حسن کی صورت حال خالی۔ جگہیں۔ پر۔ کرو ”مابعد جدید مطالعہ ایک تعارف



ڈاکٹر نعیمہ بی بی کی تحریر کردہ کتاب ”حسن کی صورت حال خالی۔ جگہیں۔ پر۔ کرو“ کا مابعد جدید مطالعہ، اردو شعر و ادب میں فکشن کا تنقیدی سرمایہ اور تجزیاتی مطالعہ نہ صرف یہ کہ اس کی فکری زرخیزی کو ابھارتا ہے بلکہ تنقید میں وسعت اور ہمہ گیری بھی پیدا کرتا ہے۔

مصنفہ کا رجحان مابعد جدید فکشن اور تکنیک کے مباحث کی طرف رہا ہے، مصنفہ کو اردو ناول میں تخصص حاصل ہے اور وہ مابعد جدید رجحانات پر گہری نظر رکھتی ہیں۔

زیر نظر کتاب میں اردو میں ما بعد جدیدیت کے تجزیاتی مطالعہ کی بہترین کاوش کی گئی ہے۔ مابعد جدید نظریات کے حوالے سے کا فی کتب موجود ہیں۔ ہیں مگر ان کی عملی صورت حال بہت کم نظر آتی ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ ان متون کو جدید سوچ کے حامل بہت کم پرکھتے ہیں اسی لئے لازم ہے کہ دور جدید میں بھی اس زاویے میں کام کیا جائے اس کتاب میں مرزا اطہر بیگ کے ناول ”حسن کی صورت حال خالی۔ جگہیں۔ پر۔ کرو“

کا مابعد جدیدیت کی تکنیک کے زیر اثر مطالعہ کیا گیا ہے۔ موضوع کے اعتبار سے یہ ایک ایسا زاویہ ہے کہ

جس پر عصر حاضر میں کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی مگر یہ ایک قابل توجہ نظریہ ہے مرزا اطہر بیگ نے اس ناول میں تکنیک کے اعتبار سے کئی ایسے تجربات کیے ہیں جو مابعد جدید فکشن کے تمام اصولوں پر پورا اترے ہیں جن میں طنز خفی، کھیل، تماشا، سیاہ مزاج، قاری کی شرکت، مہا فکشن، تاریخی بیانیہ، فنی مخطوطہ، سنسنی خیزی، بین المتونیت، ، انتشار، کثرت رنگارنگی اور جادوئی حقیقت نگاری شامل ہے۔ انھی خصائص کی وجہ سے۔ ان کا یہ ناول مقبول عام ہے۔ اس کتاب میں فکشن کی ما بعد جدید تکنیک اور ما بعد جدید کرداروں کا بھی۔ بہترین جائزہ لیا گیا ہے۔

کتاب کی اشاعت سن 2023 مں کولاج پبلشرز لاہور سے ہوئی جو کہ 155 صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کا سرورق خوبصورت اور نفیس ہے۔

زیر نظر کتاب کی تکمیل چار ابواب کے ذریعے کی گئی ہے۔

باب اول میں فکشن کی مابعد جدید تکنیک : متنوع جہات پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مابعد جدید مفکرین نے فکشن کی جو مختلف تکنیک بیان کی ہیں میں ان کا بھی اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

باب دوم میں ”حسن کی صورت حال خالی۔ جگہیں۔ پر۔ کرو“ میں بیانیے کی تشکیل کے متعلق تفاصیل پیش کی گئی ہیں اور ناول ”خالی۔ جگہیں۔ پر۔ کرو“ کی کہانی کا نظریاتی جائزہ لیتے ہوئے کہانی کے کردار پر بھی تفصیل سے بات کی گئی ہے۔

باب سوم۔ میں ”حسن کی صورت حال خالی۔ جگہیں۔ پر۔ کرو“ میں مابعد جدید کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی اور انفرادی کرداروں کا مکمل تعارف اور جائزہ بہترین الفاظ کے چناؤ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور ان کرداروں کی شخصیت کے پہلو بھی نمایاں کیے گئے ہیں

باب چہارم میں ”حسن کی صورت حال خالی۔ جگہیں۔ پر۔ کرو“

میں فکشن کی مابعد جدید تکنیک کے تجربات کا فکشن کی تکنیک کے زیر نظر اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ ناول کے مصنف مرزا اطہر بیگ کی تکنیک اور نظریات پر بھی نظر ثانی کی گئی ہے۔

کتاب میں مرزا اطہر بیگ کے فکشن میں مابعد جدید ادبی تیکنیک کے بھرپور استعمال کی تفاصیل دی گئی ہیں اور ان کے عہد کی پیچیدہ اور سفاک سماجی حقیقتوں کے اظہار کے قرینے پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جو ان کے ناتراشیدہ کونوں کھدروں تک پہنچ کر انھیں قاری کے دل و دماغ میں اتار دینے پر قادر ہیں

مصنفہ کی یہ کاوش قابل تعریف و تحسین ہے کیونکہ انھوں نے ”حسن کی صورت حال خالی۔ جگہیں۔ پر۔ کرو“ میں ہر تکنیک کو ہمارے سامنے مثالوں کے ذریعے تفصیل سے پیش کیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments