غزہ ، انسانی ضمیر اور خودسوزی


اکتوبر کی آٹھ تاریخ سے فروری کی پچیس تاریخ ہو گئی اور غزہ کے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کی بمباری جاری ہے۔ ان محصور مظلوموں سے کہا جاتا ہے کہ اس علاقے سے نکل جاؤ ورنہ ہمارے بموں کا نشانہ بنو گے اور جب عورتیں سفید جھنڈا اٹھائے بچوں کے ساتھ اس علاقے کو چھوڑنے کے لیے ان شکستہ سڑکوں پر نکلتی ہیں تو چھتوں پر سے اسرائیلی فوجی ان کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس دہشت کے عالم میں جب غزہ کی اسی فیصد عمارات جن میں رہائشی فلیٹ، اسکول، ہسپتال، یونیورسٹی، مسجد اور گرجا سب شامل ہیں، حملہ آوروں کے حکم کے تحت غزہ کے ایک ملین سے زیادہ افراد شمال سے جنوب کی طرف جان بچانے کو جب پہنچ گئے تو اسرائیل نے ان کے ٹینٹوں پر مشتمل کیمپ پر بم گرانے شروع کر دیے۔ ان بے خانماں لوگوں کے لیے آنے والی امداد میں سے پینے کا پانی اور خوراک تک کا داخلہ بند کر رکھا ہے۔ اسرائیلی شہری خود ان راستوں کو روکے کھڑے ہیں اور صاف کہہ رہے ہیں جب یہ فاقے کریں گے تب باقی دنیا کے ملک ان کو پناہ دینے کو تیار ہوں گے اور غزہ ان سے خالی ہو گا۔

اقوام متحدہ، آکسفیم، اخباری نامہ نگار جن کو جنگوں کا تجربہ ہے کہہ رہے ہیں کہ اس سے زیادہ اموات کی شرح کسی دوسری جنگ میں نہیں دیکھی گئی ہے۔ یوکرین میں دو سال میں اکتیس ہزار لوگ مرے ہیں یہاں ساڑھے چار مہینے میں تیس ہزار سے زیادہ مر چکے ہیں، چونکہ لوگ کے لیے اپنے عزیزوں کو دفن کرنا اہم ہوتا ہے، اس قیامت کے عالم میں محکمہ اعداد و شمار میں اندراج کرانا اہم نہیں ہوتا۔ اور وہ جو اپنے منہدم مکانوں میں ہی دفن ہو گئے ان کو کوئی شمار نہیں کر رہا ہے، وہ صرف اپنے محبت کرنے والوں کے دلوں پر نقش ہیں۔ غزہ کے لوگ مرنے والوں کو جنت میں تصور کر کے دل کو سکون دے لیتے ہیں لیکن زخمیوں کی تکلیفوں کی تاب نہیں لا پاتے جن کے لیے درد کی دوا نہیں ہے، آپریشن کے لیے اینستھیزیا نہیں ہے اور ادویات کا تو کیا ذکر کیا جائے۔

اس وقت صدر بائیڈن پر سخت وقت ہے، اسرائیل کی لابی AIPAC سے کروڑوں روپے اپنے بہت طویل سیاسی زندگی میں لے چکے ہیں۔ کانگرس کے فیصلے کے برخلاف اس یک طرفہ جنگ کے دوران اسرائیل کو اسلحہ بھیجتے رہے جو امریکی عوام خصوصاً نوجوان نسل کی مرضی کے خلاف تھا۔ اب الیکشن سر پر کھڑا ہے۔ صدر بائیڈن نے مشیگن میں عرب اور مسلم کمیونٹی کی طرف اپنے لوگ بھیجے لیکن انھوں نے صاف کہہ دیا کہ جب تک جنگ بندی نہیں ہوگی وہ ان سے بات نہیں کریں گے۔ اب ڈیموکریٹک پارٹی نے تو بائیڈن کو نامزد کر دیا ہے لیکن ان عرب اور مسلم جوانوں نے ایک تحریک چلائی ہے جس میں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم Genocide Joe کو ووٹ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ یعنی ہم ریپبلکن پارٹی کے نامزد ٹرمپ کو بھی ووٹ نہیں دیں گے لیکن بائیڈن کو بھی نہیں دیں گے!

ڈیموکریٹک پارٹی عرب ووٹ کے لیے پریشان تھی لیکن یہ فیصلہ اب نئی نسل میں عام ہوتا نظر آ رہا ہے۔

آج کی دل ہلا دینے والی خبر یہ ہے کہ ایک پچیس سالہ گورے امریکی ایئرفورس کے اہلکار نے واشنگٹن میں اسرائیلی ایمبیسی کے باہر احتجاجاً اپنے اوپر تیل چھڑک کر آگ لگا دی اور اپنی آخری سانسوں میں فلسطین کی آزادی کے نعرے بلند کرتا رہا۔ ایسا ایک واقعہ پہلے اٹلانٹا میں ہو چکا ہے اس واقعہ کو دبا دیا گیا تھا لیکن جلی ہوئی لاش کے ساتھ فلسطین کا جھنڈا تھا۔

آج صدر بائیڈن نے کسی سوال کے جواب میں کہا کہ امید ہے کہ پیر تک عارضی جنگ بندی ہو جائے گی جس میں وہ اسرائیلی جنہیں حماس نے یرغمال بنایا ہوا ہے آزاد کر دیے جائیں گے۔ لیکن اسرائیل اب بھی رفاہ کے کیمپوں میں اپنی فوج بھیجنے پر مصر ہے۔ یہ عارضی جنگ بندی بھی ہوسٹیج آزاد کرانے کے لیے صرف اس لیے ہو رہی ہے کہ ان کے عزیز نتانیاہو کی حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کے اس حملے میں ہمارے عزیز بھی اسرائیلی فوج کا نشانہ بن جائیں گے۔

دنیا کی واحد سپر پاور نے اقوام متحدہ اور تمام ملکوں کو باور کرا دیا ہے کہ اب ہم جو چاہیں گے دنیا میں وہی ہو گا۔ چونکہ اسرائیل جو کر رہا وہ امریکہ کی ایما کے بغیر نہیں کر سکتا تھا۔ انسانیت کا ضمیر شاید جاگ گیا ہے لیکن وہ بے دست و پا ہے۔

Facebook Comments HS