مراد علی شاہ کی وہ ’خوبیاں‘ جن کی بِنا پر انھیں تیسری مرتبہ سندھ کی وزارتِ اعلیٰ کا منصب دیا گیا

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سید مراد علی شاہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ کے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔ جولائی 2016 کے بعد سے وہ لگاتار تیسری بار اس منصب پر فائز ہوئے ہیں۔

ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مراد علی شاہ ہی پیپلز پارٹی کی نظر میں صوبے کی وزارت اعلیٰ کے لیے سب سے پہلی چوائس کیوں ہیں، کیا پیپلز پارٹی میں اس منصب کے لیے کوئی اور بہتر امیدوار موجود نہیں یا یہ مراد علی شاہ کی بطور وزیراعلیٰ کامیابیاں ہیں جنھوں نے انھیں تیسری مرتبہ اس عہدے تک پہنچایا ہے؟

اس سوالات کے جواب جاننے سے قبل دیکھتے ہیں کہ مراد علی شاہ ہیں کون؟

معیشت کے ماہر اور انجینیئرنگ ڈگری ہولڈر

پاکستان پیپلز پارٹی کے سندھ اسمبلی میں موجود اراکین میں سے سید مراد علی شاہ کا شمار ان چند اراکین میں ہوتا ہے جو ایک پروفیشنل پس منظر بھی رکھتے ہیں۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل وہ انجینیئرنگ اور بینکنگ کے شعبے کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔

مراد علی شاہ کی پیدائش 11 اگست 1962 کو سندھ سے تعلق رکھنے والے سینیئر سیاست دان اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ کے گھر ہوئی۔

مراد علی شاہ کی ابتدائی تعلیم کانوینٹ سکولوں میں ہوئی اور بقول اُن کے اُن کا پہلا سکول حیدرآباد میں تھا۔ اس کے بعد جب وہ تعلیم کی غرض سے کراچی منتقل ہوئے تو اُن کا پہلا سکول بروکلین تھا اور اس کے بعد پانچویں جماعت سے سینٹ پیٹرک سکول میں تعلیم حاصل کی جہاں سے 1977 میں میٹرک پاس کیا۔

ڈی جے سائنس کالج سے انٹر کے بعد این ای ڈی یونیورسٹی سے سول انجینیئرنگ میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی، ان کی تعلیم کا سلسلہ یہاں نہیں رُکا۔ اگلا پڑاؤ انھوں نے امریکہ میں ڈالا جہاں سٹینفرڈ یونیورسٹی کیلیفورنیا سے پہلے سٹریکلچرل انجینیئرنگ میں ایم ایس سی کیا اور بعد میں اسی یونیورسٹی سے اکنامک سسٹم میں دوسری ماسٹر ڈگری حاصل کی۔

مراد علی شاہ کو وفاقی، صوبائی حکومت میں ملازمتوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کا بھی تجربہ رہا ہے۔ وہ واپڈا، پورٹ قاسم اتھارٹی، حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں انجینیئرنگ کے شعبوں سے وابستہ رہے اور بعد میں سٹی بینک میں کراچی و لندن اور گلف انویسٹمنٹ کارپوریشن (کویت) کے ساتھ بھی منسلک رہے۔

اپوزیشن سے اقتدار کا سفر

ابتدا میں مراد علی شاہ کا ذاتی طور پر سیاست سے کوئی خاص تعلق نہیں رہا اور زمانہ طالب علمی میں وہ سیاسی سرگرمیوں میں شریک بھی نہیں ہوتے تھے۔ جب سندھ میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک ’ایم آر ڈی‘ عروج پر تھی تو اس وقت وہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔

والد کی بزرگی اور بیماری کی وجہ سے سیاست مراد علی شاہ کو وراثت میں ملی، تاہم اِس سے قبل سنہ 2001 تک وہ سرکاری و نجی شعبوں میں ملازمت سے ہی وابستہ تھے۔

پرویز مشرف نے جب 2002 میں عام انتخابات کروائے تو مراد علی شاہ نے پہلی بار سیاست میں قدم رکھا اور وہ صوبائی حلقے پی ایس 77 سیہون سے سندھ کی صوبائی اسمبلی کے رکن بنے، اسی حلقے سے ان کے والد سید عبداللہ شاہ سنہ 1970 کی دہائی سے انتخابات لڑتے آئے ہیں۔

سندھ کے قوم پرست رہنما جی ایم سید کا شہر سن بھی اسی علاقے میں آتا ہے۔

سندھ میں ارباب غلام رحیم کا دور حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے کٹھن دور سمجھا جاتا ہے۔ ان دنوں میں پیپلز پارٹی سندھ میں اپوزیشن میں تھی۔ مراد علی شاہ بطور اپوزیشن پارلیمینٹیرین کافی سرگرم رہے، اسمبلی قوانین و ضوابط پر عبور کی وجہ سے وہ سینیئر پارلیمینٹرین و سپیکر مظفر شاہ کو بھی پریشان کر دیتے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی جب 2008 کے انتخابات کے بعد اقتدار میں آئی تو مراد علی شاہ قائم علی شاہ کی کابینہ میں صوبائی وزیر آبپاشی رہے۔ چند سالوں کے بعد ان کی دوہری شہریت پر سوال اٹھائے گئے اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا اور یوں 2013 کے انتخابات میں کینڈین شہریت ان کی راہ میں رکاوٹ بن گئی جس کے بعد انھیں مشیر خزانہ بنایا گیا۔ بعد میں وہ دوہری شہریت سے دستبرار ہو گئے اور سیہون سے بلا مقابلہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔

جولائی 2016 میں بزرگ سیاست دان قائم علی شاہ کو ہٹا کر مراد علی شاہ کو سندھ کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا۔ 2018 کے الیکشن میں کامیابی کے بعد وہ دوسری بار اس منصب پر فائز ہوئے۔

انجینیئرنگ اور مالیات کا پس منظر ہونے کی وجہ سے وہ سندھ کے صوبائی محکموں کی معلومات بھی اچھے سے رکھتے ہیں جبکہ وفاق اور پنجاب سے سندھ حکومت کے وسائل اور پانی کی تقسیم کے معاملے میں بھی انھیں مہارت حاصل ہے۔

وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہو یا پاکستان تحریک انصاف کی ان دونوں سے ہی ان کا ورکنگ تعلق بہتر رہا باوجود اس کے کہ سیاسی طور پر ان کی پارٹی قیادت کے تعلقات ان جماعتوں سے کشیدہ تھے۔

کیا پیپلز پارٹی میں قیادت کا فقدان ہے؟

8 فروری 2024 کو سندھ اسمبلی کی 130 عام نشستوں پر ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے 87 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان تمام اراکین کی موجودگی میں کیا وجہ ہے کہ تیسری بار مراد علی شاہ ہی وزارت اعلیٰ کے اہل قرار پائے گئے؟

کیا پی پی پی کے دیگر سیاسی رہنماؤں میں اس عہدے سے متعلق اہلیت کا فقدان ہے؟ یہ سوال ہم نے پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نثار کھوڑو سے کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نام ہی لوگوں کی پارٹی کا ہے تو لوگوں کے فقدان کا سوال ہی نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے کا سوال ہے تو اتنے سارے اراکین میں سے ایک ہی رکن کو وزیر اعلیٰ بننا ہوتا ہے اور پارٹی قیادت جس کے لیے منظوری دیتی ہے وہ ہی وزیر اعلیٰ ہوتا ہے جس کو پھر سب کا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے پیپلز پارٹی میں لوگوں یا قابل لوگوں کا فقدان جیسی کوئی بات نہیں۔‘

سینیئر تجزیہ نگار فیاض نائچ کہتے ہیں کہ ’پیپلز پارٹی میں سندھ کی حد تک اہل لوگوں کے فقدان کا تاثر غلط ہے۔ مراد علی شاہ کے ساتھ ساتھ فریال تالپور، ناصر شاہ، شرجیل انعام میمن کا نام بھی اس عہدے کے لیے زیر بحث تھا جبکہ نثار کھوڑو اور سردار علی شاہ بھی اس منصب کے خواہشمند تھے۔‘

سینیئر صحافی مظہر عباس بھی تجزیہ کار فیاض کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ناصر شاہ بھی سندھ کی وزارت اعلیٰ کے لیے ایک مضبوط امیدوار تھے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’ناصر علی شاہ سیاسی طور پر بھی کافی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، دیگر سیاسی جماعتوں و اپوزیشن کے ساتھ انھیں ڈیل کرنا آتا ہے، ذاتی طور پر ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں لیکن مراد علی شاہ کو فنانس اور انتظامی معاملات میں برتری حاصل ہے۔‘

مظہر عباس کے مطابق ’فریال تالپور کا نام بھی زیر غور آیا مگر ظاہر ہے کہ وہ آصف زرداری کی ہمشیرہ ہیں، ان کا سیاسی معاملات میں عمل دخل رہا ہے جب آصف زرداری صدر بن رہے ہیں تو ایسے میں فریال تالپور کو وزیر اعلیٰ بناتے تو اسی طرح کی تنقید کا سامنا ہوتا جس طرح کی تنقید مسلم لیگ ن پر آ رہی کہ وزیر اعظم چچا اور وزیر اعلیٰ بھتیجی۔۔۔ یہ کوئی اچھی روایت نہ ہوتی۔ ہاں فریال تالپور کی تعیناتی سے ایک مثبت بات ہو سکتی تھی کہ اگر کوئی فیصلہ لیا جاتا تو اس کے بیچ میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔‘

کیا مراد علی شاہ بلاول بھٹو کی پسند ہیں؟

مراد علی شاہ

پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ ’مراد علی شاہ نے بطور وزیر اعلیٰ بہتر پرفارم کیا ہے اور پیپلز پارٹی عام انتخابات کارکردگی اور منشور پر لڑی ہے۔ جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے سندھ میں پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں اور پارٹی نے اسی کارکردگی کی بنیاد پر مراد علی شاہ کو تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ سندھ کے لیے نامزد کیا ہے۔‘

نثار کھوڑو کہتے ہیں کہ ’پارٹی قیادت جس کو بھی عہدے کے لیے نامزد کرتی ہے اس کو پارٹی میں سب کا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ پی پی پی تمام فیصلے مشاورت سے کرتی ہے اور پارٹی قیادت حتمی فیصلہ کرنے کے لیے پوری پارٹی کی طرف سے بااختیار ہوتی ہے اور پارٹی قیادت کا فیصلہ پوری پارٹی کا فیصلہ ہوتا ہے۔‘

سندھ اسمبلی کی گذشتہ دو دہائیوں سے پارلیمانی رپورٹنگ سے منسلک سینیئر صحافی کامران رضی کا دعویٰ ہے کہ ’مراد علی شاہ بنیادی طور پر بلاول بھٹو کی چوائس ہیں اور ان کے آس پاس جو قریبی لوگ ہیں ان کی بھی یہ خواہش ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مراد علی شاہ پی پی کا ایک اچھا مثبت اور تعلیم یافتہ چہرہ ہیں۔‘

کامران رضی کے مطابق ’اُن کے پچھلے وزرات اعلیٰ کے ادوار میں پی پی پی کے ساتھ کئی معاملات میں مشکلات درپیش رہیں، جس میں اسٹیبلمشنٹ کے ساتھ ٹکراؤ بھی تھا لیکن اس میں بھی مراد علی کےاچھے تعلقات رہے۔‘

فیاض نائچ کا بھی خیال ہے کہ ’مراد علی شاہ کی پارٹی قیادت بالخصوص بلاول سے اچھی ہم آہنگی ہے اور ان کی پرفارمنس بھی بہتر رہی ہے، بالخصوص وفاق میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں میں وہ سندھ کا اور پیپلز پارٹی کا کیس اچھے انداز میں رکھتے تھے۔ وہ بات کرنے کا گُر جانتے ہیں، انھیں ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں ہے، اسی لیے انھیں جاری رکھا گیا ہے۔‘

’پارٹی رنگ، نسل یا فرقے کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتی‘

سندھ میں ایک رائے یہ بھی ہے پیپلز پارٹی میں سادات کا گروہ مضبوط ہے اور اکثر اِسی گروپ کا وزیر اعلیٰ آتا ہے۔

تاہم نثار کھوڑو اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’پیپلز پارٹی کسی ذات، رنگ، نسل اور فرقے کی بنیاد پر تفریق نہیں رکھتی، پارٹی میں سب کو یکساں تصور کیا جاتا ہے اور وزیر اعلی کسی ایک مسلک سے ہو یا کسی اور ذات سے ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کے ہم سب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بازو اور سپاہی ہیں۔‘

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کی رائے ہے کہ سیاسی طور پر سندھ میں وزیر اعلیٰ کا سید ہونے کو ضروری سمجھا جاتا ہے: جیسا کہ غوث علی شاہ، عبداللہ شاہ، قائم علی شاہ ، مظفر شاہ، مراد علی شاہ۔۔۔ لیکن صرف یہ ایک فیکٹر نہیں ہے۔ مراد علی شاہ اپنی پہلی مدت میں وزیر خزانہ اور بعد میں وزیر اعلیٰ کے طور سامنے آئے۔ خود پی پی نہیں بلکہ مخالفین بھی یہ داد دیتے ہیں کہ وہ کم از کم اپنا ہوم ورک اچھا کرتے ہیں، مشکل فیصلے ہوں یا آسان اُن کے پاس دلائل ہوتے ہیں۔‘

’ایک بار خود پیپلز پارٹی کے شدید مخالف عمران خان نے اعتراف کیا تھا ان کے ساتھ جو وزیر اعلیٰ ہیں ان میں سب سے بہتر وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ رہے ہیں۔‘

سینیئر تجزیہ نگار فیاض نائچ کہتے ہیں کہ سادات گروپ کا تاثر ضرور موجود ہے اور اکثر دیکھا بھی گیا ہے جیسے سندھ میں پیپلز پارٹی کے اس چوتھی حکومت کے وزیر اعلیٰ ’سید‘ ہیں لیکن اس کے علاوہ شعبان میرانی، علی محمد مہر اور ارباب غلام رحیم و جام صادق بھی اس منصب پر رہے ہیں۔

مراد علی شاہ کو کن چیلنجز کا سامنا ہو گا؟

سندھ میں اس بارگرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس سمیت تین جماعتیں اپوزیشن میں ہیں، جن میں سے اکثریت کے پاس کراچی کا مینڈیٹ ہے۔ تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اسمبلی کے باہر بھی پیپلز پارٹی کی گورننس پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں اور یہ جماعتیں بلدیاتی نظام بااختیار بنانے کی جدوجہد میں بھی شریک رہی ہیں۔

مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے الیکشن سے قبل مذاکرات میں بلدیاتی نظام میں آئینی ترامیم کا مسودہ دیا تھا جس سے مسلم لیگ ن کی قیادت نے اتفاق کیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو محدود اختیارات دے رکھے ہیں۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ اگر بلدیاتی ادارے بااختیار ہوں تو سڑکیں بنانے اور گلیوں کے گٹر و نالے نالیاں بنانے کی تنقید صوبائی حکومتوں پر نہ ہو لہذا صوبائی حکومت کو لوکل باڈیز کو بااختیار بنانا پڑے گا، انھیں انتظامی اور مالی خود مختاری دینا ہوگی کیونکہ شہروں بلخصوص کراچی میں ووٹ اب سیاست کی بنیاد پر نہیں شہری سہولیات پر مل رہے ہیں۔

سندھ اسمبلی درس گاہوں میں طلبا تنظیموں کے قیام کا بل بھی منظور کر چکی ہے۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ مراد علی شاہ کی حکومت کے لیے یہ بھی ایک چیلنج ہو گا کہ وہ واقعی طلبا یونین بحال کرتے ہیں یا نہیں، اس کے علاوہ پبلک اکاؤنس کمیٹی کا چیئرمین بھی اپوزیشن سے ہو گا۔

سندھ میں حالیہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو دیہی علاقوں میں ووٹروں کی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے پینے کے پانی، سڑکوں، سیلاب کی تباہ کاریوں پر سوالات اٹھائے اور یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل رہیں۔

سینیئر تجزیہ نگار فیاض نائچ کہتے ہیں کئی سالوں سے شمالی سندھ میں امن و امان کا مسئلہ موجود ہے۔ مراد علی شاہ نے فیصلہ کن آپریشن کا فیصلہ کیا تھا لیکن صورتحال جوں کی توں ہے، اس کے علاوہ سندھ میں صحت کے شعبے کی حالت بہتر نہیں صرف گمبٹ، این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی یو ٹی کی مثالیں دی جاتی ہیں لیکن ہر ضلعی ہسپتال سمیت لاڑکانہ کے چانڈکا، نوابشاہ کے پی ایم سی سے لیکر جام شورو کے ایل ایم سی تک میں صورتحال کافی ابتر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اسی طرح سندھ کے سرکاری سکولوں میں معیاری تعلیم، فرنیچر اور بنیادی سہولیات دستیاب نہیں اور لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں۔

کامران رضی کہتے ہیں کہ مراد علی شاہ میں ٹیم ورک کی بھی شکایت سامنے آتی رہی ہیں۔ ’اُن کی کابینہ کے دیگر اراکین سے کوئی خاص اچھے تعلق نہیں رہتے۔ پچھلے ادوار میں ان کا کس نہ کسی وزیر سے تعلق کشیدہ رہا ہے۔ اب جب وہ تیسری بار اس منصب کو سنبھال رہے ہیں تو انھیں ٹیم ورک دکھانا ہو گا، انھیں پیپلز پارٹی کی سینیئر قیادت سے یہ بھی سننے کو مل رہا ہے کہ اس بار مراد علی شاہ کے پاس محدود اختیارات ہوں گے۔‘

مظہر عباس کہتے ہیں مراد علی شاہ کے سیاسی طور پر کوئی زیادہ مخالفت نہیں رہی۔ ظاہر ہے کہ اس منصب کے لیے خواہشمند امیدوار ہوتے ہیں لیکن مراد علی شاہ کا گروپنگ کا تاثر نہیں بنا اور ان کے خلاف لابنگ نہیں ہوئی۔

مراد علی شاہ سے جب بی بی سی نے یہ سوال کیا کہ حالیہ مدت میں آپ کی کیا ترجیحات اور پروگرام ہوں گے، تو اُن کا کہنا تھا کہ پارٹی کا منشور اور پروگرام ہی ان کا ترجیحی پروگرام ہو گا۔

ایک رکن سندھ اسمبلی کے بقول مراد علی شاہ دوستوں کا خیال رکھتے ہیں اور ایک سسٹم کے مطابق چلتے ہیں اور وہ پارٹی کے سیاسی معاملات سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32516 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments