ‘ میں ایک ساتھ کام کیا تھا اور وہ قریبی دوست تھیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عائشہ نے کہا ’وہ ہمیشہ کہتی تھی جلدی کرو، زندگی بہت چھوٹی سی ہے، انھوں نے یہ بات واضح طور پر نہیں کہی لیکن اکثر اس طرح بہت جلد وفات پا جانے والے ایسی باتیں کیا کرتے ہیں کہ جیسے اُنھیں جانے کی جلدی ہو، وہ بس ہر کام جلدی جلدی کرنا چاہتے ہیں کہ جیسے انھیں ایسا کوئی اشارہ ملا ہو کہ وقت کم ہے۔ وہ اکثر یہ بھی کہا کرتی تھیں کہ انھیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ یہ سب کیا ہے۔‘

’لگتا ہے وہ جانتی تھی کہ وہ ہمارے ساتھ زیادہ دیر نہیں رہے گی۔ دیویا کی موت کے بعد، ایک بہت ہی عجیب بات ہوئی۔ کچھ مہینوں بعد ہم فلم ’رنگ‘ کا ٹرائل دیکھنے گئے۔ جیسے ہی سکرین پر دیویا آئیں سکرین گر گئی، ہمارے لیے یہ بہت عجیب تھا۔‘

جہاں تک دیویا کے شوہر ساجد کا تعلق ہے تو تمام تر قیاس آرائیوں کے باوجود دیویا کے والدین اور ساجد کے درمیان تعلقات بہت اچھے تھے۔ 2004 تک، ساجد کی تمام فلموں کے شروع میں دیویا کی تصویر تھی اور کیپشن ہوا کرتی تھی ’میری پیاری بیوی کی یاد میں۔‘

بعد میں ساجد نے وردہ خان سے شادی کی۔ ساجد نے میڈیا میں اس معاملے پر بہت کم بات کی لیکن وردا دیویا سے جڑی باتیں سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہتی ہیں۔

انھوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’ساجد کے پاس اب بھی دیویا کا پرفیوم موجود ہے جسے دیویا نے آخری بار چھوا تھا۔ دیویا اب بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ جب بھی میرے بچے دیویا کی فلمیں دیکھتے ہیں، وہ انھیں بڑی ماں کہتے ہیں۔ جب ساجد نے اپنی پہلی فلم ’کک‘ کی ہدایتکاری کی تھی، تو انھوں نے اس میں گانا ’سات سمندر‘ بھی شامل کیا تھا۔ دیویا مجھے ساجد سے متعارف کرانے کی ایک کڑی تھی، یہ تب کی بات ہے کہ جب میں دیویا کی پہلی برسی پر ساجد کا انٹرویو کرنے گئی تھی۔‘

1993 میں دیویا کی موت کے بعد، لاڈلا (سری دیوی)، موہرا (روینہ)، ہلچل (کاجول)، وجے پتھ (تبو)، کرتاویہ (جوہی) جیسی ان کی فلمیں دیگر ہیروئنوں نے مکمل کیں۔

پہلاج نہلانی نے کہا کہ ’پروڈیوسرز کبھی کبھی اداکاروں کے رویے سے گھبرا جاتے ہیں لیکن دیویا مختلف تھیں۔ وہ سیٹ پر فیملی کی طرح تھیں۔ جب جذبات کی بات آتی تھی، تو وہ ایک ایسی لڑکی تھی جو پتھر سے پانی نکال سکتی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ سری دیوی کا پارٹ ٹو تھیں۔‘

اسی بارے میں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32477 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments