حلوہ اور انتہا پسندی


25 فروری کو ایک خاتون اپنے شوہر کے ساتھ لاہور کے مشہور اچھرہ بازار میں خریداری کے لئے جاتی ہیں۔ انھوں نے جو قمیض پہنی ہوئی تھی اس پر عربی کیلیگرافی میں لفظ حلوہ بار بار لکھ کر اسے ایک ڈیزائن کی شکل دی گئی تھی۔ تحریک لبیک کے کچھ کارکنوں نے خاتون کو دیکھ کر شور مچانا شروع کر دیا کہ اس نے قرآنی آیات والی قمیض پہن کر مذہب کی بے حرمتی کی ہے۔ آناً فاناً وہاں ہجوم اکٹھا ہو گیا، خاتون کو ہراساں کرنے لگے اور دھمکیاں دینے لگے کہ اس نے قرآن پاک کی توہین کی ہے۔

تھانہ گلبرگ کی اے ایس پی شہربانو نقوی نے موقع پر پہنچ کر کمال بہادری اور فہم و فراست کا مظاہرہ کیا اور خاتون کو اس بے لگام ہجوم سے چھڑایا۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ہجوم سے درخواست کر رہی ہیں کہ معاملہ پولیس کو دیکھنے دیں میں پہلے بھی اس طرح کے واقعات حل کر چکی ہوں۔ ان کا رویہ اور بروقت ایکشن بہت سے پولیس جوانوں سے بہتر تھا جن کی سستی، غفلت اور کج فہمی کے باعث ایسے کئی واقعات میں بے گناہ لوگوں کی جانیں ناحق گئی ہیں۔

 اے ایس پی شہر بانو نقوی کی دلیری اور معاملہ فہمی کو سراہتے ہوئے ہمیں اس نقطے کی طرف بھی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے کہ انھوں نے معصوم عورت پر کپڑا ڈال کر اسے وہاں سے اس طرح نکالا جیسے وہ کوئی عادی مجرم ہو۔ مظلوم عورت سے معافی مانگنے کو کہا۔ اس عورت نے تین نام نہاد مذہبی لوگوں کے درمیان بیٹھ کر اپنے ناکردہ گناہ کی معافی مانگی۔ جو تینوں اسے مسلسل لقمے دے رہے تھے کہ اس نے کن الفاظ میں معافی مانگنی ہے۔ اسے کہا گیا کہ وہ اپنا فرقہ بتائے۔ خاتون نے بتایا کہ اس کے والد حافظ قرآن ہیں۔ وہ قرآن کریم کی بے حرمتی کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔ پھر بھی وہ لوگوں سے معافی مانگتی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس کا فرقہ یا مذہب کچھ اور ہوتا تو پھر کیا ہوتا؟ جن کے والد صاحب حافظ قرآن نہیں ہوتے کیا وہ قرآن پاک کی بے حرمتی کرتے ہیں؟ اگر کوئی قرآن مجید کی حرمت میں غلطی کرے تو کیا ہجوم کو اسے موقع پر ہی مار دینا چاہیے؟ پاکستان میں وہ وقت کب آئے گا جب ناحق دوسروں کو ہراساں کرنے والے، دوسروں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے والے اور ان پر غلط الزام لگانے والے معافی مانگیں گے؟ کب اے ایس پی شہر بانو نقوی جیسی اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے والی بہادر افسر کو ریاستی اداروں کی طرف سے یہ اعتماد اور تحفظ حاصل ہو گا کہ وہ مذہب کے نام پر غلط الزام لگانے والوں سے دبنگ طریقے سے سرعام معافی منگوا سکے؟ کب ہماری حکومتیں اتنی طاقتور ہوں گی کہ وہ تحریک لبیک جیسے گروہوں پر قابو پا سکیں؟

اچھرہ میں خریداری کرتی خاتون کی قمیض پر لکھے لفظ حلوہ کے عربی زبان میں معنی پیارا، پیاری، حسین، خوبصورت کے ہیں۔ عربی ایک زبان ہے جس طرح دنیا میں بلکہ ہمارے ملک میں کئی زبانیں ہیں۔ ہر زبان میں ہر طرح کے لفظ ہوتے ہیں۔ عربی زبان میں بھی پاک الفاظ بھی ہیں اور گندی گالیاں بھی ہیں۔ کیا ہم عربی گالیوں کا ورد شروع کر دیں گے کہ اس زبان میں قرآن پاک ہے؟ ہمارے ہاں زیادہ تر لوگوں کی جہالت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ سوچ سمجھ کر بولنا اور کام کرنا ان سے کوسوں دور ہے، چاہے اس سے کسی کی جان چلی جائے اور ملک کی بے تحاشا بدنامی ہو۔

تکفیر کے غلط الزامات میں بہت سے لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ کئی جگہوں پر تو بستیوں کی بستیاں جلا دی گئی ہیں۔ قومی کمیشن برائے امن و انصاف (National Commission for Justice & Peace) اور ادارہ برائے سماجی انصاف (Centre for Social Justice) کے اعداد و شمار کے مطابق مسیحی بستیوں اور گرجا گھروں پر 1997 سے 2016 کے درمیان 51 حملے ہوئے ہیں جس میں سے 22 دہشت گرد حملے تھے جب کہ باقی حملے افراد اور ہجوم نے کیے ہیں۔ جن کے نتیجے میں 69 گرجا گھروں کی بے حرمتی ہوئی، بائبل مقدس اور مذہبی نشانات کو پھاڑا، توڑا اور جلایا گیا اور سینکڑوں گھروں کو نیست و نابود کر دیا گیا۔ 2023 میں جڑانوالا کے اندوہناک واقعے میں وہی دہرایا گیا جو 1997 میں شانتی نگر، 2005 میں سانگلہ ہل، 2009 میں گوجرہ اور کوریاں اور متعدد دیگر واقعات میں ہوا۔ یہ تمام حملے پنجاب میں ہوئے ہیں اور مسلم لیگ کے مختلف ادوار میں ہوئے ہیں۔

پنجاب توہین مذہب سے متعلق تشدد کا مرکز بن گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق خاص طور پر 2011 کے بعد پنجاب میں توہین مذہب سے متعلق تشدد اور ہلاکتوں کے واقعات میں دس گنا اضافہ ہوا۔ یہ وہ سال ہے جب پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ممتاز قادری نے شہید کر دیا۔ قاتل نے ان پر اہانت دین کے قوانین پر تنقید کرنے کا الزام لگایا تھا۔ صوبے میں اس ایک سال کے دوران اہانت کے مزید 110 مقدمات اور الزامات سامنے آئے۔ 2014 میں کوٹ رادھا کشن میں شمع اور شہزاد پر قرآن پاک کے اوراق جلانے کا جھوٹا الزام لگا تو اڑھائی ہزار سے زیادہ کا ہجوم آس پاس کے دیہاتوں سے اکٹھا ہو گیا جنہوں نے پہلے جوڑے کو مار مار کر ہلاک کیا اور پھر جلتے بھٹے میں پھینکا۔

ہجومی حملوں اور ہلاکتوں کی تعداد پاکستان میں خاص طور پر پنجاب میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سری لنکن شہری پریانتھا کمارادیاؤ ادنا کو 3 دسمبر 2021 کو سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ فروری 2022 میں خانیوال پنجاب میں ایک شخص مشتاق کو قرآن پاک کے اوراق جلانے کے الزام میں درخت سے باندھنے کے بعد مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ 11 فروری 2023 کو ننکانہ صاحب میں توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص وارث کو پرتشدد ہجوم نے قتل کر دیا۔

تشدد کی یہ نوعیت دوسرے صوبوں میں نسبتاً کم ہے۔ پنجاب کو اس کا حل فراہم کرنا ہے۔ تاہم اب تک جو کچھ کیا گیا ہے وہ مسئلہ کو مزید پیچیدہ کر رہا ہے۔ اس تباہی کو روکنے کے لئے ملک پاکستان اور خصوصاً پنجاب میں ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

تکفیر کے قوانین پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ یہ کسی فرد یا برادری کے خلاف غلط استعمال نہ ہوں۔ اگر کسی شخص پر الزام ہو تو معاملے کی شفاف تحقیقات اور منصفانہ سماعت ہو۔ قصوروار کو قانون کے مطابق سزا دی جائے لیکن اگر وہ بے قصور ثابت ہو تو جھوٹا الزام لگانے والے کو سزا دی جائے۔

ملکی قوانین کی بین الاقوامی قوانین سے مطابقت ضروری ہے۔

منظم شدت پسند گروہوں سے نمٹنے کے لئے پالیسیاں اور حکمت عملی وضع کی جانی چاہیے خصوصاً امن و امان کے نفاذ کے حوالے سے تاکہ یہ گروہ خواہ سیاسی ہوں یا مذہبی نا تو ریاست کی رٹ اور نا ہی شہریوں کے تحفظ کے لئے دی گئی آئینی ضمانتوں کو مجروح کریں۔

وہ منظم مذہبی گروہ جو کسی فرد یا کمیونٹی کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کا سرعام اعلان کرتے ہیں انھیں نفرت انگیز جرائم اور تشدد پر اکسانے کے خلاف قوانین کے مطابق جوابدہ ہونا چاہیے۔

تعلیم، مذہبی تربیت، امن قائم کرنے والے گروپوں، حکومت کی امن کمیٹیوں اور انسانی حقوق کی کمیٹیوں اور دیگر کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی، افہام و تفہیم اور باہمی احترام پیدا کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

بیشتر اوقات تشدد میں اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب پولیس ریاست کی رٹ کو یقینی بنانے میں ناکام رہتی ہے ایسے حالات سے نمٹنے کے لئے واضح طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس کی مطلوبہ تعلیم و تربیت، ساز و سامان اور تحفظ از حد ضروری ہے۔

پنجاب حکومت 2009 میں میں گوجرہ میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی انکوائری پر عدالتی سفارشات پر عمل کرے۔

Facebook Comments HS