زندگی کا ٹوٹا پل(افسانہ)


کڑکڑاتی دھوپ سر پر تھی۔ پسینے سے شرابور، خالی پیٹ شیزا کا چلنا دوبھر تھا۔ دو دن سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا تھا۔ اس حالت میں دو کلومیٹر کی مسافت طے کر کے کالج جانا آسان نہ تھا۔ پیٹ میں بھوک کی وجہ سے انتڑیوں سے مختلف آوازیں آ رہی تھیں جیسے کوئی نا تجربہ کار سازندہ سر نکالنے کی ناکام کوشش میں ہو۔ بے ساختہ بولی:

”کیا کروں چلا نہیں جا رہا۔ گھر سے کھانا تو میں بھی نہیں کھاؤں گی۔ اتنی بے عزتی اور طعنوں سے بہتر ہے نہ کھاؤں“ خود کلامی کرتے ہوئے شیزا اپنی بہن کی تلخ باتوں کو یاد کرتے آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہی تھی۔ شیزا کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق اسے ہائر ایجوکیشن تک لے گیا تھا لیکن وہ صرف پڑھنے کی طرف ہی توجہ دے سکی تھی۔ گھر کے کام کاج اس کے بس کا روگ نہ تھا۔ اس کی دوسری بہنیں زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکی تھیں۔ لیکن شیزا سے کہیں زیادہ حسین و جمیل تھیں۔

بہنیں اسے معمولی شکل ہونے کے بارہا طعنہ دے چکی تھیں۔ شیزا نے خود کو تعلیم حاصل کر کے اپنا آپ منوا لیا تھا تاہم بہنیں اس کا کام تو کر دیتی تھیں لیکن اسے بہت سی باتیں بھی سننا پڑتی تھیں۔ کل جب بہن نے ناشتہ بنایا تو کالج سے دیر ہو گئی تھی۔ شیزا نے یہی کہا تھا کہ آج دیر ہو گئی۔ بہن تو جیسے سال ہا سال سے اپنے دل میں غصے کو دبائے بیٹھی تھی۔ آبلے کی طرح پھٹ پڑی۔

”میں تمھاری ملازم ہوں۔ تم نواب زادی بن ٹھن کر کالج جا کر عیش کرو اور میں تمھارے لیے کھانے بناؤں۔ اپنی شکل تو دیکھو۔ آج کے بعد مجھ سے نہ کہنا۔“

ان باتوں نے شیزا کا دل چھید چھید کر ڈالا تھا۔ اور تہیہ کر لیا کہ اب بہن کے ہاتھ کا پکا کھانا نہیں کھائے گی۔

گھر کا کام کرنے کا ڈھنگ تو شیزا کو آ تا ہی نہ تھا۔ صرف اپنے کپڑے دھونا اور استری کرنا جانتی تھی۔ وہ بھی اگر کوئی اور دھو کر دے دیتا تو وہ بھی نہ کرتی۔ کھانا پکانا تو اس کے لیے مشکل تھا۔ کالج سے سموسہ وغیرہ کھا کر گزارہ کر رہی تھی۔ دو کلو میٹر کی پیدل مسافت طے کر کے اتنی ہمت بھی نہ رہتی تھی کہ گھر کے کام بھی کرے اور پھر تعلیم پر توجہ بھی دے۔ ہر کلاس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنا شیزا کے حصے میں آیا تھا۔

اسی دوران جب ٹیچنگ کی آسامیاں آئیں تو شیزا کو بھی جاب مل گئی تھی۔ اب وہ خود کفیل ہو گئی تھی۔ ساتھ ہی مزید تعلیم جاری رکھی۔ تمام خاندان میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ لڑکی تھی۔ اچھی تنخواہ کے ساتھ گھر بھر کی ذمہ داریاں اس کے کندھوں پر آ پڑیں۔ خوش اسلوبی سے اپنے فرائض کی ادائیگی کرتی رہی۔ رشتے آنے لگے تو گھر والوں کو کوئی رشتہ پسند ہی نہ آتا تھا۔ وقت پانی کے تیز بہتے دھارے کی طرح گزر رہا تھا۔ گھر والے بھی جہاں ہر مہینے تنخواہ آنے لگی تو وہ بھی سستی کرنے لگے۔

بہنیں اپنی فرمائشیں پوری کرواتی رہتیں لیکن وہ بھی کبھی نہ چاہتی تھیں کہ اس کی شادی ہو جائے۔ بہن بھائی خود غرضی کی روش اپنائے اپنا الو سیدھا کرنے میں تھے۔ شیزا حساس طبیعت کی مالک تھی۔ چھوٹی چھوٹی بات پر بہت دکھی ہونے لگی تھی۔ جب تک تعلیم میں مصروف رہی اس وقت تک شادی کے تصور سے نا آشنا رہی تھی۔ اسے اپنی ہر منزل تعلیم کی تکمیل میں نظر آتی تھی۔ وہ خود بھی جب دوست احباب سے شادی شدہ زندگی کی مشکلات سنتی تھی تو خوف زدہ ہو جاتی تھی۔ جب اس کی ساتھی ٹیچر کے ہاتھوں پر آٹا لگا دیکھا تو کہنے لگی:

”یہ تمھارے ہاتھوں پہ آٹا کیوں لگا ہے؟ روٹیاں تم بنا کر آئی ہو؟“ شیزا نے حیرت سے پوچھا۔

”تو اور کیا؟ صرف روٹیاں ہی نہیں صبح چار بجے سے اٹھ کر بیسیوں کام نمٹا کر آئی ہوں۔ میاں صاحب کے نخرے الگ اور ساس صاحبہ کی نوک جھوک بھی برداشت کر کے آئی ہوں“ ساتھی ٹیچر نے ایک ہی سانس میں ساری واردات سنا ڈالی تو شیزا جیسے صحرا کی تپتی ریت پر چلتے، پاؤں سے سر تک جھلس گئی ہو۔ سوچنے لگی کہ ”ہمارے معاشرے میں عورت کو غلام کیوں تصور کیا جاتا ہے۔ اسے سمجھ آ گئی کہ یہ مردانہ معاشرہ کا ہی خلل ہے۔ عورت بریٔ الذمہ نہیں مگر غلام بھی تو نہیں۔“ پھر چیخ کر بولی:

”ہائے اللہ اتنی مشکل زندگی، اچھا ہے میری شادی نہیں ہوئی“ شیزا نے ایک اطمینان کا سانس لیا اور کلاس کی طرف چل پڑی۔ زندگی یونہی گزر رہی تھی۔ ایک دن شیزا کا یونیورسٹی جانا ہوا تو وہاں اس کے پروفیسر استاد سے ملاقات ہوئی۔ جس نے پوچھا:

”کیسی ہو شیزا؟ کیا کر رہی ہو آج کل؟ شادی وغیرہ ہو گئی؟“ استاد کے سوالوں نے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ کانپتے آہستہ بولی:

”نہیں سر جی، ابھی شادی تو نہیں ہوئی۔“
”کیوں؟ ہو جانی چاہیے تھی! یہی وقت ہے کر لو تو بہتر ہے۔ یہ بھی زندگی کا ضروری پہلو ہے۔“

شیزا سوچ کے گہرے سمندر میں ڈوب گئی۔ وہ آنے والے وقت کا سوچنے لگی۔ اس کے استاد نے اسے شادی کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ استاد کی باتیں شیزا کے دل و دماغ پر اثر انداز ہو رہی تھیں۔ اس کا ذہن بھی شادی کی طرف قائل ہو گیا تھا لیکن وہ اپنی فیملی کو خود نہیں کہہ سکتی تھی۔

ہر رشتہ گھر والوں کو مناسب نہ لگتا تھا۔ شیزا اپنی کولیگز کی باتیں سنتے سنتے تھک گئی تھی۔ طرح طرح کی باتوں کا سامنا کرتے کرتے ذہنی مریض بن گئی تھی۔ خاموش رہنے لگی تھی۔ سب سے الگ تھلگ رہنے لگی تھی۔ کسی بچھڑے پنچھی کی طرح اداسی کے صحرا میں شادی کے احساس کی کشتی کا چلنا دشوار محسوس کر رہی تھی۔ مایوسی اس کا مقدر بن گئی تھی۔ خود وہ تنہا رہ سکتی تھی لیکن لوگوں کی باتوں نے اس کا جینا مشکل بنا دیا تھا۔ اب زندگی کا وہ حصہ آ گیا تھا جب ہر طرف سے مایوس ہو چلی تھی۔

کبھی کبھار عمر کے اس حصے میں رشتے آنا بند ہو جاتے ہیں۔ ماں باپ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا تھا۔ سب بہن بھائی اپنی زندگی میں مگن تھے۔ جب کسی کو مالی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا وہ شیزا سے پیسے لے کر اپنی ضروریات پوری کر لیتے تھے۔ انھوں نے اب صرف اسے پیسہ کمانے کی مشین سے زیادہ اہمیت نہ دی تھی۔ شیزا کو اب اپنے کام بھی خود ہی کرنے پڑتے تھے۔ سالوں ایسے ہی گزر گئے۔ ایک دن کسی ایجڈ شخص کا رشتہ شیزا کے لیے آیا تو گھر والوں نے حسب معمول انکار کر دیا۔

لیکن شیزا بھی اب بھانپ چکی تھی کہ جب تک اس گھر میں رہی تو اس کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کیا جاتا رہے گا۔ شیزا نے ہمت کر کے اپنے ساتھی ٹیچرز کو شامل کر کے گھر والوں کو راضی کر لیا۔ بہت سادگی سے شادی ہو گئی۔ زندگی کی جوانی کی کئی بہاریں بیت گئی تھیں۔ عمر کا وہ حصہ جس میں ایک لڑکی اپنے جیون ساتھی کے ساتھ حسین خواب دیکھتی ہے۔ اپنے ناز نخرے دکھاتی بھی ہے دوسروں کے دیکھتی بھی ہے۔ وہ لمحات خاک بن کر ہوا کے دوش پر سفر کرچکے تھے۔ دونوں میاں بیوی صرف ایک گھر میں ایک دوسرے کے بڑھاپے کا سہارا بنے تھے۔ اب شیزا کے پاس اپنا گھر تھا۔ لوگوں کے سوالات کا رخ بدلا اب بھی سوالات تھے لیکن ان کی نوعیت بدل گئی تھی۔ شیزا کی ایک نند تھی جس نے طعنے دینے کا کوئی موقع ضائع نہ کیا تھا۔ ایک دن شیزا نے سالن بنایا تو نند کو تو موقع چاہیے تھا۔

”شیزا، تم نے یہ کھانا بنایا ہے۔ حلق سے نیچے ہی نہیں اتر رہا۔ نہ مرچ نہ نمک۔ ہم مریض نہیں ہیں۔ کچھ ماں نے طریقہ نہیں سکھایا تیری ان ڈگریوں کا آچار ڈالنا ہے۔ عورت کی قدر کام کاج کرنے سے ہوتی ہے۔“

نند کے یہ الفاظ گولی کی طرح جسم میں پیوست ہو رہے تھے۔ ”کیا عورت صرف گھریلو کام کاج کے لیے ہی بنی ہے؟ اس کے علاوہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟ یا میرے خدا! میری مدد فرما۔“ اپنے گھر والوں کو کچھ بتا نہیں سکتی تھی۔ کس کو بتاتی میکا تو والدین سے ہی ہوتا ہے۔ وہ تو اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔ چند سال بعد اللہ نے شیزا کو ایک بیٹی سے نوازا تو گھر میں بہار آ گئی۔ شیزا کی زندگی کا مفہوم بدل گیا۔ ایک نئی امنگ مل گئی۔ شیزا نے اپنی بیٹی کی بہت اچھی پرورش کی لیکن اسے میٹرک تک تعلیم دلوائی۔ بیٹی آ گے تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔ والد نے بھی اپنی بیٹی کی بات مانی اور شیزا سے کہا:

”شیزا! دیکھو یہ ہماری اکلوتی بیٹی ہے اسے جتنا شوق ہے تعلیم حاصل کرنے دو وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔ اس نے ٹاپ کیا ہے میٹرک میں۔ “ والد نے مزید کہا: ”جاب کرنا چاہتی ہے تو کرنے دو۔ تم بھی تو اتنا تعلیم یافتہ ہو، جاب کرتی ہو“ میاں صاحب نے بیٹی کی حمایت میں لیکچر سنا دیا۔

”میں تعلیم یافتہ ہوں۔ جاب کرتی ہوں اسی لیے میں اپنی بیٹی کو اس خود غرضی کے رشتوں کی تپتی بھٹی سے جلنے سے بچانا چاہتی ہوں۔ میں کوئی مناسب رشتہ دیکھ کر اس کی شادی کروں گی۔“

شیزا نے اپنی بیٹی کو گھریلو کام بھی سکھا دیے تھے۔ وہ کمی جو شیزا میں تھی۔ اس نے اپنی بیٹی میں نہ رہنے دی تھی۔ ایک رشتہ آیا اعلیٰ تعلیم یافتہ گریڈ 18 کا گورنمنٹ آ فیسر۔ جب شیزا کی بیٹی کو دیکھنے آئے تو شیزا کی تعلیم میٹرک سن کر جواب دے گئے۔

”آج کل لڑکی کا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا اور جابین ہونا بہت ضروری ہے شیزا بہن۔ جب تک لڑکا لڑکی دونوں نہ کمائیں گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے“ لڑکے کی والدہ نے شیزا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

شیزا کا دماغ چکرا گیا۔ جیسے وہ چکی کے دو پاٹوں کے بیچ پس کر ریزہ ریزہ ہو گئی ہو۔ اسے اس دوغلی دنیا کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ اس کی اپنی زندگی جسے وہ جھیل رہی تھی۔ وہ تجربہ اسے بیٹی کو پڑھانے سے روک رہا تھا۔ اب بیٹی کے رشتہ کی راہ میں تعلیم کی کمی آڑے آ رہی تھی۔ فیصلہ کرنا مشکل تھا۔ اسی ادھیڑ بن میں رات کی تاریکی کب اجالے میں بدل گئی، شیزا کو پتہ ہی نہ چلا۔ لیکن وہ ایک ارادہ کر چکی تھی اور بیٹی کو کہا:

”بیٹی، بیٹی صباحت چلو جلدی سے تیار ہو جاؤ۔ صباحت کے ابا! گاڑی باہر نکالیں۔“ شیزا نے پختہ عہد کر کے آواز دی۔

”جی، اماں آپ نے بلایا۔ کہاں جانا ہے؟“ بیٹی نے دریافت کیا۔

”تم ڈاکٹر بننا چاہتی ہو نا، تو تمھارا داخلہ کروانے جائیں گے۔ میری بیٹی پڑھے گی بھی اور جاب بھی کرے گی۔“ شیزا نے شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرا اور دونوں گاڑی کی طرف چل پڑیں۔ صباحت کا والد نے مسکرا کر بیٹی اور شیزا کی طرف دیکھا۔ گاڑی بڑھنے لگی۔ شیزا نے بھی مسکرا کر دیکھا۔ محسوس کیا کہ زندگی ایک ایسا دریا ہے جسے بھیگے بنا عبور کرنا ناممکن ہے۔ شیزا نے ایک لمبا سانس لیا اور آنکھیں بند کر کے سیٹ کے ساتھ سر ٹیک دیا۔ سوچنے لگی زندگی ایک ٹوٹے پل کی مانند ہے جسے پار کرنے کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنا ہی پڑتی ہے۔

Facebook Comments HS